زمان پارک یا ’منی خیبرپختونخوا‘: ’پنجاب پولیس خدا حافظ، اب آپ کے پی میں داخل ہو رہے ہیں‘


زمان پارک

صوبائی دارالحکومت لاہورکے تاریخی ایچیسن کالج کے عقب میں مال روڈ پُل سے چند فرلانگ کے فاصلے پر کینال روڈ پر زمان پارک کا چھوٹا سا سائن بورڈ نظر آتا ہے۔ ماضی میں کرکٹ اور اب پاکستانی سیاست میں شہرت رکھنے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کی وجہ سے زمان پارک سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اگرچہ کئی سال پہلے عمران خان کے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بنی گالہ منتقل ہونے کی وجہ سے زمان پارک کی رونقیں کچھ ماند پڑ گئی تھیں مگراس سال 28 اکتوبر کو شروع کیے گئے لانگ مارچ کے بعد زمان پارک ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

وزیرآباد کے قریب لانگ مارچ کے دوران قائدین کے کنٹینر پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد عمران خان زخمی ہونے کے باعث اپنی اس پرانی رہائش گاہ میں مقیم ہیں اور ان کی تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی یہی ہے لیکن سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے اب درختوں میں گھرے اس گرین ہاؤس کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے۔

سرخ اینٹوں سے بنی اس رہائش گاہ کی چاردیواری کے باہر ریت اور سیمنٹ کی ہزاروں بوریوں کی اضافی دیوار کھڑی کر کے اسے حفاظتی قلعہ کی شکل دے دی گئی ہے۔

کینال روڈ سے داخل ہوں تو ہر طرف پنجاب پولیس کے اہلکار اور افسر تلاشی لیتے نظر آئے۔

تین مراحل کی سکیورٹی عبور کرنے کے بعد وہی شخص عمران خان کی رہائشگاہ تک پہنچ سکتا ہے، جس کا نام پہلے بیئرر پر قائم چیک پوسٹ کے گارڈ کے پاس لکھا ہو گا۔

زمان پارک

رہائش گاہ کے قریب عجب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ درجنوں سکیورٹی اہلکار تو دن رات وہاں موجود رہتے ہی ہیں، مگر ہر روز سورج طلوع ہونے کے بعد میڈیا اداروں کی درجنوں گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی نظر آتی ہیں۔

یہ گاڑیاں رات کی تاریکی میں اس وقت واپسی کی تیاری کرتی ہیں جب انھیں تسلی ہو جائے کہ زمان پارک کی اس رہائش گاہ کا مکین سو گیا ہے اور اب ملاقات کے لیے کسی ایسی شخصیت کے آنے کا بھی کوئی امکان نہیں جن کے سامنے دوڑ کر کیمرا آن کرنا پڑے۔

میڈیا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ہر روز عمران خان سے ملنے کی خواہش لے کر کئی لوگ اور کئی کردار آپ کو وہاں نظر آئیں گے۔

کئی کردار تو ایسے ہیں جو صبح سے رات تک باقاعدگی سے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کی خواہش تو پوری نہیں ہو پاتی مگر مسلسل ڈیوٹی دینے والے میڈیا رپورٹرز یا کیمرا مین کبھی کبھی اپنی بوریت دور کرنے کے لیے ان سے بات چیت کر کے نیوز آئٹم تیار کر ہی لیتے ہیں۔

سکیورٹی کے حصاراور لوگوں کے ہجوم میں گھرے اس زمان پارک کا ایک دلچسپت پہلو یہ ہے کہ لاہور شہر کی یہ رہائشی کالونی ان دنوں ’منی خیبر پختونخوا‘ کا منظر پیش کرتی ہے۔

ریڑھی پر گرم مونگ پھلی بیچنے والے، تھرماس پکڑے قہوہ پلانے والے، عمران خان سے شوقیہ ملاقات کرنے والوں سے لے کر عمران خان کی رہائش گاہ کے اندرڈیوٹی دینے والوں کی اکثریت پشتو بولنے والوں کی ہے۔

زمان پارک، میڈیا ورکرز

عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر کیا دیکھا

کینال روڈ سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر موجود چیئرمین تحریک انصاف کی اس رہائش گاہ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہمیں سکیورٹی کے تین حصار عبور کرنے پڑے اور دو سے تین بار جامہ تلاشی دینا پڑی۔

یہ مراحل طے کرنے کے بعد ہم جب عمران خان کی رہائش گاہ کے مرکزی گیٹ کے قریب پہنچے توپنجاب پولیس کے ایک کانسٹیبل نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ’پنجاب پولیس خداحافظ، اب آپ صوبہ خیبر پختونخوا میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

مجھے پہلے تو ان کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی مگر جیسے ہی مرکزی گیٹ پر پہنچا تو صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے تین کمانڈوز نے میرا استقبال کیا۔

تلاشی کے بعد جانے کا اشارہ کیا تو اندر سے جس پولیس کمانڈو نے گیٹ کھولا وہ بھی خیبر پختونخوا پولیس کی یونیفارم پہنے ہوئے تھا۔

جس وقت پولیس کے اہلکار میری جامہ تلاشی لے رہے تھے میں گھر کے لان، عمارت کی بالکونیوں اور چھتوں پر نظر دوڑا رہا تھا اور ہر طرف مجھے خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکار اور کمانڈوز نظر آ رہے تھے۔

گھر کے اندرونی دروازے کا دربان بھی خیبرپختونخوا کا تھا۔ عقبی صحن میں بھی خیبرپختونخوا کے سکیورٹی اہلکار دھوپ میں بیٹھے قہوہ پی رہے تھے۔

گھر کے اندر بھی مجھے ہر طرف پختونخوا ہی نظر آیا۔ حقیقت میں زمان پارک کی یہ رہائشگاہ ’منی خیبر پختونخوا‘ نظر آ رہی تھی مگران سوالات کا تسلی بخش جواب وہاں موجود تحریک انصاف کے قائدین تو نہیں دے سکے کہ عمران خان کی ذاتی سکیورٹی پر مامور تمام کے تمام اہلکار صوبہ خیبر پختونخوا سے کیوں بلائے گئے۔

عمران خان کی رہائشگاہ کو پنجاب پولیس کے لیے ممنوعہ علاقہ کیوں قرار دیا گیا اور کیا یہ پنجاب پولیس پرعدم اعتماد کے مترادف نہیں۔

زمان پارک

ہم نے اس حوالے سے عمر سرفراز چیمہ سے بات کی، وہ نہ صرف تحریک انصاف کے رہنما ہیں بلکہ عمران خان کے میزبان صوبہ پنجاب کے مشیر داخلہ بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس پر کسی نے عدم اعتماد نہیں کیا، دونوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس لیے پارٹی قائد کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی مشترکہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ راولپنڈی پہنچنے تک عمران خان کی ذاتی سکیورٹی پر خیبرپختونخوا کی پولیس ذمہ داری ادا کرے گی جبکہ لانگ مارچ کی عمومی سکیورٹی پنجاب پولیس کے ذمہ ہو گی۔ دونوں صوبائی حکومتوں کی ہم آہنگی کے بعد کوئی قانونی رکاوٹ درپیش نہیں۔‘

عمران خان سے ملاقات کے خواہشمند

اس ’منی خیبرپختونخوا‘ کے سفر کے دوران ہمیں یہاں بہت سے دلچسپ کرداروں سے ملنے کا موقع بھی ملا۔

ذاکرخان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان سے ہے۔ وہ اپنے پسندیدہ لیڈر سے ملنے کے لیے اپنے بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ علامتی کفن پہنے گذشتہ دس دن سے زمان پارک کے چکر لگا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بچوں کے ہمراہ کفن پہن کراپنے کپتان سے ملاقات میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ حقیقی آزادی کی تحریک کے لیے وہ اپنے بچوں کے ساتھ ہر قسم کی قربانی کے لیے حاضر ہیں۔

ان کا دعوٰی ہے کہ وہ کئی روز پیدل چل کر زمان پارک پہنچے ہیں۔

یہاں ہماری ملاقات فیصل آباد کے نوجوان محمد وقار سے بھی ہوئی جو ایک بازو سے محروم ہیں لیکن اپنے ایک ہاتھ میں تحریک انصاف کے انتخابی نشان کرکٹ کا بلا اٹھائے، وہ دس روز سے مسلسل زمان پارک آ کر اس امید پر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ شاید آتے جاتے کوئی پارٹی لیڈر انھیں عمران خان سے ملوانے کا ذریعہ بن جائے گا۔

45 سالہ نعیم طاہر بھی تحریک انصاف کے جھنڈے کو گلے میں لٹکائے ہاتھ میں بلا پکڑے ایک ہفتے سے ملاقات کے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے تھے عوامی لیڈر سے ملنا آسان ہوتا ہے مگر یہاں تو کوئی آنکھ ملانے کو تیار نہیں۔

دونوں ٹانگوں سے محروم قصور کے کاشف جاوید بینک میں ملازمت کے بعد ہر روز شام پانچ بجے زمان پارک پہنچ جاتے ہیں۔

بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے کاشف کو پانچ روز ہو گئے مگرعمران خان سے ان کی ملاقات بھی نہیں ہو سکی۔

ان کرداروں میں مجھے سب سے اہم کردار اس خاتون کا لگا، جو رات کی تاریکی میں اپنی دس سالہ بیٹی اور دو سالہ بیٹے کے ہمراہ حقیقی آزادی کی تحریک کے کپتان سے ملاقات کی آس میں یہاں آ کر بیٹھ جاتی ہیں۔

لاہور کی مریم نامی اس خاتون کا کہنا ہے کہ سب کچھ چھن گیا، یہ لیڈر انصاف کی بات کرتا تھا، اس لیے اس کے دروازے پرآئی ہوں تاکہ یہ ہماری کچھ مدد کر سکے۔

وہ کہتی ہیں کہ رہائشگاہ کے اندر جانے والی ہر گاڑی کا شیشہ کھلوا کر ملاقات کی درخواست کرتے سات روز ہو گئے مگر حیران ہوں جن کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، عمران خان انھیں روز ملتے ہیں لیکن جن کی خاطر یہ تقریر کرتے ہیں، ان سے ملتے تک نہیں۔

شاید چیئرمین تحریک انصاف سے ملاقات کے خواہشمند یہ افراد اب ان سے نہ ہی مل سکیں کیونکہ 26 نومبر یعنی سنیچر کے روز عمران خان لانگ مارچ کی قیادت کے لیے زمان پارک سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہو جائیں گے اور پھر شاید ان کا مسکن بنی گالہ ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26814 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments