اشرف غنی واپس آنے والا ہے


ہندوستان سے جاتے جاتے برطانیہ نے فیصلہ کیا کہ انڈیا کو تقسیم کر کے آزاد کرنے کے لئے شاہی خاندان کے کسی فرد کو ہندوستان جانا چاہیے، تاکہ ہندوستان سے اپنی روانگی اور اس کی تقسیم کو وہ ایک یادگار تاریخی واقعے کی شکل دلا سکے۔ اس لیے اس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان بھیج دیا۔ سکھوں کی برطانیہ کے لئے بیشمار خدمات تھیں اس لیے پنجاب کی تقسیم کو اپنے ساتھ احسان فراموشی سمجھ کر انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور برطانیہ کو فسادات کا تحفہ دے کر ہمیشہ کے لئے شرمندہ کیا۔

یہی سلوک عمران خان اور اس کے ساتھیوں نے افغانستان سے نکلنے والے امریکہ کے ساتھ کیا، جس نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کے تمام فریقین کو باہمی رضامندی سے ہمہ شمول عبوری حکومت بنانے اور پھر انتخابات کروانے پر تیار کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے تھے، لیکن عین وقت پر معاہدے سے ماورا طالبان کی کابل اچانک آمد اور اس کے ردعمل میں اشرف غنی کا ملک چھوڑنے کے فیصلے نے برسوں پر مشتمل ان کے کیے گئے مذاکرات اور معاہدات پر پانی پھیر دیا۔

یوں اسی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد کرانے اور باہمی اعتماد قائم کرنے میں پورا ایک سال صرف ہوا۔ ایک طرف افغانستان کے اثاثے منجمد ہوئے تو افغان عوام کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف پاکستان کی اقتصادی حالت ابتر ہو گئی۔ لیکن بڑے امتحان سے جنرل باجوہ اور ان کے قریبی رفقاء کو گزرنا پڑا، جو خلوص نیت کے ساتھ دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کرانا چاہتے تھے۔ تاکہ افغانستان میں امن اور پاکستان میں اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ پاکستان اس معاہدے کی ناکامی سے گرنے والے نزلے سے بچ جائے، کیونکہ کابل سیرینا میں قہوے کے ایک کپ نے پاکستان کی پوزیشن پارٹ آف دی سلوشن ہونے کی بجائے پارٹ آف دی پرابلم بنا دی تھی۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں قابل اعتماد مقام دلانے کے لئے جنرل باجوہ نے ڈٹ کر اپنے خلاف کیے گئے ہر قسم کے کریکٹر اسیسینیش اور بدترین پروپیگنڈا کے باوجود دوحہ معاہدے کو کامیاب بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

دوحہ معاہدے کے مطابق طالبان دوسرے افغان گروہوں کے ساتھ مل کر عبوری حکومت بناتے، جو آگے جاکر انتخابات منعقد کرتی اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت افغانستان کی بھاگ دوڑ سنبھالتی۔ نتیجتاً امریکہ کی افغان حکومت کے ساتھ دوسرے ممالک کی طرح دوستانہ تعلقات ہوتے، کیونکہ اس نے اس خطے میں اپنے مفادات کی تحفظ کے لئے عشروں تک اپنا خون پسینہ اور ڈالر ایک ساتھ بہائے تھے۔ جہاں سے وہ اپنی موجودگی کے ذریعے روس کو یورپ میں اور چین کو ایشیاء میں اپنی من مانیاں کرنے سے روک سکتا، ایران پر نظر رکھ سکتا، ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے پر مجبور کر سکتا، افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت سے افغانوں کی جنت میں تبدیل کر سکتا، جہاں وہ دنیا جہان سے بلا خوف و خطر واپس آ کر نئی دنیا میں سیکھے ہوئے علوم اور کمائے ہوئے سرمایہ سے دوبارہ اپنا گھر بناتے۔ لیکن کابل سیرینا میں قہوہ پینے کی ہماری تصویر نے یہ سب کچھ نہیں کرنے دیا۔

دوحہ معاہدے سے بالاتر کچھ گروہوں کی کابل میں اچانک آمد نے کسی بڑے سانحے کو تخلیق کرنے کے اشارے دیے، اس لیے اشرف غنی کو سردار داؤد اور ڈاکٹر نجیب بننے سے بچانے کے لئے ایمرجنسی میں افغانستان سے نکالا گیا۔ جنگی جہازوں ہیلی کاپٹروں، پائلٹوں اور ہزاروں افغان فوجیوں کو تاجکستان قطر یورپ اور کینیڈا پہنچایا گیا، اور امریکی فوجی پاکستان لائے گئے۔ معاہدے کی خلاف ورزی کی پاداش میں طالبان حکومت کو عالمی پذیرائی ملی نہ افغان ریاست کے بین الاقوامی بینکوں میں پڑے ہوئے اپنے اثاثے اور نہ بین الاقوامی امداد۔

جس پر انہوں نے اقلیتوں اور عورتوں کے حقوق غصب کرنے کے علاوہ بچیوں کے تعلیمی اداروں پر پابندی لگا کر عالمی ضمیر کو ان کی امداد کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہوئے۔ پاکستان میں ان کو سمجھانے اور چلانے والے بے اثر کر دیے گئے، (پاکستان میں موجود اتھل پتھل، عمران خان کا آخری یوٹرن اور بڑے عہدیداروں کی ری سٹرکچرنگ مدنظر رہے ) تو آخر کار افغان دانش چھا گئی، جس نے ہمیشہ مشکل مراحل میں اپنی قوم کی رہنمائی کر کے اسے مسائل سے باہر نکالا ہے، اس لیے سردیاں چھانے کے باوجود افغانستان میں بہار آنا چاہتی ہے، اور یہ بہار پاکستان کی طرف سے آئے گی۔

ایبسولوٹلی ناٹ کا مطلب افغانستان میں تاریکیوں کی راج کا دوام، رجیم چینج کا مطلب دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کے لئے سازگار ماحول اور وہاں جمہوریت کی آمد، امریکی سازش کا مطلب عمران خان اینڈ کمپنی کی افغانستان میں منفی دخل اندازی کا خاتمہ اور آخری یوٹرن کا مطلب ان سب قوتوں کی ناکامی اور مایوسی کا اعلان ہے جو افغانستان میں امن کے خلاف کوشاں تھیں، اور جن کے خلاف جنرل باجوہ اپنی ٹیم کے ساتھ چھ مہینے سے چومکھی کی جنگ لڑ کر سرخرو ہوئے ہیں۔

پس منظر میں رہنے والوں کے علاوہ اپنی سیاسی دانش اور مذاکرات کاری کی مہارت سے دوحہ معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے اور طرفین کے درمیان باہمی اعتماد سازی کرنے والے محسن داوڑ کا ذکر ضرور ہونا چاہیے۔ منظور پشتون اور علی وزیر کے ساتھی محسن داوڑ کو بوجوہ وہ میڈیائی توجہ نہ مل سکی جن کے وہ جائز حقدار ہیں۔ جنرل باجوہ کی طرح محسن داوڑ بھی اپنوں کی نظر میں مطعون ٹھہرے لیکن قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین بننے کے ذریعے انہیں جو آسمان مہیا کیا گیا تھا انہوں نے اس کا خوب استعمال کیا۔

اہم ممالک کے سفراء سے ملاقاتیں ہوں، طرفین کے درمیان پیغام رسانی اور مفاہمت کاری ہو یا ملک ملک جاکر مختلف افغان گروہوں کے ساتھ گفت و شنید اور گھنٹوں پر محیط نازک سفارتی معاملات پر بات چیت، غرض یہ کہ افغان امن خوشی خوشحالی اور پختونوں کے روشن مستقبل کے لئے محسن داوڑ نے ہر فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔ جس کا مثبت نتیجہ جلد سب افغان دوست امن پرور جمہوریت پسند اور روشن فکر اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے ہیں۔ یورپ میں باقی افغان مزاحمت کاروں اور گلف میں اشرف غنی سے ملاقاتیں اس سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔

قومی علاقائی اور بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز اور ضامن افغانستان میں امن خوشحالی جمہوریت اور ترقی کی خاطر اپنی تیاریوں کو آخری بار چیک کر رہے ہیں۔ اشرف غنی تعمیر نو کے ادارے کے انچارج کی حیثیت سے واپس افغانستان آئیں گے۔ جہاں سے وہ مختلف ممالک میں موجود افغان ماہرین بیوروکریٹس پروفیسر ڈاکٹرز انویسٹرز معاشرتی اور سیاسی حلقہ اثر رکھنے والوں سے رابطے کر کے انہیں افغانستان کی تعمیر نو میں شریک کریں گے۔ امید ہے طالبان دوسرے افغان گروہوں کے ساتھ ہمہ شمول حکومت میں حصہ بقدر جثہ پائیں گے۔

قطر میں موجود ہزاروں افغان فوجی واپس افغانستان آ کر ڈیوٹی سنبھالیں گے۔ افغانستان میں قانونی حکومت آئے گی تو بین الاقوامی پذیرائی کے ساتھ ساتھ امدادی اور سماجی خدمات ادا کرنے والے عالمی ادارے اس کے ساتھ مدد کے لئے آئیں گے، جس کا جتنا فائدہ افغانستان کو ہو گا اس سے زیادہ پاکستان کو ہو گا، کیونکہ پاکستان کا اقتصاد امن اور خوشحالی افغانستان کے امن اور جمہوریت سے وابستہ ہے۔

پاکستان کی پختون قوم پرست جماعتوں میں محسن داوڑ کی این ڈی ایم کے علاوہ محمود خان اچکزئی اپنی باقی ماندہ پارٹی کے ساتھ افغان امن اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف رہائش پذیر پختونوں کے روشن مستقبل کے لئے مصروف عمل ہیں۔ افغانستان کے یوم استقلال کی فنکشن میں افغان ایمبیسی اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی شرکت اور طالبان حکومت کے لئے خود کو ان کا سفیر بنانے کے اعلان نے ان کی پارٹی کے قریبی اور دیرینہ ساتھی ان سے الگ کر دیے، لیکن افغان امن کی خاطر مذکورہ قربانی دے کر انہوں نے اپنی دانش اور تدبر کا امتحان پاس کر دیا ہے۔

اے این پی ماضی کی طرح اس عمل سے بھی باہر اور بے خبر ہے۔ اس لیے ان کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوا ہے۔ ان کے پاس شاید ایسے معاملات میں بروقت حصہ لینے کی صلاحیت اور دوراندیشی باقی رہ گئی ہے اور نہ وہ اس تاریخی فیصلے میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ مستقل امن اور آنے والی نسلوں کی ترقی اور خوشحالی کی خاطر پرانی دشمنیاں اور مخاصمتیں بھلا کر آگے بڑھنا ضروری ہے، ہم تاریخ اور جغرافیے کی قید میں ہوسکتے ہیں لیکن ماضی کی غلطیوں کو سینے سے لگانا دانشمندی نہیں خواہ وہ غلطیاں ہماری ہوں یا ہمارے مخالفین کی۔ تیونس کے نہضہ پارٹی کے رشید غنوشی کی طرح سب نے سب کو معاف کر کے وطن کی خاطر آگے بڑھنا ہو گا۔

اس سارے آپریشن کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے جنرل باجوہ کے کسی معتمد جرنیل کی اونچی کرسی پر موجودگی ضروری ہے بصورت دیگر انہیں ایک اور ایکسٹینشن دینی ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 106 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments