بلیک فرائیڈے: پولیس کے لیے زحمت کا دن جو دکانداروں کے لیے رحمت کا روز بن گیا


بلیک فرائیڈے

گذشتہ چند دنوں سے میری ای میل اور موبائل پر پیغامات کی ایک برسات سی جاری تھی۔ کوئی دکاندار کہہ رہا تھا ’بلیسڈ فرائیڈے‘ قریب ہے، کسی کی پکا ر تھی ’بگ فرائیڈے‘ آیا ہی چاہتا ہے اور کوئی ’گولڈن فرائیڈے‘، کوئی ’گرین فرائیڈے‘ اور کوئی ’فینٹاسٹک فرائیڈے‘ کے آنے کا اعلان کر رہا تھا۔

ایک ای میل کسی امریکی کمپنی کی بھی تھی کہ ’بلیک فرائیڈے‘ رش سے بچیے، 40 فیصد سستا فرنیچرآن لائن ہی اٹھا لیجیے۔

اور تو اور ایک برطانوی میگزین نے’بلیک فرائیڈے‘ ہی کے تحت ایک تعلیمی کورس بھی ایک چوتھائی کم معاوضے پر پڑھانے کی پیشکش بھیج رکھی تھی۔

فرائیڈے یا جمعے کے ساتھ ان تمام ’اسمائے صفات‘ کے اضافے سے چند سال پہلے کی وہ بحث یاد آ گئی جب ایک پاکستانی آن لائن دکان نے پہلے تو دوسرے ملکوں کے ہم پیشہ لوگوں کی دیکھا دیکھی اپنی سالانہ سیل کو ’بلیک فرائیڈے‘ کا نام دے دیا مگر پھر احتجاج کے بعد جمعہ کے مبارک دن کی نسبت سے اسے ’بلیسڈ فرائیڈے‘ قرار دے کر دھڑا دھڑ کمائی کی۔

اب تو تھینکس گیونگ یا یوم تشکر کے بعد کرسمس خریداری کے موسم کے آغاز کی نشاندہی کرتا نومبر کے مہینے کا آخری جمعہ ’بلیک فرائیڈے‘ کے نام کے ساتھ شاپنگ کے ہیجان سے جڑا ہے مگرفرائیڈے سے پہلے ’بلیک‘ کے سابقہ کو بعض اور الفاظ سے بدلنے کی کوشش دنیا میں اور مقامات پر بھی ہوئی کیونکہ صدیوں سے ’بلیک‘ یا ’سیاہ‘ کی صفت ایسے دنوں پر لاگو ہوتی رہی ہے، جن پر آفتیں آئیں۔

مثال کے طور پر’بلیک فرائیڈے‘ کی اصطلاح پہلی بار خریداری نہیں بلکہ مالیاتی بحران، خاص طور پر 24 ستمبر 1869 کو امریکی گولڈ مارکیٹ کے کریش، کے لیےاستعمال کی گئی۔

وال سٹریٹ کے دو بدنام زمانہ، بے رحم فنانسرز، جے گولڈ اور جم فِسک، نے اس امید پر ملکی سونے کی زیادہ سے زیادہ خریداری کی کہ قیمت انتہائی بلند ہونے پر اسے بڑے منافع پر بیچ دیں گے۔

وال سٹریٹ
’بلیک فرائیڈے‘ کی اصطلاح پہلی بار خریداری نہیں بلکہ مالیاتی بحران، خاص طور پر 24 ستمبر 1869 کو امریکی گولڈ مارکیٹ کے کریش کے لیےاستعمال کی گئی

تب امریکی صدر ہیو گرانٹ کو اس ہیرا پھیری کا علم ہوا تو انھوں نے محکمہ خزانہ کو سونا بڑی مقدارمیں مارکیٹ میں جاری کرنے کا حکم دیا۔ یوں افراتفری رک گئی اور قیمتوں میں 18 فیصد کمی واقع ہو گئی۔

قسمت ایک ہی دن میں بنی اور بگڑی، سٹاک مارکیٹ گر گئی اور وال سٹریٹ کے تاجروں سے لے کر کسانوں تک اور حتیٰ کے صدر کے اپنے رشتے دار ایبل کوربن سمیت سب دیوالیہ ہو گئے۔

یہ تو ہوئی بات ستمبرکے صرف ایک جمعہ کی۔

جریدے ’فیکٹری مینجمنٹ اینڈ مینٹیننس‘ میں تھینکس گیونگ کے بعد کے دن کا حوالہ دینے کے لیے ’بلیک فرائیڈے‘ کا سب سے پہلا استعمال نومبر 1951 اور پھر 1952 میں ہوا۔

یہاں حوالہ تھینکس گیونگ کے اگلے دن کارکنوں کے بیماری کا بہانہ کرنے کا تھا تاکہ ویک اینڈ چار دن کا ہو جائے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ ان معنوں میں اس کا استعمال زیادہ عام ہوا۔

اب اس ’بلیک فرائیڈے‘ کا تذکرہ اور تاریخ جوخریداری سے جڑا ہے۔

تھینکس گیونگ کی شاپنگ سے متعلق ’بلیک فرائیڈے‘ کی روایت کے پیچھے سب سے زیادہ دہرائی جانے والی کہانی یہ ہے کہ پورا سال خسارے، جسے محاورے میں ’ان دی ریڈ‘ کہا جاتا ہے، میں کام کرنے کے بعد سٹورز کا تھینکس گیونگ سے اگلے دن سوچ سے زیادہ منافع کمانا ’ان دی بلیک‘ کہلایا کیونکہ ان چھٹیوں میں خریدار رعایت پا کر بہت زیادہ رقم اڑا دیتے تھے۔

محقق سارہ پرواِٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ ریٹیل کمپنیاں اکاؤنٹنگ کے وقت نقصانات کو سرخ اور منافع کو سیاہ میں لکھتی تھیں لیکن ’بلیک فرائیڈے‘ کا اصل اس کہانی میں نہیں اور ان کے مطابق نہ ہی حالیہ برسوں میں منظر عام پر آنے والا یہ افسانہ سچ ہے کہ 1800 کی دہائی میں جنوبی باغات کے مالکان تھینکس گیونگ کے اگلے دن غلاموں کو کم قیمت پر خرید سکتے تھے۔

اسی پس منظر کے باعث ’بلیک فرائیڈے‘ کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا مگر حقیقت میں اس کی بنیاد یہ بھی نہیں۔

پرواِٹ اپنے ایک مضمون میں بتاتی ہیں کہ ’بلیک فرائیڈے‘ کی اصل تاریخ وہ نہیں، جس پر ریٹیلرز چاہتے ہیں کہ آپ یقین کریں بلکہ 1950 کی دہائی میں یہ اصطلاح، فلاڈیلفیا شہر کی پولیس نے تھینکس گیونگ کے اگلے دن ہونے والی ’افراتفری‘ کے لیے استعمال کی تھی۔

بلیک فرائیڈے

’جب ہرسال اس سنیچر کے روز منعقد ہونے والے آرمی۔نیوی کے بڑے فٹبال مقابلوں سے قبل مضافاتی خریداروں اور سیاحوں کا ہجوم شہر میں داخل ہوتا۔ پولیس والے اس دن چھٹی نہ کر پاتے بلکہ انھیں اضافی ہجوم اور ٹریفک سے نمٹنے کے لیے اضافی لمبی شفٹوں میں کام کرنا پڑتا۔ چور اچکے بھی دکانوں پر رش کا فائدہ اٹھاتے اور سامان اٹھا لے جاتے، جس سے قانون نافذ کرنے والوں کے سر درد میں اضافہ ہوتا۔‘

1961 سنہ
تک ’بلیک فرائیڈے‘ کی اصطلاح فلاڈیلفیا میں اس حد تک رواج پا چکی تھی کہ ’دی اوریجنز آف بلیک فرائیڈے‘ کےمصنف بین زِمرکے مطابق شہر کے تاجروں اور اس کی ترویج کرنے والوں نے منفی تصورکو دور کرنے کے لیے اسے ’بگ فرائیڈے‘ اور’بگ سیٹرڈے‘ سے بدلنے کی ناکام کوشش کی۔ یہ اصطلاح ملک کے باقی حصوں میں نہیں پھیلی۔

اس ترکیب کا استعمال آہستہ آہستہ عام ہوا۔ پہلی بار 29 نومبر 1975 کو ’نیویارک ٹائمز‘ میں یہ اصطلاح خاص طور پر فلاڈیلفیا میں ’سال کا مصروف ترین شاپنگ اور ٹریفک کا دن‘ کے معنوں میں استعمال ہوئی۔

فلاڈیلفیا انکوائرر نے 1985 میں رپورٹ کیا کہ سنسناٹی اور لاس اینجلس کے ریٹیلرز ابھی تک اس اصطلاح سے لاعلم تھے تاہم 1980 کی دہائی کے اواخر میں کسی وقت، ریٹیلرزنے ’بلیک فرائیڈے‘ کی تجدید کرنے اور اس ترکیب کا مثبت تصور دینے کے لیے چھٹی کے اس دن کو ’سرخ سے سیاہ‘ یا ’خسارہ سے منافع‘ سے جوڑا یعنی یہ کہ تھینکس گیونگ سے اگلا دن ایسا تھا کہ جب آخر کار امریکا کے سٹورز نے منافع کمایا۔

’بلیک فرائیڈے‘ کی اس کہانی کے بعد بہت جلد فلاڈیلفیا میں ابھری اصطلاح کا پس منظر بڑی حد تک بھلا دیا گیا تاہم برطانیہ میں ’بلیک فرائیڈے‘ کی اصطلاح پولیس اور صحت کے ادارے این ایچ ایس، میں کرسمس سے پہلے کے جمعہ کے حوالے سے شروع ہوئی۔

یہ وہ دن ہے جب ان اداروں کو بہت سے لوگوں کے شراب پی کر باہرنکلنے کی وجہ سے کام کے بوجھ میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی خدمات فعال کرناپڑتی ہیں۔

روایتی طور پر، باکسنگ ڈے کو برطانیہ میں سال کا سب سے بڑا خریداری کا دن سمجھا جاتا تھا۔

بلیک فرائیڈے

سنہ 2005 سے ’بلیک فرائیڈے‘ امریکا میں سال بھرمیں خریداری کا مصروف ترین دن ہوتا آیا ہے۔ اس سے پانچ چھ سال بعد برطانیہ میں امریکی ملکیت والے کئی ریٹیلرز نے امریکی طرز کی ’بلیک فرائیڈے‘ پروموشنز کا انعقاد شروع کیا۔

2014 میں مزید برطانوی ریٹیلرزنے اس تصور کو اپنانا شروع کیا مگریہ بھی تب ہی ہوا کہ ہجوم پر قابو پانے کے مسائل، حملوں، گاہکوں کو دھمکیاں دینے اور ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے پولیس فورس کو برطانیہ بھر کی دکانوں پر بلانا پڑا۔

ان واقعات کے بعد، کچھ ریٹیلرز نے اپنی پروموشنز کو بند کرنا یا ان میں بہت زیادہ ترمیم کرنا شروع کر دی۔ ویلش زبان میں تو ’بلیک فرائیڈے‘ کو ’سِلی سپینڈنگ فرائیڈے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اکیسویں صدی کے اوائل سے، امریکی ریٹیلرز نے دنیا بھر میں ریٹیلر’بلیک فرائیڈے‘ متعارف کرانے کی کوششیں کیں۔

حالیہ دہائیوں میں، دنیا کے دیگر ملکوں میں ریٹیلرزنے اپنی فروخت کو مارکیٹ کرنے کے لیے اس اصطلاح کو یا تو اپنایا یا اس میں تبدیلی کی مگر تاریخ لگ بھگ ایک ہی ہے۔

ایک دن کا میلا چار دن کا ہو گیا

امریکی صحافی ڈان واگھان کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں ’بلیک فرائیڈے‘ کے بعد خریداری کے دیگر دن یہ ہیں: سمال بزنس سیٹرڈے، جو خریداروں کو مقامی ریٹلرز کے ہاں جانے کی ترغیب دیتا ہے اور سائبر مَنڈے، جس کا ہدف آن لائن خریداری کا فروغ ہے۔

منگل ’گیونگ ڈے‘ یعنی خیراتی عطیات کی حوصلہ افزائی کے لیے سامنے آیا۔ سٹورز جمعہ کے دن سے پہلے ہی کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور اب خریدار اپنے تھینکس گیونگ کھانے کے فوراً بعد ہی خریداری کو نکل سکتے ہیں۔

کچھ ریٹیلرز نے اس کی بجائے ’بلیک تھرسڈے، گرے تھرسڈے یا براؤن تھرسڈے‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے جمعرات کا روز بھی اس میں لپیٹ لیا۔

سنہ 2015 میں ایمازون نے سب سے پہلے ’جولائی میں بلیک فرائیڈے‘ کے سودے پیش کیے، جسے اس نے ’پرائم ڈے‘ پکارا۔

’بلیک فرائیڈے‘ کے مقابلے میں بہتر ڈیلز کا وعدہ کرتے ہوئے، ایمازون نے 2016 اور 2017 میں اس عمل کو دہرایا اور دیگر کمپنیوں نے بھی اسی طرح کی پیشکش کرنا شروع کر دیں۔

تجزیہ کار مارشل کوہن نے دعویٰ کیا ہے کہ آن لائن شاپنگ ’بلیک فرائیڈے‘ کی جگہ لے رہی ہے اور کورونا وبا نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔

’بلیک فرائیڈے‘ سنہ 2020 کو بہت کم لوگوں نے ذاتی طور پر خریداری کی اور زیادہ تر کاروبار آن لائن ہوا۔

پولیس کے خریداروں کے ہجوم کو قابو کرنے کی کوششوں کے باوجود، بھگدڑ اورمعمولی چوٹیں عام ہیں مگر بعض مواقع پر سنگین چوٹیں اور یہاں تک کہ تشدد بھی ہوا۔

’بلیک فرائیڈے‘ اب ’سائبر بلیک فرائیڈے‘ ہوا ہے تو ریٹیلرز کو یہ مرحلہ درپیش ہوتا ہے کہ اپنی ویب سائٹ اور ایپ کوآن لائن ٹریفک کے بڑھنے پرچالو حالت میں رکھ سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26814 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments