جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد پاکستان کا نیا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟


آرمی
پاکستان میں بری فوج کے سربراہان ملکی تاریخ کے آغاز سے ہی اہم رہے ہیں جس کی وجہ ملکی سیاست میں فوج کا کردار اور آرمی چیفس کی اہمیت رہی اور اسی لیے ہر بار نئے آرمی چیف کی تعیناتی ایک اہم سیاسی معاملہ اور بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔

تاہم موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ لینے والے نئے چیف کی تعیناتی سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کے باعث کچھ زیادہ ہی موضوع بحث بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو، یعنی دس دن بعد ریٹائر ہونے والے ہیں تاہم اب تک حکومت نے ان کی جگہ فوج کی کمانڈ سنبھالنے والے افسر کا اعلان نہیں کیا۔

گذشتہ روز وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل پیر سے شروع ہو جائے گا۔

ان کے مطابق یہ عمل اگر پیر کو شروع ہوا تو پھر منگل یا بدھ کو نئے آرمی چیف کا نام سامنے آ جائے گا۔ ان کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے بھیجی جانے والی سمری میں سے ایک نام کو چن لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری بطور وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھیجنی ہے۔

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے اس عمل کو خود عمران خان نے اس وقت متنازع بنایا جب وہ کسی ایک خاص افسر کو ہی آئی ایس آئی چیف رکھنا چاہتے تھے۔

 وزیر دفاع خواجہ آصف

آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری بطور وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھیجنی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق صدر آصف زرداری نے بھی گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پاک آرمی میں پروموشن کے نظام پر یقین رکھتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام تھری سٹار جنرلز برابر ہیں اور آرمی کی سربراہی کے لیے مکمل اہل ہیں۔‘

سابق صدر نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ سیاسی نہیں ہونا چاہیے یہ ادارے کو نقصان پہنچائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق وزیراعظم کریں گے۔

تاہم اس اہم تعیناتی میں کون کون امیدوار ہیں اور ان کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ اس رپورٹ میں فوج کے سینیئر ترین جنرلز، جن میں سے ایک کو آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے، کی پیشہ ورانہ زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے جو 75ویں لانگ کورس سے جونیئر اور 76ویں لانگ کورس سے سینیئر ہے۔ اُن کی ترقی موجود کور کمانڈر لاہور، منگلا، ڈی جی ایس پی ڈی اور آئی جی ٹی اینڈ ای کے ساتھ اکتوبر 2018 میں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے رینک تقریباً ڈیڑھ مہینے کی تاخیر سے لگایا جس کی وجہ سے ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اپنے جونیئرز کے بھی بعد ہے۔

موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہے۔ اس کی بنیاد وہ قواعد و ضوابط ہیں جن کا ذکر آگے چل کر ہو گا یعنی مدت ملازمت یا رینک کے لیے متعین مدت میں سے جو پہلے آ جائے، اسی تاریخ پر افسر کی سروس ختم ہو جاتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

ایک سابق فوجی اہلکار کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کے لیے انھیں دو دن کی توسیع یا موجودہ آرمی چیف کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہو گی۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے بعد 75ویں لانگ کورس میں سب سے پہلا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر چھٹے نمبر پر ہیں۔

ماضی میں بننے والے فوجی سربراہان کا ریکارڈ اور ان جنرلز کی اسائنمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کورس کے تقریبا تمام ہی افسران مضبوط پروفائل رکھتے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا

سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔

اس سے پہلے وہ فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل سٹاف تعینات رہے۔

وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔

وہ وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔

اس کے بعد وہ چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر بھی رہے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی اس ڈویژن کی کمان کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس

بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ ان دو عہدوں کی حد تک جنرل اظہر عباس اور ساحر شمشاد مرزا کی پروفائل ملتی جلتی ہے۔

اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری سکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔

جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا نئے آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان میں سیاسی بحران ختم کر دے گی؟

وزیراعظم شہباز شریف نئے آرمی چیف کا اعلان کیوں نہیں کر رہے ہیں؟

عمران خان کی تنقید کا نشانہ بننے والے آئی ایس آئی افسر میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود

اگرچہ نعمان محمود سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں مگر ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ فوج میں انھیں خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔

ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں۔ بعد میں نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔

بلوچ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دفتر میں نہیں پائے جاتے اور ان کا زیادہ وقت فارورڈ ایریاز میں گزرتا ہے۔ انھیں سابق فاٹا کی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ ان کی اسائنمنٹس ہیں۔

وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف سٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔

خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید

پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔

بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں ہی ‘سی آئی’ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کے لیے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی میں اپنے کریئر کے دوران میڈیا میں مختلف تنازعات کا بھی شکار رہے۔

اس سے قبل ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔

اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔

بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ‘اپنے حلف کی خلافورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔’

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل محمد عامر

یہ اس فہرست میں غالبا خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل سٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔

اس وقت اس وقت وہ گجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.

لیفٹننٹ جنرل چراغ حیدر

لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر کا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ انھوں نے آفیسر ٹریننگ سکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

بطور بریگیڈیئر وہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے ۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔

آرمی میں سینیارٹی کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی افسر کی لانگ کورس میں سینیارٹی ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر ملنے والے نمبر ، جسے پاک آرمی یا پی اے نمبر کہا جاتا ہے، کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔

سروس کی عمر یا اس رینک کے لیے مختص مدت میں سے جو پہلے آئے، اسی کے مطابق ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے۔ مثلا موجودہ آرمی چیف اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی دن پاس آوٹ ہوئے تاہم آرمی چیف بننے سے قبل وہ اپنے کورس میں سینیارٹی میں چھٹے نمبر پر تھے جس کی وجہ ان کا پی اے نمبر تھا۔

اسی طرح موجودہ سینیئر ترین لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان اپنے رینک کی مدت پوری ہونے پر اکتوبر 2022 میں ریٹائر ہوں گے اور یوں وہ فور سٹار جنرل کی دوڑ میں بھی شامل نہیں ہوں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments