نگلیریا فاؤلیری


ایک جوان سالہ لڑکے کی موت کی خبر سن کر بہت اذیت ہوئی اور اس سے بھی زیادہ سنسنی خیز تھی اس کی موت کی وجہ یہ بات حقیقت ہے کہ جب خدا نے اپنے پاس کسی کو بلانا ہوتا ہے تو ایسے وسیلہ بنا دیتا ہیں کہ لوگ بس یہی کہتے رہ جاتے ہیں کہ بس اس کا وقت قریب تھا۔ ایسا ہی کراچی کا 25 سالہ نوجوان کہ اچانک موت کا سبب ایک ایسا چھوٹا سا جراثیم نکلا جس کی خوراک دماغ تھا۔ میرے لیے یہ بہت ہی حیرت انگیز خبر دی تھی کہ ایک زندہ انسان کا اندر سے دماغ کھا یا گیا ہوں۔

ایک جوان موت اور اوپر سے اس قدر خوفناک جراثیم کہ حملہ کی رپورٹ میرے اور اس کے خاندان کے لیے بہت خوفناک انہونی خبر تھی۔ پھر میں نے اس بیکٹیریا کو گوگل پر سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آج تک ایک سو پانچ اموات اس بیکٹیریا سے کراچی میں ہو چکی ہیں۔ اپنی ریسرچ کے دوران جو کچھ میرے علم اور نظر سے گزرا اس کے چند اہم حقائق سادہ الفاظ میں عام شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گی۔

نگلیریا فاؤلیری جسے دماغ کھانے والا امیبا Brain۔ eating amoeba بھی کہتے ہیں،

ایک ایسا یک خلیاتی امیبا ہے جو صرف آلودہ پانی میں پرورش پاتا ہے۔ یہ جھیلوں، تالابوں، چشموں، سوئمنگ پولوں اور نلکوں کے پانی میں پائے جاتے ہیں، جہاں یہ جرثومہ کائی (الجی) اور مختلف جراثیموں پر گزارہ کرتے ہیں۔ یہ جرثومہ نرم مرطوب مٹی اور تازہ پانی طفیلی ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ان کی افزائش کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔

نگلیریا فاؤلیری انسانی جسم میں ناک کے راستے دماغ میں داخل ہوتا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ طفیلی امیبا قوت شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے دماغ کے اندر داخل ہو کر دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں۔ اسی بنا پر انہیں دماغ کھانے والا امیبا کہتے ہیں۔

نگلیریافاؤلیری سب سے پہلے 1965 ء میں آسٹریلیا میں دریافت کیا گیا تھا۔ نگلیریا کی مختلف انواع موجود ہیں مگر صرف نگلیریا فاؤلیری ہی انسانی جسم میں انفیکشن پیدا کرتا ہے۔ یہ جرثومہ 115 ڈگری فارن ہائیٹ تک پانی میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتی ہے۔ اس کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی کے ذخائر ہیں۔

نگلیریا کے انفیکشن کا بڑا ذریعہ گرم، تازہ پانی اور غیر کلورین شدہ پانی کی فراہمی ہے اور یہ بیماری بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے بعد دو سے پندرہ روز کے اندر شدید نوعیت اختیار کر لیتی ہے

نگلیریا پانی سے پھیلنے والی خطرناک بیماری ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص کی تین چار روز میں ہی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کا جرثومہ صاف کچھ گرم اور نمی والے پانی میں پایا جاتا ہے جو کہ پینے یا ناک میں پانی ڈالنے کے دوران میں انسانی دماغ میں منتقل ہو جاتا ہے اور پورے اعصابی نظام کو تباہ کر دیتا ہے اس لیے اس کو دماغ کھانے والا امیبا بھی کہتے ہیں، جبکہ اس بیماری کو پھیلانے والے جراثیم کا اصل نام نگلیریا فاؤلیری ہے۔ اس مرض کا جرثومہ چشموں، واٹر پارکوں اور مشینوں سے نکلنے والے پانی اور ایسے پانی میں پایا جاتا ہے، جس میں کلورین کی کم مقدار شامل کی گئی ہو۔ یہ مرض سردیوں کی نسبت گرمیوں میں زیادہ حملہ کرتا ہے۔

نگلیریا فاؤلیری جسے دماغ کھانے والا امیبا بھی کہتے ہیں، ایک ایسا یک خلیاتی امیبا ہے جو صاف اور تازہ پانی میں پرورش پاتا ہے۔ یہ امیبا جھیلوں، تالابوں، چشموں، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پایا جاتا ہیں جہاں یہ جرثومہ کائی اور مختلف جراثیموں پر گزارہ کرتا ہے۔ یہ جرثومہ نرم مرطوب مٹی اور تازہ پانی طفیلی ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی افزائش کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔

نگلیریا فاؤلیری، انسانی جسم میں ناک کے راستے دماغ میں داخل ہو تا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ طفیلی امیبا قوت شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے دماغ کے اندر داخل ہو کر دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں اسی بناء پر انہیں دماغ کھانے والا امیبا کہتے ہیں۔ امیبا کے ناک میں داخل ہونے کے 2 سے 15 دن میں علامات ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں جو مریض اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گردن میں اکڑاؤ، سر میں شدید درد، اور بخار کی شکایت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مریض کی دماغی حالت میں بگاڑ کی علامتیں ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں۔ مریض مختلف واہموں اور وسوسوں کا شکار ہونے لگتا ہے اور مریض کے رویے میں عجیب و غریب تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔

اس حالت میں دماغ کی جھلی میں سوزش ہو جاتی ہے۔ اس امیبا کے انفیکشن کے شکار زیادہ تر مریضوں میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے۔ ابتدائی انفیکشن کے دو ہفتوں کے اندر اندر مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ اگر ابتداء میں ہی انفیکشن کا علاج شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

اس مرض میں چونکہ قوت شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے تو مریض کے سونگھنے اور چھینکنے کی حس میں تبدیلی آجاتی ہے، جس کے فوری بعد بخار، سردرد، بھوک میں کمی اور متلی کی شکایت کے بعد مریض نیم بے ہوشی کی حالت میں ہوتا ہے اور آخر کار کوما کی حالت میں چلا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS