ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
تصنع کیا ہے؟ عموماً یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جب کوئی اپنے اصل سے یا فطرت سے روکشی اختیار کرنا چاہے اور اس کا اظہار عمل کی صورت میں ہو تو وہ تصنع کا سہارا لیتا ہے۔ جس کا فائدہ اسے یہ ہے کہ جہاں ایک طرف وہ اقتضائے معاشرہ کو پورا کرنے کے لیے ذہنی انہماک سے بچ جاتا ہے تو دوسری طرف خیالات مخالف کو حسب منشاء معقولات عامہ پر منطبق کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسے ضیاع کہا جائے یا موافقت مگر رفتہ رفتہ اس کے اس عمل میں ممارست سے اک بے باکی پیدا ہوجاتی ہے اور مزید اسے سابقہ یاداشت پر ہیجانی کیفیات ابھرنے کا ڈر نہیں رہتا۔
بالآخر وہ اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ بلا بحث و تمحیص اور حیل و حجت کے، وہ تصنع پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ابھرتا ہے کہ پھر وہ صانع کیوں کر ہوا؟ مطلب یہ کہ اگر وہ تانبے پر سونے کی قلعی چڑھا کر فروخت کے علاوہ اپنے تئیں بھی تانبے کو سونا ہی گردانتا ہے تو اس کے مطابق اول سے وہ سونا ہی تھا۔ اس نے جب اپنے اصل کو پہچاننا ہی چھوڑ دیا تو اس بات کا اطلاق ملتزم نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ وہ جانتے بوجھتے روکش ہوا۔
واردات و حادثات زمانہ سے گرچہ وہ متاثر نہیں ہوتا لیکن اسے کہیں نہ کہیں یہ بات تو کھٹکتی ہے کہ میں وہ نہیں ہوں جو کچھ وقت پہلے تھا۔ بالفرض وہ اس کا تاثر قبول بھی کرتا ہے تو اس حد تک وہ خود کو قائل کر سکتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا جیسا میں اب ہوں۔ چنانچہ اسے صحیح معنوں میں صانع یا صناع ( گرچہ ان دو میں بھی بسیط فرق ہے ) کہنا بے جا ہے کیوں کہ وہ عقل کی قوت ممیزہ کا رخ تبدیل کرنے سے عاجز ہے۔ سادہ پیرائے میں یوں کہنا چاہیے کہ وہ اک کھلونے کا سا کردار ادا کر رہا ہے جس سے کھیلنے والا بھی ایک کھلونا ہے۔ اور یہ ایک ایسا محدود دائرہ ہے جس میں یوں سمجھیے کہ اک سرکس کا سماں ہے اور چہرے بود و نبود کی ضرب ہائے بے محابا سے آن کی آن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
یہاں کٹھن مرحلہ یہ پیش آتا ہے کہ ایسے عمل کو یا اس سارے پراسیس کو اگر تصنع کہا جائے تو بے محل ہے اور اگر اس کو کوئی نام دیا جائے تو عقل بھی اس کی تلاش سے عاری ہے۔ کیوں کہ ایسے ہی کئی الفاظ مصادر و مشاتق کے لحاظ سے ایک ہی لکیر پر لکھے جانے والے ہیں۔ تو کیا اسی طرح زبان کے قواعد و ضوابط کو اپنی تن آسانی کے سبب پیدا کردہ کاہلی کی بھینٹ چڑھا دیا جائے؟ یقیناً یہ ایک بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ صرف نفسی اغراض کی خاطر اپنے آباء و قدماء کی کاوشوں پر یوں پانی بہا دینا عظیم اقوام کا شیوہ نہیں ہے۔ یہاں کسی تقریر کا مقصد ہے نہ ناصح بننے کا شوق۔ بلکہ ایسا حل تلاش کرنا میرے نزدیک اہم ہے جو الفاظ کے اس لجھاؤ سے ذہن کو سکون مہیا کر سکے۔
علامہ محمد اقبال کا یہ مصرعہ ’ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن‘ اس امر کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا ہے۔ قطع نظر اس سے، کہ یہ ان کی کس نظم سے ہے یا اس کا سیاق و سباق ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس کو مرید کی بغاوت تک ہی موقوف نہ رکھا جائے، جہاں تک ممکن ہو سکے اس عقدے کے وا کرنے میں اس کی مدد لینی چاہیے۔
خرقۂ سالوس کسی ساحر کی وہ پھٹی پرانی پوشاک ہے جو ظاہراً کسی بھی متوسط یا اعلیٰ فرد کا تن زیب نہ لگتا ہو۔ سالوس کو یہاں اس علامت کے طور پر رکھا گیا ہے کہ وہ بظاہر تو اک خرقے میں ملبوس ہے مگر لوگوں کو فریب دیتا ہے۔ اس گدڑی کے اندر وہ مہاجن چھپا بیٹھا ہے جو مزید سے مزید تر کی خاطر اپنے اصل کو بیچ رہا ہے۔ استعارات تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ علامہ نے اس مصرعے کو ایک خاص پیرائے میں اور ایک خاص نظریے کے تحت قرطاس کی زینت بنایا لیکن قابل توجہ امر یہ ہے کہ تصنع اور صانع کی الجھن سے نکلنے میں یہ کیا عمل دخل رکھتا ہے۔
جس طرح اوپر بیان ہوا ہے کہ آدمی کو معاشرے کے مختلف النوع طبقات الناس کے ہر ایک نظریے کا خیال رکھتے ہوئے اپنا مدعا بیان کرنے اور عمل میں لانے کے لیے صانع بننا پڑتا ہے اور اس تکرار سے وہ اپنے فطرت ہی تبدیل کر لیتا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ فطرت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ عین ممکن ہے کہ میرے کمرے میں، میرے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارنے والا شخص مجھ سے اس قدر بیزار ہو کہ قیل و قال کی نوبت بھی ناپید ہو جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ میں کسی اجنبی کی ایک پرخلوص اور خالص ادا پر فریفتہ ہو کر ساری عمر اس کے گرد منڈلاتا پھروں۔
لیکن اول الذکر جب اپنی فطرت پر قائم رہے گا تو اس کا میرے ساتھ نباہ ناممکن ہے۔ یا تو وہ الگ ہو جائے گا یا پھر اپنی طرز فکر کو میرے مطابق ڈھال لے گا۔ اور یہ سائنسی تحقیق سے بھی ثابت شدہ ہے کہ ایک فرد کی فطرت دوسرے سے جدا ہے۔ مزاج، چال چلن، سوچ، فکر، تخیل، زبان، لہجہ، ظاہری صورت، اجتماعی سماجی صنائع و بدائع، الغرض ہر انگلی کا ایک اک پور دوسرے ہم زاد سے جدا ہے۔ تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ علیحدگی اختیار کر لی جائے، فقط اس لیے کہ استخوان فطرت کی ہڈیاں بے قاعدہ نہ ہوں! دوبارہ اگر غاروں اور جنگلوں میں ٹھکانے کا قصد کر لیا جائے تو انسان پھر انسان نہیں رہے گا۔ چنانچہ معاشرے سے الگ ہو کر اصل کو ناخالص ہونے سے بچائے رکھنا ممکن تو ہے لیکن متبذل بھی۔
دوسرا پہلو بھی قابل غور ہے کہ اس کے خیالات و عادات کو میری سوچ کے موافق ہو جائیں تو اس کی فطرت کو ایک نیا روپ ملے گا۔ ماخذ بلاشبہ ایک ہی ہے لیکن ارتقاء کے عوامل میں اس کا سانچہ بدل جائے گا۔ پھر وہ جس قدر مرضی چاہے کہ اپنے عوامل و مقاصد پر حجاب عارضی تان دے، کچھ وقت کے بعد اصل و نا اصل میں تمیز کرنا ترک کر دے گا۔ اس صورت میں بھی اسے صانع نہیں کہ جاسکتا۔
جس طرح ہر سالوس کے خرقے کے اندر ایک مہاجن چھپا بیٹھا اسی طرح ہر فرد خاص کے دو چہرے ہیں۔ یہاں خاص سے مراد وہ ہے جس کا اصل اسے اپنی طرف کھینچ کے لے جائے، خود سے دور تو رکھے لیکن علیحدہ نہ ہونے دے۔ اسے مذہبی یا متصوف پیرائے میں ’عطا‘ بھی کہا جاسکتا ہے مگر یہ بھی ایک قسم کا فکشنل ہو جائے گا۔ جس طرح ہر شے اپنی ضد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے اسی طرح ’تصنع‘ کو ’اصل‘ کی رو سے سمجھا جا سکتا ہے۔
انسان کا اصل یہ ہے کہ طبیعاتی طور پر ذہن بلا تحریف و تحزیر رکاکت جسم کو وہی تحریک مہیا کرے کہ ایک نئے انداز میں اس کا ظہور ہو۔ سوچ کی صورت میں ہو یا عمل کی صورت میں۔ شرط یہ ہے کہ اس کا اوریجن وہی ہو جو قوت متخیلہ فراہم کرے۔
تصنع پھر اس سے متضاد ہوا۔ یعنی تخیل کی حدود سے بالا جو قوت ہے اس سے ناموافقت، تصنع ہے۔ اور اس صورت میں دو نتائج نکلتے ہیں جو اوپر بیان کر دیے گئے ہیں۔
چنانچہ اس بات پر قیاس لازم ہے کہ یہ بے نام شے کچھ بھی ہو مگر اتنا تو حتمی ہے کہ ’ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن‘ ۔


