جب انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی کو جنرل ضیا الحق پر غصہ آیا


اندرا
اندرا گاندھی کہتی تھیں کہ میں کام کرتے ہوئے خود کو عورت نہیں سمجھتی۔

اپنے ایک مضمون ’اندرا گاندھی جینڈر اینڈ فارن پالیسی‘ میں میری سی کاراس نے لکھا، اندرا گاندھی نے اپنے سیاسی طرز عمل میں شاذ و نادر ہی کسی عورت کی نسوانی خصوصیات کو ظاہر کیا۔

وزیر اعظم بننے کے بعد مارچ 1966 میں جب اندرا گاندھی پہلی بار امریکہ گئیں تو اس وقت کے سفیر بی کے نہرو کو امریکی صدر لنڈن جانسن کے دائیں ہاتھ سمجھے جانے والے جیک ویلنٹی کا فون آیا۔

انھوں نے نہرو سے پوچھا، ’کیا آپ نے لائف میگزین کا تازہ شمارہ پڑھا، جس میں کہا گیا ہے کہ اندرا گاندھی کو میڈم پرائم منسٹر کہلانا پسند نہیں۔‘

بی کے نہرو اپنی سوانح عمری ’نائس گائز فنش سیکنڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ صدر نے جیک ویلنٹی کے ذریعے پوچھا کہ جب میں اندرا گاندھی سے ملوں تو مجھے کس طرح ان کو مخاطب کرنا چاہیے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں خود اندرا گاندھی سے پوچھوں گا اور انھیں بتاؤں گا۔

جب میں نے اندرا گاندھی کو بتایا کہ یہ کال کس لیے تھی، تو وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ اگر صدر جانسن چاہیں تو انھیں براہ راست وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں۔ اگر وہ مجھے مسٹر پرائم منسٹر کہتے ہیں تو پھر بھی ٹھیک رہے گا۔

بی کے نہرو لکھتے ہیں وہ یہیں نہیں رکیں، جب میں کمرے سے نکل رہا تھا تو وہ ہنستے ہوئے بولی، انھیں بتاؤ، میرے کابینہ کے ساتھی بھی مجھے سر کہتے ہیں۔

نکسن کی توہین

اندرا

اسی دورے کے دوران صدر جانسن نے اندرا گاندھی کو وائٹ ہاؤس میں ان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں ڈانس فلور پر رقص کرنے کی دعوت دی۔

اندرا گاندھی اپنی طالب علمی کی زندگی میں مغربی طرز کا بال ڈانس کرتی تھیں لیکن انھوں نے جانسن کی یہ درخواست قبول نہیں کی کہ ان کے ہم وطن اپنے وزیر اعظم کا بال روم میں ڈانس کرنا پسند نہیں کریں گے۔

چار سال بعد اندرا گاندھی اقوام متحدہ کی 25ویں کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک گئیں۔ کئی ممالک کے سربراہان وہاں پہنچ چکے تھے۔ انڈین سفارتی ٹیم کو اخبارات سے معلوم ہوا کہ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے تمام سربراہان مملکت کو وائٹ ہاؤس میں عشائیے پر مدعو کیا ہے۔

اندرا

نٹور سنگھ اپنی کتاب ’ہارٹ ٹو ہارٹ‘ میں لکھتے ہیں، اگلے دن امریکہ میں ہمارے سفیر لکشمی کانت جھا نیویارک سے واشنگٹن پہنچے۔

انھوں نے اندرا گاندھی سے پوچھا کہ وہ نکسن کے عشائیے میں شرکت کے لیے کب واشنگٹن پہنچ رہی ہیں؟

اندرا کا جواب تھا، انھیں مدعو نہیں کیا گیا۔ جھا نے انھیں سمجھانا شروع کیا کہ ان کے وہاں نہ جانے سے غلط پیغام جائے گا۔

اندرا گاندھی نے کہا کہ اگر نکسن چاہتے تو وہ امریکی سفیر کے ذریعے ضیافت کا باقاعدہ دعوت نامہ بھیج سکتے تھے۔

اندرا

اندرا گاندھی کا فرانس کے صدر پر اثر

امریکہ جاتے ہوئے اندرا گاندھی فرانس کے صدر چارلس ڈی گال سے بات چیت کے لیے پیرس میں رک گئیں۔

پپل جیاکر اندرا گاندھی کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ لکشمی کانت جھا، جو اندرا گاندھی کے پرنسپل سکریٹری کے طور پر ان کے ساتھ تھے، نے مجھے بتایا کہ ڈی گال سے ملاقات کے دوران، وہ اندرا گاندھی کو جانچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ڈی گال سیاست میں خواتین کی شرکت کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ خواتین کو سیاست کے لیے نہیں بنایا گیا لیکن انھوں نے بعد میں جھا سے کہا کہ آپ کی وزیر اعظم میں کچھ ہے، مجھے یقین ہے وہ کامیاب ہوں گی۔

فرانس کے سابق وزیر ثقافت آندرے مالرو نے ایک بار ڈی گال سے پوچھا تھا کہ اندرا گاندھی کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔

آندرے مالراکس اپنی کتاب ’فالن اوکس، کنورسیشنز ود پریذیڈنٹ ڈی گال‘ میں لکھتے ہیں، ڈی گال نے جواب دیا کہ انڈیا کا وزن اس کے نازک کندھوں پر ہے لیکن اس کے کندھے نہیں جھکے۔

اندرا

ضیا الحق سے ملاقات

1980 میں وزیر اعظم بننے کے بعد اندرا گاندھی زمبابوے کے یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہرارے گئیں۔ پاکستان کے صدر ضیا الحق بھی وہاں موجود تھے۔

انھوں نے اندرا گاندھی کو پیغام بھیجا کہ کیا وہ ان سے ملنے آ سکتے ہیں۔

نٹور سنگھ اپنی کتاب ‘Walking with Lions, Tales from a Diplomatic past’ میں لکھتے ہیں کہ ضیا نے کہا کہ وہ اندرا گاندھی سے ملنے آئیں گے۔

یہ ایک سادہ سی ملاقات تھی۔ ضیا اندرا گاندھی سے دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا میڈم وزیر اعظم، پریس میں میرے بارے میں جو کچھ بھی لکھا جا رہا ہے، اس پر بھروسہ مت کریں۔

اس پر اندرا گاندھی نے طنزیہ کہا کہ بالکل نہیں جناب صدر، پریس والے کچھ نہیں جانتے۔ اس لیے وہ آپ کو ڈیموکریٹ اور مجھے ڈکٹیٹر کہہ رہے ہیں۔

ضیا کو اندرا کا یہ تبصرہ پسند نہیں آیا۔ ضیا بار بار کہتے رہے کہ جب مرار جی دیسائی وزیر اعظم تھے تو ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

اس پر اندرا نے کہا کہ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ ڈیسائی اب انڈیا کے وزیر اعظم نہیں۔

جاتے وقت جنرل ضیا نے اندرا گاندھی کو پاکستان پر ایک کافی ٹیبل بک پیش کی۔ جب وہ وہاں سے نکلے تو اندرا نے اس کتاب کو دیکھا۔

ان کو یہ دیکھ کر غصہ چڑھ گیا کہ پورا کشمیر پاکستان کے حصے کے طور پر دکھایا گیا۔ انھوں نے مجھے فوراً یہ کتاب پاکستان کی وزارت خارجہ کو واپس کرنے کا حکم دیا۔

اندرا

اندرا گاندھی کا غصہ

نہرو کا غصہ پوری دنیا میں مشہور تھا لیکن وہ تھوڑی دیر میں پرسکون ہو کر سب کچھ بھول جاتے تھے۔ اندرا گاندھی کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا۔

وہ ایسے لوگوں سے رنجش رکھتی تھیں جنھیں وہ زندگی بھر بھی پسند نہیں کرتی تھی۔

مشہور مصنف ڈوم موریس نے ایک سوانح عمری لکھی تھی جو انھیں پسند نہیں آئی۔

مشہور پبلشر اشوک چوپڑا نے مجھے ایک واقعہ سنایا کہ جب ڈوم موریس انھیں اپنی کتاب پیش کرنے ان کے گھر پہنچے تو انھیں ایک کونے میں انتظار کرنے کو کہا گیا۔

وزیراعظم سے ان کی ملاقات کا وقت گزر رہا تھا جب اچانک آر کے دھون نے انھیں مشورہ دیا کہ وزیر اعظم اپنے دفتر کے لیے روانہ ہونے والی ہیں۔

’بہتر ہو گا کہ آپ ان سے اس وقت ملیں جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی ہوں۔‘ جیسے ہی ڈوم نے اندرا گاندھی کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے سلام کیا، انھوں نے بہت دھیمے سے کہا، ’کہو۔‘

ڈوم نے کہا میڈم میں یہ کتاب آپ کو پیش کرنے آیا ہوں۔ اندرا نے منہ بناتے ہوئے کہا ’اس قسم کی کتاب میں نہیں پڑھتی۔ تم اسے واپس لے جاؤ۔‘

اندرا

یہ بھی پڑھیے

جب اندرا گاندھی کو خون کی 80 بوتلیں لگیں

اندرا گاندھی: انڈیا کی ’سب سے طاقتور وزیرِ اعظم‘ کو اُن کی کن غلطیوں نے کمزور کیا؟

جب فیدل کاسترو نے اندرا گاندھی کو گلے لگا لیا

مذہب کی طرف رجوع

اپنے پہلے دور اقتدار میں انھوں نے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے دیانت داری کا حلف اٹھایا لیکن جب وہ دوسری بار اقتدار میں آئیں تو وہ مذہبی ہو چکی تھیں۔ اس بار انھوں نے خدا کے نام پر وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔

1977 میں اپنی شکست کے بعد انھوں نے بنارس کے کاشی وشوناتھ مندر اور سنکٹموچن مندر میں پوجا کی۔

ساگاریکا گھوش اندرا گاندھی کی سوانح عمری ’انڈیا کی سب سے طاقتور وزیر اعظم‘ میں لکھتی ہیں، اس دوران انھوں نے ویشنو دیوی کے درشن کیے اور ہیلی پیڈ سے وہاں تک کا 2 کلومیٹر کا راستہ پیدل طے کیا۔ امباجی مندر میں وہ ایک منٹ تک کھڑی رہیں۔ سجدہ کیا اور دعا کی۔

سنجے کی موت کے بعد، انھوں نے مذہبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ ان کے گھر میں تمام دیوتاؤں کی مورتیاں تھیں۔

اندرا کے ایک اور سوانح نگار کمکم چڈھا اپنی کتاب ’دی میریگولڈ سٹوری‘ میں لکھتی ہیں، ایک بار نوراتری کے موقع پر کملا پتی ترپاٹھی نے ان سے لڑکیوں کے پاؤں دھونے اور ان کا پانی پینے کو کہا۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا اس کی وجہ سے وہ بیمار نہیں ہو جائیں گی؟ لیکن شروع میں ہچکچاہٹ کے بعد اندرا گاندھی، جنھوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی، نے اس رسم کو بھی پورا کیا۔

اندرا

مشرق اور مغرب کا امتزاج

اندرا کو زیورات کا شوق نہیں تھا۔ وہ اپنے ہاتھ میں مردوں کی گھڑی ضرور پہنتی تھیں اور وہ بھی سرکاری کمپنی HMT یعنی انڈیا مشین ٹولز کی بنائی ہوئی گھڑی۔

ان کو پیلے، نارنجی، سرخ اور سبز رنگوں سے لگاؤ تھا۔ ان کی ہینڈلوم ساڑھیوں کی کلیکشن کافی زبردست تھی۔

ساگاریکا گھوش لکھتی ہیں، ان کی شخصیت مشرق اور مغرب کا عمدہ امتزاج تھی۔
ان کی ہندوستانیت ان کے کپڑوں سے جھلکتی تھی۔ جب مارچ 1982 میں لندن میں فیسٹیول آف انڈیا کا انعقاد کیا گیا اور شروع میں قومی ترانہ بجایا گیا تو ان کے دوست پپل جایکر نے نوٹ کیا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

اندرا کی شخصیت

اندرا

وہ ہمیشہ اپنے سیاسی حریف مرارجی ڈیسائی کو ’مرار جی بھائی‘ اور جگجیون رام کو ہمیشہ ’بابوجی‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔

اپنی کتاب ’پی ایم او ڈائری‘ میں بی این ٹنڈن نے، جو ان کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری تھے، ان کے کام کرنے کے انداز پر بہت تنقید کی لیکن وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جب وہ بیمار ہوئے تو اندرا نے اپنے ذاتی ڈاکٹر کو ان کے علاج کے لیے بھیجا۔

وہ جب بھی غیر ملکی دورے پر جاتیں، وہ اپنے ساتھی کارکن آر کے دھون کے لیے سگریٹ لانا نہیں بھولتی تھیں۔

وہ روزانہ صبح 6 بجے اٹھتی تھیں اور یوگا کے بعد سردیوں میں بھی ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد 8 بجے تک تیار ہو جاتی تھیں۔

1977 میں الیکشن ہارنے کے بعد اندرا کی واپسی کا راستہ اعظم گڑھ کے ضمنی انتخاب نے طے کیا تھا۔ اس الیکشن میں انھوں نے محسنہ قدوائی کو کانگریس کا امیدوار بنایا تھا۔
اندرا گاندھی نے پورے پانچ دن انتخابی مہم چلائی۔

محسنہ قدوائی حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت ’مائی لائف ان انڈین پالیٹکس‘ میں لکھتی ہیں، میں نے اندرا جی کے اعظم گڑھ پہنچنے سے ایک ہفتہ قبل ایک ریسٹ ہاؤس میں اپنے نام سے ایک کمرہ بک کروایا تھا۔

’مئی کے مہینے کی ایک سخت دوپہر کو جب ہم ریسٹ ہاؤس پہنچے تو وہاں موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ کوئی کمرہ خالی نہیں۔‘

’جب میں نے گارڈ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے یہ کمرہ کس کے لیے بک کرایا ہے؟‘

اس نے پوچھا کس کے لیے؟ جب میں نے بتایا کہ یہ کمرہ اندرا جی کا ہے تو ان کو جیسے کرنٹ لگ گیا۔ اس نے بھاگ کر ریسٹ ہاؤس کے سارے کمرے کھول دیے۔

اسی وقت جب جارج فرنانڈس ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، اندرا گاندھی کی گاڑی وہاں سے گزری۔ تمام لوگوں نے فرنانڈس کی میٹنگ چھوڑ کر اندرا گاندھی کو گھیر لیا۔

’اس دوران میں نے دیکھا کہ اندرا گاندھی کس طرح مشکل حالات میں خود کو ڈھال سکتی ہیں۔‘

ایک جگہ انھوں نے گاڑی روکی اور خود ہینڈ پمپ سے پانی نکال کر ہاتھ دھوئے اور اپنی ساڑھی کے کنارے سے پونچھے۔

1977 میں الیکشن ہارنے کے بعد وہ ہر اس مقام پر پہنچیں جہاں انھیں لگا کہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

برطانوی صحافی بروس چیٹون نے اپنے ایک مضمون ’آن دی روڈ ود مسز جی‘ میں لکھا، جسمانی طور پر وہ انڈیا کے کسی بھی سیاستدان سے زیادہ مضبوط ہیں۔

انھیں اپنی صحت پر فخر تھا۔ 60 سال کی عمر میں بھی وہ انڈیا کے کسی بھی سیاستدان سے زیادہ چست تھی۔

جنوبی انڈیا کے انتخابی دورے کے دوران، انتخابی مہم کے دوران جب اندھیرا چھا جاتا تھا تو وہ گاڑی میں ٹارچ جلاتی تھیں تاکہ اس کی روشنی ان کے چہرے پر پڑے اور لوگ اندھیرے میں بھی انھیں دیکھ سکیں۔

اندرا

اندرا گاندھی کو کیا کھانا پسند تھا؟

اندرا گاندھی بہت کم کھانا کھاتی تھیں۔ اوشا بھگت، جو ان کی سکریٹری تھیں، اپنی کتاب ’تھرو مائی آئیز اندرا جی‘ میں لکھتی ہیں، صبح میں وہ دودھ والی کافی، شہد اور پھل کے ساتھ ٹوسٹ کھاتی تھیں۔ ان کا دوپہر کا کھانا سادہ تھا لیکن وہ جہاں تک جتنا ممکن ہو، وہ اسے اپنے گھر والوں کے ساتھ کھاتی تھی۔

رات کے کھانے میں مچھلی، انڈے یا ابلی ہوئی سبزیاں ہوتی تھیں۔ وہ رات کا کھانا اپنے کمرے میں لیتی تھیں۔

اوشا بھگت لکھتی ہیں وہ کھانے کے بعد میٹھا کھانا پسند نہیں کرتی تھیں اور اپنے وزن کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ کبھی کبھی چاندنی چوک سے کانگریسی لیڈر ان کے لیے کچوریاں لایا کرتے تھے۔

’وہ انھیں کھا تو لیتی تھی لیکن پھر ہم سے شکایت کرتی تھیں کہ ہم نے زیادہ کھانے سے کیوں نہیں روکا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26814 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments