گھوٹکی میں پولیس پر کچے کے ڈاکوؤں کی جانب سے حملے کی حقیقت کیا؟


پولیس، فائل فوٹو
’ہر طرف سے گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہم ایک کمرے میں زمین پر لیٹ گئے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد دھماکہ بھی ہوتا تھا۔ اسی کی روشنی میں ہمیں ایک دوسرے کا چہرہ دکھائی دیتا۔ ہمارے ایک ایس ایچ او نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر سرینڈر کرنے کا بھی کہا لیکن فوراً ہی انھوں نے دوسرا راکٹ فائر کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بس آخری وقت آگیا ہے۔ تمام گھر والوں کی تصاویر میرے سامنے آ رہیں تھیں۔‘

یہ الفاظ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے اوباڑو تھانے کے ایک اہلکار کے ہیں جو پانچ نومبر کو رونتی میں کچے کے علاقے میں اس پولیس آپریشن میں شریک تھے جس کے دوران ڈاکووں نے اچانک حملہ کر کے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت پانچ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اس پولیس اہلکار نے اس رات پیش آنے والے واقعے کے کئی حقائق سے آگاہ کیا جو حیران کن ہیں اور پولیس کے سرکاری مؤقف سے متضاد بھی۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ پولیس کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پولیس کی ٹیم نے کچے کے ڈاکووں کے ایک اہم کمانڈر کے گھر پر چند مغویوں کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارنے کے بعد اس کو اپنا کیمپ بنایا اور رات میں راکٹ لانچر سے لیس ڈاکووں نے ان پر حملہ کر دیا۔

تاہم جس پولیس اہلکار نے بی بی سی سے بات کی، ان کے مطابق پولیس کو ڈاکووں نے چکمہ دے کر اس مقام پر بلایا جس کا مقصد سلطان عرف سلطو شر نامی ڈاکو کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔

’ہمیں کہا گیا کچھ مغویوں کو لانا ہے‘

اس اہلکار کے مطابق اوباڑو تھانے کی نفری کو ہفتے کے روز ہی بتا دیا گیا تھا کہ اتوار کو کچے کے علاقے میں جانا ہو گا۔

’ہمارے پوچھنے پر بتایا گیا کہ کچھ مغویوں کو ڈاکووں سے واپس لے کر آنا ہے۔‘

’اتوار کی صبح جب نفری تھانے پہنچی تو ڈی ایس پی عبدالمالک بھٹو اور تین تھانوں کے ایس ایچ اوز نفری لے کر بکتر بند گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔‘

واضح رہے کہ کچے کا یہ علاقہ سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع ہے جہاں پولیس نے چند عارضی چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جن کی مدد سے ڈاکووں کے خلاف آپریشن کیے جاتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار نے کہا کہ ’پولیس کے ایک بیس کیمپ پر چند منٹ کے لیے بکتر بند گاڑیاں رکیں جہاں ڈی ایس پی صاحب نے نفری دیکھی اور اس کے بعد پھر ہماری بکتر بند گاڑیاں کچے کے علاقے کی جانب چلنا شروع ہو گئیں۔‘

’ہم کچے کے ڈاکو راحب شر کے چچا راجو شر کے گھر پہنچے۔ چین والی بکتر بند گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی ہے، اس لیے ہمیں تین گھنٹے لگ گئے۔‘

’ہم وہاں پہنچے تو گاؤں والوں نے دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا۔ وہ گھر ہمارا عارضی بیس کیمپ بن گیا۔ افسران اندر کمرے میں مکان میں موجود افراد کے ساتھ تھے اور ہم باہر ڈیوٹی دے رہے تھے۔‘

پنور برادری کے اغوا ہونے والے بچوں کی رہائی کی ڈیل؟

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’ڈیوٹی کے دوران پتا لگا کہ ہم یہاں چند دن قبل پنور برادری کے اغوا ہونے والے تین بچوں کی رہائی کے لیے آئے ہیں جن کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا تھا۔‘

ان کے مطابق ’پولیس افسران نے کچھ مقامی شخصیات سے مل کر ان بچوں کی بازیابی کے لیے ڈاکووں سے مذاکرات کیے جس کے بعد ڈاکو بچوں کو حوالے کرنے پر رضامند ہو گئے۔‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آپریشن میں شامل پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ دیر کا انتظار گھنٹوں میں بدل گیا۔

’سورج بھی غروب ہونے کے قریب تھا۔ سب یہ سوچ رہے تھے کہ بچے آ جائیں تو ہم یہاں سے نکلیں۔ ہمارے ساتھی اس دوران کمرے کے اندر گئے تو انھوں نے افسران کو فون پر بات کرتے ہوئے ہی دیکھا۔‘

’ہم اپنے آپ کو اس مقام پر محفوظ سمجھ رہے تھے۔ گھر کے آس پاس مٹی کے ٹیلے تھے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ یہاں کون سے ڈکیت آئیں گے۔‘

’ایسے میں اچانک گولیوں کی آواز آئی۔ ڈی ایس پی صاحب اور دیگر افسران کمرے سے نکل کر باہر آئے اور کہا ڈرنا نہیں، تم بھی جواب دو۔ پھر ہم نے بھی جوابی فائرنگ کی۔‘

’پھرانھوں نے فائرنگ روک دی۔ ہم بھی رک گئے۔ ہمیں انتظار تھا کہ کب افسران اشارہ کریں گے اور ہم واپسی کے لیے نکلیں گے۔ اسی دوران ایک راکٹ ہمارے بلکل قریب مارا گیا۔‘

’اب افسران سمجھ گئے تھے کہ یہ کوئی بچوں کے حوالگی کی ڈیل نہیں بلکہ پولیس کے لیے جال بچھایا گیا ہے۔‘

’بچوں کی حوالگی کا جال بچھا کر ڈاکووں نے پولیس کو بلایا‘

’ہم سب بکتر بند گاڑیوں سے باہر تھے۔ جس کو جہاں جگہ ملی اس نے وہاں پوزیشن سنبھال لی۔‘

’ڈاکووں کو پتا تھا کہ ہم کس گھر میں موجود تھے۔ وہ بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کر رہے تھے۔ دور تک اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ ایسے میں کلاشنکوف کی گولی نکلتے وقت کی چنگاری ہمیں نظر آتی تھی۔‘

’ڈی ایس پی عبدالمالک بھٹو صاحب نے کہا کہ فائر مت روکو، جواب دیتے رہنا۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے پہلے وائرلیس پر حملے کی اطلاع دی، پھر موبائل فون نکالا اور مزید نفری بھیجنے کا کہا۔‘

’لیکن اس بار ڈکیتوں نے فائرنگ کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اس میں وقفہ نہیں آ رہا تھا۔ ہمیں اتنا موقع بھی نہیں مل رہا تھا کہ ہم کسی طرح بکتر بند تک پہنچ سکیں۔‘

’نفری طلب کیے ہوئے بھی 40 منٹ سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا لیکن کوئی پولیس نفری وہاں مدد کو نہ آئی۔

ان کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ اس علاقے تک بغیر چین والی بکتربند کے، پولیس موبائل میں مزید نفری بھیجنا خطرناک تھا۔ اس علاقے میں ٹائر والی بکتر بند کا کوئی کام نہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ڈاکوؤں کی جانب سے فائرنگ اچانک رک گئی۔
اب رات کے 12 بج چکے تھے۔

’افسران کو لگا شاید ڈکیت چلے گئے ہیں۔ نفری بھاگتی ہوئی بکتر بند گاڑیوں میں سوار ہونے لگی۔ ابھی چند اہلکار ہی بیٹھے تھے کہ پھر گولیاں چلنے لگیں۔ جو بیٹھ سکا وہ بیٹھ گیا، باقی کمرے میں رہ گئے۔‘

پیچھے رہ جانے والوں میں ڈی ایس پی عبدالمالک، ایس ایچ او میرپور ماتھیلو عبدالمالک کمانگر، ایس ایچ او دین محمد لغاری، اوباڑو تھانے کے اہلکار سلیم چاچڑ اور میرپور ماتھیلو تھانے کے اہلکار جتوئی پتافی شامل تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق اسی دوران ڈاکووں کی جانب سے ایک اور راکٹ داغا گیا جس سے کمرے میں موجود ڈی ایس پی سمیت تمام افراد زخمی ہو گئے۔

’بکتر بند میں مجھ سمیت کئی اہلکار زخمی تھے۔ ہمیں وہاں سے بکتر بند کو بھگانا پڑا۔‘

اس اہلکار کے مطابق وہ اس اثنا میں بے ہوش ہو چکے تھے۔

’جب ہوش آیا تو ہسپتال میں تھا۔ پتا چلا کہ کمرے میں رہ جانے والے پولیس والوں کو کچے کے ڈاکووں نے قتل کردیا۔ انھوں نے گھر کو گھیرے میں لے کر ان پر گولیاں برسائیں۔‘

مقامی افراد کے مطابق پولیس نے ڈاکوؤں سے ہلاک ہونے والے پولیس افسران و اہلکاروں کی لاشوں کی بازیابی کے لیے مقامی شخصیات سے رابطہ کیا جس کے بعد ڈاکوؤں کی جانب سے ایک مقام پر لاشیں حوالے کر دی گئیں۔

ڈاکو ڈی ایس پی کے فون سے ویڈیوز بھیجتے رہے

ایک مقامی صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے کے 24 گھنٹے کے بعد تک ڈاکو ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی عبدالمالک بھٹو کا موبائل فون استعمال کرتے رہے اور ان کے واٹس ایپ سے مختلف ویڈیوز مقامی صحافیوں کو بھیجتے رہے۔

اس دوران ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی کے فون پر کئی بار واٹس ایپ کا سٹیٹس بھی تبدیل کیا گیا اور اس میں ڈاکو اپنی ویڈیوز لگاتے رہے۔

ڈی ایس پی کے اپنے افسران کو کیے گئے وائس نوٹ بھی ڈاکوؤں کی جانب سے جاری کیے گئے اور پھر اس کے سکرین شارٹس بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے۔

ڈاکوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ وہ ایس ایس پی گھوٹکی تنویرحسین تنیو کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں ڈاکو کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا یہ سبق پولیس سال 2099 تک یاد رکھے گی۔

ڈاکو نے کہا کہ ’ہم نے پولیس پر بڑا احسان کیا ہے کہ ہم نے لاش کو خراب نہیں کیا اور ٹھیک حالت میں پولیس کے حوالے کی۔‘

ڈاکو یہ بھی کہتا ہے کہ ’ہم لاش کی تذلیل نہیں کرتے لیکن پولیس ہمارے لوگوں کی لاشیں پیسے لے کر دیتی ہے۔‘

سلطو شر ڈاکو کون تھا؟

21 ستمبر کو ایس ایس پی گھوٹکی تنویر حسین تنیو نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم سے مقابلے میں کچے کا اہم ڈاکو سلطان عرف سلطو شر مارا گیا ہے جو ایک گروہ کا سرغنہ بھی تھا۔

یہ مقابلہ گھوٹکی کے اسی علاقے رونتی میں ہوا تھا جہاں بعد میں پولیس پر بڑا حملہ کرکے ڈی ایس پی سمیت پانچ افسران و اہلکار کو ہلاک کیا گیا۔

پولیس کے مطابق سلطان عرف سلطو شر تین ایس ایچ اوز سمیت 12 پولیس افسران و اہلکار کے قتل میں ملوث تھا اور اس پر سندھ میں قتل، ڈکیتی، رہزنی سمیت 98 مقدمات درج تھے۔ پولیس کے مطابق سندھ حکومت نے اس کی گرفتاری یا مقابلے میں مارے جانے پر ایک کروڑ روپے انعام کی سفارش کر رکھی تھی۔

تاہم پولیس کے اس دعوے کے برخلاف مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ سلطان عرف سلطو شر کو پولیس نے خود ایک مقام پر بلایا جہاں اس کو مار دیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سندھ کے مقامی صحافی محمد سلیم نے بتایا کہ سلطو شر ایک وقت تک پولیس اور عوام کے لیے خوف کی علامت اور علاقے میں جرم کی دنیا کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔

بی بی سے کے پاس دستیاب سلطو شر کی پروفائل کے مطابق گھوٹکی پولیس نے ان کے سر کی قیمت دو کروڑ مقرر کر رکھی تھی۔

سلطو کے خلاف پولیس اہلکاروں کے اغوا، قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، زمینوں پر قبضے اور بھتہ خوری کے بے شمار پرچے درج ہیں جن کے مطابق 2005 سے 2020 تک سلطو شر نے آٹھ پولیس والوں کو قتل کیا اور 18 کو شدید زخمی کیا تھا۔

بی بی سی کے پاس دستیاب ڈاکومنٹس کے مطابق سلطو شر نے 20 عام افراد کا قتل کیا تھا جبکہ مختلف اوقات میں ڈھائی سو سے زیادہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی کیں۔

ان میں سے اکثر کیسز میں ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی کیونکہ تاوان کی رقم براہ راست مغویوں سے وصول کر لی گئی تھی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سلطو کے خلاف پولیس پر 70 سے زیادہ حملوں کے مقدمات درج ہیں تاہم سندھ کے مقامی صحافی محمد سلیم نے دعویٰ کیا کہ 20 سال کے بعد اس نے جرم کی دنیا سے کنارہ کشی کر لی اور ایک مخبر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا جس سے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ملتے رہتے تھے۔

’ایک ماہ پہلے اس کی والدہ کو پولیس نے اٹھا لیا تھا جس پر سلطو شر نے پھر سے بندوق اٹھا لی۔ اس کے دو دن بعد وہ جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔‘

مقامی افراد کے مطابق یہ مقابلہ نہیں بلکہ پولیس نے بہت چالاکی سے سلطو شر کو ایک دعوت پر بلا کر قتل کیا۔

مقامی افراد کا دعوٰی ہے کہ سلطو شر اور پولیس کے درمیان ایک اعتماد قائم ہوچکا تھا اور ایسے میں ایک پولیس اہلکار نے سلطان عرف سلطو شر کو دعوت میں بلایا اور وہاں اسے اور عیسو شر کو قتل کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا سلطو کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر شر برادری کے ڈاکووں نے بدلہ لینے کی ٹھانی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ’ڈاکوؤں کا راجہ‘ کہلانے والے ملکھان سنگھ کے ہتھیار ڈالنے کی کہانی


کچے کے ڈاکوؤں کا ’دھ چھکو‘ جس کے سامنے پولیس بکتر بند میں بھی محفوظ نہیں

لاڈی گینگ: صدیوں پرانے پولیسنگ نظام اور قبائلی روایات کو توڑنے والا سفاک گینگ

سوشل میڈیا کے ڈاکو

مقامی افراد کے مطابق کچے کے ڈاکووں نے سلطو شر کی ہلاکت کے بعد بدلہ لینے کی دھمکیاں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس افسران کو دھوکہ دہی سے ڈاکووں نے مغوی بچوں کی حوالگی کے نام پر بلوایا جس کے بعد ان پر حملہ کیا گیا۔

بی بی سی نے سندھ کی شر برادری کے ڈاکووں کے سوشل میڈیا اکاوئنٹس مانیٹر کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں ان کی جانب سے اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز کو دیکھنے والے موجود ہیں۔

ڈی آئی جی سکھر جاوید جسکانی سے جب ہم نے پوچھا کہ ڈاکو سوشل میڈیا کا کھلے عام استعمال کر ہے ہیں تو پولیس کیوں ایکشن نہیں لیتی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سائبر کرائم کا ایشو ہے جس کو پولیس نہیں دیکھ سکتی۔

’سائبر کرائم والوں کو چائیے کہ وہ ان کے فیس بک اکاونٹس اور پیجز بند کر دے۔‘

کچے کا علاقہ اور جدید اسلحے سے لیس ڈاکو

کچے کے ڈاکوؤں کے تین گروہ اندرون سندھ میں موجود ہیں۔ گھوٹکی میں یہ گروہ جانو انڈھڑ، سمار شر چلاتے ہیں۔

بی بی سی کے ذرائع کے مطابق ان ڈاکووں کے پاس آر پی جی راکٹ لانچر موجود ہیں جبکہ 12.7 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی ہیں جن سے جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہیوی مشین گن، ہینڈ گرنیڈز، لائٹ ویٹ مشین گنز، جی تھری، ایس ایم جی، کلاشنکوف، بلٹ پروف جیکٹس، لائف جیکٹس بھی موجود ہیں۔

ایس ایس پی تنویر تنیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’ڈاکووں کے پاس اتنا جدید اسلحہ ہے کہ وہ ٹینک کو ناکارہ بنا سکتے ہیں اورجہاز بھی گرا سکتے ہیں۔‘

تاہم تنویر حسین تنیو کے مطابق پولیس کا سب سے بڑا چیلنج ڈاکوؤں کی کمین گاہوں تک رسائی کا ہے۔
ان کے مطابق رونتی میں صرف ایک پولیس سٹیشن ہے اور رونتی کی حدود پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ملتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہر سال یہاں سیلاب آتا ہے اور جنگل بھی پھیلا ہوا ہے جس میں ڈاکوں نے خندقیں کھود رکھی ہیں۔ ڈاکو بہترین قسم کے تیراک بھی ہیں اس لیے پولیس کے لیے وہاں آپریشن کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اس حملے میں ڈاکووں نے جدید اور بھاری اسلحہ فراہم کیا تاہم یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ڈاکووں کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟

بی بی سی نے کچے کے علاقے کے ڈاکووں کی چند سوشل میڈیا ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے یہ اسلحہ پولیس سے خریدا تاہم پولیس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

ایس ایس پی تنویر تنیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارا جدید اسلحہ افغانستان سے آتا ہے جس میں اسلحے کے سمگلرز مدد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان کی سرحد سے ملے ہونے کی وجہ سے سندھ میں داخل ہونا آسان ہے۔

کچے کے ڈاکووں کا اثر ورسوخ اور سیاسی پشت پناہی کے الزامات

2020 میں اس وقت کے ایس ایس پی شکارپور ڈاکٹر رضوان کی جانب سے سات صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی گئی تھی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ میں کچے کے ڈاکووں کو سیاسی شخصیات اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے تفتیش کے دوران کچے کے ڈاکووں کا موبائل فون ریکارڈ حاصل کیا اور ان کی رپورٹ میں ڈاکووں کے پیپلز پارٹی رہنما اور صوبائی وزیر امتیاز شیخ سے روابط کا ذکر کیا گیا۔

اس رپورٹ کو آئی جی سندھ پولیس کو ارسال کیا گیا تھا تاہم امتیاز شیخ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی۔

پولیس کا مؤقف کیا ہے؟

آئی جی سندھ کے مطابق کچے کے ڈاکووں کا یہ حملہ کسی ڈیل کے دوران پیش نہیں آیا بلکہ پولیس کی ٹیم نے ڈاکووں کے اہم کمانڈر کے گھر پر مغویوں کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا اور پھر اسی مقام کو اپنا بیس کیمپ بنا لیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی مقام سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر پولیس کی ایک پکی بیس کیمپ بھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے واقف ڈاکوؤں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر پولیس ٹیم پر حملہ کیا گیا جس کے دوران 15 سے 20 راکٹ پولیس پر فائر کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مخبر کون تھا لیکن پولیس کے حوصلے بلند ہیں۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کا حل بڑے آپریشن کا اعلان نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے نتائج حاصل نہ ہوں۔ ان کے مطابق یہاں انٹیلیجینس بیس آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے کچے کے علاقے میں پولیس کا آپریشن مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے ڈرون کیمروں کی ٹیکنالوجی بھی درکار ہے تاکہ آپریشن سے پہلے ڈاکووں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔

ان کے مطابق سندھ پولیس کو کچے کے علاقے میں جدید اسلحے کی ضرورت ہے۔

’جن ہتھیاروں اور راکٹوں سے کچے کے ڈاکووں نے پولیس پر حملہ کیا، ان ہتھیاروں کا استعمال پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔‘

ان کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کی گرفتاری یا مارے جانے پر پولیس ٹیم کے لیے بڑے انعام کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح کریمنلز کی سپلائی لائن کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کے پاس یہ خطرناک ہتھیار کہاں سے اور کیسے آ رہے ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ انھوں نے ضلعی ایس ایس پی کو اس بات کی تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں کہ ڈاکووں کے پاس اسلحہ کہاں سے آتا ہے جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو کراچی میں سٹریٹ کرمنلز کو ملنے والے اسلحہ سے متعلق اس کا نیٹ ورک پتا کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments