آرٹیمِس اول: ایک دیو ہیکل راکٹ جو خلا میں نئے ریکارڈ قائم کرے گا


آرٹیمِس ناسا خلا
آرٹیمِس اول نامی راکٹ کو چاند کے ارد گرد خلائی سفر کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے جو انسان کے دوبارہ چاند کی سطح پر اترنے کے مشن کے علاوہ اس سے بھی آگے تحقیقات کرے گا۔

50  سال کے وقفے کے بعد امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ’ناسا‘ چاند کے سفر کے مشن کی جانب لوٹ رہا ہے۔ اس مرتبہ اس مشن کے پروگرام کا نام ’آرٹیمِس‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جو چاند کی یونانی دیوی ہے اور سورج دیوتا اپالو کی جڑواں بہن ہے۔ نہ صرف یہ نام اور منزل کے لحاظ سے ایک زیادہ مناسب پروگرام ہے، بلکہ آرٹیمس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اپالو کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ آرٹیمِس پہلی خاتون کو چاند پر اتارے گا۔  

اسی مناسبت سے ناسا کی پہلی خاتون لانچ ڈائریکٹر، چارلی بلیک ویل۔تھامپسن نے آرٹیمِس کے پہلے مشن کی خلا میں پرواز کے وقت ہونے والی الٹی گنتی اور ’لفٹ آف‘ کی نگرانی کی۔ لیکن آرٹیمس اول ایک ’نِسائی کامیابی‘ سے کہیں زیادہ بڑی کامیابی ہے۔ اپنے 37 دن کے سفر کے دوران چاند کے گرد ایک توسیع شدہ ریٹروگریڈ مدار میں – زمین کے گرد چکر لگانے والے چاند کے مخالف سمت میں سفر کرتے ہوئے – یہ کئی دیگر اہم اولین کامیابیاں حاصل کرے گا۔

ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز ڈیولپمنٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری کا کہنا ہے کہ ’ہم پہلی انسانی گاڑی کو اس سے آگے لے جانے جا رہے ہیں جو کسی بھی انسانی گاڑی سے پہلے نہیں گئی تھی۔ اور ہم اورائین کیپسول کے ساتھ چاند سے 40,000 میل (64,000 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنے جا رہے ہیں۔‘

جب اورائین – ناسا کا نئے عملے کے ساتھ خلائی سفر کرنے والا خلائی جہاز – یہ کام مکمل کر لے گا  تو یہ زمین سے تقریباً 280,000 میل (450,600 کلومیٹر) کے فاصلے پر ہوگا، جو اس سے قبل 1970 میں اپالو 13 کے عملے کے ریکارڈ کو توڑے گا۔ آرٹیمس اول ایک آزمائشی پرواز ہے، اورین خلائی جہاز کا عملہ ایک انسانی سائز کے مینیکوئن (فیشن دکھانے کے لئے کپڑے پہنے والے پتلے) پر مشتمل ہو گا جس پر سینسرز لگائے ہوئے ہوں گے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ انھیں کون کون سے دباؤ، تناؤ اور ممکنہ تابکاری کا سامنا ہو سکتا ہے اور جو آرٹیمیس دوئم  اور اس کے بعد کے ایسے خلائی مشن کے عملوں کو (حقیقی) سفر کے دوران پیش آ سکتے ہیں۔ لیکن صرف یہی سارا مقصد نہیں ہے۔

تکنیکی خرابیوں اور ہائیڈروجن ایندھن کے لیک ہونے کی وجہ سے تاخیر کے بعد آرٹیمیس اول نے ایک خلائی لانچ سسٹم (SLS) راکٹ پر لانچ کیا، جو اگرچہ سیٹرن پنج  (Saturn V) کے سائز سے چھوٹا ہے، لیکن دنیا کا سب سے اونچا راکٹ لانچ کرنے کا اسٹیج ہے، اس کی اونچائی 64.6 میٹر  ہے۔

جِم فری کہتے ہیں ’خلائی لانچ سسٹم (SLS) سب سے طاقتور راکٹ نظام بنایا گیا ہے۔ یہ 88 لاکھ پاؤنڈ کے وزن کی طاقت کے ساتھ لانچ ہوتا ہے، جب ہم اپنی بلند ترین پرواز کی شرح تک پہنچ جائیں گے، تو آرٹیمس پروگرام 30 دنوں تک چار لوگوں کو چاند کی سطح پر لے جائے گا۔‘

یہ ایک قابل ذکر اپ گریڈ ہے۔ 1972 میں اپولو 17 کی چاند پر لینڈنگ کے دوران خلابازوں نے سطح پر صرف تین دن گزارے تھے۔

آرٹیمِس ناسا خلا

آرٹیمِس پروگرامز کی بدولت 50 سالوں کی غیر حاضری کے بعد ناسا کی چاند کے مشن پر واپسی ہوگی۔

آرٹیمس کا فوکس بھی مختلف ہوگا۔ 1960 کی دہائی میں، اپالو بنیادی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کی طاقت کی دوڑ کا حصہ تھا۔ آرٹیمس ایک بین الاقوامی کوشش ہے جس کی قیادت ناسا  (NASA) کرتی ہے جس میں کینیڈین سپیس ایجنسی (CSA)، جاپان ایرو سپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (Jaxa) اور یورپی سپیس ایجنسی (Esa) شامل ہیں۔

’ناسا کے سائنس کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زرباچن کہتے ہیں ’یہ مختلف اقوام کے جھنڈوں اور ان کی شراکت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ چاند پر ایک پائیدار موجودگی کی تعمیر اور چاند کی بنیاد اور مریخ پر مستقبل کے مشن کی بنیادیں رکھنے کے بارے میں ہے۔‘

زرباچن اور جِم فری پیرس کے ہوائی اڈے پر تھے جب میں نے بین الاقوامی خلابازی کانگریس میں شرکت کے بعد ان سے بات کی۔ اس سال کے ایونٹ کے مقصد کا عنوان ’خلا سب کے لیے‘  (Space for @ll) تھا جس کا مقصد کمیونٹیز کو اکٹھا کرنا اور نئے رابطوں اور ممکنہ شراکت داری کو فروغ دینا تھا۔ ناسا کی چاند اور اس سے آگے کی بلند نظر مشن کی جد و جہد صرف یہی کرتی ہے، جس میں دنیا بھر کی خلائی ایجنسیاں، تجارتی کمپنیاں اور پوری دنیا کی صنعتیں شامل ہوتی ہیں۔

شبیہہ سازی (سِمیولیشن) کے دوران، ناکامیوں کو جان بوجھ کر مشن کی مشقوں میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ٹیم کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتی ہے اور کسی بھی مسئلے کو کیسے حل کرتی ہے

میں نے اس بین الاقوامی تعاون کی پہلی مثال اس سال مئی میں آرٹیمیس اول کے ایک معائنہ کے موقع پر دیکھی۔ یہ حقیقی لانچ سے پہلے کے حالات کی مشق جو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن سپیس سینٹر میں دیگر ٹیموں کے درمیان بیک وقت کی گئی۔ اس میں جرمنی کے خلائی ادارے کے اوبرفافن ہوور کا ایک مرکز ، یورپ کے (Esa) کے کولمبس کنٹرول سینٹر کے خلائی تحقیقی ادارے، اور – جہاں میں خود موجود تھی – یورپی خلائی تحقیقی ادارے کی نیدرلینڈ کے شہر ایسٹیک میں نورڈوئک کے مقام پر قائم تکنیکی سائٹ ایک ہی وقت میں اس جائزے کی مشق میں شامل تھی۔

مشق کا مقصد اصل وقت میں، لانچ سے پہلے کسی بھی ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ ایسٹیک کے ایراسمس سپورٹ فیسیلٹی کنٹرول روم کے اندر، میں نے فلم اپالو 13 کے مشہور اقتباس کے ساتھ ناسا کا ایک مگ دیکھا۔ آکسیجن ٹینک کے دھماکے کی وجہ سے، اپالو 13 کبھی بھی چاند پر نہیں جا سکا لیکن اس نے اپنے عملے کو انجینئرز کی مہارت کی وجہ سے بحفاظت زمین پر گھر پہنچایا۔ اس مگ پر درج تھا: ’ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

آرٹیمِس ناسا خلا

’خلائی لانچ سسٹم (SLS)راکٹ معروف راکٹ سیٹرن پنجم (اس تصویر میں نظر آرہا ہے) سے کہیں زیادہ طاقتور ہے جسے اپولو کے چاند کے سفر کے دوران استعمال کیا گیا تھا‘

ایسا (Esa) کے ایراسمس سپورٹ فیسیلیٹی (Erasmus Support Facility) کے مینیجر، کیوِن پیسی کا کہنا ہے کہ ’جب آپ تمام نقائص نکال دیتے ہیں پھر آپ اڑ جاتے ہیں۔

ایسا (Esa) نے آرٹیمِس مشن کا ایک اہم حصہ فراہم کیا ہے: ’یورپی سروس موڈیول‘۔ اورائین کیپسول سے منسلک یہ طاقت، آگے بڑھنے کا دھکا (پروپلشن) اور، جب خلاباز جہاز پر ہوتے ہیں تو انھیں لائف سپورٹ مہیا کرتا ہے۔  پیسی کہتے ہیں کہ ’یہ ٹیم ان لوگوں کا خیال رکھے گی جو چاند اور اس سے آگے جا رہے ہوں گے۔‘

صرف اس مشق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آرٹیمِس کے ساتھ چاند پر واپسی کسی ایک قوم کی کوشش نہیں ہے۔ اب اس مشن کا کوئی سیاسی مقصد بھی نہیں ہے کہ کسی قوم نے یہ کیا ہے۔

زمین پر واپسی کے سفر کے دوران آرٹیمیس اول اورائین خلائی جہاز کی ہیٹ شیلڈ کی جانچ بھی کرے گا

ناسا کے زرباوچن کا کہنا ہے کہ ’سائنسی ریسرچ پوری حکمت عملی کا اصل مقصد ہے۔ اپالو مشنز کے دوران تحقیقات اس کا ایک سرسری سا حصہ تھی۔ جبکہ آرٹیمس میں سائنسی تحقیق اس مشن کا مرکز ہے۔‘

اپنے مشن کے دوران مستقبل کی خلائی پروازوں کے ٹیسٹوں کو چھوڑ کر آرٹیمیس اول دس چھوٹے سائنسی سیٹلائٹس یا کیوب سیٹس چھوڑے گا۔ ان میں ایک ’بائیو سینٹینل‘ (BioSentinel)، جوتوں کے ڈبے کے سائز کا ہے اور یہ گہری خلا میں طویل مدتی حیاتیات کا پہلا تجربہ ہوگا۔

’بائیو سینٹینل‘ میں خمیر ہوتا ہے کیونکہ ان مائیکرو جانداروں کے خلیات میں انسانی خلیات سے ملتا جلتا طریقہ کار ہوتا ہے اور یہ مزید مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کس طرح گہری خلائی تابکاری ڈی این اے کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ان خطرات کی بہتر تفہیم فراہم کرے گا جن کا سامنا خلابازوں کو اسی ماحول میں ہو سکتا ہے۔

زوبورچن کہتے ہیں کہ ’ان حیاتیاتی تجربات نے زمین سے چاند کے پیچھے گہری خلا میں زندگی کی تحقیق میں ریکارڈ قائم کیا۔‘

آرٹیمِس ناسا خلا

1972 میں اپولو 17 نے خلا میں چاند کا آخری سفر کیا تھا۔ آرٹیمِس خلائی تحقیق کے میدان میں بہت آگے جانے کا ایک مشن ہے۔  

اسرائیل کی خلائی ایجنسی (Isa) اور جرمن ایرو سپیس سینٹر (DLR) کے تجربے کے لیے دو مینیکوئن دھڑ بھی ہیں، ایک پروٹوٹائپ ریڈی ایشن پروٹیکشن بنیان پہنے ہوئے ہے۔

زمین پر واپسی کے سفر کے دوران آرٹیمیس اول اورائین خلائی جہاز کی ہیٹ شیلڈ کی جانچ بھی کرے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ زمین کے مدار میں واپسی پر دوبارہ داخل ہونے پر 2,760 سیلسیس درجہ حرارت کو برداشت کر سکتا ہے – جو مئی 2024 میں لانچ ہونے والی آرٹیمِس دوم میں سوار چار خلابازوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہوگا۔

آرٹیمِس دوم چکر لگائے گا لیکن چاند پر نہیں اترے گا۔ وہ تاریخی لمحہ آرٹیمِس سوئم میں دیکھا جائے گا۔

ناسا کے زربوچن، جو امریکہ جانے سے پہلے سوئٹزرلینڈ میں پلے بڑھے تھے، کہتے ہیں کہ ’یہ واقعی اہم ہے۔ اگر آپ اپالو کی تمام تصویروں کو دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ ہر ایک سیاہ ٹائی کے ساتھ میرے جیسا نظر آتا ہے، اور اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ دنیا کی اکثریت اس تجربے سے باہر ہے۔‘ آرٹیمس کے لیے منتخب خلابازوں کی ٹیم اپالو پر اڑان بھرنے والوں سے کہیں زیادہ متنوع ہے۔

آرٹیمس کے لیے لینڈنگ سائٹس بھی کچھ نیا پیش کریں گی۔ زربوچن کہتے ہیں کہ ’یہ زیادہ مشکل اور زیادہ دلچسپ‘ ہوگی۔

اورائین خلائی جہاز اپالو کے بڑے ورژن سے مشابہت رکھتا ہے لیکن اس کی ٹیکنالوجی بہت ہی اونچی سطح کی ہے

جِم فری کہتے ہیں کہ ’اپولو چاند کے خط استوا میں اترا تھا۔ آرٹیمس قطب جنوبی کی طرف جانے والا ہے، جہاں ہم ان وسائل کی تلاش کریں گے جو ہم نے سائنسی خلائی جہاز کے مشاہدات سے دریافت کیے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہاں پانی کی برف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے یقیناً ہم اپنے عملے کی بقا کے لیے استعمال کرسکتے ہیں اور یہاں تک کہ پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن سے الگ کرنے کے لیے ایندھن اور طاقت بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

اورائین خلائی جہاز اپالو کے بڑے ورژن سے مشابہت رکھتا ہے لیکن اس کی ٹیکنالوجی کسی بہت ہی اونچی سطح کی ہے۔ ناسا کے مطابق اورائین کا کمپیوٹر اپالو مشن میں استعمال ہونے والی میموری کے مقابلے میں 128,000 گنا زیادہ میموری کے ساتھ 20,000 گنا تیز رفتار کے ساتھ کام کرتا ہے۔

آرٹیمِس ناسا خلا

بہت زیادہ مقدار میں ایندھن کے سیلز  میں اخراج سمیت دیگر نقائص کی وجہ سے پہلے آرٹیمِس کی اڑان میں تاخیر ہوئی ہے۔

آرٹیمِس اول یہاں تک کہ ایلیکزا اور سیری جیسے وائس اسسٹنٹس کے بھی ٹیسٹ کرے گا۔ لاک ہیڈ مارٹن کا ’سیسکو  (Cisco) اور ایمیزون  (Amazon) کے ساتھ تیار کیا ’کیلِسٹو سسٹم‘  (Callisto system) یہ ظاہر کرے گا کہ آیا آواز سے چلنے والی کمانڈز اور فیڈ بیک مستقبل کے مشنز کے لیے کارآمد ہوں گے۔

یہ واضح ہے کہ آرٹیمس اپولو دور کے راکٹوں سے کہیں آگے ہے۔ امریکی ادارہ ناسا، دیگر اداروں مثلاً  ’جیکسا‘ (Jaxa)، سی ایس اے  (CSA)، ’ایسا‘ (Esa) اور تجارتی اداروں کی شراکت کے ساتھ، گیٹ وے بھی قائم کرے گا، ایک چھوٹا خلائی سٹیشن جو چاند کے گرد گہری خلا میں گردش کرتا ہے تاکہ چاند کی مزید سیر اور ایک حتمی بنیاد کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ یہاں تک کہ ناسا پہلا قمری مواصلاتی نیٹ ورک انسٹال کرنے کی امید کر رہا ہے – جسے’لونا نیٹ‘  (LunaNet) کہا جاتا ہے – جو بحری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ چاند پر انٹرنیٹ جیسی خدمات متعارف کرائے گا۔

تقریباً 65 کروڑ لوگوں نے پہلے انسان کو چاند پر چلتے ہوئے دیکھا تھا۔ کون جانتا ہے سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کے اضافے کے بعد، دنیا بھر میں کتنے لوگ پہلی خاتون یا غیر سفید فام خلاباز کو آرٹیمس سوئم کے ساتھ اگلا ’ایک چھوٹا سا قدم‘ اٹھاتے ہوئے دیکھیں گے۔

جِم فری، جنھوں نے ناسا میں بطور پروپلشن انجینئر اپنے کیریئر کا آغاز کیا، کہتے ہیں کہ ’مجھے خلائی تحقیق پسند ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ متاثر کن ہے اور لوگ اس میں آنے کی شدید آرزو بھی رکھتے ہیں۔ میں اس کے ایک تکنیکی شعبے میں شامل ہوا اور مجھے امید ہے کہ یہ دوسروں کو بھی اسی طرح کھینچے گی۔ ہم دوبارہ تلاش کر رہے ہیں، ہم چاند کی تلاش کر رہے ہیں اور ہم مل کر تلاش کر رہے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26838 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments