پنجاب اور کے پی کی صوبائی حکومتیں!


مرکز میں تحریک عدم اعتماد کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی انتظام و انصرام ہر خاصا زوال اور سیاسی سرگرمیوں پر کافی عروج ہے۔ وزراء کی کثیر تعداد فرائض کی شاہراہ کم تاہم ”ڈیوٹی“ کی راہ زیادہ پکڑے ہوئی ہے۔

قانون کے متعلق معروف ہے، کسی ریاست یا ملک میں صاحبان اقتدار یا اتھارٹی کے بنائے ہوئے وہ اصول و ضوابط جن کا انتظامی و عدالتی، رسومات یا حکمت عملی کی شکل میں لوگوں پر اطلاق ہو، مقصد یہ کہ گلشن کا کاروبار چلے! ہمارے ہاں تنظیمی شخصیات پر ہمیشہ پارلیمانی شخصیات ہی غالب رہے کہ عوام قانون کو پارلیمانی لوگوں کے تابع اور انصاف کو انہی لوگوں کے اشاروں پر چلنے والا سمجھتی ہے گو ایسا نہیں، مگر جہاں لوگوں کی آدھی آبادی کا خط افلاس سے نیچے بسیرا ہو اور کم و بیش آدھی ہی آبادی قانون اور انصاف کے سامنے آدھی گواہی والی ہو تو ایسے مسائل فطری ہیں۔ آدھی گواہی والوں کو ہم قومی دھارے میں پورے کا پورا شامل کرنے کے وعدے کا جھانسہ تو دیتے ہیں مگر ایفائے عہد سے ہم کنار نہیں کرتے! جہاں عوام کی بے بسی و بے کسی اور علم و حکمت سے آشنائی کا عالم یہ ہو کہ وہ دو وقت روٹی ہی کا میسر آجانا اور کسی اقتدار والے کی شکل کا دیدار پا لینا ہی انسانی حقوق پر جولانی سمجھیں تو وہاں انصاف کی فراوانی اور جمہوریت پر جوانی کا تصور کرنا حماقت ہی ہے۔ آج تک لوگوں کو جینے کے سلیقے دینے کے بجائے ووٹ کے لینے ہی کو تو جمہوریت اور سیاست کا نام دیا، سیاست کو اپنے باغیچوں میں جھوٹ کی آبیاری اور جمہوریت کے پرچار کو آمریت کی راہداری ہی سے نوازا ہم نے، جو دھوکہ ہے، محض دھوکہ!

ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں، پنجاب اور کے پی کی ساری انتظامی مشینری، سارے وزرا اور آدھی سے زائد بیوروکریسی لانگ مارچ کی سیاسی جگمگاہٹ میں مصروف ہے اور عوامی و انتظامی کوچہ و بازار میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں۔ مثلاً، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی وزارت کو ایک متحرک آدمی سے لے کر ڈاکٹر ارسلان کی سیاسی مشاورت میں دے دیا جو پیشے کے اعتبار ایم بی بی ایس اور فرض کے تناظر میں صرف اور صرف تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کا سرخیل رہا۔ جس نے پچھلے دنوں ”بیٹا ارسلان! فلاں چیز کو فلاں چیز سے لنک کر دو“ سے شہرت پائی۔ کسی بھی ریاست یا صوبے محض ایک پارٹی کے نہیں ہوا کرتے بلکہ مختلف پارٹیوں، مختلف اسکول آف تھاٹ، غیر جانبدار اور غیر سیاسی افراد پر مشتمل عوام ہوا کرتے ہیں جن کے حقوق ہوتے ہیں، اور حکومتوں کے فرائض، یہ محض ”سیاسی“ نہیں حقیقی ہوں تو اسی کا نام حقیقی آزادی ہے! کوئی حقیقی آزادی کسی ”سیاسی“ فنکاری میں دستیاب نہیں ہوتی بلکہ فریب سے پاک سیاسی حقیقت یعنی حقوق انسانی میں پنہاں ہے!

گمان غالب ہے، اقوام کی زندگی کی تواریخ لمبی ہوں بھی تو ارتقائی عمل سے نہیں بچ پاتیں۔ اس کا دھچکا ہمیں قیام پاکستان کی سلور جوبلی ہی پر لگ گیا جب مشرقی و مغربی پاکستان دو لخت ہوئے مگر ہم عوام نے کیا سبق سیکھنا تھا جب ہماری قیادت ہی نے نہ سیکھا یا عوام کو سیکھنے ہی نہیں دیا۔ اس وقت کے پی اور پنجاب میں سیاسی دھینگا مشتی کے سبب سب کرتے دھرتے ٹکٹ کے حصول اور قیادت کو نظر آنے کی پاداش میں لانگ مارچ کی مشق کے مشکیزے بنے ہوئے ہیں۔ صوبوں کی تعلیمی و فلاحی اور تعمیری و ترقیاتی کی پیاس جان لیوا ہو چکی۔ ’ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی / درد بیچارہ پریشاں ہے کہ کہاں سے اٹھے؟‘

اجی مرکز میں آپ کی حکومت تھی جو نہ رہی، پنجاب اور کے پی بلکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت۔ بلتستان میں تو ہنوز تحریک انصاف ہی کی حکومتیں ہیں، یہی تو آپ کی جڑیں ہیں، انہیں بد انتظامی کی سزا کیوں دیتے ہیں؟ دیکھا جائے تو پنجاب میں قاف لیگ کے مزے ہیں ان کے وزیر اعلیٰ اور مشیران یا مختلف اداروں یا کمیٹیوں کے چیئرمین مزے بھی لوٹ رہے ہیں اور اپنی سیاست کا قبلہ بھی درست کر رہے ہیں، کشمیری سیاست دان بھی مزے لوٹ رہے ہیں کہ اکثریت نے اگلے الیکشن میں آپ کے ساتھ ہی کہاں ہونا ہے۔ عذاب میں تو پنجاب اور کے پی وغیرہ کے عوام ہیں۔ تیرگی میں دیکھنے والی چشم بینا سے دیکھیں تو خود تحریک انصاف عذاب میں ہے۔

قابل غور بات یہ کہ، بیچ بیچ میں چیئرمین تحریک انصاف بھی کہتے ہیں لانگ مارچ دس ماہ تک چلے گا، مطلب یہ ابتدائی طور پر لانگ مارچ ناکام ہو چکا اور انتخابات اپنے مقررہ وقت ہی پر ہوں گے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رہے کہ جنرل الیکشن میں الیکٹیبل اور سلیکٹ ایبل اپنی سیاسی بساط از سر نو بچھاتے ہیں، کوئی ادھر کوئی ادھر۔ نتائج بھی مختلف اور سیاسی فلاسفی بھی مختلف ہوتی ہے۔ اگر نواز شریف سے بڑے لیڈر کی سرپرستی بھی اپنی پارٹی کو میسر آ گئی تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس پیش منظر اور پس منظر میں کنزیومر کورٹ کہیں دکھائی دیتی ہیں نہ اینٹوں کے بھٹوں کے نرخوں کی فہرست، لائیو اسٹاک نظر انداز اور ہیلتھ فراموش، یونیورسٹیوں میں وزیر ہائر ایجوکیشن بطور چیئرمین سنڈیکیٹ ( ایکٹ 2009 تا بعد ازاں ) ، پنجاب یونیورسٹی سا تاریخی ادارہ عارضی نظام کی تلوار تلے، آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری حضرات نظام کے بجائے ”حاکم“ کی سیاست کے ماتحت، ترقیاتی کام ٹھپ، تھانوں میں رشوت، بازاروں میں سقہ شاہی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والے من مانی پر، دیہی ترقی اور مالیات تباہ، کالونیوں کی وزارت نہ ہونے کے مترادف، محکمہ ٹرانسپورٹ مفلوج، گویا سب صوبائی محکمے لانگ مارچ کے پیچھے پیچھے۔ مزید دس ماہ یہی کارکردگی اور سرگرمی رہی تو نظام کا شیرازہ ہی بکھر جائے گا۔ اشرافیہ اور بیوروکریسی تو پھر اٹھ جائیں گے مگر غریب غریب تر ہو جائے گا۔ لگتا ہے، خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک پس اپنے پنجاب اور کے پی تو سنبھالو پھر مرکز کے پیچھے بھاگ لیجیے گا، کہ حاکم تو تم اب بھی ہو، صاحب!

Facebook Comments HS