عمران خان کا لانگ مارچ اور اُس کے نتائج

پاکستان میں اس وقت سیاسی کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ دو دھڑے آئین کا نام لے کر اپنے غیر آئینی مقاصد کے حصول کی تگ و دو میں اس قدر ہلکان ہو رہے ہیں کہ دونوں مجاہدین انقلاب معلوم ہوتے ہیں اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس سب میں نقصان ہمیشہ غریب طبقے کا ہوتا رہا ہے۔ انقلاب نے کبھی بھی غریب کی قسمت کو نہیں بدلا بلکہ متوسط اور امیر طبقہ ہی فائدہ اٹھا پایا ہے، وہ چاہے صنعتی انقلاب ہو یا پھر سماجی لیکن اکثر اوقات جانیں فقط غریب طبقے کی جاتی رہی ہیں۔
اس کے پیچھے بھی ایک سائنس ہے، وہ ہے ترجیحات اور اوقات کی سائنس، غریب طبقے کی ترجیحات میں اپنی حالت بدلنے کی بجائے ملک کی حالت بدلنا ہوتا ہے جو کہ وہ کسی صورت نہیں بدل سکتے لیکن ملک کی حالت بدلنے کے جنون میں ان کی جانیں ضرور چلی جاتی ہیں، آنے والا انقلاب ان کی حالت تو نہیں بدل پاتا لیکن جن کے خلاف وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کی حالت ضرور بدل جاتی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے حالات اب پیدا ہونے والے ہیں جن میں خون بہنے کا اندیشہ ہے۔
اس کا ذمہ دار کسی خاص پارٹی کو نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ اس میں بہت سے مگر مچھ ملوث ہوں گے۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی مشترکہ نیوز کانفرنس کے بعد حالات کی کشیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کانفرنس میں بہت سے انکشافات ہوئے، پہلا کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ”جی حضوری“ کی بنیاد پر اقتدار میں آئی اور وہ اقتدار کے بدلے ساری زندگی کی ”جی حضوری“ کے لیے مکمل طور پر تیار تھی اور اس بات کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا موقف یہ سامنے آیا ہے کہ ہم ملک کی بہتری کے لیے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کے لیے تیار تھے، ان سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ اگر آپ جنہیں پہلے سے توسیع دے چکے تھے اور مزید بھی دینا چاہتے تھے انہیں اگر کوئی اور منتخب حکومت توسیع دے رہی ہے تو کیا اب ملک کا نقصان ہو گا؟
ہر ذی شعور سمجھ سکتا ہے کہ یہ جنگ اب جمہوریت کی نہیں بلکہ ”جی حضور، جی حضور“ کہنے کے موقع کے حصول کی ہے۔ یہاں پر مقام تاسف یہ ہے کہ اس جنگ میں ہدف ہمیشہ غریب اور لاچار لوگ ہی بنیں گے۔
یہی کھیل جب نواز شریف کھیل رہے تھے تو ان کا طریقہ واردات بھی بالکل یہی تھا جو آج کل عمران خان کا ہے، وہ ایک طرف ”ووٹ کو عزت دو“ اور ”فوج سیاست سے دور“ کا نعرہ لگاتے تھے تو دوسری طرف ان کے طاقتور حلقوں سے مذاکرات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ سابق وزیراعظم اور رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کے ایک انٹرویو کے مطابق ان کے کابینہ ارکان کے نام بھی حتمی شکل اختیار کر چکے تھے اور اس بات کی اطلاع میاں شہباز شریف کو دو معتبر صحافیوں نے دی۔
اب عمران خان رات کی تاریکی میں تو طاقتور حلقوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور آئینی و غیر آئینی کاموں کے لیے مدد مانگتے ہیں اور دن کو ان کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس بات کا نقصان عمران خان کو ہو یا نہ ہو لیکن جو لوگ ان کے بیانیے پر جان دینے اور لینے پر تل جاتے ہیں ان کو ضرور ہو گا کہ انہوں نے نظریاتی طور پر کمزور اور مفاد کی جنگ لڑنے والے شخص کے لیے جان گنوا دینی ہے۔
موجودہ حالات بڑی خطرناک صورت اختیار کرچکے ہیں جن میں بہت سے کھلاڑیوں کے پاس کھیل کھیلنے کا موقع ہے لیکن بات وہی ہے کہ جو بھی جیتا، پاکستان کی ہار ہی ہونی ہے کیوں کہ کوئی کھلاڑی بھی ملکی مفاد کے لیے نہیں کھیل رہا بلکہ سب کو اپنے پیٹ کی پڑی ہے، کسی کو اناء کے ہچکولے نہیں چین سے بیٹھنے دیتے۔ لانگ مارچ کل سے شروع ہو چکا ہے اور اب اس کے تین ممکنہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اول تو یہ کہ عمران خان صاحب سابقہ دھرنوں کی طرح اسے پر امن رہنے دیں اور حکومت کو ہدایت مل جائے کہ وہ مذاکرات کرپائے اور الیکشن کی تاریخ مقرر کردی جائے اور سیاسی ہتھکنڈوں سے باز آ جائے۔
دوئم کہ اس لانگ مارچ کی آڑ میں پاکستان تحریک انصاف ہی متشدد رویہ اپنائے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے عوام الناس کو پریشان کیا جائے۔ سوئم یہ کہ تحریک انصاف کو بدنام اور سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے کچھ عناصر منصوبہ بندی کے تحت شرپسند گروہوں کو لانگ مارچ میں شامل کر کے دنگا فساد کرایا جائے اور عمران خان کا سیاسی تشخص بگاڑا جائے اور مجھے تیسرے نتیجے کا زیادہ ڈر ہے۔
تین قسم کے لوگ یہ سب کرا سکتے ہیں، اول تو حکومتی ادارے جو کہ عمران خان کے خلاف پروپیگنڈے میں پیش پیش ہیں، دونوں طاقتور حلقے جن کا سایہ عمران خان پر نہیں رہا بلکہ انہیں کئی کندھے مل چکے ہیں، سوئم غیر ملکی طاقتیں خاص طور پر، ان کا مقصد عمران خان کو نقصان پہنچانے کی بجائے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے جس کا عندیہ وہ پہلے ایک بیان کے ذریعے دے چکے ہیں۔
ایسے حالات میں فقط ڈپلومیسی ہی پاکستان کو عدم استحکام اور خون ریزی سے بچا سکتی ہے لیکن ”عدم استحکام“ کا سہارا لے کر اب سیاست نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ ماضی میں تمام حکومتوں نے کی ہے اور عدم استحکام کا نام لے کر مخالفین کو رگڑا لگایا گیا ہے۔ اللہ پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائیں۔

