فخرزمان دوبارہ ان فٹ ہو گئے اور نسیم شاہ کے ادھورے خواب


پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ سے ایک روز قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پریکٹس ختم ہوئی تو میڈیا کے نمائندے پریس کانفرنس روم میں فاسٹ بولر نسیم شاہ کا انتظار کر رہے تھے جنھیں میڈیا ٹاک کرنی تھی۔ لیکن ہال میں داخل ہونے والے نسیم شاہ نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کے ڈاکٹر نجیب سومرو تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ کسی کھلاڑی کی فٹنس کے بارے میں کوئی بات کرنے والے ہیں۔

’فخرزمان کو کھلانے کا رسک لیا گیا‘

ڈاکٹر نجیب سومرو نے یہ خبر سنائی کہ پاکستانی ٹیم کے بیٹسمین فخر زمان دوبارہ گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ کوئی نئی انجری نہیں بلکہ وہی پرانی انجری ہے جو ہالینڈ کے خلاف میچ کے دوران گھٹنا مڑ جانے کے سبب ہوئی۔ ان کا سکین ہوا ہے اور وہ سو فیصد فٹ نہیں ہیں۔

ڈاکٹر نجیب سومرو کا کہنا تھا کہ فخر زمان کا ری ہیبلیٹیشن ہوا جس کے بعد ان کی ٹیم میں واپسی ممکن ہوئی تھی۔

ہم سب کو پتہ تھا کہ گھٹنے کی تکلیف ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے۔ فخرزمان اور ہم سب کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے ورلڈ کپ کھیلنے میں رسک بھی موجود تھا۔ چونکہ وہ ٹیم کے ایک اہم کھلاڑی ہیں اسی لیے انھیں ٹیم میں واپس لایا گیا۔

ڈاکٹر نجیب سومرو کہتے ہیں کہ کرکٹ یا کسی بھی دوسرے کھیل میں رسک لیے جاتے ہیں کبھی یہ رسک کامیاب ہوجاتے ہیں کبھی نہیں ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر نجیب سومرو اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ فخر زمان کو ٹیم میں واپس لانے کے لیے جلدی کی گئی۔

’فخرزمان کی فٹنس کو مانیٹر کیا جارہا تھا۔ ان کے ٹیسٹ لیے جا رہے تھے اور یہی نظر آرہا تھا کہ فخر زمان فٹ ہونے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہر کھلاڑی کے فٹ ہونے کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے جو کسی دوسرے کھلاڑی سے قطعاً مختلف ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ فخر زمان ایشیا کپ کے دوران گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے اور وہ انگلینڈ کےخلاف ہوم سیریز نہیں کھیل پائے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں علاج کے لیے انگلینڈ بھیجا تھا۔ وہ ورلڈ کپ کے ٹریولنگ ریزرو میں شامل کیے گئے تھے لیکن عثمان قادر کے ان فٹ ہونے کے بعد انھیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حتمی اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا تھا۔

ڈاکٹر نجیب سومرو نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو بھی ٹیم میں واپس لانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ طبی نقطہ نظر سے شاہین شاہ آفریدی فٹ ہیں جس کا ثبوت ان کی ہر میچ میں بولنگ ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل نے ان کی فٹنس پر بہت کام کیا ہے۔

’سارے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کہتے ہیں کہ ’ہر ٹیم یہی سوچ کر اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی کہ وہ اسے جیتے گی۔ ہم بھی جب پاکستان سے چلے تھے تو ذہن میں یہی بات تھی کہ اچھا کھیلیں گے اور ورلڈ کپ جیتیں گے۔

’ہر کھلاڑی اپنے طور پر کوشش کرتا ہے۔ اب یہ دو میچز ہیں جن میں اچھی پرفارمنس دکھانے کی کوشش کریں گے۔ جو کچھ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

نسیم شاہ کہتے ہیں ’جو کچھ ہوا اس پر یقیناً ہمیں دکھ ہے۔ لیکن آپ کو آگے کی طرف سوچنا اور بڑھنا ہوتا ہے۔

نسیم شاہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ انڈیا کے خلاف شکست کے بعد پاکستانی ٹیم سنبھل نہیں پائی اور اس کا اعتماد متاثر ہوا۔

یاد رہے کہ نسیم شاہ اب تک اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تین میچوں میں دو وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

انڈیا کے خلاف انھوں نے لوکیش راہول کو چار رنز پر بولڈ کیا تھا جبکہ ہالینڈ کے خلاف میچ میں انھوں نے کپتان اسکاٹ ایڈورڈز کی پندرہ رنز پر وکٹ حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’کوہلی نے پاکستان کو مایوس کر دیا‘: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، سمیع چوہدری کا کالم

رفتار پہلے جیسی ہے، اللہ نہ کرے میرے جیسی انجری کسی کو ہو: شاہین شاہ آفریدی

’حارث بھائی ہتھ ہولا رکھو‘: دو شکستوں کے بعد بلآخر پاکستان کے لیے اچھی خبروں کا آغاز

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم درحقیقت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔

انڈیا اور زمبابوے کے خلاف شکست کے بعد اس نے اگرچہ ہالینڈ کو شکست دی ہے لیکن اگر وہ جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف اپنے دونوں میچ جیت بھی لیتی ہے تب بھی سیمی فائنل تک اس کی رسائی اس کے اپنے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے 21 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان نے 11 جیتے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ نے10 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم سڈنی میں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس گراؤنڈ میں ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ 2019 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیل چکی ہے جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی سب سے اچھی کارکردگی 2009 اور 2014 میں رہی جب اس نے سیمی فائنل کھیلا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp