ثقافت کی تشکیل میں نصاب اور میڈیا کا کردار


کسی خطے یا سماج کی ثقافت تشکیل دینے یا تبدیل کرنے میں جہاں دوسرے عوامل کار فرما ہوتے ہیں وہاں ذرائع ابلاغ یا ذرائع نشر و اشاعت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہندوستانی سماج میں ثقافتی تشکیل کے لیے دو طرح سے ذرائع ابلاغ ثقافت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام یا طبقہ ان ذرائع کو استعمال کرتا ہے۔

ان ذرائع میں سے ایک ہمارا ”نصاب“ ہے جس کے ذریعے مخصوص ذہن سازی کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں نوآبادیات کے عہد میں اس طریق کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ نو آبادکاروں نے یہاں کی ثقافت کے تمام مظاہر کو فرسودہ قرار دیا جس میں یہاں کے طرز بود و باش، خوراک، علم و ادب، زبان اور مذہب بھی شامل تھے۔ انیسویں صدی میں ابلاغ کے ذرائع اتنے تیز اور پر اثر نہیں تھے جتنے آج کے دور کے ہیں۔ اخبارات کے ذریعے یہ کوشش جاری تھی اور اب بھی ہے مگر اس وقت یہ اتنا موثر یا پائیدار ذریعہ نہیں تھا۔ سب سے موثر طریقہ یہی تھا کہ باقاعدہ ایسے نصابات تشکیل دیے جائیں جس کے ذریعے مائنڈ سیٹ میں تبدیلی ممکن ہے۔ اب اس طریقہ کار کو پھیلانے کے لیے *رسمی تعلیم* کا بیج بویا گیا۔ اور اس مقصد کے لیے رسمی تعلیمی ادارے یعنی سکولوں اور کالجوں کا اجرا کیا گیا۔

آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک کسی عہدے کے حصول کے لیے یا کسی مقام تک پہنچنے کے لیے رسمی تعلیم کی ضرورت نہ تھی بلکہ صلاحیت کو اہم سمجھا جاتا تھا۔ ہندوستان کی قدیم تاریخ میں اس کی ایک مثال مغلیہ دور کے بادشاہ اکبر کی ہے جو باقاعدہ پڑھا لکھا یعنی رسمی تعلیم یافتہ نہیں تھا۔ لیکن اس میں فیصلہ کرنے اور حاکم بننے کی صلاحیت تھی۔

سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ نو آبادکاروں نے اس بات کا پرچار کیا کہ اپنی صلاحیت کے بہتر استعمال کے لیے رسمی تعلیم کا حصول ضروری ہے یعنی کسی بھی شعبہ علم میں سند کا حصول یا مہارت کا سرٹیفیکیٹ ضروری ہے۔ اب علم و فن کا معیار یہی سند ہے دانش یا کوئی مہارت و صلاحیت نہیں۔ اس ”بیانیے“ کو پھیلانے کے لیے نصاب ہی بہترین ذریعہ تھا۔

نو آبادکاروں نے مخصوص نصاب کی تشکیل کے لیے لوگوں کو مراعات، عہدے، خطاب اور انعامات دیے۔

انگریزوں نے بہتر نو آبادکاری کے لیے برصغیر کی مقامی زبان و ادب اور ثقافت کو سمجھا پھر مقامی ثقافت کو کم تر اور غیر مہذب قرار دیا اور مقامی لوگوں کی اپنی شناخت ختم کردی ان کی صنعت و تجارت کو ختم کر دیا اور مقامی باشندوں کو صرف زراعت تک محدود کر دیا انہیں ہر لحاظ سے نوآبادیات پر منحصر بنا دیا اور انہیں یہ باور کرایا کہ مغربی تہذیب و ثقافت ہی برتر ہے اور اسی کی پیروی کرنا لازمی قراردیا۔

نصاب کے ذریعے نئی ثقافت کی تشکیل قدرے سست رفتار لیکن انتہائی موثر عمل ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں کسی وراثتی خصوصیت کی طرح منتقل ہو جاتا ہے۔

نصاب کے ذریعے ذہن سازی کا طریقہ مابعد نوآبادیاتی دور میں بھی جاری ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پچھلے تیس چالیس برسوں سے ہماری یہ ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ ملک کا ایک ہی مخصوص ادارہ ملک سے مخلص ہے اور اس کی بقا کا ضامن ہے باقی اداروں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہمارا تدریسی نصاب ہے جس کے ذریعے یہ بیانیہ اب دوسری نسل میں سرایت کر چکا ہے ہمارے نصاب کی کتابوں میں اس ادارے کی وفا اور خلوص کی کہانیاں باقاعدہ شامل کی جاتی ہیں۔ ”مرد مومن مرد حق“ ، حب الوطنی، جام شہادت، بہادری و شجاعت کے پیکر، نشان حیدر، اے پی ایس پشاور کے شہدا کے نام پر چلنے والے کاروبار، ضرب عضب، رد الفساد ایسے کئی اشتہارات نصاب کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں (عمران سیریز) کے کارنامے، گمنام ہیروز، ہمارے جاسوسی ادب سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ اور عمران سیریز جیسے ٹائپ کردار اور بچوں کے ادب میں انسپکٹر جمشید سیریز، خواتین کے لیے الگ سے خصوصی لٹریچر خواتین، شعاع، کرن، پاکیزہ، حنا وغیرہ میں لکھا جانے والا تفریحی یا ٹین ایجر ادب۔ ان رسالوں میں چھپنے والی کہانیوں میں کہیں نہ کہیں لاشعوری طور پر ہمیں ان اداروں سے محبت، قربانی اور ان کی ملک سے مخلص ہونے کی تعلیم فیڈ کی جاتی ہے۔ اس میں مصنفین کی رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔

مثلاً جنت کے پتے ”از نمرہ احمد مقبول عام ہے اور کچھ اسی تناظر میں بھی ہے جبکہ“ باگھ ”از عبداللہ حسین جو اس سسٹم کے خلاف ہے اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

اس طرح کے مواد کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی ہے۔ اور اسے ہر خاص و عام تک بہم پہنچایا جاتا ہے۔
”ایک قوم ایک نصاب“ بھی اس سلسلے کے ایک کڑی ہے۔
اس طرح نصاب کے ذریعے مائنڈ سیٹ تبدیل کیا جاتا ہے۔

 ثقافت کی تشکیل میں اور مائنڈ سیٹ کے تبدیل کرنے میں ایک اور بڑا کردار ہمارا میڈیا (الیکٹرانک اور سوشل) ہے۔

اس کی مثال یہ ہے ہمارے ملک کا میڈیا پڑوسی ملک بھارت کے بارے ہمیشہ منفی چیزیں ہی بتاتا ہے اور جو اس کے کم زور پہلو ہیں انہی کو بڑھا چڑھا کے پیش کرتا ہے۔ پھر چاہے ریاستی امور ہوں یا سماجی و ثفافتی حالات۔

مثلاً ہمیں بتایا جاتا ہے کہ انڈیا میں ذات پات کا نظام ہے۔ برہمن اور شودر جیسی ذاتوں میں انسان کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہمارے ملک میں بھی اور پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ بڑے اور چھوٹے کا تصور۔ برتر اور کم تر کا تصور ہر سطح پر موجود ہے۔ جہاں بھی کوئی با اختیار ہے وہ بے اختیار کا استحصال کرتا ہے۔ ہر شودر کہیں پر برہمن ہے اور ہر برہمن کہیں پر یا کسی بڑے برہمن کے آگے شودر ہے۔

ہمارا میڈیا ہمیں دوسروں کے ہی کم زور پہلو دکھائے گا اور دوسری طرف انڈین میڈیا بھی پاکستانیوں کو اسی طرح پینٹ کرتا ہے۔ جس سے دونوں ملکوں کے بیچ ایک دوسرے کے بارے میں منفی مائنڈ سیٹ تقویت پا چکا ہے۔

اسی طرح ہمارا میڈیا ہمیں ”مغرب“ کا بھی ہمیشہ منفی پہلو ہی پیش کرتا ہے کہ وہاں عریانی اور بے حیائی ہے۔ اور ہمارے بیشتر لوگوں کا مغرب اور انڈیا کے بارے میں یہی مائنڈ سیٹ ہے جیسا ان ذرائع سے بنایا گیا ہے۔ جب کہ جو لوگ ان ذرائع سے دور ہیں یا جن کا براہ راست مغرب یا انڈیا سے تعلق رہ چکا ہے ان کے خیالات اس کے برعکس ہیں۔ اس مائنڈ سیٹ میں میڈیا کے ساتھ ہمارا نصاب بھی شامل ہے جس میں ہندو مذہب اور ثقافت کو غلط کہا جاتا ہے اور ان کے رسوم و رواج اور عقائد کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

کسی بھی سوسائٹی کے کلچر کو بدلنے میں میڈیا مختلف طریقوں سے کردار ادا کرتا ہے۔ جن میں اشتہارات اور ٹرینڈز اہم ہیں جو دراصل ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

اشتہار سازی، تشہیر یا ایڈورٹائزمنٹ ایک باقاعدہ کاروباری کلچر بن چکا ہے۔ جس چیز کو بیچنا یا تصور کو رائج کرنا مقصود ہو یا کسی پرانے تصور کو ختم کرنا ہو اس کے لیے میڈیا اشتہارات کا سہارا لیتا ہے۔

اشتہارات کی پالیسی دراصل ایک مائنڈ گیم ہے جس میں صارفی سماج کی نفسیات کو مدنظر رکھا ہے۔ یا صارفی سماج کی نفسیات اور ضروریات پیدا کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے منظم اور مزین و منقش اشتہار تیار کیے جاتے ہیں جس سے لوگوں متوجہ کیا جاتا ہے۔

گوگل پالیسی پر عمل کرتے ہوئے جھوٹ کو اتنی بار اور اتنے طریقوں سے پیش کرنا کہ سچ لگنے لگے۔

جیسے فوڈ پروڈکٹس میں چاکلیٹ کے ایڈ کے میں اسے چمکدار دکھانے کے لیے اس پر گریس ڈالی جاتی ہے۔ ڈیری پروڈکٹس یا آئس کریم کے ایڈ میں شیونگ کریم کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ ایڈ بننے تک برف تو پگھل جاتی ہے لیکن ایڈ میں نہیں پگھلتی کیونکہ وہ برف ہی نہیں ہوتی۔

اور ان ایڈز کو بار بار مختلف میڈیا چینلوں اور سوشل سائٹس پر پھیلایا جاتا ہے۔

(اس میں ینگ کا نظریہ ”پر سونا“ اور ”شیڈو“ کام کر رہا ہوتا ہے۔ جس کے تحت انسان کا خارج یا پر سونا یعنی ظاہر ہمیشہ اس کے داخل یا شیڈو یعنی باطن یا اصل سے مختلف ہوتا ہے۔ اس نظریے کو پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ پر سونا ہی ظاہر کرتا ہے اپنے شیڈو کو چھپا کر رکھتا ہے۔ اوورکوٹ پہنے رہتا ہے۔ اشتہارات کی کامیابی کے عورت کو بھی بطور پروڈکٹ اور ماڈل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ) ۔

ان اشتہارات کی کامیابی کے لیے شوبز سٹارز، سپورٹس سٹارز اور سوشل میڈیا سٹارز کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

جو جتنا بڑا سٹار ہو گا اتنے ہی زیادہ اشتہار کے دام ہوں گے اور لوگوں کو اس اشتہار میں پیش کی گئی پروڈکٹ یا برانڈ سے اتنی رغبت ہوگی۔

شیمپوز ( جیسے ہیڈ اینڈ شولڈرز) کے ایڈز کے لیے شاہد آفریدی یا کوئی خاتون سٹار جیسے مہوش حیات۔ زیورات کے لیے کرینہ کپور خان۔ ڈیٹرجنٹ یا سرف (ایریل) کے لیے وسیم اکرم۔ منرل واٹر کے لیے ماہرہ خان۔ پرفیوم کے لیے فیروز خان۔ اور ٹیلی کام کمپنی ”جاز“ کے اکثر ایڈز میں ابھرتی ہوئی ترکش اداکارہ ”اسرا بلجک“ کو کاسٹ کیا گیا۔ اسی طرح الیکٹرک یا الیکٹرانک ڈیوائسز کے ایڈز میں فہد مصطفی وغیرہ جیسے بڑے سٹارز کو کاسٹ کیا جاتا ہے۔

اسی طرح بیوٹی پروڈکٹس اور فوڈ پروڈکٹس میں یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ ان میں عوام کی نفسیات کے مطابق ایڈز بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک دفعہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی فرٹیلائزر کمپنی کے ایڈ میں جس میں گنے کی فصل پر اس کا استعمال دکھایا تھا۔ اور لمبے گنوں کی مشہوری کے لیے ہمارے طویل قد اور صحت مند فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو کاسٹ کیا گیا تھا۔

اسی طرح ان اشتہارات میں استعمال ہونے والے الفاظ اور جملے بھی دل چسپ ہوتے ہیں اور مائنڈ سیٹ بدلنے میں حد درجہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں۔ زونگ سب کہہ دو ، ٹیلی نار کرو ممکن، جاز اپنا ہے اور دنیا کو بتا دو اور اب نیا جملہ ”سپر ہے چینج“ جس میں ایک عورت کے بازوؤں کے ساتھ پر لگا کر اسے کسی پری یا کوئی ”سپر مین“ کا تصور دیا ہے (جیسے یہ نطشے کا سپر مین تصور ہو یا اقبال مرد کامل اور مرد مومن کا تصور ہو حالانکہ یہ ایڈز محض تیز ترین نیٹ سپیڈ یا کال سروس کے لیے ہوتے ہیں )

فوڈ پانڈا کے اشتہار میں جیسے ”line ko skip kro، order ko pick kro“
اور صبر آپ کرو پھل ہم لائیں گے ابھی فوڈ پانڈا کرو۔

یہ ہیں اشتہار سازوں اور سرمایہ داروں کی کچھ پالیسیاں جن میں میڈیا کا سہارا لے کر مائنڈ سیٹ بدلا جاتا ہے۔

ہمارے سماج میں فاسٹ فوڈز کھانے کا رجحان پچھلے چند سالوں سے بڑھ گیا ہے حالانکہ پہلے بھی لوگ اس کے بغیر زندہ تھے۔ اب فاسٹ فوڈز اور کولڈ ڈرنکس کو ہماری ضروریات کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ شادی بیاہ، فوتگی اور دیگر پارٹیوں یا تقریبات بلکہ گھریلو سطح پر بھی اسے ایک رواج کی شکل دے دی گئی ہے۔ اس نئے ٹرینڈ یا مائنڈ سیٹ کو بھی میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا ہے۔ اور اب یہ چیزیں ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہیں۔

پروڈکٹ کے لیے اشتہار ایک فیشن بن چکا ہے اور اس میں کاروباری عناصر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں لگے رہتے ہیں۔

(ہماری سیاست میں بھی اسی طرح میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سیاستدان میڈیا کے ذریعے مختلف اشتہارات، رجحانات یا ٹرینڈز اور ”کارڈ“ بیچتے ہیں۔ بلکہ کارڈز کھیلتے ہیں۔ اور ان کارڈز کو میڈیا کے ذریعے ہر جگہ نشر کیا جاتا ہے۔

بعض کارڈز ”ٹاپ ٹرینڈز“ بن جاتے ہیں یا بنا دیے جاتے ہیں۔ جس سے لوگوں کی ذہن سازی اور حمایت یا مخالفت جیتنا آسان ہو جاتا ہے۔ جیسے اشیائے ضروریہ اور سہولیات کے نت نئے ایڈز آتے ہیں ویسے سیاست میں بھی پرانے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کے لیے نئے ٹرینڈز اور کارڈز چلائے جاتے ہیں۔ ان کے الفاظ بھی بڑے دل چسپ ہوتے ہیں جن کے پیچھے بھی ایک مائنڈ سیٹ کام کر رہا ہوتا ہے اور جو ”حامی“ کے دل کو لگتے ہیں اور ”مخالف“ کے سینے میں تیر کی طرح گھستے ہیں۔

کچھ مشہور ٹرینڈز اور کارڈز یہ ہیں۔

پٹواری، یوتھیے، نیا پاکستان، امپورٹڈ حکومت، نامنظور ڈاٹ کام، لوٹا کریسی، چور، غدار، گو نواز گو، خلائی مخلوق، مک گیا تیرا شو نیازی، ایک زرداری سب پہ بھاری، کانپیں ٹانگنا، کرونا کارڈ، صحت کارڈ، رجیم چینج، امریکی سازش، مذہبی کارڈز میں ریاست مدینہ، ایاک نعبد، امر بالمعروف وغیرہ جیسے کافی ٹرینڈز اکثر میڈیا کی زینت بنائے جاتے ہیں۔ جن سے مائنڈ سیٹ کو کامیابی سے بدل دیا جاتا ہے )

اس طرح میڈیا براہ ثقافت پر اثر انداز ہوتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حافظ عمر فاروق، سرگودھا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments