بیسویں صدی کا چین اور کمیونسٹ انقلاب

20 صدی کے ابتدا ہی میں چین کسی بڑی تبدیلی کے دھانے پر کھڑا تھا۔ غیر ملکی طاقتوں نے پچھلی صدی سے چین کو ہزیمتوں سے دوچار کیا تھا اس کی تجارت اور معاشی ذرائع کو گرفت میں لیا تھا۔ ملک مختلف جہت بحرانوں کا شکار تھا۔
اس کے باعث چین کے تعلیم یافتہ طبقے میں بے چینی بڑھ رہی تھی اور حالات
کی بہتری کے لیے سوچنے لگے تھے
ان میں بعض کے خیال میں ملک کی بقا کا دار و مدار جدیدیت اور قوم پرستی میں ہے وہ فوج اور بحریہ کی تعمیر نو، جدید صنعتیں لگانے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات چاہتے تھے جبکہ دوسری طرف کچھ راہنما اس قسم کی تبدیلی کے خلاف تھے کیونکہ ان کے خیال میں چین کی عظمت اس کی روایتی طرز زندگی میں ہے۔
چونک مانچو شاہی حکومت ( چینگ بادشاہت) چین پر سامراجی طاقتوں کے تسلط روکنے میں ناکام رہی تھی اور اس کے خلاف چین کے قوم پرست حلقوں نے اتحاد قائم کر لیا۔
چینگ بادشاہت کا خاتمہ
1911 میں انقلابی اتحاد نے 1644 سے برسر تخت قنگ ( چنگ ) خاندان کے آخری شہنشاہ کو اتار کر کے چینی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ قنگ بادشاہت کے خاتمے پر مختلف گروہوں میں اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی۔ طلباء اور درمیانے طبقے کے سیاست دانوں پر مشتمل ایک کمزور اتحاد جس کا قائد ”ڈاکٹر سن یات سین“ تھا، مغربی جمہوریت کے حق میں تھا
چین کے مختلف صوبوں میں علاقائی جنگجو سرگرم تھے ان وار لارڈز میں سب سے طاقتور گروپ شمالی چین میں مرتکز ”یوان شکائی“ کا تھا۔
طاقت کا دوسرا بڑا مرکز ساحلی شہروں ( شنگھائی اور کلنٹن ) کے تاجروں اور بینکرز پر مشتمل تھا۔ جبکہ بعض علاقوں میں کچھ قدامت پسند فریق بادشاہت کی بحالی کے خواہاں تھے
اگرچہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں علاقائی جنگجو بالادست تھے تاہم قنگ بادشاہت کے خاتمے پر چین میں جمہوریہ کے نام سے قوم پرست راہنما ”ڈاکٹر سن یات سین“ کی صدارت میں اتحادی حکومت بنا دی گئی
”سن یات سین“ تین اصولوں قوم پرستی۔ جمہوریت اور معاشی استحکام کی بنیاد پر حکومت کے قیام کا خواہاں تھا۔
مگر وہ اختیارات اور فوج کی حمایت نہ رکھنے اور وسطی اور اور جنوبی چین کے ساحلی خطوں کے شہری تجارتی مراکز کے علاوہ بقیہ چین میں عوامی حمایت نہ رکھنے کے باعث قومی یکجہتی اور استحکام حاصل نہیں کر سکتا تھا اس لیے 1912 میں صدارت شمالی چین کے ایک طاقتور وار لارڈ ”یوان شکائی“ کے حوالے کرنی پڑی جس نے اپنے ذاتی اقتدار کی کاوش میں انقلاب کے جمہوری تصورات کو روند ڈالا اور سخت قتل عام کیا جس کے خلاف مقامی بغاوتیں ہوئیں۔ دیگر وار لارڈز کی رقابتوں، سن یات سین ”جیسے قوم پرست رہنماؤں کی مخالفت اور جاپان کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بنا اس کا خود کو بادشاہ بنانے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
جنگ عظیم اول کے دوران جاپان کے 21 مطالبات کے حوالے سے ”یوان شکائی“ کی متردد پالیسی کے باعث 1916 میں اس کو صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ جس کے بعد وہ جلد مر گیا۔ اس کی موت کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی حقیقی اختیار صوبائی جنگجوؤں یا طاقت ور عسکری لیڈروں کے ہاتھوں میں آ گیا جو اپنے اپنے زیر تسلط علاقوں پر حکومت کرنے لگے۔
1917 میں بیجنگ حکومت نے جنگ عظیم اول کے دوران جرمنی کے خلاف اتحادیوں کا ساتھ اس توقع پر دیا کہ جرمنی کی شکست کے صورت میں اتحادی چین کے وہ علاقے واپس دلوا دیں گے جن پر جرمنی قابض ہو گیا تھا۔ مگر جنگ کے بعد ”ورسلیز معاہدے“ کے تحت اتحادیوں نے وہ علاقے جاپان کو دیے۔ اس معاہدے کے خلاف 4 مئی 1919 کو تین ہزار چینی طلباء نے بیجینگ میں مظاہرہ کیا۔ ایسے مظاہرے دوسرے شہروں میں پھیل کر قومی تحریک کی شکل اختیار کی۔
اس میں مزدور تاجر اور پیشہ ور افراد شامل ہو گئے اگرچہ یہ مظاہرے باضابطہ انقلاب تو نہ تھے تاہم یہ چینی عوام کا ایک مضبوط جدید قوم بننے کے عزم کا اظہار تھا۔ ”سن یات سین“ اور قومی پارٹی نے تحریک کے مقاصد کی تائید کی مگر وہ مرکزی حکومت کو مستحکم نہ کرا سکے۔ زیادہ تر نوجوان اور چینی دانشور ”سن یات سین“ کے مغربی جمہوریت کے تصور کے بجائے لینن طرز کے روسی کمیونزم کے حق میں ہونے لگے تھے۔
تحریک کے کرتا دھرتا طلباء، دانشوروں اور بعض قوم پرستوں کی سوچ یہ بن گئی کہ چین کے مسائل کا حل سخت قسم کے ریڈیکل اصلاحات ہی ہوسکتے ہیں اسی سوچ کے تحت قوم پرست تحریک کے اندر کمیونسٹ ابھرنے لگے۔ جو ہمسایہ ملک روس میں بالشویک جماعت کی فتح اور وہاں کی تعمیر نو سے متاثر ہوئے تھے۔
چینی کمیونسٹ پارٹی۔ 1921 میں شنگھائی میں اس ”کی بنیاد رکھی گئی۔ ان کے بانیوں میں ایک“ ماوزے تنگ بھی تھا۔
لینن نے مارکسی انقلاب کی بنیاد روسی شہروں کی تنظیم پر رکھی تھی جبکہ ماوزے تنگ چین کے مختلف تناظر ( زرعی ) کے باعث چینی دیہاتوں ( کسانوں ) کو انقلاب کی اساس بنانے کی سوچ رکھتا تھا۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کے منظر عامہ پر آنے کے وقت جنوبی چین ”میں سن یات سین کی سربراہی میں نیشنلسٹ پارٹی نے حکومت قائم کی تھی۔ چونکہ“ سین ”مغربی جمہوری ممالک سے مایوس ہو چکا تھا اس لیے اس نے مشترکہ انقلابی مقصد کے لیے کمیونسٹ پارٹی کو ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا نیشنلسٹ پارٹی کے اس اقدام کے بدلے 1923 میں لینن نے اس کو تکنیکی سپورٹ دی
1925 میں ”سن یات سین“ کی وفات کے بعد ”چیانگ کائی شیک“ کومنتانگ (قوم پرست پارٹی) کا سربراہ بنا۔ چیانگ اور اس کے تجارت پیشہ پیروکار روسی طرز کے کمیونسٹ انقلاب کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ عوام سے اگرچہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کے وعدے کیے تھے مگر اپنی نا اہلی اور کرپشن کی وجہ سے زیادہ تر کسان اس کے خلاف ہو کر کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ہو گئے
نیشنلسٹوں اور کمیونسٹوں میں تصادم۔
اگرچہ ابتداء میں چیانگ نے کمیونسٹوں کے ساتھ اختلافات بالائے طاق رکھ کر ان کے ساتھ وار لارڈز کے خلاف کامیابی لڑائی لڑی اور زیادہ تر چین پر تسلط قائم کر لیا تاہم اس کے بعد وہ کمیونسٹوں کے خلاف سر گرم ہو گیا۔ اپریل 1927 میں نیشنلسٹ افواج نے شنگھائی میں کمیونسٹ رہنماؤں اور ٹریڈ یونین کے ارکان کو بے دردی سے قتل کیا اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی قتل و غارت سے کمیونسٹوں کو تقریباً مٹا دیا۔
1928 میں چیانگ نے خود کو ”نیشنل ریپبلک آف چائنہ“ کا صدر قرار دیا۔ اس کی حکومت کو برطانیہ اور امریکہ نے تسلیم کر لیا۔ ”چیانگ“ کا کمیونسٹوں کے ظالمانہ سلوک کے دور رس اثرات پڑے۔ اپنے قتل عام کے خلاف کمیونسٹوں کا ردعمل ایسی خانہ جنگی کا پیش خیمہ بنا جو 1949 تک جاری رہی۔
اس خانہ جنگی کے دوران 1930 میں ماوزے تنگ اور اس کے کمیونسٹ پیروکاروں نے جنوبی وسطی چین کے پہاڑوں میں خود کو مستحکم کیا۔
ماؤ زے تنگ نے اپنی ”سرخ فوج“ میں کسانوں کو بھرتی کر کے گوریلا جنگ کی تربیت دی۔ نیشنلسٹ متواتر حملے کرتے رہے مگر وہ کمیونسٹوں کو اپنے مراکز سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے
لانگ مارچ۔
1934 میں ”چیانگ“ نے سات لاکھ کی فوج سے کمیونسٹ مراکز کا محاصرہ کر لیا۔ اتنی بڑی فوج سے مقابلے کے بجائے بچ نکلنے کے لیے قریبا 90 ہزار کمیونسٹوں کی مرکزی سرخ فوج نے ”ماؤ“ کی قیادت میں وہاں سے شمال مغربی چین کی طرف 6 ہزار میل طویل سفر، جو ”لانگ مارچ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے شروع کیا۔ جس میں ان کو 12 صوبوں، 18 سلسلہ ہائے کوہ اور 24 دریاؤں پر سے گزرنا پڑا
ایک سال پر محیط اس مارچ کے دوران ہزاروں کارکن بھوک، سردی اور زخموں سے مر گئے۔ آخر میں ماؤ زے تنگ صرف ایک تہائی کمیونسٹوں کے ساتھ شمال مغربی چین کے پہاڑوں ( صوبہ یی نان) پہنچ کر قیام پذیر ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ وہاں ان کو نئے پیروکار مل گئے۔
اسی خانہ جنگی کے دوران چاپان نے چین پر حملہ کر دیا۔
خانہ جنگی میں تعطل چین کے صنعتی شہر ”مانچوریا کے بعد جاپان 1937 میں پورے چین پر حملہ آور ہوا۔ اس کی شدید بمباری سے ہزاروں چینی مارے گئے۔ 1938 تک جاپان چین کے بڑے حصے پر قابض ہو گیا۔ جاپانی یلغار کے پیش نظر قوم پرستوں اور کمیونسٹوں نے خانہ جنگی معطل کر کے جاپان کے خلاف وقتی اتحاد کر لیا
کمیونسٹوں نے شمال مغربی چین میں اپنے مراکز سے جاپان کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی جبکہ چیانگ کی افواج کا غلبہ جنوب مغربی چین میں تھا اور وہ وہاں سے جاپان کے خلاف برسرپیکار تھیں۔
اسی جنگ کے دوران جنگ عظیم دوم کا آغاز بھی ہو گیا۔ 1942 تا 1945 تک امریکہ نے جاپان کے خلاف چیانگ
حکومت کو بھاری امداد دی مگر
جاپان کے خلاف موثر لڑائی ماؤ زے تنگ کے کمیونسٹ لڑ رہے تھے اور 1945 تک انہوں نے زیادہ تر شمالی چین پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
1945 میں اتحادیوں کے ہاتھوں جاپان کی شکست فاش سے چینی قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کے درمیان خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوئی۔ ابتداء میں امریکی امداد اور اپنی تعداد کے باعث قوم پرستوں کا پلہ بھاری رہا مگر ان کے ہاتھوں چینی معیشت کی بد حالی کے باعث ہزاروں قوم پرست سپاہی کمیونسٹوں کے ساتھ شامل ہونے لگے چین عوام میں کمیونسٹوں کی مقبولیت کی وجوہات میں جاپان کے خلاف ان کا دلیرانہ کردار کے علاوہ ان کے سماجی اور معاشی اصلاحات کے پروگرام بھی تھے جس نے کسانوں، طلباء اور دانشوروں کے ساتھ نوکر شاہی کی ہمدردیاں حاصل کر لیں۔ ماؤ کے سپاہیوں کو کسانوں کی دفاع اور حمایت حاصل کرنے کی
تربیت ملی تھی۔
اس کے مقابلے میں چیانگ افواج کا شہروں میں آمد کا مطلب لوٹ کھسوٹ، بد کاری اور قتل و غارت ہوتا۔
قوم پرست حکومت کے سپاہیوں کے شامل ہونے سے ماؤ زے تنگ کی پوزیشن مضبوط ہوتی گئی
1949 کے موسم بہار میں چین کے بڑے شہر کمیونسٹ فوج کے قبضے میں آ گئے ”چیانگ شی شیک“ کی بچی کھچی منتشر افواج جنوبی چین کی طرف بھاگ نکلیں۔ اکتوبر 1949 کو ماوزے تنگ نے ملک کا کنٹرول سنبھال کر چین کو عوامی جمہوریہ قرار دیا اس کا حامی روس تھا۔ چیانگ اور دوسرے قوم پرست رہنماؤں نے ”تائیوان“ ( سابقہ نام فارموسا ) کے جزیرے میں اپنی حکومت قائم کر لی جس کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ چین دو حکومتوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ جو سرد جنگ میں شدت لانے کا باعث بنے
( جزیرہ تائیوان کی چیانگ کائی شیک حکومت کو اقوام متحدہ میں امریکہ کے بل بوتے پر پورے چین کی نمائندگی حاصل رہی کہیں 1971 میں اسے اقوام متحدہ سے نکالا گیا )
ماؤ زے تنگ نے اپنی حکومت کے ابتدائی سالوں میں تبت اور جنوبی منگولیا تک اپنے حدود بڑھ لیے
روسی طرز پر چینی کمیونسٹوں نے دو متوازی تنظیمیں قائم کر لیں ایک کمیونسٹ پارٹی اور دوسرا قومی حکومت۔ 1959 تک ماؤ زے تنگ دونوں کا سربراہ رہا۔
ماوزتنگ نے کسانوں کی بہتری کو اپنی جدوجہد کا مرکزی مقصد قرار دیا۔ معیشت کو مارکسی سوشلزم پر استوار کرنے کے سلسلے میں 1950 میں زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیرداروں کی زمینیں کسانوں میں تقسیم کر دیں۔ زرعی اصلاحات، تعلیمی سہولیات اور صحت عامہ کے لیے بہتر اقدامات نے کسانوں کو ماوزے تنگ کی انقلابی تحریک حقیقی حصہ دار بنایا۔
صنعت اور تجارت کی بہتری پر توجہ دی گئی۔ تاہم اس کی ”گریٹ لیپ فارورڈ“ پالیسی ناکامی سے دوچار ہوئی۔
بیرونی طور پر بھارت کے علاوہ روسی کے ساتھ سیاسی اور سرحدی معاملات کے باعث تناؤ پیدا ہو گیا۔
گریٹ لیپ فارورڈ کی ناکامی اور سویٹ یونین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ آنے کے بعد ماؤ زے تنگ نے حکومت میں اپنا کردار محدود کر لیا۔
تاہم جب دوسرے رہنماؤں نے ماؤ کے سوشلسٹ تصورات سے انحراف برتنا شروع کیا جو اس کے خیال میں چین کی نئے معاشی پالیسیاں سماجی مساوات کے سوشلسٹ مقصد کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ تو ماؤ زے تنگ نے انقلاب کے احیاء کا تہیہ کر لیا۔ اس سلسلے میں اس نے 1966 میں لاکھوں نوجوانوں اور طلباء پر مشتمل ریڈ گارڈز ”کے نام سے ملیشیا تشکیل دے کر ثقافتی انقلاب“ کا آغاز کر دیا۔ اس کے اہم مقاصد ”طبقاتی نظام کا خاتمہ اور انقلاب دشمنوں کی سرکوبی قرار دیے گئے۔
اسی ثقافتی انقلاب کے دوران ہزاروں افراد قتل یا قید کروائے گئے۔ ملک کے مختلف شعبے افراتفری کا شکار ہو گئے اور ملک کا امن و استحکام خطرے میں پڑ گیا۔ حتی کہ 1968 میں ماؤ زے تنگ کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ثقافتی انقلاب کے اثرات منفی پڑ رہے ہیں
کمیونسٹ انقلاب کے دوران ہونی والی قتل غارت, گریٹ لیپ فارورڈ کی ناکامی اور ثقافتی انقلاب کے باعث افراتفری اور مظالم کے ساتھ, کمیونسٹ نظام کے بعض منفی پہلو بھی ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ ماؤ زے تنگ کی زیر قیادت لایا گیا سوشلسٹ انقلاب تھا جس نے چین کو مغرب کے استحصال سے محفوظ کر دیا۔
وہ چین جو انقلاب سے پہلے بڑی ہزیمتوں اور بحرانوں کا شکار تھا. آج دنیا کا ایک ایسا طاقتور ملک بن گیا ہے جس کو چھیڑنے کی کوئی آسانی سے جرات نہیں کر سکتا ہے

