فٹبال ورلڈ کپ: ’جعلی مداح‘ بھرتی نہیں کیے، قطر کی تردید


فٹبال، ورلڈ کپ، قطر
قطر نے مغربی میڈیا اور انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس نے 20 نومبر کو شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تشہیری پریڈز کے لیے جعلی مداحوں کا استعمال کیا۔ 

نجی خبر رساں ادارے دوحہ نیوز ویب سائٹ نے 15 نومبر کو ورلڈ کپ کے انعقاد کی ذمہ دار سپریم کمیٹی فار ڈیلیوری اینڈ لیگیسی کے حوالے سے ’جعلی‘ مداحوں کے بارے میں اطلاعات کو مسترد کیا۔ 

اس نے کہا کہ قطر میں ہر شعبہ زندگی اور قومیت سے تعلق رکھنے والے فٹ بال مداح موجود ہیں جنھوں نے ’حال ہی میں ملک بھر میں مداحوں کی واکس اور پریڈز منعقد کیں اور کئی قومی ٹیموں کا ان کے ہوٹلز میں استقبال کیا۔‘ 

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا مبصرین نے سوال کیا کہ آیا یہ ’حقیقی‘ مداح ہیں۔ ہم ان دعووں کو بھرپور انداز میں مسترد کرتے ہیں جو کہ مایوس کن تو ہیں مگر حیران کن نہیں۔‘ 

ایک ہوٹل کے باہر انگلینڈ کی ٹیم کا استقبال کرنے کے منتظر مداحوں کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مغربی میڈیا میں قطر پر ’جعلی‘ مداح بھرتی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ 

ٹوئٹر صارفین نے بھی ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ان لوگوں کو ’جعلی‘ فینز قرار دیا۔ 

سرکاری خبر رساں ادارے قطر نیوز ایجنسی کے مطابق وزیرِ محنت علی بن صمیخ المری نے برسلز میں یورپی حکام کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں کہا کہ مغربی ممالک کے کچھ میڈیا ادارے قطر کے خلاف ہو کر اپنی اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار بھی کھو بیٹھے ہیں۔ 

فٹبال، ورلڈ کپ، قطر

اُنھوں نے کہا کہ ’قطر کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں یہ مہم تمام حدود پار کر چکی ہے جس میں تازہ ترین یہ دعویٰ ہے کہ ورلڈ کپ کے منتظمین نے پیسوں کے عوض میچ دیکھنے والے شائقین اکٹھے کیے۔‘ 

قطر نے بار بار اپنی ورلڈ کپ میزبانی کے خلاف مبینہ مہم کو مسترد کیا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے اس خلیجی ملک کو اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور خاص طور پر تارکینِ وطن مزدوروں کے ساتھ اپنے سلوک کے باعث تنقید کا سامنا ہے۔ اس تنقید کے جواب میں قطر نے لیبر اصلاحات کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل اپنا دفاع کیا ہے۔ 

دوحہ نیوز ایجنسی نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے قطر میں ’جنوب مشرقی ایشیائی‘ فٹبال مداحوں سے بات کی ہے جنھوں نے کہا کہ انھیں کوئی پیسے نہیں دیے گئے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا کہ قطر بھر کے فٹبال مداحوں نے ورلڈ کپ سے قبل دارالحکومت میں کئی جگہ بڑے جلسوں اور پریڈز کا اہتمام کیا جس میں قطر میں مقیم غیر ملکی لوگوں نے بھی اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں بشومل قطر، انگلینڈ، برازیل اور ارجنٹینا کی شرٹس پہنیں۔ 

رپورٹ میں ایک فٹبال مداح کے حوالے سے کہا گیا کہ ’فٹبال پریڈز کی ایسی کوریج قطر کی آبادیاتی ترتیب اور ان تارکینِ وطن کے بارے میں آگہی کی کمی کی عکاس ہے جن کے تحفظ کے یہ دعوے دار ہیں، جبکہ یورپی سرحدوں سے باہر فٹبال مداحوں کی موجودگی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔‘ 

دوحہ نیوز نے کہا کہ ’مغربی میڈیا پریڈ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے شاید قطر کی آبادی کے اعداد و شمار بھول گیا ہے۔‘ 

اس نے مزید کہا کہ ’جنوب مشرقی ایشیائی باشندوں کو نسلی بنیاد پر ہدف بنانا بھی اب بظاہر دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔‘ 

کچھ ٹوئٹر صارفین نے بھی ان دعووں کو مسترد کیا۔ ایک صارف جوزف جون نے لکھا کہ برازیل اور ارجنٹینا کی شرٹس پہنے جو انڈین مداح ویڈیوز میں نظر آ رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ سے ہے جسے ’طویل عرصے سے فٹبال سے محبت ہے۔‘ 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26836 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments