سویلین سپرمیسی کا خواب


نئے الیکشن کا مطالبہ معقولیت اور جمہوری روایات کے عین مطابق ہے۔ گزشتہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی اگرچہ بظاہر آئین و قانون کے مطابق ہوئی لیکن اس عمل کو ملک کے عوام کی ایک نمایاں تعداد پوری طرح شفاف اور مناسب نہیں سمجھتی۔ اگرچہ میرے اور اپ کے اسے نامناسب سمجھنے سے عمل غیر آئینی نہیں ہوتا، تاہم عدم اعتماد کے آئینی طور پر درست ہونے کے باوجود مناسب یہ ہوتا کہ جلد از جلد عام انتخابات کرائے جاتے۔ انتخابات کے نتیجے میں ایک مضبوط مینڈیٹ والی حکومت آتی تو اس سے توقع ہوتی کہ وہ سول سپریمیسی کی جانب پیش رفت کرے گی۔ موجودہ حکومت جیسا ٹکڑے جوڑ کر بنایا ہوا سٹرکچر اپنے آپ کو سہارا دینے سے آگے کی سوچ ہی نہیں سکتی، سول سپرمیسی تو دور کی بات ہے۔

اس وقت پی ٹی آئی کو چاہیے تھا کہ اپنی پوری قوت فوری الیکشن کا مطالبہ منوانے پر صرف کرتی۔ امید تو یہ تھی کہ نو اور دس اپریل کی درمیانی رات کو پی ٹی آئی کے کارکن باہر نکل کر ایسی صورت حال پیدا کرتے کہ الیکشن کے اعلان کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ اس رات یا اگلے دن کچھ نہ ہوا۔ پھر پچیس مئی کو ایک موقع تھا۔ تب بھی پر اسرار طور پر دھرنا جلسے میں تبدیل ہو کر ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ادھر ادھر جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کا بظاہر کوئی مقصد نظر نہیں آتا تھا۔

آخر میں لانگ مارچ کا اعلان ہوا۔ اعلانات سے لگتا تھا کہ پورا پاکستان لاہور میں جمع ہو کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے گا تو ایک دو دن میں الیکشن کا اعلان ہو جائے گا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ مارچ میں نہ تو پورے پاکستان سے لوگوں کو بلایا گیا اور نہ اس نے رفتار پکڑی۔ بلکہ وقت کے ساتھ اس کی رفتار کم ہوتی گئی۔ جب فائرنگ کا واقعہ ہوا تو ایک بار پھر امکانات نظر آئے سارا پاکستان امڈ آئے گا، لیکن ایسا بھی نہ ہونے دیا گیا، بلکہ مارچ کو ملتوی ہی کر دیا گیا۔

اب جو مارچ بحال ہوا بھی تو ایسا کہ بس کیا کہیے۔ قریشی کا کنٹینر اکیلا مارچ کرتا ہے اور شہر شہر جلسے ہوتے ہیں۔ مارچ کے انجام کار کا اعلان تو ہوا ہے لیکن وہ بھی واضح نہیں۔ کہا گیا کہ 26 تاریخ کو راولپنڈی پر ہلہ بول دیا جائے گا، پھر کہا گیا کہ اسلام آباد میں جلسہ ہو گا۔ یعنی یہ سارا التوا صرف نومبر کے آخری ہفتے کے لیے تھا۔ اور اب کوئی یہ شک کرے کہ اس سارے ہنگامے کے پیچھے وہی ہے جس کے بارے میں شک تھا کہ اس نے عمران کی حکومت گرائی تھی۔

بقول شاعر: اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کی بھاری کامیابی اور عمران کی وزارت عظمیٰ تقریباً یقینی ہے۔ اس کے باوجود الیکشن سے زیادہ ان کا فوکس ایک تعیناتی پر ہے۔ اتنی قربانی کے بعد جس کی تعیناتی ہوگی تو پھر اس کے مقابلے میں وزیر اعظم کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ چاہے وہ ملک چھوڑ، ساری دنیا کی حمایت لے کر بھی آ جائے۔

سول سپریمیسی کے خواب کی تعبیر اب پہلے سے بھی ناممکن نظر آتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ممتاز حسین، چترال

ممتاز حسین پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور زبانوں پر لکھتے ہیں ۔ پاکستان کے شمالی خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبانوں پر ایک ویب سائٹ کا اہتمام کیے ہوئے ہے جس کا نام makraka.com ہے۔

mumtaz-hussain has 11 posts and counting.See all posts by mumtaz-hussain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments