’میں نے اپنی پانچ سال کی بیٹی ایک لاکھ کے عوض فروخت کر دی‘


افغانستان میں بھوک کا بحران
غلام حضرت (درمیان میں) نے کہا کہ وہ بعض اوقات اپنے چھ بھوکے بچوں کو نیند کی گولیاں دے کر سلا دیتے ہیں
افغانستان میں کئی والدین اپنے بھوک سے نڈھال بچوں کو سلانے کے لیے نیند والی ادوایات دینے پر مجبور ہو چکے ہیں اور کچھ محض زندہ رہنے کے لیے اپنی بیٹیاں اور اپنے اعضا فروخت کر چکے ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور بیرونِ ملک افغانستان کے اثاثے منجمد کیے جانے کے بعد ان دنوں میں لاکھوں افغان قحط اور بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

افغان شہری عبدالوہاب کہتے ہیں کہ ’ہمارے بچے ہر وقت بلکتے رہتے ہیں اور سو نہیں پاتے۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں۔‘

’ہم دوائیوں کی دکان سے گولیاں لا کر بچوں کو دے دیتے ہیں تاکہ ان پر غنودگی طاری ہو جائے اور وہ سو جائیں۔

عبدالوہاب افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات سے تھوڑی ہی دور مٹی سے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے مکانوں والی ایک بستی میں رہتے ہیں۔ یہ بستی گذشتہ کچھ عشروں میں خاصی پھیل چکی ہے جہاں جنگ اور اور قدرتی آفات سے بےگھر ہو جانے والے خاندان آ کر بستے رہے ہیں۔

جب ہم وہاں پہنچے تو کوئی درجن بھر مردوں نے ہمیں گھیر لیا جن میں عبدالوہاب بھی شامل تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ایسے کتنے والدین ہیں جو بچوں کو سلانے کے لیے دوائیاں دے رہے ہیں؟

سب کا ایک ہی جواب تھا ’ ہم میں سے بہت سے، بلکہ ہم تمام لوگ۔‘   

اس موقع پر غلام حضرت نے اپنے چوغے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور گولیوں کا ایک پتہ ہمارے سامنے کر دیا۔ یہ ’ایلپرازولوم‘  نامی گولیوں کا پتہ تھا جو عموماً ذہنی دباؤ کے شکار مریضوں کو دی جاتی ہیں۔     

افغانستان میں بھوک کا بحران

اس قسم کی پانچ گولیاں دس افغانی روپے میں مل جاتی ہیں جبکہ اسی قیمت میں صرف ایک روٹی ملتی ہے

غلام حضرت کے چھ بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹا ایک سال کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’حتیٰ کہ میں ایک سال کے بچے کو بھی یہ گولی کھلا دیتا ہوں۔‘

 باقی لوگوں نے بھی ہمیں ’ایسیٹلوپرام‘ اور ’سیراٹالین‘ کے پتے دکھائے اور بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ گولیاں دے رہے ہیں۔ یہ دوائیں بھی عموماً  ڈیپریشن اور بے چینی کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ اگر یہ دوائیں ایسے چھوٹے بچوں کو دی جاتی ہیں جن کو مناسب غذائیت نہیں مل رہی، تو نہ صرف ان کے جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ دیگر  بے شمار مضر اثرات ہو سکتے ہیں جن میں  بدن ٹوٹنا، نیند نہ آنا اور بچوں کے رویے پر منفی اثرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔      

افغانستان میں بھوک کا بحران

’اگر ہم ایک رات کھانا کھاتے ہیں تو دوسری رات نہیں کھاتے۔ گردہ فروخت کرنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ میں آدھا ہو گیا ہوں‘

ہم ادویات کی ایک مقامی دکان پر بھی گئے جہاں ہمیں معلوم ہوا کہ اس قسم کی پانچ گولیاں دس افغانی (تقریباً 25 پاکستانی روپے) میں مل جاتی ہیں۔ ہرات میں ایک روٹی کی قیمت بھی دس افغانی ہے۔

ہم جن لوگوں سے ملے وہ پورے پورے خاندان روزانہ چند روٹیوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ ایک خاتون نے ہمیں بتایا کہ ان کے خاندان کے افراد صبح خشک روٹی کھاتے ہیں اور پھر بچی ہوئی روٹیوں کو رات کو پانی لگا کر قدرے نرم کر لیتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اس وقت افغانستان میں ایک انسانی ’تباہی‘ آشکار ہو رہی ہے۔

ہرات کے نواح میں رہنے والے خاندانوں کے زیادہ تر مرد دیہاڑی دار مزدور ہیں اور یہ لوگ کئی برسوں سے مشکل کی زندگی گزار رہے تھے۔

لیکن جب گذشتہ سال اگست میں طالبان نے اقتدار سنبھالا اور عملی طور پر حکومت بھی اپنے ہاتھ میں لے لی، جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے، تو بیرونِ ملک افغانستان کے مالی اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا۔ اس کے بعد شروع ہونے والی معاشی بدحالی کے نتیجے میں ان مزدوروں کو ہفتے کے اکثر دنوں میں کام ملنا بھی بند ہو گیا۔

اور اگر لوگوں کو کسی دن مزدوری مل بھی جاتی ہے تو ان کی کمائی ایک سو افغانی سے زیادہ نہیں ہوتی۔

اپنے دورے کے دوران ہم جہاں بھی گئے ہم نے یہی دیکھا کہ اپنے خاندانوں کو بھوک سے بچانے کے لیے لوگ انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

مثلاً عمار (فرضی نام) نے ہمیں اپنے پیٹ سے کمر تک جاتے ہوئے ٹانکوں کے نشان دکھاتے ہوئے بتایا کہ تین ماہ پہلے وہ اپنا گردہ نکلوا کر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ آپریشن کے اس نو انچ لمبے زخم پرگلابی رنگ کے نشان نظر آ رہے تھے جن سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ان کے ٹانکے ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوئے ہیں۔

عمار کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان ہے، یعنی عمر کا وہ حصہ جب کوئی اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ ہم نے ان کے تحفظ کی خاطر عمار کا اصلی نام نہیں بتایا۔

 ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ آپ ایک مقامی ہسپتال کو اپنا گردہ فروخت کر سکتے ہیں۔ میں وہاں گیا اور بتایا کہ میں بھی گردہ دینا چاہتا ہوں۔ چند ہی ہفتے بعد مجھے ان کا فون آ گیا اور انھوں نے مجھے بُلا لیا۔‘

’انھوں نے میرے کچھ ٹیسٹ کیے، پھر انھوں نے مجھے کوئی ٹیکہ لگایا جس سے میں بے ہوش ہوگیا۔ مجھے ڈر لگا رہا تھا لیکن میرے پاس کوئی اور رستہ نہیں تھا۔‘

افغانستان میں بھوک کا بحران

عمار کوگردے کے بدلے میں تقریباً دو لاکھ 70 ہزار افغانی (3100 ڈالر) دیئے گئے

عمار کو تقریباً دو لاکھ 70 ہزار افغانی (3100 ڈالر) دیے گئے، جن میں سے زیادہ تر وہ قرض ادا کرنے میں خرچ ہو گئے جو عمار نے اپنے خاندان کے لیے خوراک خریدنے کے لیے لیا تھا۔

’اگر ہم ایک رات کھانا کھاتے ہیں تو دوسری رات نہیں کھاتے۔ گردہ فروخت کرنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ میں آدھا ہو گیا ہوں۔ مجھے ناامیدی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر زندگی یوں ہی چلتی رہی تو مجھے لگتا ہے میں مر جاؤں گا۔‘

 افغانستان میں لوگوں کا اپنے اعضا فروخت کر دینا کوئی ایسی بات نہیں جو ہم نے پہلے نہ سنی ہو اور ایسا طالبان کے آنے سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن آج کل اس درد ناک تجربے سے گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس زندگی گزرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

 گھر کے سازو سامان سے تقریباً خالی ایک سرد مکان میں ہماری ملاقات ایک ایسی خاتون سے بھی ہوئی جن کے بقول انھوں نے اپنا ایک گردہ سات ماہ پہلے بیچ دیا تھا۔ اس خاندان کو بھی وہ قرض لوٹانا تھا جو انھوں نے بھیڑیں خریدنے کے لیے لیا تھا۔ ان کی بھیڑوں کا پورا ریوڑ چند سال پہلے سیلاب میں مر گیا جس کے بعد خاندان کا ذریعہ معاش بھی ختم ہو گیا۔

اس خاتون کو گردہ فروخت کر کے دو لاکھ 40 ہزار افغانی (2700 ڈالر) ملے تھے لیکن یہ رقم بھی ان کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

’اب ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اپنی دو سالہ بیٹی کو بھی فروخت کر دیں۔ جن لوگوں سے ہم نے قرض لیا تھا وہ ہمیں روزانہ ڈراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر پیسے واپس نہیں کر سکتی تو اپنی بیٹی ہمیں دے دو۔‘

مذکورہ خاتون کے شوہر کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے حالات دیکھ کر بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کسی وقت میں سوچتا ہوں کہ یوں زندہ رہنے سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔‘

ہمیں افغانستان میں یہ بار بار سننے کو ملا کہ لوگ اپنی بیٹیاں فروخت کر دیتے ہیں۔

نظام الدین کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پانچ سال کی بیٹی ایک لاکھ افغانی کے عوض فروخت کر دی ہے۔‘ یہ بتاتے ہوئے نظام الدین نے اپنا ہونٹ کاٹ لیا اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

ہماری معلومات کے مطابق اس سے آدھی سے بھی کم رقم آپ کو گردہ بیچ کر مل جاتی ہے۔

یہاں پر لوگ جس عزت نفس اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، بھوک نے اسے تباہ کر دیا ہے۔

مقامی برادری کے سربراہ عبدالغفور کے بقول ’ہم جانتے ہیں کہ یہ کام اسلامی قوانین کے خلاف ہے کہ ہم اپنے بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، لیکن ہمارے سامنے کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔‘    

افغانستان میں بھوک کا بحران

نازیہ چودہ برس کی ہو گی تو اسے پیسوں کے بدلے اپنے ہونے والے شوہر کے حوالے کر دیا جائے گا

ایک گھر میں ہماری ملاقات چار سالہ نازیہ سے بھی ہوئی، ایک ہنستی کھیلتی بچی جو شکلیں بنا بنا کر اپنے 18 ماہ کے بھائی شمس اللہ کو ہنسا رہی تھی۔

نازیہ کے والد، حضرت اللہ نے ہمیں بتایا کہ ’ہمارے پاس کھانا خریدنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں ہے، اسی لیے میں نے مقامی مسجد میں اعلان کر دیا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو فروخت کرنا چاہتا ہوں۔‘

 نازیہ کا سودا پہلے ہی جنوبی صوبے قندہار میں ایک خاندان کے ساتھ ہو چکا ہے اور جب نازیہ 14 سال کی ہو گی تو اسے خاندان کے لڑکے کے ساتھ  شادی کے لیے وہاں بھیج دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت اللہ  نے نازیہ کے بدلے میں دو جگہ سے پیسے پکڑ لیے ہیں۔

’ان میں سے زیادہ تر رقم میں خوراک خریدنے پر خرچ کر چکا ہوں، اور کچھ اپنے چھوٹے بیٹے کی دواؤں پر لگا چکا ہوں۔ آپ میرے بیٹے کو خود دیکھ لیں، اس میں خوراک کی کتنی کمی ہے۔‘ یہ کہتے ہوئے حضرت اللہ نے ہمیں شمس اللہ کا پھُولا ہوا پیٹ دکھانے کے لیے اس کے پیٹ سے کرتا اوپر اٹھا دیا۔

بچوں میں غذائیت کی کمی کی بڑھتی ہوئی خوفناک شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو بھوک کتنی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

 ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی عالمی تنظیم ’ایم ایس ایف‘ کے مطابق ملک بھر میں غذائیت کی کمی کا علاج کرنے والے مراکز میں لائے جانے والے بچوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال 47 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ہرات میں قائم اس تنظیم کا مرکز نہ صرف اس صوبے میں بلکہ غور اور بادغیص کے قریب صوبوں میں، وہ واحد مرکز ہے جس کے پاس اچھا سازو و سامان اور سہولیات موجود ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں یہاں لائے جانے والے بچوں کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

پچھلے ایک سال کے دوران بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مقابلہ کرنے کے لیے انتظامیہ نے مرکز میں بستروں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بستر خالی پڑا ہو۔ یہاں لائے جانے والے ایسے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جنہیں غذائیت کی کمی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر امراض کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

ان ہی بچوں میں ایک امید بھی ہے جسے غذائیت کی کمی کے ساتھ ساتھ ہرنیا اور سیپسِز (جسم کا سکڑ جانا) کے امراض بھی ہیں۔ امید کی عمر 14 ماہ ہے لیکن اس کا وزن صرف 4 کلو گرام ہے۔ ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ اس عمر کے بچے کا کم از کم وزن عموماً چھ اعشاریہ چھ کلو ہوتا ہے۔ امید کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب بچے کو بہت زیادہ الٹیاں شروع ہو گئیں تو اسے ہسپتال پہنچانے کے لیے بھی انھیں پیسے ادھار لینا پڑے۔

افغانستان میں بھوک کا بحران

امید 14 ماہ کا ہے لیکن اس کا وزن تقریباً نوزائیدہ بچے کے برابر ہے

ہم نے یہ سوال ہرات میں طالبان کی حکومت کے ترجمان حمیداللہ متوکّلی کے سامنے رکھا کہ وہ  اپنے صوبے میں بھوک سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال افغانستان پر لگائی جانے والی بین الاقوامی پابندیوں اور بیرون ملک ہمارے اثاثے منجمد کرنے کا نتیجہ ہے۔ ہماری حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ان لوگوں کا اندازہ لگایا جائے جن کو اصل میں خوراک کی ضرورت ہے۔ بہت  سے لوگ اپنی حالت کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انھیں امداد مل جائے گی۔‘

 ہم نے انھیں بتایا کہ ہم نے اس کے بہت ثبوت دیکھے ہیں کہ صورتحال کس قدر ابتر ہے، لیکن ترجمان اپنی اسی توجیح پر اصرار کرتے رہے کہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔

 اس کے علاوہ حمیداللہ متوکّلی نے یہ بھی کہا کہ طالبان روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہم فولاد کی کانیں کھولنے اور گیس کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘  

 اس کا امکان کم ہی ہے کہ یہ منصوبے جلد شروع ہو جائیں گے۔

لوگوں نے ہمیں بتایا کہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کی حکومت اور بین الاقوامی برادری، دونوں نے انھیں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

بھوک ایک ایسی مہلک چیز ہے جس کے اثرات ہمیشہ یکدم ظاہر نہیں ہوتے۔

ہو سکتا ہے کہ دنیا کے نظروں سے دُور، افغانستان میں پیدا ہونے والا یہ بحران کبھی بھی صحیح معنوں میں سب کے سامنے نہ آئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اس کا شمار ہی نہیں کر رہا۔

اس رپورٹ کی تیاری میں اموجن اینڈرسن اور ملک مدثّر نے بھی حصہ لیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments