تعلیم اور معاشرہ


تعلیم کسی بھی معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے میں تعلیم و شعور سے سے نہ صرف امن کو فروغ ملتا ہے بلکہ عدل و انصاف کا بول بالا بھی ہوتا۔ تعلیم ہی کی بدولت جہالت کے اندھیرے مٹائے جا سکتے ہیں۔ جب کسی بچے کو نہ تعلیم دی جائے اور نہ ہی کوئی ہنر تو وہ بچہ مستقبل میں کیا کرے گا؟ اک ہجوم کی شکل اختیار کرے گا جو بے عقل، انتہا پسند، راسخ العقیدہ اور فتنہ و فساد برپا کرنے والا ہو گا۔ لیکن اگر آپ اس کی تعلیم و تربیت پر کام کریں گے تو وہ معاشرے کا نہ صرف مثالی کردار بن سکتا ہے بلکہ اس کی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کو اگر مثالی بنانا ہو تو اس کی صرف تعلیم و تربیت پر توجہ دیں معاشرہ خود بخود ہی مثالی بن جائے گا۔ کیونکہ تعلیم ہی لوگوں کو شعور دیتی ہے جس سے وہ ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے حقوق کا خود تحفظ کرتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی بگاڑ میں صحیح و باطل میں فرق کرتے ہیں اور اسے سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امیر و غریب کے فرق کو مٹا کر عدل و انصاف کا بول بالا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ تعلیم سے ممکن ہے۔

دور حاضر میں مسلم دنیا کی شرح خواندگی چالیس فیصد سے بھی کم ہے جبکہ عیسائیت میں نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ بھارت میں چوہتر اور چین میں پچانوے فیصد کے لگ بھگ شرح خواندگی ہے۔ اس سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ مسلم معاشرہ تعمیر و ترقی میں اس وقت پچھلی صفحوں میں کیوں ہے؟ تعلیم و تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہی مسلم معاشرہ بد امنی، تنزلی اور تذبذب کا شکار ہے۔

اس وقت پاکستان میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے اور اس شرح خواندگی کی تعریف کچھ اس طرح ہے کہ فرد اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو۔ اس بات سے آپ اندازہ لگا لیں کہ پاکستان میں تعلیم کا تصور کتنا ہے؟ کتنے لوگ تعلیم یافتہ ہیں اور کتنے لوگ ہجوم کی مانند ہیں۔ اور جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں بدقسمتی سے ان کا معیار تعلیم بھی بہت پست ہے۔ کسی کے ہاں شعور کی کمی ہے اور کسی کے ہاں تربیت کی۔

پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام ہونے کی وجہ سے معاشرے میں افراد کے نظریات میں بھی کافی حد تک تضاد ہے۔ کچھ جدید نظریات کے حامی ہیں اور کچھ روایات کے۔ ایسی صورت حال میں معاشرہ کیسے متحد ہو سکتا ہے؟ اور کس طرح آگے بڑھ سکتا ہے؟

پاکستان میں بد قسمتی سے اس وقت سوا دو کروڑ کے لگ بھگ بچے سکول نہیں جا رہے۔ تو آپ سوچیں ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ بچے آگے جا کر معاشرے میں کیا کردار ادا کریں گے؟ اور مستقبل میں ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہوں گے؟ اگر حکومتی سطح پر تعلیمی پالیسی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم پر حکومتی خرچ صرف ڈیرہ فیصد کے قریب ہے، جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سے تعلیم کا معیار بد سے بد تر ہوتا جائے گا۔

کسی بھی معاشرے کا اثاثہ افرادی قوت ہوتی ہے اور فرد کا اثاثہ تعلیم و تربیت۔ روزمرہ زندگی کی سہولیات کا وقتی فقدان پورا ہو سکتا ہے لیکن تعلیم و تربیت کا فقدان پورا ہوتے ہوتے زمانے بیت جاتے ہیں۔ مستقبل میں کسی معاشرے کو زندگی بخشنے میں تعلیم کا اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا جینے کے لیے سانس کا۔

Latest posts by عاصم شاکر بگا (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عاصم شاکر بگا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments