فیکٹری میں بنایا جانے والا گوشت حرام ہے یا حلال؟


 

اگست 2013 میں ایک اہم واقعہ ہوا۔ لندن میں ایک ایسا بیف برگر کھایا گیا جس کی قیمت نومبر 2022 کے ریٹ کے مطابق تقریباً ساڑھے سات کروڑ روپے تھی۔ یہ برگر سونے کا نہیں تھا، اس سے زیادہ قیمتی تھا، کیونکہ یہ لیبارٹری میں بنائے گئے مصنوعی گوشت کا تیار کردہ پہلا برگر تھا۔ خوراک کے ماہرین نے بتایا کہ اس کا ذائقہ بالکل اصلی گوشت کی طرح تھا، بس چکنائی نہیں تھی۔

گائے سے چند خلیات لے کر لیبارٹری میں ان کی افزائش کی گئی اور آخر کار برگر بنانے کے لیے پاؤ بھر گوشت مل گیا۔ اس ٹیکنالوجی کے لیے گوگل کے بانی سرگئی برن نے پیسہ دیا تھا۔ اب نومبر 2022 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے اپ سائیڈ فوڈز نامی کمپنی کے فیکٹری میں بنائے گئے مرغی کے گوشت کو انسانی خوراک کے لیے محفوظ قرار دیا ہے۔ یعنی اب اسے بازار میں بیچا جا سکے گا۔ اپ سائیڈ نے زندہ جانوروں کے خلیات استعمال کر کے یہ گوشت بنایا ہے۔

اسرائیل حسب معمول زراعت کے علاوہ اس میدان میں بھی بہت آگے ہے۔ وہاں امپاسبل فوڈز نامی کمپنی نے 2016 میں برگر متعارف کروایا تھا جو مقبول ہو رہا ہے۔ اس کمپنی کا فاسٹ فوڈ چین برگر کنگ سے بھی معاہدہ ہوا ہے اور اس کا برگر امریکہ میں برگر کنگ کے مینیو پر موجود ہے۔

مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی درجہ حرارت میں اضافے کا ایک بڑا سبب انسانوں کے لیے گوشت فراہم کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جس سے درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور سمندر کا پانی ہواؤں میں زیادہ شامل ہوتا ہے۔ پھر وہ پانی اتنی زیادہ بارش برساتا ہے کہ ایک تہائی پاکستان اس میں ڈوب جاتا ہے۔

ویسے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ذمہ داری گایوں پر عائد ہوتی ہے جو تبخیر معدہ کی دائمی مریض ہیں مگر مرغیاں بھی بہرحال اس جرم میں سہولت کار تسلیم کی جاتی ہیں۔ مصنوعی گوشت میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اس لیے ماہرین اسے صحت کے لیے اچھا قرار دیتے ہیں۔ یوں فربہ اندام لوگ اور دل ہارنے والے مریض اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔

خیر یہ تو مغربی سائنسدانوں کی باتیں ہیں۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ وہ سائنسی تحقیق محض اس نیت سے کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کو پریشان اور گمراہ کیا جائے۔ یہ مصنوعی گوشت بھی امت کے خلاف سازش ہی ہو گا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے اسرائیلی بنا رہے ہیں اور اسے سرگئی برن نے اسے پہلی بار بنانا ممکن بنایا ہے۔ یاد رہے کہ سرگئی برن یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ روس میں پیدا ہوا، اور اس کے والدین کو یہودی امیگرنٹ ایڈ سوسائٹی نے مدد کر کے امریکہ میں سیٹل کروایا تھا۔ ارب پتی بننے کے بعد سرگئی نے اس سوسائٹی کو عطیات بھی دیے ہیں۔

اب دیکھیں ان یہودی سائنسدانوں اور تاجروں کی حرکتیں۔ ہمیں پریشان اور گمراہ کرنے کی خاطر نہ صرف فیکٹری میں گوشت بنانا شروع کیا بلکہ اسے سب سے پہلے خود کھانا شروع کر دیا ہے تاکہ ہم بھی حرص میں مبتلا ہو کر اسے کھائیں۔

اب معاملہ یہ ہے کہ اگلے سوچ پچاس برس ہمارے جید علما چاند دیکھنے، کھیرا کاٹنے کے درست طریقے دریافت کرنے، مدنی تکیے اور قفل مدینہ عینک بنانے جیسے اہم فقہی معاملات پر ریسرچ کرنے کی بجائے اس بات پر اختلاف کرتے رہیں گے کہ فیکٹری میں تیار کردہ گوشت حلال ہے یا نہیں۔ یہ تحقیق ہو گی کہ جس جانور سے خلیے لیے گئے تھے وہ حلال تھا یا حرام۔ اس کے زندہ یا مردہ ہونے پر بھی بحث ہو گی کہ اگر مردہ تھا تو اسے اللہ اکبر پڑھ کر اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا تھا، یا جھٹکا کر دیا گیا تھا۔ یہ اختلاف بھی ہو گا کہ کیا زندہ جانور کا گوشت کاٹ کھانے والے احکامات کا اطلاق زندہ جانور سے خلیہ لے کر گوشت بنانے پر بھی لاگو ہو گا یا نہیں۔ یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ کیا ایک غیر مسلم کی فیکٹری میں تیار کردہ گوشت حلال ہو گا یا حرام۔

جب یہ سب اہم معاملات طے پا رہے ہوں گے تو سعودی شہزادے نے اچانک اپنے ملک میں اس کی بہت بڑی فیکٹری لگا کر گوشت بیچنے کا اعلان کر دینا ہے۔ اسے ویسے بھی یہ وارا کھائے گا۔ عرب کے بدو تو اپنے محبوب اونٹ کے لیے چارہ فراہم کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں تو گائے بھینس کو کہاں سے گھاس کھلائیں گے؟ انہیں تو یہ آسان لگے گا کہ اونٹ سے تین خلیے نکالیں اور فیکٹری میں ڈال کر گھاس کے بغیر ہی اس کے سو اونٹ بنا لیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر یہ میڈ ان سعودی عرب گوشت حلال ہو گا یا نہیں؟

اس بحث میں پاکستان کے بعض لبرل بھی کود پڑیں گے۔ وہ کہیں گے کہ بیف کے نام پر گھوڑا گدھا، مٹن کے نام پر کتا اور چکن کے نام پر مردہ مرغی کھانے سے تو یہ فیکٹری والا گوشت بہتر رہے گا۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہمیں دیسی لبرل بھی اچھے نہیں ملے۔ ان میں دور اندیشی نام کو بھی نہیں۔ کچھ سوچتے ہی نہیں۔ جو قوم کیمیکل سے خالص دودھ بنا کر بیچ ڈالتی ہو، کیا وہ گوشت بنانے کا سستا طریقہ تلاش نہیں کر پائے گی؟ عین ممکن ہے کہ پاکستانی فیکٹری کے تیار کردہ گوشت کے ڈبے میں سے بھی مصنوعی گوشت کی بجائے اصلی گدھا، گھوڑا، کتا یا اکھ میٹی مرغی ہی نکلے۔

اللہ جانے یہ یہودی ہمیں پریشان کرنے سے باز کیوں نہیں آتے؟ ماحول گرم ہوتا ہے تو ہوتا رہے، سیلاب آتے ہیں تو آتے رہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان؟ زیادہ بڑا سیلاب آیا تو مریں گے تو وہ ہی، ہم تو ویسے ہی بچ جائیں گے جیسے اللہ نے حضرت نوح اور ان کے پیروکاروں کو بچایا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments