عمران خان کیوں کامیاب نہیں ہوں گے؟
ان دنوں تحریک انصاف کے تمام لیڈر اور خاص طور سے عمران خان، ایسے لب و لہجہ میں گفتگو کرتے ہیں گویا ان کے سوا کوئی اس ملک کو نہ تو کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسری پارٹی کو عوام میں کسی بھی سطح پر کوئی نمائندگی حاصل ہے۔ درحقیقت عمران خان کسی بھی دوسرے لیڈر کو حق نمائندگی دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ جمہوری تصور سے یہی بیگانگی بالآخر پاکستانی سیاست میں ان کی مکمل ناکامی کی وجہ بنے گی۔
تحریک انصاف عوام کے ووٹ لے کر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن اب یہ واضح ہے کہ وہ اس طریقہ کو محض ہتھکنڈے یا نعرے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ درحقیقت عمران خان کی حد تک یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود انہیں جمہوری روایت و اصولوں سے بنیادی آگاہی بھی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اسے جاننا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے پیش نظر محض اقتدار حاصل کرنا ہی ایک مقصد ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے وہ ہر جھوٹ روا رکھتے ہیں اور ہر ہتھکنڈا جائز سمجھتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے نہ تو انہیں کوئی حجاب ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی وہ کسی غلطی پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی ہر ناکامی اور ہر غلطی کی کوئی نہ کوئی ’حاضر جناب‘ قسم کی توجیہ پیش کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
اس کا سب سے افسوسناک مظاہرہ توشہ خانہ کے تحائف کے سلسلہ میں دیکھنے میں آیا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ایک صحافی رانا ابرار خالد نے توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تحائف کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے حکم کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ اس سے بین الملکی تعلقات متاثر ہوں گے۔ یہ معاملہ بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہنچا تاہم توشہ خانہ سے عمران خان اور ان کی اہلیہ نے جو تحائف حاصل کیے، ان کی تفصیلات پی ٹی آئی کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں۔
ایک ویب سائٹ فیکٹ فوکس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے غیر ملکی رہنماؤں سے ملنے والے 114 تحائف توشہ خانہ سے حاصل کیے۔ ان کی مجموعی مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے تاہم عمران خان نے اس رقم کا محض بیس فیصد ہی قومی خزانہ میں جمع کروایا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ شہرت سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی طرف سے دی گئی ایک بیش قیمت گھڑی کو حاصل ہوئی جو انہوں نے دورہ پاکستان کے موقع پر عمران خان کو دی تھی۔ عمران خان نے یہ گھڑی توشہ خانہ سے حاصل کر کے دوبئی مارکیٹ میں فروخت کردی جس کی اطلاع سعودی عرب کے شاہی خاندان تک بھی پہنچ گئی۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس ایک واقعہ کی وجہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑ پڑی۔
اس سے بحث نہیں ہے کہ وزیر اعظم کو توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کا حق حاصل تھا اور انہوں نے کتنی رقم ادا کر کے یہ تحائف ذاتی ملکیت میں لئے۔ سوال تو صرف اتنا ہے کہ غیر ملکی سربراہان کی طرف سے خیر سگالی کے طور پر مملکت پاکستان کے وزیر اعظم کو دیے گئے تحائف کو عام مارکیٹ میں فروخت کر کے ایک گھناؤنا اور بد اخلاقی پر مشتمل اقدام کیا گیا۔ بعد میں اس کی ذمہ داری قبول کرنے یا اس فعل پر کسی پریشانی کا اظہار کرنے کی بجائے یہ جواب دیا گیا کہ ’جب پیسے دے کر تحائف خرید لئے تو میری مرضی میں جو بھی کروں‘ ۔ گویا عمران خان بین الملکی تعلقات کی حساسیت اور اس سفارتی نفاست کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جس کا مظاہرہ ایسے معاملات میں ضروری سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کبھی اس غلطی کو ماننے اور سعودی عرب کے ساتھ اس افسوسناک رویہ کی وجہ سے مرتب ہونے والے منفی اثرات پر معافی مانگنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کیوں کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ کبھی غلطی نہیں کرتے اور اخلاقیات کے اعلیٰ سنگھاسن پر براجمان ہیں جہاں سے کسی مہاتما کی طرح انہیں دوسروں کی عیب جوئی کا حق تو حاصل ہے لیکن اپنی غلطیوں پر کوئی شرمندگی واجب نہیں ہوتی۔
یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو اس معاملہ کی نزاکت کا اندازہ نہیں تھا۔ اگر وہ اتنے ہی سادہ لوح ہوتے تو ان کے دور حکومت میں اسٹبلشمنٹ ڈویژن یہ معلومات فراہم کرنے سے انکار نہ کرتا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن کی سماعت کے دوران نت نئے عذر نہ تراشے جاتے۔ عمران خان کو اندازہ تھا کہ غیر ملکی رہنماؤں کے تحائف مارکیٹ میں فروخت کرنا بد اخلاقی ہے جو کسی بدترین کرپشن سے بھی زیادہ گھناؤنی اور شرمناک ہے کیوں کہ اس سے ملک کی شہرت و وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے باوجود عمران خان اور ان کی اہلیہ قیمتی تحائف لینے اور ان سے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کی ’حرص‘ سے آزاد نہیں ہو سکے۔
محض یہی ایک مثال عمران خان کے ان دعوؤں کو جھوٹ اور گمراہ کن ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ’انہیں کسی عہدے کا لالچ نہیں اور وہ کوئی فائدہ اٹھانے کے لئے اقتدار حاصل نہیں کرنا چاہتے، انہیں تو پہلے ہی بے پناہ شہرت اور وسائل حاصل ہیں‘ ۔ لیکن یہ بیانیہ دھوکہ دہی اور سادہ لوح پاکستانی عوام کو رجھانے کے لئے ایک جال سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
عمران خان کے ساتھ چلنے والے بیشتر سیاسی لیڈر کئی دہائی سے پاکستانی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ یہ لوگ مختلف پارٹیوں اور فوجی حکومتوں کا ساتھ دینے کے بعد اب تحریک انصاف میں شامل ہو کر انقلاب برپا کرنے کے اعلانات کرتے ہیں۔ ایسے دعوؤں پر کوئی اعتبار نہیں کر سکتا۔ انہی لوگوں کی وجہ سے جسٹس وجیہ الدین اور اکبر ایس بابر جیسے لوگ تحریک انصاف چھوڑنے پر مجبور ہوئے کیوں کہ عمران خان کی چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ کھانے کے بعد جب ان پر حقیقت عیاں ہوئی تو ان کے لئے ایک غیر جمہوری مزاج کے مفاد پرست رہنما کے ساتھ چلنا دو بھر ہو گیا۔ اکبر ایس بابر نے تو فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف میں روا رکھی گئی سنگین مالی بد اعتدالیوں کو دستاویزی شواہد کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ اس کے باوجود عمران خان نے کبھی کوئی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام لگاتے ہوئے خود کو بے گناہ بتانے کی کوشش کی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان نے پارلیمانی طریقہ کار کا حصہ بن کر ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم کرنے اور ایک لیڈر کے طور پر کردار ادا کرنے کی بجائے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دے دیے۔ گویا ان کی سیاست کا محور محض اقتدار ہے۔ برطانوی جمہوریت اور سماج کی مثالیں دینے والے شخص کو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ پارلیمانی نظام میں صرف وزیر اعظم ہی نہیں اپوزیشن بھی یکساں طور سے اہم ہوتی ہے اور اگر اپوزیشن لیڈر یا پارٹی ایوان میں تعمیری کردار ادا کرے تو وہ پالیسی و قانون سازی میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں متوازن بنوا سکتی ہے۔
یہی سوال سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی نیب قانون میں ترامیم کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اٹھایا ہے کہ تحریک انصاف جو نکات سپریم کورٹ میں اٹھانا چاہ رہی ہے، انہیں پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کا جواب بھی سادہ ہے کہ عمران خان کو نہ تو جمہوریت سے غرض ہے اور نہ ہی وہ اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں یا قانون کو واحد سماجی فورس مانتے ہیں۔ وہ درحقیقت اپنے ذاتی اقتدار اور کامیابی کے لئے انتخابات کو ہتھکنڈے اور اداروں کو سہولت کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے جب تک پاک فوج ان کی سہولت کار تھی، انہیں فوج کے سیاست میں مداخلت اور اہم فیصلہ سازی میں حصہ داری پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ فوج نے جب ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اعلان کیا تو وہ ایک طرف فوج کو اس نئی پالیسی سے ’تائب‘ ہونے کا مشورہ دیتے رہے ہیں تو دوسری طرف اب سپریم کورٹ سے کہہ رہے ہیں کہ عدالت عظمی کے علاوہ عوام کو کسی ادارے پر بھروسا نہیں ہے۔
یہ اعلان وہ کن معلومات یا اختیار کی بنیاد پر کرتے ہیں؟ کیا روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے چند سو سے چند ہزار تماشائیوں کا اجتماع یا سوشل میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پر حاصل کی گئی دسترس سے وہ ملک میں قیامت برپا کردینے کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف وہ لانگ مارچ کے نام پر تماشا جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مسلسل پرانے الزامات کو دہرانے اور میڈیا میں چھائے رہنے کا موقع ملتا رہے اور دوسری طرف ایک کے بعد دوسرے ادارے کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے بصورت دیگر اسے ’ڈس کریڈٹ‘ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تاکہ فوج ہو یا سپریم کورٹ، وہ کسی بھی طرح ایک بار پھر اپنا وزن عمران خان کے پلڑے میں ڈال دے۔
فوج کے احسانات کا بدلہ عمران خان نے جس طرح چکایا ہے، جنرل باجوہ کے بعد اسے یاد رکھنے والے لوگ اس ادارے میں موجود رہیں گے۔ عدلیہ نے ضرور عمران خان اور تحریک انصاف کو فری سپیس دینے کا اہتمام کیا ہے۔ امن و امان کی صورت حال اور اہم قومی مفادات کو زک پہنچانے کے باوجود ان کے ’حق رائے‘ کی وجہ سے ابھی تک ان کی گرفت نہیں کی گئی۔ اب تحریک انصاف وزیر آباد سانحہ پر تین اہم عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا معاملہ سپریم کورٹ لے کر گئی ہے۔ وزیر اعظم پہلے ہی فل کورٹ بنچ بنا کر اس سانحہ کی جانچ کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے اگر وزیر اعظم کی درخواست نظر انداز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست پر غور کے لئے ایک بار پھر اپنے پسندیدہ ججوں کا بنچ بنا کر اس معاملہ کو نمٹانے کی کوشش کی تو عدالت کا رہا سہا وقار بھی خاک میں ملنے کا اندیشہ ہے۔
کوئی بھی سیاسی پارٹی یا تو اپنے منشور کی بنیاد پر عوام کو موبلائز کر کے ووٹ حاصل کرتی ہے اور اسمبلیوں میں اکثریت لے کر اس پروگرام پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ اس پارٹی کی ساڑھے تین سالہ حکومت کے دوران ہو چکا ہے۔ دوسری صورت میں کوئی لیڈر اپنے کسی انقلابی ایجنڈے یا سلوگن کی بنیاد پر عوام کو اس حد تک متحرک کر دیتا ہے کہ وہ، ووٹ کے علاوہ سڑکوں پر نکل کر کسی انقلاب کی بنیاد رکھنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چھے ماہ کی عوامی رابطہ مہم کے دوران عمران خان ایسا کوئی ’مومنٹم‘ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لانگ مارچ ڈرامہ نے اس ڈھونگ کا رہا سہا پول بھی کھول دیا ہے۔
عمران خان کا ایک نکاتی ایجنڈا دوسروں سے نفرت کی بنیاد پر استوار ہے۔ اول تو نفرت کامیابی و تعمیر کا سبب نہیں بنتی، اس کے بطن سے محض انتشار اور تباہی جنم لیتی ہے۔ اس کے باوجود اگر قیاس کر لیا جائے کہ عوام اندھا دھند ووٹ دے کر عمران خان کو حکومت سونپ دیں گے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی ایجنڈے کے بغیر قائم ہونے والی حکومت خود، اپنے ہی زور میں اوندھے منہ پڑی دکھائی دے گی۔ موجودہ انتظام کے تحت کسی بھی پارٹی کو پارلیمانی تعاون کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہو گا۔ ایسے میں یا تو عمران خان اپنی حکمت عملی میں 180 ڈگری تبدیلی لائیں گے یا ناکامی ان کا اور ملک کا مقدر ہوگی۔


