گفتگو کا فن اور سلیقہ


اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی کا بغور جائزہ لیں تو شدت سے یہ احساس ہو گا کہ دن میں ہم بہت سارے لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کو ہم جانتے ہیں اور بعض ہمارے لئے انجان ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ لوگوں کو روز ہی دیکھتے ہیں لیکن ان سے کبھی بات نہیں ہوتی ہاں آمنا سامنا ضرور ہوتا ہے اور کبھی کبھار نظریں بھی مل جاتی ہیں۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ نظریں مل جائیں تو مسکراہٹ کے ساتھ سلام کر دیں اس سے ایک خوبصورت سا احساس پیدا ہوتا ہے جس سے دونوں فریقین کے موڈ میں کافی حد تک بہتری محسوس کی جا سکتی ہے۔

کچھ لوگ اپنی ظاہری وضع قطع کی وجہ سے ہماری یاداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ ہم ان سے بات چیت نہیں کرتے لیکن ان کی خوبصورتی یا لباس کے چناؤ کی وجہ سے وہ ہمارے دل میں اتر جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنے ذہن میں ان کو لے کر خاکہ بھی بنا لیتے ہیں اور بہت کچھ سوچتے ہیں جیسا کہ کیسی شاندار شخصیت ہے ’پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ یا ذوق بہت کمال کا ہے‘ فلاں رنگ تو جیسے اسی کے لئے ہی بنا ہے یا فلاں ڈیزائن اس پر بہت سجتا ہے ’واہ کتنا قیمتی لباس زیب تن کیا ہے اور تو اور موبائل یا گھڑی کس قدر مہنگی ہے۔ یاد رہے ایسا صرف خواتین میں نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہوتا ہے۔

کچھ لوگ اپنی ظاہری شخصیت کی وجہ سے بہت پرکشش محسوس ہوتے ہیں اور دل کو بھا جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وہ دکھتے تو بہت خوبصورت ہیں لیکن دل کے صاف نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ کینہ پرور ’دل میں بغض رکھنے اور حسد کرنے والے ثابت ہوتے ہیں جوان سے ملنے اور کچھ وقت گزارنے کے بعد بہت جلد محسوس ہوجاتا ہے۔

دل کا حال تو اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی عادات کا چند ملاقاتوں میں ادراک ہو جاتا ہے۔ جو چیز آپ کو سب سے زیادہ لبھاتی ہے وہ ظاہری دکھنے کے بعد گفتگو کا انداز ہے اور وہی لوگ دلوں میں گھر بناتے ہیں جو لفظوں کا چناؤ بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں۔

کہتے ہیں نا کہ یہ الفاظ ہی ہیں جس کی وجہ سے ہم دل میں اتر جاتے ہیں یا دل سے اتر جاتے ہیں۔ بہت معمولی سا فرق ہے لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔

دھیما لہجہ ’بات کرنے کا طریقہ‘ دوسروں کی بات کو نہ صرف سننا بلکہ توجہ ’اہمیت و احترام بھی دینا یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو ہمیں کسی کا بھی گرویدہ بنا دیتی ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے بار بار ملنے اور بات کرنے کو دل چاہتا ہے۔ جن کا ظاہر اور باطن صاف ہوتا ہے۔

خود سوچیں اگر آپ کسی کی ظاہری خوبصورتی اور بناؤ سنگھار سے انتہا کی حد تک متاثر ہوں اور دل میں اس سے بات کرنے کی شدید خواہش بھی رکھتے ہوں پھر اچانک کسی دن آپ کو یہ موقع میسر بھی آ جائے۔ لیکن جب آپ اس شخص سے بات کریں جس کو آپ پر ستائش نظروں سے دیکھتے رہے ہیں لیکن اس کے بات کرنے کے انداز سے وہ سارا شیرازہ بکھر جائے جو آپ نے اپنے دل و دماغ میں قائم کیا ہوا تھا تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ آپ پر کیا گزرے گی؟ کیا آپ اس شخص سے دوبارہ بات کرنا پسند کریں گے؟ نہیں ’ہرگز نہیں۔ بلکہ آپ اس سے نظریں چرائیں گے‘ حیلے بہانے سے اس شخص سے دور رہنا چاہیں گے۔

لہذا ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ آپ کے بارے میں ایسا دوسرے بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ خود پر کام کریں اور اپنے اندر مثبت تبدیلی لے کر آئیں۔ ظاہری خوبصورتی ’برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں کے استعمال کی دوڑ سے باہر نکل کر اپنی شخصیت کی بہتری پر توجہ دیں۔ اپنے علم میں اضافہ کریں‘ کتابیں پڑھیں ’اچھے اور کامیاب لوگوں کی مثبت باتوں اور عادات کو اپنائیں۔ اپنی گفت و شنید کو بہتر بنائیں۔ دھیما لہجہ‘ شیریں انداز اور خوبصورت لفظوں کا چناؤ بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس کا اثر بھی انتہائی پائیدار ہوتا ہے کیونکہ ہمارے بولنے کا انداز ’دوسروں کو اہمیت‘ توجہ اور احترام دینے کی عادت ہمیں ہمیشہ ان کے دل میں زندہ رکھتی ہے۔

دوسروں کے کام آنا سیکھیں اور بے لوث مدد کریں جتنی آپ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی طرح مدد نہیں کر سکتے تو اپنے لفظوں سے ہی ڈھارس بندھا کر حوصلہ دے دیں۔

اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں۔ اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے۔ لڑائی جھگڑے کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ ہر ایک کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے جو ان کے حالات و واقعات پر منحصر ہے لہذا ہمیشہ احترام ملحوظ خاطر رکھ کر اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر اختلاف ہو بھی جائے تب بھی آپ اس طرح سے اپنا مدعا بیان کریں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ کیونکہ کمان سے نکلا ہوا تیر تو واپس آ سکتا ہے لیکن زبان سے ادا ہونے والا لفظ کبھی بھی واپس نہیں آتا۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ غصے میں کبھی جواب نہ دیں۔ خود کو تھوڑا وقت دیں تاکہ بات کے پس منظر کو سمجھ سکیں۔ کبھی کبھی ہمیں دوسروں کی بات سمجھنے میں بھی غلطی ہوتی ہے اور فوراً جواب دینے پر معاملات بگڑ جاتے ہیں اور ہم بہت پیارے رشتوں کو کھو دیتے ہیں۔ کیونکہ دل کا شیشہ بہت نازک ہوتا ہے جو ہلکی سی دراڑ بھی برداشت نہیں کر پاتا اور ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر چاہے جتنی کوشش کر لیں وہ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں نہیں آتا۔

اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے حقائق اور اعداد و شمار کا استعمال کریں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر بار آپ یا آپ کی رائے درست ہو لہذا دوسروں کو غلط سمجھ کر دل آزاری نہ کریں۔

یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ ہمارے الفاظ ہماری شخصیت ’ہمارے خاندان اور سب سے بڑھ کر ہماری تربیت کو ظاہر کرتے ہیں اس لئے ہمیشہ ناپ تول کر اور سوچ سمجھ کر بولیں تاکہ لوگ آپ کے پیٹھ پیچھے آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کر سکیں۔

بہتر زندگی گزارنے کے لئے ہمیں گفتگو کا فن سیکھنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا تو نہ صرف ہم اکیلے رہ جائیں گے بلکہ ہر موڑ پر ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS