ملکی سیاست کا خوفناک منظر نامہ

آج کل ملکی سیاسی صورتحال ایک خوفناک حقیقت میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف سیلاب زدگان کی دادرسی اپنی تشنہ طلب ہے ملک اس قابل نہیں ہوا کہ متاثرین علاقہ کی مناسب دیکھ بھال کی جا سکے اور نہ فصلات، املاک اور دیگر نقصانات کی تلافی ہوئی دوسری جانب ایک خودغرض سیاسی رسہ کشی کی وجہ عملاً معاملات ریاست جامد ہوتے نظر آتے ہیں۔
اس وقت جو لانگ مارچ کیا جا رہا ہے وہ پارلیمان کی بجائے چوک چوراہے کی سیاست ہے جس کا مقصد سوائے سیاسی بالادستی کے نظر نہیں آ رہا۔ اگر تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے دوران اس کا سیاسی و پارلیمانی جواب دیا جاتا اور کچھ معاملات جو ملکی سلامتی اور مجموعی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے تو شاید کوئی خیر کا پہلو نکلتا مگر میں نہ مانوں کے مصداق ایک ہٹ دھرمی سے صرف اپنا مقصد حاصل کرنا ہی مقصود ہے جس وجہ سے سیاست دانوں نے ملک کو اس حال میں پہنچا دیا ہے۔
ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف ایک انتہائی زہریلی مہم سوشل میڈیا پہ چلائی گئی اور حالات اس نہج پہ پہنچ گئے کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو مشترکہ پریس کانفرنس میں اصل صورتحال سے قوم کو آگاہ کرنا پڑا جس سے کئی ایک غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔ اب کنٹینر پہ سوار ہوکے کبھی دھمکی اور کبھی منت خوشامد کر رہے ہیں کبھی کہتے ہیں ہم چوکیدار کو تنخواہ دیتے ہیں۔ ادھر ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ اس مارچ کا خونی پہلو بھی ہو سکتا ہے کیونکہ پنجاب میں چلا انقلابی ریلا تو بحیثیت مجموعی فی الحال پرامن ہے اور جس نوجوان خاتون صحافی کی موت ہوئی وہ بھی حادثاتی قرار دی جا رہی ہے، بہرحال خون خرابہ اس وقت ہونے کے امکانات ہیں جب دیگر صوبوں سے اسلحہ بردار لوگ اس مارچ میں شامل ہوں گے۔ اب اگر ایک لاش بھی گر گئی تو پھر حالات کا کیا منظر ہو گا خاکم بدہن وہ کسی طور پہ ناقابل برداشت اور بے قابو ہوسکتے ہیں جس سے ریاست کے معاملات خاصے جامد ہوسکتے ہیں۔
بہتر ہو گا کہ اپنی ذاتی انا پرستی سے باہر نکل کر ایک اجتماعی سوچ اپنائی جائے اور ملکی سلامتی مقدم رکھی جائے جس سے سب کا بھلا ہو۔
دعا ہے جس قدر جلد ممکن ہو یہ سوچ عام ہو جائے۔

