کالج کے زمانے کی پڑھائی اور رومانس کے قصے


نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہونے والا کالج کا ہنگامہ خیز دور آج بھی یاد ہے۔ پیچھے مڑ کے دیکھوں تو بے شمار رنگین یادیں بے اختیار ہونٹوں پہ مسکراہٹ لے آتی ہیں۔ نئی نئی جوانی کا حسین دور دورہ تھا۔ کسی کو اپنی کوئی ہوش نہیں تھی۔ عجیب مستی کا دور تھا۔ سات آٹھ سہیلیوں کا گروپ کالج میں سارا سارا دن آوارہ پھرتا اور اس دور کے مشہور ہندی فلموں کے گانے گنگناتا جو کسی ٹیچر کے نظر آتے ہی بھنبھناہٹ میں بدل جاتے۔

پڑھنے لکھنے کی نہ تو کسی کو کوئی خاص فکر تھی نہ ہی خواہش اور اگر کسی کے دل کے کسی کونے سے یہ معصوم خواہش ابھرتی بھی تو باقی سہیلیوں کی رنگین آمیزیاں اس خواہش کو تھپک کر سلا دیتیں۔ چند سہیلیوں نے گھر والوں کی شدید خواہش پر پری میڈیکل گروپ میں داخلہ لے رکھا تھا اور ایک آدھ نے پری انجنیئرنگ میں۔ نہ تو کسی کا میڈیکل میں داخلہ ہوا نہ ہی کسی نے انجنیئرنگ میں کوئی تیر مارا۔ اس زمانے کے اکلوتے گرلز ڈگری کالج ساہیوال کی سب سے ذہین اور بہ نسبت خوبصورت پروفیسر کو سائنس گروپ کو انگریزی پڑھانے پر مامور کیا گیا تھا جنہیں اپنے حسن کا غرور ہونے کے ساتھ ساتھ چٹاخ پٹاخ انگریزی بولنے پر بھی بڑا ناز تھا۔

ایف ایس سی پری میڈیکل اور پری انجنیئرنگ گروپ کی اس اکٹھی کلاس میں لگ بھگ ایک سو کے قریب لڑکیاں اکٹھی ہوتی تھیں اور ایسی خاموشی ہوتی تھی کہ سوئی گرنے کی بھی آواز آتی تھی اور سہیلی کی پراکسی لگوانے کا مطلب تو سیدھا سیدھا ایڈمیشن کینسل ہوتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ جب وہ گڈ بائی مسٹر چپس پڑھا رہی ہوں تو سانس بھی اونچی لے۔ ہمارے آٹھ سہیلیوں کے گروپ میں سے دو یا تین جو ان کے نئے ڈریس کی کانٹ چھانٹ دیکھنے کی زیادہ شوقین ہوا کرتی تھیں، سب سے آخر میں کلاس روم میں پچھلے دروازے سے داخل ہو کر آخری بنچوں پہ بیٹھ جایا کرتیں اور پورے گروپ کی حاضری لگواتیں۔

کلاس ختم ہوتے ہی ایسے فاتحانہ انداز میں باہر نکلتیں گویا میڈیکل کے داخلے کی لسٹ میں ٹاپ پر اپنا نام دیکھ لیا ہو۔ اردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان جیسے مضامین پڑھنے کی کبھی ہمارے گروپ میں سے کسی نے زحمت ہی نہیں کی تھی۔ کیمسٹری کی مس مبین خلیل کی کلاس بھی کسی مہم سر کرنے سے کم نہیں ہوتی تھی۔ کیمسٹری لیب کا اسسٹنٹ نیا نیا آیا تھا۔ لڑکیوں سے بھرے کالج میں خوب تیار ہو کر آتا اور گرلز کالج کی بے چاری ترسی ہوئی لڑکیاں اس کے چکر میں کیمسٹری لیب کے کئی کئی چکر لگا آتیں جہاں وہ سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ کے بھبھوکوں میں بیٹھ کر راجہ اندر بنا ہوتا تھا۔

کیمسٹری کی بورنگ ترین کلاس بنک کرنا ہمارے گروپ کا من پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن ستم یہ ہوا کہ مس مبین نے کلاس کیمسٹری لیب کے اندر لینا شروع کر دی۔ بس پھر کیا تھا مجال ہے کیمسٹری کی ایک بھی حاضری چھوٹی ہو کسی کی اور وہ نامراد اسسٹنٹ سارا ٹائم ٹائٹریشن بیورٹ، پپٹ اور فلاسک گھما گھما کے الٹ پلٹ کر رکھتا رہتا۔ لڑکیوں کو دیکھتے دیکھتے کتنے ہی جار توڑے اس نے، تبھی ایک روز ٹیچر نے اس کی تنخواہ سے پورے کرنے کی دھمکی دی۔

ہمارے گروپ کی سب سے حسین لڑکی کا معاشقہ ان دنوں رائے بابر سلطان کے ساتھ پورے عروج پر تھا جو ہر جمعے کے جمعے کالج کے باہر اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ رائے بابر سلطان ساہیوال کی مشہور اور امیر ترین فیملی کا لڑکا تھا جو کالج کی لڑکیوں کا ہیرو تھا۔ کیا خوب دور تھا، معاشقہ ایک سہیلی کا تھا اور مزے ہمارا سارا گروپ لیتا تھا۔ جمعے کے بعد چھٹی کے دو دن نہایت ہی بے چینی سے گزرتے کہ کب کالج جائیں اور بابر کے ساتھ اس بار کی ملاقات کا احوال چسکے لے لے کر سنیں۔

بس پھر پورا ہفتہ بابر نامہ سننے میں گزر جاتا۔ اس کو ملنے والے تحفوں کو باقی سہیلیاں ستائش اور حسرت سے دیکھتیں۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ہماری وہ سہیلی برقعہ پہنا کرتی تھی اور اسے برقعے سمیت کالج کے این سی سی گراؤنڈ کی آخری دیوار کے ساتھ اینٹیں لگا کر بھگانے کی ذمہ داری ہم سب فرض سمجھ کر پوری کرتے تھے۔ شہر میں ان دنوں ساہیوال کلب کے ساتھ ایک چائینیز ریسٹورنٹ نیا نیا کھلا تھا، وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کے قصے سننے کا بھی اپنا ہی ایک رومانس تھا۔

آہستہ آہستہ باقی سب کے بھی معاشقے چل نکلے اور مابدولت کا کام کالج کے ان سالوں میں سہولت کار کا رہا اور پھر مزے سے سب کی ملاقاتوں کے قصے سننے کا۔ شاید اسی لیے میں آج تک بہت اچھی لسنر ہوں۔

بہت جلد گزر گئے وہ دن۔ ایف ایس سی تو کسی کی نہ ہو سکی پھر سب نے آرٹس رکھ لی۔ کسی نے بی اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی۔

اس سارے دور میں مجھے جس بات کا رنج رہا وہ یہ تھا کہ شکل صورت کوئی خاص اچھی نہ ہونے کے سبب کبھی کسی لڑکے نے منہ نہیں لگایا تھا۔ نہ کوئی دوستی، نہ معشوقی نہ کسی سے کوئی بات چیت۔ اسی غم کو غلط کرنے کے لیے دکھی شاعری شروع کر دی جو کالج کی لڑکیوں میں خاصی مقبول رہی۔ میری لکھی نظمیں میری سہیلیاں اپنے عاشقوں کو سنا کر خوب داد وصول کرتیں اور میری مشکور رہتیں۔ کبھی فرمائشی شاعری لکھواتیں۔ اس دور کی شاعری کا بھی اپنا ہی ایک مزاج تھا۔

گھر والوں نے یہ حرکتیں دیکھ کر مجھے بڑی بہن کے پاس آزاد کشمیر بھیج دیا انہوں نے میرا دوبارہ ایف ایس سی میں ایڈمیشن مظفرآباد کالج میں کرا دیا۔ رو دھو کر ایف ایس سی تو کر لی اور پھر بی ایس سی بھی زوالوجی باٹنی اور کیمسٹری جیسے مشکل ترین کمبینیشن کے ساتھ کرلی۔ میرے یونیورسٹی میں ایم ایس سی میں داخلے اور ڈگری مکمل ہونے تک میری آدھی سہیلیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ کچھ نے سکول میں پڑھانا شروع کر دیا تھا۔

سالوں پہ سال گزر گئے۔ میں بھی نوکریوں کے جھمیلے میں پڑ گئی اور کسی سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ کبھی ساہیوال جاتی تو کسی کی کوئی خبر مل جاتی لیکن سب کے بارے مجھے اتنا معلوم ہے کہ کسی کی بھی شادی اس دور کے اپنے عاشق سے نہ ہوئی۔ اب وہ دور یاد کروں تو کبھی ہنسی آتی ہے اور کبھی اس بات کا یقین کہ کالج کی کچی عمر کی محبتیں محض فریب ہوتی ہیں۔ اسی بات پر میں اپنی ناکام حسرتوں پہ خود کو تسلی دیتی ہوں کہ اچھا ہوا رضوانہ انجم اس دور میں تمہیں کسی سے یا کسی کو تم سے کوئی محبت وغیرہ نہ ہوئی۔

Facebook Comments HS