دور تک دو لائنیں لگی ہوئی تھیں مردوں کی الگ خواتین کی الگ جنہوں نے جیل میں قید اپنے عزیزو اقارب سے ملاقات کرنی تھی لیکن ضابطہ کے مطابق ان قیدیوں کی ملاقات چونکہ پہلے ہو چکی تھی۔ اس لئے ان کی آج ملاقات نہیں ہو سکتی تھی۔ ان میں کچھ لوگ ملاقات کے لیے آئے تھے۔ کچھ رہائیوں کے لیے کچھ قیدیوں کے انگوٹھے لگوانے اور کچھ وکالت ناموں کے سلسلے میں تو اس طرح کے تمام معاملات کے حل کے لئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا تھا کہ اس طرح کے تمام لواحقین جن کے ضابطہ کے مطابق کام نہیں ہو سکتے تھے ان کی روزانہ گیارہ بجے لائن لگوا دی جائے تاکہ میں خود جیل کے باہر جا کر ان کی شکایات سنوں اور ان کا ازالہ کر سکوں۔
پاکستان پرزن رولز کے تحت سپرنٹنڈنٹ جیل کو بے پناہ اختیارات ہیں۔ اگر وہ انصاف اور انسانیت کو مد نظر رکھ کر ان اختیارات کو استعمال کرے تو اس سے بڑی نیکی اور انسانیت کی خدمت کوئی نہیں جیل میں بے انتہا غریب، مسکین، بے آسرا لوگ دنیا کے ستائے ہوئے اور اشرافیہ، پولیس اور مختلف اداروں کی زیادتیوں سے آئے ہوئے بے گناہ لوگ بند ہوتے ہیں۔ کم از کم جیل کے اندر اور کسی حد تک باہر ان کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔
Read more