ایم ایچ 17: عدالت نے مسافر برادر جہاز کو مار گرانے کے الزام میں روس کے زیر انتظام گروہ کے تین افراد کو مجرم قرار دے دیا


جہاز
ملائیشیا کے مسافر برادر ہوائی جہاز ایم ایچ 17 کا ملبہ
نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے  2014 میں مشرقی یوکرین میں ایک مسافر بردار ہوائی جہاز کو مار گرانے کے الزام میں تین افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ اس ہوائی جہاز حادثے میں 298 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہوائی جہاز مار گرانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ روسی ساختہ میزائل روس سے فراہم کیا گیا تھا اور روس کے زیر کنٹرول مسلح گروہ کی طرف سے فائر کیا گیا جس نے پرواز ایم ایچ 17 کو مار گرایا تھا۔

اس مقدمے میں تین ملزمان جن میں دو روسی شہری اور ایک یوکرینی شہری کو عدالت میں غیر حاضری میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جبکہ اس مقدمے میں ایک اور روسی شہری کو بری کر دیا گیا۔

یہ میزائل حملہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے جنگی مظالم سے قبل سب سے بدنام جنگی جرائم میں سے ایک تھا۔

 

اس حادثے کے بہت سے متاثرین کے لواحقین کا خیال ہے کہ اگر دنیا نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہوتا اور آٹھ سال قبل روس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہوتا تو یوکرین پر حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی عدم استحکام سے بچا جا سکتا تھا۔

اگرچہ قصور وار پائے جانے والے تینوں افراد کا ارادہ فوجی طیارے کو مار گرانا تھا نہ کہ سویلین ہوائی جہاز کو مگر ڈچ عدالت کے ججوں نے فیصلہ دیا کہ ہوائی جہاز کو جان بوجھ کے مار گرایا گیا۔  

اس مقدمے میں مجرم قرار پانے والے نام نہاد ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کے فوجی رہنما ایگور گرکن کو میزائل کی تعیناتی اور روسی مدد لینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح دوسرے مجرم سرگئی ڈوبنسکی نے بک میزائل لانچر کی نقل و حمل کا حکم دیا اور اس کی نگرانی کی۔ جبکہ لیونڈ خارچنکو کو ڈوبنسکی سے ہدایت لینے اور بک میزائل کی نگرانی کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی۔

اس مقدمے میں شامل اولیگ پلاٹوف ان چار ملزمان میں سے واحد تھے جن کی اس مقدمے میں قانونی نمائندگی تھی۔ ججوں نے اسے بری کر دیا، حالانکہ انھیں سماعت کے دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ میزائل کے بارے میں جانتا تھا۔

یاد رہے کہ ملائیشیا کی ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17 نے 17 جولائی 2014 کو 80 بچوں اور  عملے کے 15 افراد سمیت 298 مسافروں کے ساتھ ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے سے کوالالمپور کے لیے اڑان بھری تھی۔ اور یہ ہوائی جہاز یوکرین کی فضائی حدود میں 33 ہزار فٹ بلندی پر سفر کر رہا تھا جب اسے مار گرایا گیا تھا۔

جہاز کا روٹ

یہ روس کی جانب سے یوکرین کے کچھ حصوں پر کنٹرول کرنے کے کی کوششوں کے ابتدائی دن تھے۔

اس وقت یہ خطہ تقریباً کم تنازعے کا شکار تھا مگر دونوں ممالک کے درمیان فضائی جھڑپوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس عرصے کے دوران متعدد فوجی طیارے مار گرائے گئے تھے۔

جس کے جواب میں یوکرین نے 32ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی تھی لیکن مسافر جہاز پھر بھی ملک کی فضائی حدود کے اوپر سے پرواز کرتے تھے۔    

حادثے کے وقت ملائیشیا کی ایئر لائن کا بوئنگ 777 جہاز مقررہ حد سے ایک ہزار فٹ زیادہ بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ اور جی ایم ٹی وقت کے مطابق تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

اس ہوائی جہاز میں کل 298 مسافر سوار تھے جن میں 196 نیدرلینڈ، 43 ملائشیا، 38 آسٹریلیا اور دس برطانوی شہری شامل تھے۔ ان سب میں سے کچھ چھٹیاں منانے، چند ایڈز کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنے اور کچھ اپنے خاندانوں سے ملنے جا رہے تھے۔ لیکن ان مسافروں کے تمام منصوبے ایک جھٹکے میں بکھر کر رہ گئے تھے۔  

میں آج بھی انھیں یاد کرتی ہوں۔ یہ کہنا ہے سیلین فریرکز کا جن کے کمرے کی دیوار پر آج بھی اپنے بیٹے برائس اور اس کی گرل فرینڈ ڈیزی کی تصاویر آویزاں ہیں۔ یہ جوڑا بالی میں چھٹیاں منانے جا رہا تھا۔

 سنہ 2022 کی بات کریں تو یوکرین پر روس کے حملے نے ان پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔

سیلین کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے لیے دل دہلا دینے والا تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ اگر دنیا نے 2014 میں سخت رویہ اختیار کیا ہوتا تو موجودہ تنازعہ سے بچا جا سکتا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’پوتن کو کبھی نہیں روکا گیا، اور اب بھی نہیں روکا جا رہا۔ اور اگر انھیں روکا نہ گیا تو وہ نہیں رکے گا۔ مجھے امید ہے کہ دنیا اب جاگ جائے گی، کیونکہ ہمیں یہ آٹھ سال پہلے ہی معلوم تھا۔‘

روس نے ہمیشہ سے اس جہاز حادثے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں متبادل نظریات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے لڑاکا طیارے نے میزائل فائر کیا تھا، یا یہ کہ یوکرین کی حکومتی فورسز اس حادثے کی ذمہ دار تھیں، اور بعض صورتوں میں اپنے دعوؤں کی حمایت کے لیے من گھڑت ثبوت پیش کیے ہیں۔

جبکہ بین الاقوامی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ اس واقعے کے شواہد کو جمع کیا گیا اور دستیاب شواہد اور مواد کا باریکی سے تجزیہ اور معائنہ کرتے ہوئے ان تمام نظریات کو غلط قرار دیا اور انھیں ڈچ عدالت نے بھی مسترد کیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کو جہاز کے ملبے کے معائنے سے پتا چلا کہ جہاز ہوا میں ایک روسی ساختہ میزائل لگنے سے دو ٹکڑے ہوا تھا جسے یوکرین کے مشرقی علاقے سے بک میزائل سسٹم کے ذریعے داغا گیا تھا۔  

ہوائی جہاز

سیلین فریرکز جن کے کمرے کی دیوار پر آج بھی اپنے بیٹے برائس اور اس کی گرل فرینڈ ڈیزی کی تصاویر آویزاں ہیں

تحقیقاتی ادارے بیلنگ کیٹ کے بانی ایلیوٹ ہگنس نے اوپن سورس شواہد کا مطالعہ کیا۔ ان کی ٹیم نے روس کے 53 ویں اینٹی ایئر کرافٹ میزائل بریگیڈ کے ساتھ روابط کی نشاندہی کی، اور  تقریباً 200 روسی فوجیوں کی سوشل میڈیا پوسٹ کی چھان بین کر کے کرسک میں روسی فوجی بیرکوں میں مقیم یونٹ کے بہت سے اراکین کی شناخت اور کردار کی تصدیق کی۔

بیلنگ کیٹ نے اپنی تفتیش اور تحقیقات کے نتائج کو ڈچ پراسیکیوٹرز کے ساتھ شیئر کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اس مقدمے میں روس کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔

ایلیٹ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اس وقت، اور خاص طور پر مجرمان کو سزا ملنے کے فیصلے کے بعد اگر کوئی بھی یہ دعوی کرے گا کہ روس اس حملے میں ملوث نہیں تھا، تو واقعی وہ ایک بیوقوف شخص ہو گا۔‘

ان کی تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ایلیٹ ہیگنس کا خیال ہے کہ 2014 اور 2022 کے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ لوگوں نے صرف اس طرف آنکھیں بند کر رکھی ہیں، پالیسی ساز روس کو اس طرح جوابدہ کرنے پر راضی نہیں تھے جس طرح انھیں واقعی کرنا چاہیے تھا۔ اور انھوں نے اس طرح کا ردعمل ظاہر نہیں کیا جس سے 2022 میں حملے کو روکا جا سکتا تھا۔ میرے خیال میں یوکرین کے لیے مزید فوجی مدد ہونی چاہیے تھی، وہاں مزید پابندیاں لگنی چاہیے تھیں، اس وقت جتنا ہم نے دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ سخت ردعمل ہونا چاہیے تھا۔ ایسے اقدامات کیے جا سکتے تھے جس سے بہت سی جانیں بچ جاتیں۔‘

اس مقدمے کی فیصلے سے روس کی جانب سے پیش کی جانے والی غلط معلومات کو ختم کرنے کا ایک موقع ملا ہے۔ ڈچ عدالت کے ججوں نے بک میزائل بنانے والی کمپنی الماز انٹی کی طرف سے بتائے گئے متبادل نظریات کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ آزادانہ طور پر ان واقعات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایم ایچ 17 : آسٹریلیا اور ہالینڈ نے روس کو طیارے کو مار گرانے کا ذمہ دار قرار دے دیا

ایم ایچ 17: ’طیارہ میزائل کے ٹکڑے کی وجہ سے گرا‘

فلائٹ وی سی 10: ’میں اس طیارہ حادثے کی عینی شاہد ہوں جس میں میری دو بہنیں ہلاک ہوئیں‘

پی آئی اے فلائیٹ 404: 32 برس قبل گلگت سے روانہ ہونے والی پرواز جسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟

جہاز کا ملبہ

اس فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک 17 سالہ لڑکی ایلسمیک کے والد ہنس ڈی بورسٹ اپنی بیٹی کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ واقعہ ایک تباہی تھی مگر میں کہوں گا کہ اس کے بعد کی تباہی یہ تھی کہ روس نے کبھی تعاون نہیں کیا۔ اور اس نے ہم سب کو اضافی تکلیف دی۔ اور یہ کیوں ضروری تھا؟ بس معافی مانگو۔‘

جہاز کے ملبے سے ان کی بیٹی کا صحیح سلامت ملنے والے پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس کو مضبوطی سے تھامے وہ اس کی یادوں کا ذکر کرتے ہیں۔

ایم ایچ 17 سانحے کے متاثرین کے لواحقین نے نیدرلینڈز کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ہنس ڈی بورسٹ اپنے جذبات پر ضبط رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ میرے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ ایسی دنیا میں انصاف ہونے کے احساس کی ضرورت ہے جو صرف چھٹیوں پر جانے والے افراد کو مار دے۔ اور اگر انصاف نہ ہو تو آپ میں دنیا کے اچھے ہونے کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا بہت سارے لوگوں کو آپ کی جانب سے ملے انصاف سے ایک اچھا احساس ہوا اور اور مجھے امید ہے کہ اب اس سانحے پر کچھ سکون ملے گا۔‘"

اس واقعے کے تفتیش کار، انٹرسیپڈڈ ٹیلی فون کالز، عینی شاہدین کے بیانات اور عملے کی لاشوں میں پائے جانے والے دھاتی ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے ہتھیار کی قسم کا تعین کرنے اور اس کے راستے کا پتہ لگانے اور اہم مشتبہ افراد کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان میں سے تین روسی شہری جبکہ ایک یوکرینی شہری تھا۔ ان میں سے سب سے اہم ایگور گرکن تھے جن کے متعلق پراسکیوٹرز کا کہنا تھا کہ وہ روس کی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کے سابق کرنل ہیں۔

کریملن نے اس قانونی کارروائی کو مسترد کر دیا ہے اور تمام مشتبہ افراد نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ صرف ایک، اولیگ پلاٹوف، نے عدالت میں اپنے دفاع کے لیے ڈچ وکلا کی ایک ٹیم کی مدد حاصل کی تھی۔

اس فیصلے کے نتیجے میں اس اجتماعی قتل کے کسی بھی مجرم کا جیل کاٹنے کا امکان نہیں ہے، لیکن تحقیقات نے ایک ناقابل تردید تاریخی ریکارڈ بنایا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ذہنی سکون پہنچایا ہے۔

سیلین کہتی ہیں کہ ’ہمارے بچے کو کبھی ہمیں واپس نہیں مل سکتے لیکن ہم حقیقت جاننا چاہتے تھے اور ہم انصاف چاہتے تھے اور یہ ہمارے انصاف کا ایک حصہ ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26839 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments