لال بجھکڑ


کہتے ہیں کہ کسی ایسی بستی میں جہاں کبھی ہاتھی کا گزر نہیں ہوا تھا۔ اتفاق سے اس بستی سے رات کے اندھیرے میں ہاتھیوں کے غول کا گزر ہوا۔ صبح سویرے جب اس بستی کے لوگ کھیتی باڑی کے لئے اپنے اپنے کھیتوں میں جانے لگے تو انہوں نے ہاتھیوں کے بڑے بڑے پاؤں کے نشانات دیکھے، چونکہ وہ لوگ اس سے قبل ایسے بڑے پاؤں کے نشانات نہیں دیکھ پائے تھے تو انہوں نے شور مچا دیا کہ رات کو شاید بلاؤں کا یہاں سے گزر ہوا ہو گا۔ پریشانی کے عالم میں لوگ اس بستی میں موجود میں لال بجھکڑ کے پاس اپنی پریشانی لے کر چلے گئے۔

لوگوں نے سارا ماجرا جب لال بجھکڑ کو سنایا تو اس نے جائے وقوعہ دیکھنے کی فرمائش کر ڈالی۔ اب لوگوں کا ایک ہجوم اور اس ہجوم کے درمیان میں میاں لال بجھکڑ اپنی شان و شوکت سے تشریف لے جا رہے تھے۔ جب نشانات والی جگہ پہنچے تو لال بجھکڑ نے نشان دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کہا کہ نالائقو، پریشانی والی بات نہیں ہے رات کو یہاں سے ہرن کے غول کا گزر ہوا ہے یہ نشانات ان کے پاؤں کے ہیں۔ جب لوگوں نے کہا کہ حضور ہرن کے پاؤں تو چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ یہ نشانات تو بہت بڑے ہیں۔

ذرہ بھر بھی پریشان ہوئے بغیر میاں لال بجھکڑ فرمانے لگے کہ تھے تو وہ ہرن ہی لیکن انہوں نے اپنے پاؤں کے نیچے پیتل کے تھال باندھ رکھے تھے کہ کہیں کوئی آدم ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کا شکار نہ کرنے آجائیں، ساتھ ہی پہلے مسکرانا اور پھر رونا شروع کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ جناب آپ مسکرائے اور پھر روئے کیوں؟ تو لال بجھکڑ نے جواب دیا کہ مسکرایا میں اس لئے تھا کہ تم لوگ اتنے نالائق ہو کہ ایک چھوٹی سے بات کے لئے مجھے تکلیف دی اور رویا اس لئے کہ جب میں مر جاؤں گا تو ایسے فیصلے کون کیا کرے گا۔

یقین جانیے ایسے لال بجھکڑ آپ کے ارد گرد ہر سو ڈھونڈے بنا ہی مل جائیں گے۔ ایسے کردار ہر گھر، دفتر، ادارے، مکتبہ فکر، حلقہ ارباب اور ارباب اختیار و اقتدار کے آس پاس کثرت میں مل جائیں گے۔ ایسے ہی ایک ملک پر ایک لال بجھکڑ کو حکومت مل گئی، ظاہر ہے کہ امور مملکت احسن طریقے سے چلانا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ سب سے پہلا جو غلط کام اس سے سرزد ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے ایک بڑے پراجیکٹ کی فائل بنا کمیشن کے دستخط کردی۔

جناب کو پتہ تب چلا جب دفتر کے ایک چپڑاسی نے آ کر اپنا حصہ مانگا، کہ صاحب میرا حصہ، لال صاحب نے پریشانی میں پوچھا کہ کس بات کا حصہ، جس پر چپڑاسی بولا کہ صاحب جو فائل آج آپ نے دستخط کی ہے اس پر تو دس فی صد کے حساب سے آپ کا اور اس میں سے میرا اتنا حصہ بنتا ہے۔ اب صاحب پریشان ہوئے اور چپڑاسی سے پوچھا کہ اب کیا کریں کیونکہ میں نے تو بنا پیسے لئے ہی فائل دستخط کر دی ہے۔ دفتر کا چپڑاسی بولا کہ سر اس میں پریشانی کیا ہے فائل واپس منگوائیں، اور اس پر جہاں لکھا ہے، sanctioned بس اس سے قبل لکھ دیں not، محترم نے ایسا ہی کیا۔

اب ظاہر ہے جس لوگوں نے شلواریں پہننی ہوتی ہیں وہ راستہ بھی رکھتے ہیں۔ ٹھیکیدار فوراً سمجھ گیا کہ مسئلہ کیا ہے۔ ٹھیکیدار نے اسی دن فائل کو پہیے لگائے اور دوبارہ صاحب کے دفتر پہنچ گیا، اب مسئلہ پھر وہی کہ جس فائل پرnot sanctioned لکھ دیا گیا ہے اسے کیسے بدلا جائے۔ چپڑاسی کو بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ اب اس مسئلہ کا کیا حل ہے تو اس نے زیرلب منافقانہ کی ہنسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سر اب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس اب آپnot کی جگہ لکھ دیں note sanctioned اس کا کیا مقصد ہو گا، صاحب نے جاننے کی کوشش کی۔ چپڑاسی ایک بار پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوا کہ سر چھوڑئیے اس کے مطلب کو اب جس کے پاس بھی فائل جائے گی اسے خود ہی پتہ چل جائے گا کہ ”نوٹ“ ہو گیا ہے۔

صاحب نے فائل ایک طرف رکھتے ہوئے چپڑاسی سے پوچھا کہ آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن یہ بتاؤ کہ تم اتنا مسکرا کیوں رہے ہو، تو اس نے جواب دیا کہ سر آپ تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن دفتر تو ہم لوگ ہی چلاتے ہیں۔ میں مسکرا اس لئے رہا ہوں کہ اگر دفتر میں نہ ہوتا تو آپ لوگوں کا کیا بنتا۔ یقین جانیے ہر لال بجھکڑ کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو ادارے کا کیا بنے۔ میری رائے یہ ہے کہ ایسے لال بجھکڑوں سے بچا جائے وگرنہ آپ کا وہی حال ہو گا جو اس وقت ہمارے ملک کا ہے۔

Facebook Comments HS