اقتدار کی کشمکش یا اصول حکمرانی کا اختلاف


تحریک انصاف کے تمام تر دباؤ اور قیاس آرائیوں سے آلودہ ہوتے ماحول کے باوجود حکومت نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کسی جلدی میں دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ہی روز پہلے عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اپنے تئیں موجودہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جا سکے اور آج وزیر دفاع نے نہایت اطمینان سے بتایا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا عمل شروع ہو چکا ہے، اب مشاورت ہوگی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر 25 نومبر تک نئے آرمی چیف کا اعلان کر دیا جائے گا۔

گویا حکومت نے اس حوالے سے اپنی پوزیشن میں ایک انچ تبدیلی کرنے کا اشارہ نہیں دیا۔ اگر آرمی چیف کی تقرری جیسے معمول کے معاملہ میں حکومت کی سخت گیری کا یہ عالم ہے تو عمران خان جس فوری انتخابات کی امید و تلاش میں اب فیض آباد میں دھرنے کے اشارے دے رہے ہیں، ان کے اعلان کا کوئی امکان بھی دکھائی نہیں دیتا۔ تحریک انصاف بطور اپوزیشن یہ واضح کرچکی ہے کہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مسائل کے باوجود وہ اپنی سیاسی حکمت عملی اور پوزیشن میں کوئی تبدیلی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ حالانکہ اگر سال بھر بعد ممکنہ انتخابات کے بعد واقعی تحریک انصاف کو اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو موجودہ معاشی بے اعتدالی و خرابی کا ملبہ اسے ہی صاف کرنا پڑے گا۔ نئی سرمایہ کاری لانا، قرضوں کی ادائیگی مؤخر کروانے کی کوشش کرنا اور نئے قرض لینے کا اہتمام کرنے کے علاوہ یہ یقینی بنانا کہ ورلڈ بنک کی پیش گوئیوں کے باوجود پاکستانی کی قومی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہو سکے تاکہ وہ غیر معمولی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے۔

فی الوقت تحریک انصاف اور عمران خان کو یہ پریشانی لاحق نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد سے بھی بڑی لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ جنگ جیت لی گئی تو باقی معاملات طے ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ اسے عمران خان اور تحریک انصاف کے قائدین کی خام خیالی ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن جو طبل جنگ بجایا جا رہا ہے، اس میں یہ معرکہ کسی بڑے تصادم کے بغیر ختم ہونے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں خیال تھا کہ حکومت وقت ہی ہوش کے ناخن لے گی اور کم از کم آرمی چیف کی تقرری پر کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملہ کو بروقت کسی بڑے تضاد کے بغیر حل کر لیا جائے گا۔ ایک دو ماہ پہلے ہی جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ لینے والے نئے آرمی چیف کا اعلان کر کے یہ مشکل حل کی جا سکتی تھی۔ یا کم از کم اس اصول کو تسلیم کیا جاسکتا تھا کہ وزیر اعظم اپنا آئینی اختیار ضرور استعمال کریں گے لیکن اس اہم تقرری کے بارے میں ایک مثبت روایت کا آغاز کیا جائے جس سے فوج کے سربراہ کا تعین سنیارٹی کے مطابق ہو گا۔ یوں یہ قضیہ صرف اس ایک بار کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے خوش اسلوبی سے نمٹایا جاسکتا تھا۔ لیکن حکومت نے ایسی وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

اس دوران افسوسناک طور سے البتہ اس بحث کا آغاز ضرور ہو گیا کہ کیا صدر عارف علوی وزیر اعظم کی طرف سے نئے آرمی چیف کی تقرری کی سفارش آنے کے بعد اس کا نوٹی فکیشن جاری کرنے میں تاخیری ہتھکنڈے استعمال کر سکتے ہیں۔ فواد چوہدری کی قیادت میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے گزشتہ چند روز کے دوران ایسے اشارے دیے ہیں۔ ایک طرف عمران خان اس تقرری کے حوالے سے اپنی پہلی پوزیشن تبدیل کر کے یہ کہنے پر مجبور ہو چکے تھے کہ جسے چاہے آرمی چیف بنا دیا جائے، تحریک انصاف کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو دوسری طرف یہ تاثر قوی کیا جا رہا تھا کہ ٹھیک ہے تقرری کا اختیار ضرور وزیر اعظم کے پاس ہے لیکن اس کا حکم تو صدر نے ہی جاری کرنا ہے جو اپنا ’اختیار‘ عمران خان کی مرضی کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے۔ تو کیا ماضی کے چند معاملات کی طرح صدر عارف علوی نئے آرمی چیف کی تقرری کا حکم نامہ مؤخر کر سکتے ہیں؟

یہ اندیشہ بہر حال حکومتی حلقوں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر مملکت سے دو بار ملاقات کی ہے اور خبروں کے مطابق یقین دہانی حاصل کی ہے کہ جوں ہی وزیر اعظم سمری بھیجیں، صدر اس پر نوٹی فکیشن جاری کر دیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس ’تعاون‘ کے بدلے میں حکومت کی طرف سے صدر یا ان کی پارٹی کو کیا رعایت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے چئیر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو یہ انتباہ دینا پڑا ہے کہ اس معاملہ میں اگر صدر نے غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ البتہ بلال نے یہ وضاحت نہیں کی کہ نہایت قلیل اکثریت کی بنیاد پر کھڑی حکومت آخر ملک کے آئینی صدر کی ہچکچاہٹ کے خلاف کیا اقدام کر سکتی ہے۔ اتحادی حکومت کے پاس عارف علوی کا مواخذہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں مناسب ارکان نہیں ہیں۔ اس ایک ہتھکنڈے کے سوا کسی صدر کو ’راہ راست‘ پر رکھنے کے لئے کوئی دوسرا طریقہ آئین میں موجود نہیں ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا انتباہ پیش بندی کے طور پر سامنے آیا ہو تاکہ سب خبردار رہیں اور تقرری کے حوالے سے کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہ ہو۔ البتہ اس مشکل سے بچنے کا آسان طریقہ حکومت نے خود ہی اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ اب بھی یہ امکان موجود ہے کہ ماضی کے تجربات سے یہ سبق سیکھ لیا گیا ہو کہ کسی کو بھی آرمی چیف بنایا جائے، وہ اپنی صوابدید اور ادارے کے مفاد کے مطابق ہی لائحہ عمل اختیار کرے گا۔ اور کسی سیاسی پارٹی کی محض اس لئے حمایت نہیں کرے گا کہ اس کی طرف سے اسے اس اہم عہدے پر متعین کیا گیا تھا۔ ورنہ دیکھا جائے تو نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کی خواہش کے مطابق انہیں توسیع دینے کی بجائے کہیں جونئیر پوزیشن پر موجود جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنایا لیکن انہی کی نگرانی میں نواز شریف کو معزول کیا گیا اور جیل میں بند بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ابھی تک جلاوطنی پر مجبور ہیں۔ پھر انہی جنرل قمر جاوید باجوہ کو خوش رکھنے کے لئے تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے حکم پر خصوصی قانون سازی کے ذریعے انہیں توسیع دینے کا اہتمام کیا لیکن بالآخر اپریل میں عمران خان کو وزیر اعظم ہاؤس چھوڑنا پڑا۔ اب عمران خان کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ فوج نے اگر سازش نہیں کی تو اس ’بدعنوان‘ ٹولے کو حکومت میں آنے کی اجازت کیوں دی؟

ان تجربوں کو سبق آموز سمجھا جائے تو شہباز شریف صرف سینئر ترین جنرل کو ہی نیا آرمی چیف لگائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایسا ہی کریں لیکن وہ بہر حال اس کا اعلان جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے چند روز پہلے تک مؤخر کر رہے ہیں۔ اس میں سوائے اس کے کوئی حکمت پوشیدہ نہیں ہے کہ وہ سیاسی طور سے عمران خان کو زچ کرنا چاہتے ہیں۔ اس طریقے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے پھیلایا جانے والا یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے دباؤ میں ہے اور بدحواس ہے۔ حکومت کے طریقہ کار سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ نئے آرمی چیف کے بارے میں بروقت واضح پوزیشن لینے کے معاملہ میں حکومت نے البتہ جس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے فوج کی شہرت و وقار کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکومت اس معاملہ پر غیر ضروری مباحث کی روک تھام کی پوزیشن میں تھی لیکن ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی لئے عمران خان کو مسلسل یہ پیغام دینے اور اپنے حامیوں کو یقین دلانے کا موقع ملا ہے کہ شہباز حکومت کوئی ایسا آرمی چیف لانے کی کوشش کر رہی ہے جو ان کی ’چوری اور بدعنوانی‘ کی حفاظت کرسکے۔ اندیشہ ہے کہ نئے آرمی چیف کا اعلان ہونے کے بعد اگر عمران خان نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے ضروری سمجھا تو وہ اپنے ان دعوؤں کا حوالہ دے کر ایک نیا قضیہ کھڑا کریں۔

البتہ اس معاملہ پر عمران خان کی جارحیت اور حکومت کی غیر معمولی مزاحمت ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ اپریل میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد سے ایک طرف فوجی قیادت نے یہ اصرار کیا ہے کہ فوج اب ’غیر سیاسی‘ ہو چکی ہے اور ملکی سیاسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرے گی لیکن عمران خان نے مختلف ہتھکنڈوں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ فوج غیر سیاسی یا غیر جانبدار نہیں ہو سکتی، اسے بہر صورت اس پارٹی کا ساتھ دینا چاہیے جو حق پر ہے۔ اس موقف کو اگر اس کی فیس ویلیو پر لیا جائے تو اسے عمران خان کی ہوس اقتدار سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ فوج کو اپنی طرف لانے کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جبکہ حکومت کی طرف سے اس دباؤ کی مزاحمت کی گئی ہے۔ البتہ اسے محض حصول اقتدار کی جنگ سمجھنے کی بجائے اصول حکمرانی کی لڑائی کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یعنی عمران خان فوج میں اپنے بعض حامیوں کی تائید سے ملکی سیاست میں یہ اصول تسلیم کروانا چاہتے کہ ملک کے وسیع تر مفاد اور درست یا غلط کا تعین کرنے کا اختیار بہر صورت فوج کے سربراہ کو ہونا چاہیے۔ اگرچہ وہ موجودہ صورت حال میں خود کو راستی کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہوئے، اس اصولی بحث کو کبھی جہاد اور کبھی حقیقی آزادی کا نام دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ویسے تو حکمران پارٹیوں میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو فوج کی سرپرستی کو اقتدار کے حصول کا موثر، آسان اور قابل عمل طریقہ سمجھتے ہوئے بہر صورت فوجی قیادت کو راضی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے خود سیاسی مدارج طے کرنے میں مدد چاہتے ہیں۔ اس گروہ کے سربراہ تو خود وزیر اعظم شہباز شریف رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملکی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل بانٹ کر حکومت کرنے کے اصول کی وکالت کی ہے۔ تاہم اس وقت برسر اقتدار متعدد پارٹیوں اور خود مسلم لیگ (ن) میں ایسے عناصر بھی موثر طور سے اپنی بات آگے لا رہے ہیں جو فوج کو اس کے آئینی کردار تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔

اس پس منظر میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ نیا آرمی چیف کمان سنبھالنے کے بعد ملکی سیاست کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ کیا فوج کی موجودہ پالیسی کو مستحکم کیا جائے گا تاکہ فوج آہستہ آہستہ مکمل طور سے غیر سیاسی ہو جائے۔ یا عمران خان کے اصول سیاست کو مانا جائے گا کہ ملک پر حکمرانی کا حقیقی اختیار عوام کی بجائے فوجی قیادت کو حاصل رہے۔ تاکہ عوام کے ووٹ فیصلہ کن نہ ہوں بلکہ اسی لیڈر یا پارٹی کو عہدہ حاصل ہو جسے فوج دیانت و امانت کے خود ساختہ معیار پر فائز کرنے کا فیصلہ کرے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2332 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments