کیا صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟


پاکستان میں دھرنوں کی سیاست کا آغاز محترم قاضی حسین احمد صاحب نے کیا تھا۔ قاضی صاحب کے اس اقدام نے ان کی انتخابی سیاست پر کوئی اثر مرتب نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی حکومت کو اکیلے گرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کی حکمت عملی مربوط اور منفرد تھی، مگر نتائج کے اعتبار سے کامیابی سے دور رہی۔

ان کی جماعت کے نقش قدم پر چلنے کی روش عمران خان نے بھی اختیار کی۔ 2014 ء میں تمام تر عوامل کے ہوتے ہوئے بھی عمران خان حکومت کو گرانے اور نئے انتخابات کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور طاہر القادری کی جماعت بھی کام نہ آئی۔

اس وقت جس انتخاب میں دھاندلی کی بات عمران خان کر رہے تھے اس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت 249 دیگر سیاسی جماعتیں بھی انتخابی عمل میں حصہ دار تھیں اور ایسا بھی نہیں تھا کہ پی ٹی آئی ہارنے والی نشستوں پر دوسرے نمبر پر تھی بلکہ بعض جگہ تو اس کے امیدوار بھی نہیں تھے۔

2018 ء میں ریاست کے اہم اداروں سمیت نجی نشریاتی اداروں اور سب نے مل جل کر اس بات کی کوشش کی کہ روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر نیا تجربہ کیا جائے۔ اس تجربے کے لیے 10 سال سے تشہیر کی جا رہی تھی اور اس کی کامیابی بھی سب نے دیکھ لی۔ لیکن ناتجربہ کاری کے سبب وہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے جس کی امید کی جا رہی تھی۔ جو مددگار تھے انہوں نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اپنا بوجھ خود اٹھاؤ، ہم مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔

تحریر جاری ہے ‎
جماعت اسلامی کے نقش قدم پر چلنے کی روش عمران خان بھی اختیار کی۔ تصویر: اے پی
مزید پڑھیے : کیا ایک سال بعد پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہو گا؟

اب جناب عمران خان صاحب زخمی ٹانگ کے ساتھ فاسٹ باؤلر ڈینس للی کی طرح باؤلنگ کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے لاہور سے نہایت اعتماد اور پرعزم طریقے سے جی ٹی روڈ کا سفر شروع کیا تھا مگر جی ٹی روڈ تک آتے آتے ہی 3 روز لگ گئے اور پھر جی ٹی روڈ پر بریکیں لگتی چلی گئیں۔ شاید اس کی وجہ نا امیدی اور مایوسی ہو۔

وزیر آباد میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا وہ قابل مذمت ہے۔ سیاسی اجتماعات میں گولی کا چلنا تو بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے۔ ایک بے قصور اور چاہنے والے کی جان گئی، اس کے بچے یتیم ہو گئے اور اب وہ ساری زندگی کرب میں رہیں گے۔

ایوب خان کے دور میں بھاٹی گیٹ کے باہر مولانا مودودی کے اجتماع پر بھی گولی چلی تھی۔ اللہ بخش شہید کو اب تک سیاسی کارکن نہیں بھول سکے۔ ایک کروڑ روپے معظم گوندل کو کافی نہیں تھے۔ خیر خان صاحب اب پھر اس سیکڑوں کے لانگ ٹرم شارٹ مارچ کو 2 نمبر قیادت کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں۔ مجھے تو اس کے مقاصد پوری طرح واضح نہیں ہیں اور جو معلوم ہیں ان کے پورے ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

مزید پڑھیے : عمران خان کا لانگ مارچ: تحریک انصاف اور حکمران اتحاد کس پریشانی سے دوچار ہیں؟

اگر خان صاحب آرمی چیف اپنی مرضی کا لگوانا چاہتے ہیں تو شہباز شریف پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اس سے خان صاحب کا کوئی واسطہ تعلق نہیں، یہ آئینی معاملہ ہے اور اب جب سب کچھ آئین کے تحت چل رہا ہے تو آپ اس کی بالادستی پر یقین رکھیں اور اگر انتخابات کی تاریخ چاہیے تو اسمبلی کی میعاد ختم ہونے کے 45 دن میں الیکشن ہوں گے۔ ویسے تو یہ 90 دن میں ہوتے ہیں۔ گویا خان صاحب کو انتظار ہی کرنا پڑے گا اور شدت انتظار کوئی آسان کام نہیں۔

پی ٹی آئی کو انتظار ہی کرنا پڑے گا جو آسان کام نہیں۔ تصویر: ٹویٹر

پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنی غیر منظم جماعت کو منظم کرنے کا جو وقت مل رہا ہے اس کو وہ صوبوں اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی اور قانون شکنی کی نذر کر رہے ہیں۔ سڑکوں کو بند کرنا، شہریوں کی نقل و حرکت پر بندش لگانا، روزگار کے ذرائع کو بند کرنا اور وفاق کے افسران پر دباؤ ڈالنا ایسے اقدامات ہیں جن پر وفاقی حکومت نوٹس لے سکتی ہے۔

ایسے تمام معاملات جن کے بارے میں کہا جا سکے کہ حکومت یا صوبائی حکومتیں غیرآئینی طور پر کر رہی ہیں تو پھر آئین کی دفعہ 234 کے تحت گورنر، صدر کو تحریری طور پر مطلع کر سکتا ہے کہ صوبے کی حکومت دستور کے احکام کے مطابق صوبہ نہیں چلا رہی۔ ایسے میں صدر سینیٹ اور قومی اسمبلی سے الگ الگ ایمرجنسی کے حق میں قرارداد منظور ہونے کے بعد پابند ہو گا کہ ایمرجنسی کا اعلان کرے۔

صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرسکیں گے۔ صوبے یا اس کے کسی حصے میں جب بھی ایمرجنسی نافذ ہوگی تو بنیادی حقوق بھی معطل ہوجائیں گے۔ ان حقوق میں نقل و حرکت کی آزادی، اجتماع کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی اور تقریر کی آزادی سمیت دیگر بھی شامل ہیں۔

عمران خان خود تو پہلے ہی بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں مگر اب وہ صوبوں کی آئینی حکومتوں کو بھی اسی بند گلی میں لے جانے کے درپے ہیں۔ افواج پاکستان اپنے افسران کے خلاف الزامات اور من گھڑت کہانیوں پر نہ صرف احتجاج کرچکی ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ سعودی ولی عہد پاکستان آرہے ہیں اور یہ 2 ہفتوں کے دوران ہی ہو گا۔ ان کی آمد پر اربوں ڈالر کے معاہدات اور آئل ریفائنری کے معاملات بھی حتمی شکل اختیار کرسکیں گے۔ چین اور سعودی عرب اگر مل کر ہمارے ہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کم از کم توانائی کے بحران پر قابو پانے کے امکانات روشن ہوں گے۔

اس بات کا امکان ہے کہ سعودی ولی عہد پاکستان کا دورہ کریں گے
مزید پڑھیے : پی ٹی آئی لانگ مارچ: ’کوریج کے دوران جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا‘

سعودی گھڑی تو ہم بیچ چکے ہیں ورنہ آئل ریفائنری کا کام کب کا ہو چکا ہوتا لیکن اب نہ حکومت اور نہ ہی فوج اس موقع کو ضائع ہونے دیں گے اور غالباً جنرل باجوہ کے پس پشت رہ کر ہونے والے بڑے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہو گا۔ گویا ہماری معاشی مشکلات میں کمی کا سفر شروع ہوا چاہتا ہے اور یہی ہماری حقیقی آزادی کا سفر ہو گا۔

اگر گھڑی نہ بکتی اور زبان محفوظ رہتی تو عمران خان پر یہ الزام بھی نہیں لگتا کہ انہوں نے سفارتی آداب اور تعلقات کا خیال بھی نہیں رکھا۔ 2014 ء میں ان کی وجہ سے چینی صدر نہ آ سکے اس لیے اب عمران خان یہ بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے کہ ان کی وجہ سے سعودی ولی عہد کا دورہ مؤخر ہو۔

یہ رائے ہے کہ کوئی بھی عمران خان کو جتھے کے ساتھ اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دے گا اور اسلام آباد آ کر بھی وہ کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اب سعودی ولی عہد کا دورہ مؤخر ہو یہ عمران خان کے لیے اتنا بڑا بوجھ ہو گا کہ وہ اسے اٹھانا بھی چاہیں تو نہیں اٹھا سکیں گے۔

جرنیل اور سیاستدان بار بار غلطی کر کے کبھی سرخرو نہیں ہوتے، قانون فطرت تبدیل نہیں ہوتا اور انسان ہی کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عظیم چوہدری

عظیم چوہدری پچھلے بیالیس سالوں سے صحافت اور سیاست میں بیک وقت مصروف عمل ہیں ان سے رابطہ ma.chaudhary@hotmail.com پر کیا جاسکتا ہے

azeem-chaudhary has 26 posts and counting.See all posts by azeem-chaudhary

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments