پاکستان میں سیاسی عدم برداشت، جو قتل و غارت تک پہنچ گیا


پی ٹی آئی، احتجاج
یوں تو کسی ایک گھر میں دو مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار، کارکن یا سپورٹر ہونا ایسی کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اختلاف رائے سے ہی جمہوریت پنپتی ہے۔

مگر پاکستان میں آج کے دور کی پولرائزیشن یا سیاسی تقسیم نے ذاتی پسند ناپسند کو بالکل مخالف سمتوں میں دھکیل دیا ہے کہ لوگ عدم برداشت سے تشدد کا راستہ اپنانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ ہفتے ہوا جب ایک کوسٹر پشاور سے روانہ ہوئی اور موٹروے ٹول پلازہ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے سڑک کو بلاک کر دیا۔

اس کے باعث کوسٹر کو ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں رکنا پڑا لیکن جب گاڑی پھر روانہ ہوئی تو اس میں سوار ایک شخص نے گالیاں دینا شروع کر دیں، جس سے مسافروں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

یہ سواریاں پشاور سے لوئر دیر کے علاقے تیمر گرہ جا رہی تھیں لیکن اس احتجاج کی وجہ سے گاڑی میں عدم برداشت اس قدر بڑھ گیا کہ ایک شخص فائرنگ سے ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔

پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سڑکیں بند کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے لیکن اس سے عام شہری بُری طرح متاثر ہوتے ہیں اور اس کے رد عمل بھی آتے ہیں۔

تاہم اس واقعے نے خاص طور پر مبصرین کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ملک آخر کس طرف جا رہا ہے۔

https://twitter.com/shahkhalidary/status/1589478629666234368?s=48&t=JQWlLrGPh97c3K33_1FdoA

’وہ خواتین کی موجودگی میں گالیاں دے رہا تھا‘

اس واقعے میں زخمی ہونے والے وقاص نے تیمر گرہ ہسپتال سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ پشاور سے اپنے گاؤں تیمرگرہ جانے کے لیے ایک کوسٹر میں سوار ہوئے۔

پشاور ٹول پلازہ پر پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کر رہے تھے جس وجہ سے سڑک بند تھی۔

’ہماری گاڑی کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں رُکی رہی اور پھر جب گاڑی روانہ ہوئی تو سواریوں میں سے ایک شخص پی ٹی آئی کو گالیاں دینے لگا۔‘

’پہلے ہم سنتے رہے پھر میرے بھائی نے اس سے کہا کہ ’خیال کرو! گاڑی میں خواتین بھی بیٹھی ہیں لیکن اس نے کہا میں آپ لوگوں سے کچھ نہیں کہہ رہا، میں تو پی ٹی آئی کے لوگوں کو کہہ رہا ہوں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم خاموش رہے اور وہ شخص بولتا رہا اور پھر اس نے کسی کو فون کیا کہ تم لوگ آجاؤ، ہماری گاڑی آ رہی ہے۔

’ہم نے ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی سٹینڈ پر کھڑی نہ کرے بلکہ اگلے ٹول پلازہ پر لے جائے جہاں پولیس موجود ہوگی تاکہ وہیں اس سواری کو اُتار دیا جائے لیکن اتنے میں پیچھے سے گاڑی میں کچھ لوگ، جن کی تعداد چھ سے سات تھی، وہاں پہنچ گئے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’پہلے انھوں نے ہمیں مارا پیٹا اور پھر ان میں سے ایک نے پستول نکال کر فائرنگ کی۔ مجھے ایک گولی لگی اور پھر اس کے بعد میرے بھائی کو گولیاں لگیں جس سے وہ دم توڑ گیا۔‘

پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے باوجود اب تک اس کیس میں کوئی گرفتاری نہیں ہوسکی۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے رحیم الدین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں کام کرتے تھے اور کچھ روز میں واپس جانے والے تھے۔

احتجاج

کیا محض ایک روڈ بلاک سے بات اس قدر بگڑ سکتی ہے؟

عام طور پر احتجاجی مظاہروں میں منتظیمیں کوشش کرتے ہیں کہ وہ روڈ بلاک کر دیں تاکہ متعلقہ حکام پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ احتجاجی دھرنوں میں بھی اس اصول پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں صوبائی اسمبلی اور پشاور ہائیکورٹ کے قریب احتجاج پر پابندی کے بعد کارکنان اکثر موٹر وے ٹول پلازہ پر احتجاج کرنے لگے ہیں اور ایسے میں تمام ٹریفک بلاک کر دی جاتی ہے۔

بہت سے لوگ، جیسے طالب علم یا ایمبولینس، ان مظاہروں سے متاثر ہوتے ہیں مگر ان احتجاجی مظاہروں سے سیاسی بحران ختم ہونے کے بجائے کیا مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے اور لوگوں میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے؟

اس موضوع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات کی چیئر پرسن پروفیسر ارم ارشاد نے بتایا کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔ ’ہر شخص صبح یہ سوچ کر نکلتا ہے کہ وہ گھر والوں کے لیے کچھ کما کر لا سکتا ہے یا نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسے حالات میں جب سیاسی مظاہرے (طویل عرصے تک) جاری رہیں تو اس کے اثرات نہ صرف عام شہریوں پر بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔‘

’اب انسانوں کے رویوں میں وحشی پن زیادہ نظر آتا ہے‘

پروفیسر ارم ارشاد نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے روزمرہ کے معاملات کے علاوہ گھر اور خاندانوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ اشتعال میں آتے ہیں۔

’اس وقت شہری جن حالات سے گزر رہے ہیں، اس میں ایک بے یقینی کی صورتحال ہے۔ نفسیاتی طور پر لوگ اپنے عمل سے دکھاتے ہیں جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں میڈیا بھی بڑا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ اس وقت میڈیا پر ایسے واقعات یا تقاریر بار بار متعدد چینلز پر نشر کی جاتی ہیں جس سے لوگوں میں اشتعال بڑھتا ہے۔

’سوشل میڈیا نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور اب کوئی بھی بات چاہے وہ مثبت ہو یا منفی، سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہے۔‘

پروفیسر ارم ارشاد نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کو ذرائع ابلاغ تک اتنی رسائی حاصل نہیں تھی لیکن اب ہر شخص کی جیب میں موبائل فون پڑا ہے جس پر سوشل میڈیا دستیاب ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب لوگ اپنی اقدار پر عمل نہیں کرتے بلکہ ’وحشیانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اور اب میڈیا جو کچھ سکھا رہا ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے۔‘

’لوگوں نے اپنی اقدار چھوڑ دی ہیں۔۔۔ انسانوں کے ردعمل میں اب وحشی پن نظر آتا ہے۔‘

احتجاج

اظہار رائے کی آزادی اور عدم برداشت کا ٹکراؤ

کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما سے پوچھا جائے کہ اس سیاسی عدم برداشت کی وجہ کیا ہے تو وہ کہیں نہ کہیں اس کا قصوروار دوسری جماعت کو قرار دیتے ہیں اور ان کے پاس اس کا جواز پیش کرنے کے کئی حوالے بھی ہوتے ہیں۔

جیسے عوامی نینشل پارٹی خیبر پختونخوا کی ترجمان ثمر ہارون بلور کی رائے میں تحریک انصاف نے ’گالم گلوچ کا سلسلہ شروع کیا اور یہ رویہ ان کے کارکنان میں منتقل ہو کر معاشرے میں پھیل گیا۔‘

جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے تسلیم کیا کہ اختلاف کے اظہار کے لیے ’ہمیں بہتر طریقے سے احتجاج کرنا چاہیے لیکن جہاں آپ کی بات سنی نہیں جاتی اور جہاں ہر قسم کے احتجاج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا وہاں مجبوراً پھر مظاہرین روڈ بلک کر دیتے ہیں۔‘

تو ایسے ماحول میں لوگوں کو پُرامن کیسے رکھا جائے، اس سوال کے جواب میں جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئین میں احتجاج اور آزادی رائے کی اجازت ہے لیکن یہ سب کچھ قانون اور آئین کے تحت ہونا چاہیے۔ اس میں تشدد نہیں ہونا چاہیے، ریاستی املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی کو ملک میں کسی ناانصافی پر احتجاج ریکارڈ کرانا ہے تو ’روڈ بلاک انتظامیہ کی اجازت سے کیا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو متبادل راستے دستیاب ہوں، کسی کے لیے مشکل پیدا نہ ہو اور انتظامیہ ایسے احتجاج کے لیے سہولت فراہم کرے۔‘

سینیٹر مشتاق کے مطابق پُرامن احتجاجی مظاہروں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مطالبات منوانے کی خاطر کسی کی معمولات زندگی متاثر نہ کی جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26836 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments