ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کتاب، ”پوٹھوہار: خطۂ دل ربا” : ایک تاثر


ڈاکٹر شاہد صدیقی کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، "پوٹھو ہار: خطۂ دل ربا” کو ہم خود نوشت تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ ایک طرح کی خود نوشت تو ہے۔ اسے تاریخ کی کتاب بھی نہیں کہہ سکتے حالانکہ ایک طرح سے یہ تاریخ کی کتاب بھی ہے۔ اسی طرح یہ سفر نامہ تو نہیں ہے مگر سفر نامے کے بھی عناصر اس میں موجود ہیں۔

بعض نثری تحریروں کے لیے اور تخلیقی نثری تحریروں کے لیے بھی بیسویں صدی کے آغاز میں non fiction کی اصطلاح وضع ہوئی جو آہستہ آہستہ عام اور مقبول ہوئی۔ ’فکش‘ لاطینی لفظ سے مشتق ہے، جس کے معنی گھڑنا یا بنانا ہیں۔ مغرب میں یہ لفظ بہت سی اصناف کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ناول، ناولٹ، افسانہ، الیگری، رومان، حکایات۔ بعض جگہ رزمیہ نظموں یا ڈراموں کو بھی فکشن کی ذیل میں رکھا جاتا ہے۔ یہ بات میں نے ڈاکٹر سہیل احمد خان اور سلیم الرحمن صاحب کی کتاب سے نقل کی ہے۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ ملا وجہی کی ’سب رس‘ یا ’طلسم ہوش ربا‘ ناول نہیں، لیکن فکشن ہیں۔

 non fictionکی اصطلاح بعد میں وضع ہوئی لیکن فکشن کی طرح اس میں بھی خاصی وسعت ہے۔ جیسے Stephen Hawking کی کتاب ( 1988 ) ’A Brief History of Time‘ کو non fiction میں شمار کیا جاتا ہے۔ Edward Said کی ’Orientalism‘ ( 1978) بھی non fiction میں شمار ہوتی ہے۔ اور بعض جگہ تو T S Eliot کی ’ ( 1922) ‘ The Waste Land ’ کو بھی non fiction میں شمار کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ non fiction میں سچے واقعات کا بیان ہوتا ہے۔

البتہ creative non fiction کی تعر یف بعض جگہ یہ کی گئی ہے کہ وہ ایسا non fiction ہے جس میں سچے واقعات بیان کیے جائیں یا ایسی معلومات پر مبنی ہوں جن کا واقعی ہونا یقینی ہو۔ یہ بات صرف واقعات اور معلومات پر ہی مبنی نہیں۔ یہ بھی لازم ہے کہ تحریر تخلیقی اعتبار سے ایک خاص معیار کی تصدیق کرتی ہو۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کتاب پوٹھوہار: خطۂ دل ربا کو creative non fiction کی عمدہ تصنیف کہا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب مقامات، واقعات اور کرداروں کے بیاں کا ایسا مجموعہ ہے جو حقیقت پر مبنی ہے۔ اس میں مصنف کے ماضی کے واقعات کا بیان ہے، تاریخی مقامات کی تحقیق پر مبنی تفصیلات ہیں اور پوٹھوہار کے علاقے سے متعلق بہت سی معلومات ہیں جو اہم بھی ہیں، دلچسپ بھی اور شاید پہلی بار اس طرح یکجا کی گئی ہیں۔

انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ یادداشتوں کی گلی میں پلٹ کر کبھی نہیں جانا چاہیے۔ پلٹ کر گئے تو کوئی چیز بھی تخیل میں جمع کیے ہوئے ماضی کے نوادرات جیسی نہیں ملے گی۔ سب کچھ بدل چکا ہو گا۔ اگر نہ بھی بدلا ہو تو ہم خود اس قدر بدل چکے ہوں گے کہ کچھ بھی پہچان میں نہ آ سکے گا۔ لیکن شاہد صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں ماضی کو جس طرح دیکھا، محسوس کیا اور پھر reconstruct کیا ہیے اس میں پڑھنے والوں کو کسی قسم کی ملاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ زبان سادہ، رواں اور موثر ہے اور بہت readable ہے۔ پڑھنے والے کو لطف فراہم کرتی ہے اور وہ مصنف کے ساتھ خود بھی ان علاقوں کا سفر کرنے لگتا ہے جنھیں بیان کیا گیا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر بعض ابواب پڑھنے کا بہت لطف آیا کیونکہ میں نے بھی اپنے بچپن کے چند سال راولپنڈی میں گزارے ہیں۔ میرے اپنے پہلے سکو ل کا تذکرہ اس کتاب میں ہے۔ Presentation Convent سے میری تعلیم کا آغاز ہوا تھا۔ لال کرتی اس کے قریب ہے۔ ہمارا گھر CMH سے متصل تھا جو اب گرایا جا چکا ہے۔ جب دوسری مرتبہ میری والدہ کا تبادلہ پنڈی ہوا تو ہم اتنے بڑیے ہو چکے تھے کہ Variety Books جیسی دکان پر جانے لگے تھے۔ سینما گھر جہاں ہم نے کچھ فلمیں دیکھیں، شیزان restaurant جہاں آئس کریم کھانے کے للیے کئی بار گئے، اور ان کے علاوہ بھی بہت سی باتیں۔ گویا اس کتاب نے ہمیں بھی اپنے ماضی کی سیر کروائی۔

تین ابواب یعنی ’پوٹھوہار کے بچھڑے ستارے ، ’پوٹھوہار کے نیلم و مرجان‘ اور ’پوٹھوہار اور تاریخ کے خزانے‘ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں جو کچھ رقم ہے، دریائے ہیاس سے شاید بہت سے لوگ پہلے سے واقف نہیں ہوں گے۔ ان مستند معلومات کو جمع کرنے میں مصنف نے یقیناً بہت محنت کی ہے۔ یہ کام ایسا آسان نہیں تھا جس سہولت سے وہ کر گزرے ہیں۔ میں نے شاہد صدیقی صاحب کے نثری اسلوب کی بات کی تھی۔ کتاب کا ایک باب ہے : ’میاں محمد بخش: اقلیم عشق کا آفتاب‘ ۔ اس سے ایک ٹکڑا پڑھ کر اجازت چاہوں گی۔

فرماتے ہیں :

میری خواہش تھی مجھے اس جگہ تک رسائی ملے جہاں میاں محمد بخش دنیا کے ہنگاموں سے دور تنہائی میں مراقبہ کرتے تھے، یہ ایک تہہ خانہ تھا۔ تہہ خانے کے اوپر ایک چھوٹا دروازہ تھا جس میں صر ف سر جھکا کر داخل ہو سکتے ہیں۔ مختصر سیڑھیاں اتر کر فرش آتا تھا۔ پھر بائیں ہاتھ ایک اور چھوٹا سا دروازہ ہے۔ اسے کھول کر اندر داخل ہوں تو چار سیڑھیاں نیچے اترتی ہیں اور اب میں اس جگہ پر ہوں جہاں میاں محمد بخش تنہائی میں عبادت اور ذکرکرتے تھے۔ یہ 3 X 6 کی ایک تنگ سی کوٹھڑی ہے جس میں میاں محمد بخش نے برسوں تک ریاضت کی۔ یہاں سے ہو کر اب میں اس میاں محمد بخش کے دو کمروں کے گھر کی طرف جا رہا ہوں جہاں ایک کمرے میں میاں صاحب کی فریم شدہ جائے نماز اور ان کے زیر استعمال چارپائی رکھی ہے۔ دوسرا کمرہ عبادت کے لیے مختص تھا۔ یہاں سے نکل کر میں کچھ دور ایک خالی ہال نما کمرے میں آ جاتا ہوں۔ یہاں ذمینی نشستیں ہیں اور دیواروں کے ساتھ گاؤ تکیے رکھے ہیں۔ ہم گاؤ تکیوں کے سہارے قالین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ میری درخواست پر مفتی محمد وسم، عارف ضیائی اور قاری مروت حسین نقشبندی نے سیف الملوک کے اشعار ترنم سے سنانا شروع کیے اور سماں باندھ دیا۔ میں سیف الملوک سن رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ میاں محمد بخش نے زندگی کے کیسے کیسے سبق کتنے سادہ الفاظ میں بیان کر دیے ہیں۔ ساری فضا میں ایک سحر طاری تھا، یوں لگتا تھا کہ میں لطیف بادلوں کے ساتھ تیر رہا ہوں۔ اس مختصر محفل کا اختتام ہوا تو میں نے خواہش کا اظہار کیا کہ کھڑی شر یف کے سجادہ نشین میاں عمر بخش صاحب سے ملاقات کی جائے۔ اس کی تاکید مجھے بابر اعوان صاحب نے کی تھی۔ بابر اعوان میرے ’گرائیں‘ ہیں۔ انھیں پوٹھوہار سے عشق ہے اور میں جانتا ہوں اگر انھیں سیاست کی بھول بھلیوں سے رہائی ملے تو وہ باقی زندگی پوٹھوہار کے مانوس گلی کوچوں، ٹھنڈے میٹھے چشموں، اونچی نیچی پگڈنڈیوں، ہرے بھرے کھیتوں اور گھنے سایہ دار درختوں میں گھومتے ہوئے گزار دیں۔

اس کتاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے اپ کہیں سے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ہر باب اپنی جگہ مکمل ہے۔ شاہد صدیقی صاحب کو ایسی شاندار کتاب کی اشاعت پر بہت مبارک۔

Facebook Comments HS