برازیل کے نو منتخب صدر لولا ڈا سلوا

لولا ڈا سلوا 1975 اور 1978 میں دو دفعہ اسٹیل ورکرز یونین کے صدر منتخب ہوئے، اور فوجی آمرانہ دور میں مزدوروں کے حقوق، مراعات اور سہولیات کے لیے آواز اٹھائی۔ ہڑتالیں بھی کیں، جن کو لیبر کورٹ نے خلاف قانون قرار دیا۔ اس وجہ سے لولا کو جیل بھی جانا پڑا۔
لولا ڈا سلوا نے ورکرز پارٹی بنائی، اور ملک میں سیاسی و معاشی انقلاب کے لیے فوجی آمرانہ دور میں اور جب تک صدر منتخب نہیں ہوئے، ایک طویل جد و جہد کی۔ صدر کا عہدہ 2003 میں سنبھالنے کے بعد لولا نے آئی ایم ایف سے از سر نو مذاکرات کیے، اور جلد ہی معاشی اصلاحات نافذ کر کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کو پورا کیا۔ لولا 2006 کا صدارتی انتخاب بھی جیتے، اور عمدہ معاشی حکمت عملیوں کی وجہ سے ان کے دوسرے دور صدارت میں برازیل 2008 کی عالمی کساد بازاری سے محفوظ رہا۔
لولا ڈا سلوا کے دور صدارت میں برازیل دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت بن چکا تھا۔ بطور صدر لولا نے عالمی سطح پر بھی بڑا مقام بنایا، لیکن ان پر دوران صدارت ارکان اسمبلی خریدنے اور مالی بد عنوانیوں کے الزامات بھی لگے۔ لولا ڈا سلوا کثرت تمباکو نوشی کی وجہ سے حلق کے کینسر جیسے مؤذی مرض میں مبتلا ہوئے، اور صحت یابی کے بعد 2016 میں دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوئے۔ مگر بد عنوانی کے الزام پر اعلیٰ وفاقی عدالت نے حکومت وقت کو نئی سیاسی تقرری سے روک دیا۔ اعلی وفاقی عدالت نے متنازعہ مقدمے میں لولا ڈا سلوا کو منی لانڈرنگ کا مرتکب پایا، اور ساڑھے نو سال کی سزا بھی سنائی۔
نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اپریل 2018 میں سابق صدر کو گرفتار کر لیا گیا، اور قریباً اٹھارہ ماہ لولا جیل میں رہے۔ دوران اسیری لولا نے 2018 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو برازیل کے باسٹھ تریسٹھ کی وجہ سے ان کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ نومبر 2019 میں اعلی وفاقی عدالت نے، عدالت میں زیر التواء اپیلوں کے موجود ہونے کی وجہ سے سابق صدر کی قید کو خلاف قانون قرار دیا، اور رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
مارچ 2021 میں عدالت عظمیٰ کے ایک جج نے رولنگ دی کہ لولا ڈا سلوا کی تمام سزائیں کالعدم قرار دینا ضروری ہیں۔ کیونکہ ان کے کیسز عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ عدالت عظمی کے دیگر ججز نے بھی اپریل میں مارچ میں دی گئی رولنگ کی توثیق کر دی، اور سابق صدر کے سیاسی حقوق بحال کر دیے۔ مارچ 2021 میں ہی اعلی وفاقی عدالت نے سابق صدر کے خلاف متنازعہ مقدمات پر فیصلہ دینے والے جج کو متعصب اور جانب دار قرار دیا۔ جون 2021 میں لولا ڈا سلوا کے تمام کیسز سزائیں کالعدم قرار دے کر، ان کو اگلی مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دے دیا گیا۔ یوں، اب صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد لولا ڈا سلوا جنوری 2023 میں تیسری دفعہ بحیثیت صدر حلف اٹھائیں گے۔
گو کہ لولا ڈا سلوا بہت معمولی فرق سے جیتے ہیں۔ عالمی میڈیا میں ان کی جیت، بد عنوانی میں ملوث ہونے، اعلی عدلیہ کی کارکردگی، فیصلوں پر تبصرے اور چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ کیونکہ عوام ایک بڑا طبقہ لولا ڈا سلوا کو بد عنوان سمجھتا ہے، اور گزشتہ برس اعلی عدالتوں کے لولا ڈا سلوا کے حق میں کیے گئے، فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تمام حقائق جان کر اندازہ ہوا کہ نام کی طرح لولا کے دیس میں بھی پاکستان کی طرح لولا لنگڑا نظام عدل ہے، اور عوام کا سوچنے کا انداز بھی ملتا جلتا ہے۔ وہاں بھی سیاست دانوں کو ان ہی مسائل کا سامنا ہے، جس کا سامنا یہاں کے سیاست دان کرتے رہتے ہیں۔
لولا ڈا سلوا کو جنوری 2023 میں حلف اٹھانا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت تک برازیل میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ آیا کہ لولا ڈا سلوا خوش اسلوبی سے حلف اٹھا پاتے ہیں کہ نہیں، چونکہ شکست سے دوچار دائیں بازو کی سیاسی جماعت اور صدارتی امیدوار نے اپنی شکست کو قبول نہیں کیا ہے۔

