پولینڈ اور جرمنی کے مابین حالیہ مالی اور سرحدی اختلاف


پولینڈ کا تاریخی پس منظر

پولینڈ کسی وقت یورپ کی ایک بڑی اور طاقتور سلطنت تھا جس نے 1610ء میں دو سال تک ماسکو پر قبضہ کیے رکھا بلکہ پولینڈ کے ایک شہزادے کو روس کا زار بھی بنا دیا! 1683ء میں جب عثمانی ترکوں نے ویانا کا محاصرہ کیا تو پولینڈ ہی کی بھیجی فوجی کمک نے جنگ کا پانسہ پلٹا اور ترکوں کو شکست ہوئی جس کے بعد ان کی مغربی یورپ کی جانب پیش قدمی رک گئی۔

تاہم گزشتہ تین سو سال سے پولینڈ زوال پذیر رہا ہے۔ حالت ایں جا رسید کہ 1795ء میں پولینڈ کو روس، پروشیا اور آسٹریا نے آپس میں تقسیم کر لیا اور پولینڈ دنیا کے نقشہ سے ہی غائب ہو گیا۔ چنانچہ سو سال سے زائد عرصہ تک پولینڈ نام کا کوئی ملک دنیا میں نہیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب یورپی طاقتوں نے نیا نظام قائم کیا تو پولینڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ مگر 21 سال بعد ہی جرمنی اور روس نے پولینڈ کو ایک مرتبہ پھر آپس میں تقسیم کر لیا اور یوں پولینڈ دوبارہ نقشہ عالم سے غائب ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پھر نیا یورپی نقشہ تشکیل دیا گیا اور یوں موجودہ پولینڈ کا قیام عمل میں آیا۔

تاریخ تو فاتحین لکھتے ہی ہیں جغرافیہ بھی فاتحین ہی لکھتے ہیں۔ موجودہ پولینڈ بناتے وقت سویت یونین نے پولینڈ کے مشرقی حصے غصب کر لئے اور اس کے بدلہ میں جرمنی کے کچھ حصے پولینڈ کو دے دیے! یوں بیک جنبش قلم پولینڈ کا جغرافیہ مغرب کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں جرمن آبادی والے علاقوں، جو پولینڈ کو دیے گئے، میں آباد جرمنوں کو نئے جرمنی کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ بے شمار انسانی المیوں نے جنم لیا اور لاکھوں ہلاک ہوئے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد پولینڈ کے مشرقی علاقے (سرمئی) سویت یونین کو اور مغربی علاقے (گلابی) جرمنی سے کاٹ کر پولینڈ کو دے دیے گئے

ملکوں کی یوں مصنوعی تقسیم اور آبادیوں کے تبادلے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ سب جانتے ہیں کہ طاقت کے زور پر کی گئی تبدیلیاں طاقت کے زور پر واپس بھی کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ یہ خطرہ یورپ کے سر پر منڈلاتا رہے گا کہ جرمنی اپنے مقبوضہ علاقوں پر حق نہ جتلائے۔ دوسری جنگ عظیم کے تقریباً 45 سال بعد جب 1989ء میں دیوار برلن ٹوٹی اور جرمنی کے متحد ہونے کا وقت آیا تو مختلف حلقوں میں یہ خدشات شدت سے سر اٹھانے لگے۔

اس ضمن میں ایک قانونی مسئلہ یہ تھا کہ پولینڈ کو جو علاقے دیے گئے تھے وہ مشرقی جرمنی سے ملحق تھے۔ مشرقی جرمنی نے تو پولینڈ کے ساتھ اپنی سرحد کو تسلیم کر لیا تھا لیکن اتحاد کے بعد مشرقی جرمنی نے ختم ہو جانا تھا اور نیا متحدہ جرمنی کہہ سکتا تھا کہ ہم نے یہ سرحد کبھی تسلیم نہیں کی۔ جرمن اکابرین کو احساس تھا کہ اگر اس وقت تمام فریقوں کو مطمئن نہ کیا گیا تو جرمنی کبھی متحد نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ اتحاد کے معاہدے میں یہ بات شامل کی گئی کہ جرمنی جنگ عظیم کے بعد پولینڈ اور روس میں شامل کیے گئے علاقوں پر کوئی دعویٰ نہیں کرے گا اور بالخصوص پولینڈ کے ساتھ دریائے اوڈر اور دریائے نائیسے والی موجودہ سرحد تسلیم کرے گا۔

تاریخ کا سبق مگر یہ بھی ہے کہ پانی ہمیشہ بکری کی طرف سے شیر کی طرف بہتا ہے خواہ بکری نیچے ہی کیوں نہ ہو! بین الاقوامی قانون، اخلاقیات، مذہب وغیرہ اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ہر بات کی توجیہہ اور ہر خواہش کے لئے مناسب حال فتویٰ گھڑ لیا جاتا ہے۔ راقم نے مضمون ”تقدیر امم“ (الفضل انٹرنیشنل، 6 اپریل 2021 ء) میں عرض کیا تھا کہ مشرقی یورپی ممالک اب تحفظ کے لئے امریکہ اور برطانیہ کی جانب جھکیں گے۔ نیز یہ کہ بالآخر یورپی یونین ٹوٹ جائے گی۔ گو اس وقت اس بات کی کوئی ٹھوس ظاہری وجہ نظر نہیں آ رہی تھی بلکہ یہ ممالک جرمنی کی مالی امداد کی وجہ سے اس پر منحصر تھے چنانچہ یہ بات ان ممالک کے جغرافیہ، تاریخ اور نفسیات کو مدنظر رکھ کر کہی گئی تھی لیکن حال ہی میں پولینڈ نے ایک نیا سوال اٹھا کر اس بات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

حالیہ اختلاف

وہ سوال یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے پولینڈ پر جو قبضہ کیا تھا اور وہاں جو تباہی ہوئی تھی، اس کا تاوان ادا کیا جائے۔ جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مختلف ممالک کو اس سلسلہ میں ارب ہا ارب یورو کے برابر تاوان ادا کر چکا ہے۔ جرمن نکتہ نظر کے مطابق پولینڈ کا اب کوئی مطالبہ باقی نہیں رہا۔ مگر پولینڈ اور یونان وغیرہ کا خیال مختلف ہے۔ چنانچہ پولینڈ کی موجودہ حکومتی پارٹی PiS نے اس سوال پر ایک پارلیمانی کمیشن بنایا جس نے یکم ستمبر 2022 کو رپورٹ پیش کی ہے کہ جرمنی کے ذمہ تاوان ایک ہزار تین سو ارب ڈالر بنتا ہے!

پولینڈ کے وزیر خارجہ نے تین اکتوبر کو جرمن حکومت کو ایک مراسلہ لکھا ہے کہ جنگ میں پولینڈ کے نقصانات کا مسئلہ طے کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ اس مطالبہ کے جواب میں بعض جرمن مبصرین نے کہا ہے کہ جرمنی کے جو علاقے جنگ کے بعد بزور طاقت پولینڈ میں شامل کیے گئے تھے وہ تاوان جنگ سمجھنے چاہیں۔ اس بات کو بنیاد بنا کر آئندہ ان علاقوں کے متعلق ایک نئی بحث کا دروازہ کھل سکتا ہے اور یہ بات پولینڈ کے لئے کسی صورت مفید نہیں ہو گی۔

پولینڈ کے اس مطالبہ کی اس کے سوا کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ دنیا میں کچھ عرصہ سے پاپولزم کی جو لہر چل رہی ہے جس میں غیر حقیقی اور جاہلانہ مگر عوام کے ایک خاص طبقہ، خصوصاً نوجوانوں، میں دبنگ سمجھے جانے والے ہردلعزیز مطالبات کرنے کا فیشن چل رہا ہے، اس کی رو میں بہہ کر ایسا کیا گیا ہے۔ پولینڈ میں آئندہ برس انتخابات ہیں جن کے پیش نظر یہ بات مقبولیت حاصل کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔

نتیجہ

ظاہر ہے کہ اتنی بڑی رقم کا مطالبہ غیر حقیقی ہے۔ موجودہ عالمی معاشی حالات میں اس کا پورا کرنا ناممکن ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ سلسلہ چل نکلے تو کچھ عرصہ قبل یونان نے بھی جرمنی سے تاوان کا مطالبہ کیا تھا، اس کے بعد دیگر یورپی ممالک بلکہ لیبیا و مصر بھی تاوان کا مطالبہ کر سکتے ہیں کیونکہ دوسری جنگ عظیم میں وہاں بھی جرمن افواج نے جنگ لڑی تھی اور ان کا بھی نقصان ہوا تھا۔ پس یہ ایک ناقابل عمل تجویز ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پولینڈ نے اس بحث میں اسرائیل کو بھی شامل کر لیا ہے کیونکہ پولش مقتولین کا قریباً نصف یہودی تھے۔ یوں یہ معاملہ مزید گمبھیر ہو جائے گا۔

جس بات کو یہ سیاستدان نہیں سمجھ رہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سمجھتے تو خوب ہیں لیکن ان کو اس کی پرواہ نہیں، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی حرکتیں وقتی طور پر کسی سیاستدان کو دبنگ، آزاد، محب وطن اور قومی تاریخ اور حمیت کا علم بردار ظاہر کر کے انتخابات میں تو فائدہ پہنچا سکتی ہیں لیکن درحقیقت قوم کے لئے شدید نقصان دہ اور بالآخر تباہ کن ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات پر بات چیت حکومتی و سفارتی سطح پر کرنی چاہیے اور بحث کو عوام میں لا کر جذبات ابھار کر قوموں میں تقسیم اور نفرت کے بیج نہیں بونے چاہئیں۔

نوٹ: یہ مضامین مصنف کے ذاتی خیالات کے عکاس ہیں۔ کسی شخص، ادارہ یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ان مضامین کے متعلق اپنی رائے dawoodmajoka@googlemail.com پر براہ راست مصنف کو بھیج کر شکریہ کا موقع دیں۔

 

Facebook Comments HS