کوپ 27 کانفرنس کا اعلامیہ؛ کیا پاکستان کی دادرسی کی جائے گی
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کوپ 27 کا انعقاد مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں کیا گیا۔ تیرہ روز تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا اختتام 18 نومبر کو ہوا۔ مشترکہ اعلامیہ میں امید کی جا رہی تھی کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی مرتب کی جائے گی، لیکن مشترکہ اعلامیہ میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح روڈ میپ جاری نہیں کیا جا سکا، یہ تو کہا گیا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سے بڑھنے نہیں دیا جائے لیکن یہ وضاحت نہیں دی گئی کہ اس کا حصول یقینی کیسے بنایا جائے گا؟ فوسل یا غیر نامیاتی ایندھن جیسے کوئلہ، گیس، تیل وغیرہ کا استعمال کب تک حتمی طور پر ترک کر دیا جائے گا؟
پچھلے سال گلاسگو کوپ 26 کے اختتام پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 100 بلین ڈالر کے فنڈز کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن شرم الشیخ میں کوپ 27 کے مشترکہ اعلامیہ میں لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کا اعلان تو کیا گیا، لیکن اس فنڈ کی مجموعی رقم کتنی ہوگی یہ نہیں بتایا گیا۔ تاہم اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اس فنڈ سے ترقی پذیر ممالک کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب سے پاکستان اور مغربی افریقہ کے ممالک بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم بائیڈن انتظامیہ کے عہدے دار نے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے بارے یہ تو کہا کہ یہ فنڈ ان ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن واضح کیا کہ یہ امداد زر تلافی کی ضمن میں نہیں دی جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کہ لیے امریکہ ایسی کسی امداد کو جرمانہ یا زر تلافی کہنے سے گریز کرتا ہے۔
یہ بات عیاں ہے کے موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت کے اضافے کا سبب امریکہ، چین، بھارت اور وہ مغربی ممالک ہیں جن کی تیز رفتار صنعتی ترقی نے ماحول میں کاربن کے اخراج کو کئی گنا بڑھا دیا ہے جس سے عالمی درجہ حرارت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا خمیازہ پاکستان جیسے ممالک نے بھگتا جس کا حصہ کاربن کے اخراج میں آدھے فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارشیں اور سیلاب اسی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر سیلاب بھارت اور پاکستان میں ہونے والی مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں آتے ہیں، اپنی استعداد کا پانی اسٹور کرنے کے بعد بھارت یہ پانی دریاؤں میں چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان کا وسطی پنجاب سب سے پہلے سیلاب سے متاثر ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ سیلاب جنوبی پنجاب اور سندھ کو متاثر کرتا ہے، لیکن اس بار سندھ اور بلوچستان میں اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رکارڈ کیا گیا جس سے ہوا کا شدید کم دباؤ خلیج بنگال سے اٹھنے والے مون سون کے سسٹم کو اپنی طرف کھینچتا رہا جس سے سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں اور جس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچا دی، ان سیلاب سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے اور برطانیہ جتنا علاقہ زیر آب آ گیا۔ لیکن اس کے برعکس وسطی پنجاب جو سیلاب سے سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے، وہاں دریا معمول کے مطابق بہتے رہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق ان سیلاب سے تقریباً 30 سے پینتیس ارب ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس نے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان میں آنے والے یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک واضح مثال ہیں۔ پاکستان کو اس جرم کی سزا بھگتنی پڑی جو اس نے کیا ہی نہیں۔ لیکن نا انصافی کی انتہا یہ ہے کہ پچھلے سال گلاسگو میں ہونے والی کوپ 26 میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جو 100 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے اس میں سے پاکستان کو خاطر خواہ امداد نہیں دی گئی۔ ڈیڑھ دو ارب ڈالر کی امداد یقیناً عالمی اداروں کی طرف سے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے دی گئی لیکن یہ امداد نقصانات کے ازالے کے لیے ناکافی ہے۔ شرم الشیخ میں کوپ 27 میں بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کا اعلان تو کیا گیا ہے، لیکن اس فنڈ سے پاکستان کی کیا مدد کی جاتی ہے یہ ابھی واضح نہیں۔
لیکن یہاں اہم نقطہ یہ ہے کہ اگر دنیا کے طاقتور ممالک کو جب کسی رویے، کسی تنظیم یا کسی ملک سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو یہ طاقتور ممالک صف آرا ہو کر اس خطرہ سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیں۔ جیسا کے دہشت گردی کے خالف جنگ اور اس سے متعلق فنڈنگ کو روکنے کے لیے باقاعدہ نظام ترتیب دیا گیا فیٹف جیسا ادارہ بنایا گیا تاکہ تمام ممالک کے مالی معاملات کو شفاف بنایا جا سکے۔
اس نظام کے تحت پاکستان ایسے ممالک کو گرے لسٹ میں رکھا گیا اور پاکستان پر بلیک لسٹ ہونے کی تلوار لٹکتی رہی۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ان طاقتور ممالک کی وجہ سے عالمی ماحول میں جو تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں اور پاکستان جیسے ممالک جو طاقتور ممالک کی وجہ سے پیدا ہونے والی ان موسمیاتی تبدیلیوں سے براہ راست نقصان اٹھا رہے ہیں ان کی قابل تشفی داد رسی نہیں کی جا رہی۔ بلا شبہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے دنیا کو یک جان ہو کر کوششیں کرنی چاہیے لیکن یہ موسمیاتی تبدیلیاں جو نوع انسانی کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، اور وہ ممالک جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ایسے ممالک کب اور کیسے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے؟ کیونکہ قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ وہ تباہی لائے گی جس کا تقابل کسی بڑی سے بڑی دہشت گردی سے بھی نا کیا جا سکے۔

