لانگ مارچ کے بعد کیا ہو گا؟
عمران خان اسٹبلشمنٹ سے ٹکرانے کے اعلانات کرنے کے بعد اب ’ثالثی و مصالحت‘ کے لئے حقیقی طاقت ور حلقوں کو ان کی ذمہ دار یاں یاد کروانے تک آ گئے ہیں۔ لانگ مارچ کے پانچویں دن کی سب سے اہم پیش رفت تو یہی ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد ’فتح‘ کرنے کے پروگرام میں توسیع کر دی ہے۔ اب اس ویک اینڈ کی بجائے نومبر کے وسط میں مظاہرین کے اس ہجوم کا اسلام آباد پہنچنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے جس کے بارے میں اب متعدد ماہرین یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ یہ لانگ مارچ ہے یا اس کا کوئی ٹریلر جسے شارٹ مارچ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔
اس پر ہنگام وقت میں البتہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے معقول اور قابل عمل بات کی ہے جسے مان لینے سے تصادم سے بھی بچا جاسکتا ہے، اختلافی امور پر اتفاق رائے بھی پیدا ہو سکتا ہے، ملک کے جمہوری سیاسی عمل سے اسٹبلشمنٹ کو مستقل طور سے دور رکھنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے اور عمران خان شاید کسی بڑی ہزیمت و مشکل سے بھی بچ سکتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ عمران خان کی جگت بازی اور دھمکیوں کا سب سے بڑا نشانہ رانا ثنا اللہ ہی ہیں، ان کے بعد فوجی قیادت کا نمبر آتا ہے۔
حالانکہ تحریک انصاف کے لئے اگر رانا ثنا اللہ انتہائی ناپسندیدہ شخصیت بھی ہیں تو بھی پارٹی قیادت کو وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو معمولی اور ہتک آمیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں عمران خان کو ’فساد چھوڑ کر سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھنے‘ کا مشورہ دیا ہے جب نواز شریف کے بعد اب مولانا فضل الرحمان بھی یہ اعلان کر رہے ہیں کہ عمران خان کو فیس سیونگ کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے فسادی ایجنڈے کو چھوڑ کر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھیں اور اپنی بدتمیزی و بدتہذیبی پر معذرت کریں کیوں کہ پاکستان کو افراتفری اور انارکی کی نہیں اتفاق کی ضرورت ہے ’۔ وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں وزیر داخلہ کے اس بیان کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان کے ساتھی انہیں ضرور اس بیان کے حوالے سے بتانے کی کوشش کریں گے کہ‘ حکومت خوف زدہ ہو گئی ہے بس تھوڑا دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے، کامیابی ہمارے قدم چومنے والی ہے ’۔
تاہم معروضی حالات اور لانگ مارچ کے غیر متوقع طور سے کمزور اور پھسپھسے آغاز کے بعد ، عمران خان کے لئے اس سے بہتر کوئی دوسرا مشورہ نہیں ہو سکتا ۔ سیاست مکالمہ کرنے اور مشکلات میں سے راستے نکالنے کا نام ہے۔ عمران خان دو دہائی سے زیادہ سیاسی میدان میں سرگرم عمل رہے ہیں، انہیں بھی مکالمہ، دشمنوں کے ساتھ بیٹھنے اور بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے اب تک سہاروں کی سیاست کی ہے اور یکے بعد دیگرے آئی ایس آئی کے متعدد سربراہان ان کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ البتہ اب انہیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ان سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اس رشتہ کو ختم کرنے کا واشگاف اعلان کیا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان استوار رہا ہے۔
سیاست حقیقت حال کو تسلیم کر کے نئے راستے کھوجنے کا نام ہے۔ عمران خان کو بھی اس ہنر میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ وہ اگر ضد اور ذاتی انا کے خول سے باہر نکل سکیں تو ان کے گرد جمع موقع شناس سیاست دانوں کا گروہ انہیں ایسے کسی راستے کی طرف لے جاسکتا ہے جس میں نواز شریف کی خواہش کے برعکس موجودہ حکومت و نظام، عمران خان کو ’فیس سیونگ‘ کا موقع فراہم کرنے پر مجبور ہو جائے۔ دیکھا جائے تو رانا ثنا اللہ نے اسی امکان کی نشاندہی کی ہے۔
حکومت اس وقت ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لئے جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان کے پیش نظر ملک کسی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن عمران خان اب تک مصر رہے ہیں کہ کسی متبادل منصوبہ بندی کے بغیر اسلام آباد پر دھاوا بول دینا ہی، کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ البتہ اگر عمران خان پوسٹ لانگ مارچ یعنی اس احتجاج کے بعد کی صورت حال کا اندازہ کرنے کا حوصلہ کرسکیں تو انہیں اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی کوئی ’پتلی گلی‘ تلاش کر لینی چاہیے جس سے نکل کر وہ اپنی جان و عزت محفوظ رکھ سکیں۔
4 نومبر کی بجائے 11 نومبر تک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کرنے کے بعد عمران خان کے دست راست فواد چوہدری کا یہ بیان کہ ’ملکی فوج کو مقبول لیڈر اور پارٹی کے ساتھ ایک پیج پر ہونا چاہیے‘ بھی درحقیقت اسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے جس کے بارے میں محاورتاً کہا جاتا ہے کہ ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘ ۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ یہ تنکا بھی عمران خان کی دسترس میں نہیں ہے۔ وہ جنرل ندیم انجم کے بعد اب جنرل قمر جاوید باجوہ کو بدعنوانی کا ’سرپرست‘ قرار دے کر دباؤ بڑھانے اور اپنے لئے ’پناہ‘ تلاش کرنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں لیکن ناکامی ہی اس یک طرفہ اور عاقبت نا اندیشانہ حکمت عملی کا مقدر ہے۔
عمران خان کی یہ پالیسی دو حوالے سے افسوسناک اور ناقابل عمل ہے۔ ایک: فوجی قیادت عمران خان کی سیاست اور ان کی سرپرستی سے تائب ہو کر یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اب اس ’ہائبرڈ تجربے‘ کی ملکیت میں دلچسپی نہیں رکھتی جس کے بطن سے عمران خان کو ہونہار اور امیدوں کا مرکز بنا کر برآمد کیا گیا تھا۔ عمران خان کو یہ پیغام سمجھ لینا چاہیے اور یہ امید پر نہیں رکھنی چاہیے کہ فوج ان کے دباؤ، دھمکیوں یا بلیک میلنگ کے ہتھکنڈوں سے مجبور ہو کر ایک بار پھر ان کی طرف رجوع کر لے گی۔
دوسرے : فوج نے واشگاف الفاظ میں اور ایک غیر روایتی پریس کانفرنس کے ذریعے سیاسی معاملات میں مداخلت سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیشہ کے لئے سیاست سے لاتعلق رہنے اور اپنے آئینی کردار تک محدود ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان سمیت ملک کے ہر سیاسی لیڈر کو جو جمہوری عمل کے نتیجہ میں ملک پر حکمرانی کا حق حاصل کرنے کے اصول کو تسلیم کرتا ہے، اس اعلان کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔
عمران خان اگر اب بھی موجودہ حکومت کو ’چور‘ اور فوج کو چوکیدار کی مثال بنا کر یہ مطالبہ کرتے رہیں گے کہ گھر میں چوری ہو رہی ہو تو کوئی چوکیدار کیسے نیوٹرل رہ سکتا ہے؟ تو ان کے اس رویہ کو جمہوریت دشمن اور آئینی طریقہ کار کی مخالفت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت شدید عوامی رابطہ مہم اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے دباؤ میں عمران خان کے اس منفی کردار پر بہت زیادہ گفتگو نہ ہو سکے لیکن تاریخ کے صفحات پر عمران خان کا یہ جمہوریت دشمن کردار سیاہ حروف میں درج ہو گا۔ اگر کسی وجہ سے ایک بار پھر ملک میں جمہوری نظام ڈی ریل ہوتا ہے تو اس کی سو فیصد ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوگی۔ عمران خان کو اس بدنامی اور تاریخ میں اپنے اس انجام سے بچنے کے لئے کوئی مناسب راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
آج کی تقریروں کے دوران عمران خان پہلے تو تحریک انصاف کو مشرقی پاکستان/ بنگلہ دیش کی عوامی لیگ کے مماثل کے طور پر پیش کیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فوج کو اکثریتی پارٹی کے مقابلے پر اترنے کے لئے اکسایا جس کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا۔ یہ انتہائی افسوسناک مماثلت ہے جس میں پاکستان کے دولخت ہونے میں فوج کی غلطیوں کا سارا بوجھ ایک مقبول سیاسی لیڈر کے سر ڈالنے کی ناروا کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بعد عمران خان خود اپنے احتجاج کو عوامی لیگ کے احتجاج سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اس وقت پاکستان کے دوسرے شیخ مجیب الرحمان بن چکے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شیخ مجیب پاکستان توڑ کر بنگالیوں کے لئے ایک الگ ملک حاصل کرنا چاہتے تھے تو عمران خان بھی بتا دیں کہ وہ کس مقصد کے لئے قومی سلامتی و استحکام کو داؤ پر لگانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ جملہ معترضہ کے طور پر عرض کیا جاسکتا ہے کہ شیخ مجیب نے کبھی اسٹبلشمنٹ سے امداد طلب نہیں کی اور نہ ہی تحریک انصاف کے لیڈروں کی طرح فوج کے ساتھ ’ایک پیج‘ بنا کر ملک پر حکومت کرنے خواب دیکھا تھا۔
ان کی جد و جہد بہر حال عوامی حمایت کی بنیاد پر پھلی پھولی تھی لیکن اس کا انجام دردناک ہوا۔ مکتی باہنی کی صورت میں استوار کیے گئے مسلح جتھے اور بھارت کی مداخلت درحقیقت پاکستان کی تقسیم کا فوری سبب بنی۔ اگرچہ مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان تفاوت کے متعدد تاریخی عوامل بھی موجود ہیں جن میں فوجی بالادستی اور جمہوری و آئینی عمل میں نت نئی رکاوٹوں کا بنیادی کردار تھا۔
خود کو شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے ساتھ ملا لینے اور ذوالفقار علی بھٹو پر ملک تقسیم کرنے کا الزام لگانے کے بعد عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری فوج کو تحریک انصاف کے ساتھ لڑانے کی سازش کر رہے ہیں۔ گویا عمران خان کے خیال میں 1971 کی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے جس میں واقعات کا تسلسل وہی ہے لیکن کردار تبدیل ہو گئے ہیں۔ عمران خان عصر نو کے شیخ مجیب ہیں جبکہ نواز شریف اور آصف زرداری ذوالفقار علی بھٹو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
کوئی خیر خواہ عمران خان کو بتائے کہ اہل پاکستان کی اکثریت شیخ مجیب کو پاکستان کا دوست نہیں دشمن مانتی ہے۔ جبکہ زیڈ اے بھٹو کو نئے پاکستان کا معمار، ملکی آئین کا بانی اور شکست کے بعد پاک فوج کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والا محسن مانا جاتا ہے۔ عمران خان خود ہی دیکھ لیں کہ وہ تاریخی حوالوں میں خود کو پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ ملا کر کیوں کر کامیابی کی امید کر سکتے ہیں؟


