سفر نامہ جاپان (10)

”پاکستان ہیروئن کی جنت“ ”لرزے ہے موج مَے تری رفتار دیکھ کر“ پروفیسر راجرز بتا رہے تھے : ”انسانی تاریخ کی طرح منشیات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ افیون، حشیش، ماری جوانا، کوکین، ہیروئن، ایل ایس ڈی۔ اس میں شراب کا ذکر نہیں ہو گا۔“ ” کیوں نہیں؟“ میں نے دل میں کہا یہی ایک نشہ ہے جس کے، جب زور سنبھالا ہے، ہم عادی ہو چکے ہیں۔ اس کا ذکر آتے ہی بن پیئے ہم پر نشہ چڑھ

Read more

جاپان کا تاج محل ”نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے“ (آخری قسط)

سیکوسن میرے کہنے پر رک گئی اور میں قدم روک کر عظیم الشان عمارت کو دیکھنے لگا۔ جو اس قدر شاندار اور عظیم الشان تھی اور اس کا حسن اور جلال اتنا مسحورکن تھا کہ مجھے تیز بارش اور اس کے تند و تیز تھپیڑوں کا کوئی ہوش نہیں رہا۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک بارش سے بے پرواہ ہو کر اس کو دیکھتا رہا۔ گیٹ کے باہر دونوں طرف گارڈین دیوا کے مجسمے ایستادہ تھے جو اس کا

Read more

جاپان کا تاج محل: نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے (3)

تو شوگو شرائن اور اس کی ملحقہ عمارتیں پہاڑی سلسلہ کے درمیان واقع ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ نومونٹین کے نام سے مشہور ہے۔ اس لئے ان کو نکو شرائن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمارات الوہی روشنی میں تاباں اور روشن دکھائی دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جاپان کے عظیم شوگن آئیاسو نے اس کے جاہ و جلال سے مرعوب ہو کر یہاں دفن ہونے کی خواہش اور درخواست کی تھی۔ آئیاسو جاپان کا ایک عظیم سپہ سالار

Read more

جاپان کا تاج محل: اور چاروں اور چیری بلازم کھل اُٹھے (2)

آخرکار وہ صبح بھی آ گئی جس کا اتنے عرصے سے انتظار تھا اور اس صبح جو نظارہ میں دیکھ رہا تھا وہ حیران کن تھا۔ روایتی جاپانی کمونو میں ملبوس خواتین، انگلش سکرٹ زیب تن کیے ہاتھوں میں نیلے، پیلے، سرخ رنگ کی چھتریاں لئے اس مارچ میں شامل تھیں۔ سامورائے کے جنگلی اور جنگی لباس میں جاپانی مرد ٹریکٹروں پر سوار تھے۔ سرخ اور پھول دار کمونو پہنے رقص کرتی ہوئی خواتین جلوہ افروز تھیں۔ اس کے علاوہ

Read more

جاپان کا تاج محل ” خیال ِ یا ر تیرے سلسلے نشوں کی رُتیں“ (پہلی قسط)

ہمارے سامنے سمندر تھا۔ ہم دونوں ساحل پر رکھے بنچ پر بیٹھے سمندر کا نظارہ کر رہے تھے۔ جہاں تک نظر پڑتی تھی پانی کی سلطنت تھی۔ پانی کی مدھر لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ اگرچہ سمندر کی وسعت دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی لیکن یہ سب اچھا بھی لگ رہا تھا۔ فضا میں سیگل کا شور تھا جو پانی کے اوپر چہکار رہی تھیں۔ بادبانی کشتیاں سمندر کی سطح پر بادبان کھولے رواں دواں تھیں۔ آسمان

Read more

یہ دشت کی تنہائیاں اور درد کا تنہا سفر: سفرنامہ جاپان

ہیرو شیما کی وحشتوں سے نکل کر ہم کیوٹو پہنچ چکے تھے ہمارے سامنے وسیع جنگل تھا حد نگاہ تک سرسبز و شاداب فصلیں اور درخت ہی درخت تھے جس طرح اشجار کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ اسی طرح میرے اندر لا متناہی خیالات اور الجھنوں کی کشاکش جاری تھی اگرچہ میرے ارد گرد میرے ساتھی تھے جن کا اس تمام عرصے خوبصورت ساتھ رہا۔ مسٹر چڑراج دادا رحمنٰ اور سیکوسن ان کے ساتھ گزرے بے مثال دن یاد گار راتیں

Read more

اصول یا انسانیت؟ جیل سے ایک کہانی

جب میری نظر پڑی بچہ خوشی سے کلکاریاں مار رہا تھا۔ کبھی باپ کی گود میں چڑھ جاتا، کبھی اس کے کندھوں پر چڑھنے کی کوشش کرتا۔ کبھی ماں کی طرف لپکتا۔ خاوند بیوی دونوں سامنے گراؤنڈ میں بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔ میں اپنے آفس میں بیٹھا کھڑکی سے باہر انہیں دیکھ رہا تھا۔ یہ بنگالی فیملی تھی بارڈر کراس کرنے کے جرم میں پاکستانی اداروں نے انہیں گرفتار کیا تھا۔ اب یہ دونوں بچے سمیت قیدی کی

Read more

سورج دیوتا کے دیس میں

جنت کی تلاش اٹھ بلھے آ یار منا لئے نہیں تیں بازی لے گئے۔ آوازوں کا شور ہے ان کا تلاطم رکنے میں نہیں آ رہا دائیں بائیں اوپر نیچے آوازوں کا ہجوم ہے کہ امڈتا چلا آ رہا ہے اتنے میں ایک بیٹے کی آواز ابھرتی ہے ”سنا ہے کل کتا بھونک رہا تھا“ اس کو کیا تکلیف ہوئی؟ ایک آدمی بولا ” اس کو بڑی تکلیف ہوئی ہے“ دوسرا بیٹا بولا! تیسرا بیٹا بولا! ”لگتا ہے اس کی

Read more

ٹشو کا ڈبہ اور وزیر اعلیٰ

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سر جھکائے میرے سامنے بیٹھا تھا وہ انتہائی پریشان تھا۔ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ جیسے خود کو کسی گہرے گرداب میں پھنستا دیکھ رہا ہو میں نے پوچھا ایسی کیا پریشانی ہے تو اس نے کہا سر مجھ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے جس میں میرا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ چند دن قبل مجھے ڈپٹی پریزیڈنٹ اور انچارج فیملی وارڈ نے آ کر کہا کہ سر ایک

Read more

سب کچھ ہے نا تمام میری جاناں تیرے بغیر

یہ زندگی بھی ایک عجیب گورکھ دھندا ہے اور انسان اس کائنات میں مظلوم ترین مخلوق ہے۔ اپنے ازل سے نا بلد، انجام سے بے خبر، منبع نا معلوم اور منزل ناپید۔ وہی صبح ہے، وہی آسمان ہے، وہی چاند اور ستارے ہیں، وہی سورج ہے، وہی ہوائیں ہیں، وہی فضائیں ہیں، مگر اس سارے منظر سے اگر ہوئی اپنی جگہ سے ہٹ رہا ہے تو وہ صرف انسان ہے کہنے کو افضل ترین، احسن تقوم پر بنایا گیا لیکن

Read more

”کس نے کہا تھا برکھا رت میں یوں بے دھیان انجان پھرو“ قسط۔ 6 (دوسرا حصہ)

صبح آنکھ کھلی تو موسم کافی بہتر تھا بارش رات کے کسی پہر رک گئی تھی۔ سورج نکلا ہوا تھا سفید بادل ہوا میں تیر رہے تھے موسم خوشگوار تھا ہوا میں اگرچہ ابھی تیزی تھی لیکن درخت خوشی سے جھوم رہے تھے ہر طرف پھول کھلے تھے تا حد نگاہ پھیلا ہوا درختوں کا سلسلہ دل میں سکون پیدا کر رہا تھا پرندوں کے جھنڈ اپنی اڑان میں تھے اور آسمان پر ان کی چہکار پھیلی ہوئی تھی۔ چونکہ

Read more

”کس نے کہا تھا برکھا رت میں یوں بے دھیان انجان پھرو“ قسط۔ 6 (پہلا حصہ)

صبح سے موسم بہت ٹھنڈا ہو گیا تھا بادل گھر آئے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جو لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی تھی۔ میں لاؤنج میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا امڈتے ہوئے بادل دیکھ رہا تھا۔ تیز ہوا میں درختوں کی ٹہنیاں زمین تک جھک رہی تھیں لیکن لوگوں کی آمدورفت میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ جاپانی لوگ اور غیر ملکی لوگ جو کافی عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں وہ موسموں کے اتار چڑھاؤ سے کافی

Read more

ٹوکیو کی دہلیز پر (5)

ٹوکیو جاپان کا دل اور اہم ترین شہر ہے۔ یہ پریوں کا دیس بھی کہلاتا ہے اور شہر دلفریب بھی۔ جس کی ہر چیز خوبصورت اور ہر ادا دلفریب ہے۔ جدید قدیم کا سنگم اور تضادات سے بھر پور ہے۔ بظاہر تضادات لیکن دونوں ایک دوسرے میں سمائے ہوئے۔ بیک وقت نیا اور پرانا اور اسی میں اس کی خوبصورتی ہے۔ ایک جانب سکائی سکر پر دوسری جانب لکڑی کا بنا ہوا قدیم مکان ایک جانب بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹ سٹور

Read more

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا دفتر کھلا چوتھی قسط

اگلے روز مس چیکو بنک کارڈ لے کر آ گئی الخاصی پھولے نہیں سماتا تھا اسے چیکوسن مل گئی ہمیں بنک کارڈ مل گئے ہم کو پہلی مرتبہ کسی جاپانی بنک کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جونہی ہم ایک جاپانی دوست کے ساتھ بینک میں داخل ہوئے سامنے مختلف کاؤنٹر پر بیٹھی سات آٹھ خواتین کھڑی ہو گئیں اور ”ارشے مسے۔ ارشے مسے“ کا شور برپا ہو گیا۔ میں خوفزدہ ہو گیا کہ شاید میری کسی غلطی کے

Read more

بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کی جیل ملاقات کا احوال

جناب زرداری صاحب فراش ہیں ان کے بارے طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں بہرحال وہ ہیں سخت بیمار۔ ایسے موقع پر ان کو بے نظیر کی یاد ضرور آتی ہو گی۔ وہ جب جب جیل میں رہے بلکہ ان کی زندگی کا طویل عرصہ جیل میں گزرا سردی ہو کہ گرمی محترمہ سخت سردی اور چلچلاتی دھوپ میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر جیل کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑی رہتیں محترمہ کی زرداری صاحب سے ایک

Read more

اولیا کی بڑھتی گھٹتی تعداد اور دہلی کا روحانی سفر

وزارت مذہبی امور سے فون آیا کہ اس مرتبہ نظام الدین اولیاء کے عرس کے لئے زائرین آپ کی نگرانی میں دلی جائیں گے۔ ہم کہاں کے دانا تھے میں نے زبانی بھی عرض کی اور پھر ایک درخواست کے ذریعے گزارش کی کہ مجھے اس ذمہ داری سے مستثنی کیا جائے کیونکہ میں ان زائرین کی نگہبانی اور ذمہ داری سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہو سکوں گا۔ لیکن بات نہ مانی گئی حکم اٹل تھا۔ آخر وہ دن

Read more

چہرے تھے جن کے چاند سے – تیسری قسط

جونہی میں ڈائننگ ہال میں داخل ہوا محسوس ہوا جیسے میخانے کا در کھل گیا ہو ڈائننگ ہال میں ایک شور برپا تھا اتنی آوازیں، اتنی زبانیں ہر ملک کے لوگ موجود تھے۔ کیا خواتین، کیا مرد، جوان، بوڑھے، یہ تمام لوگ اپنے اپنے ملک سے تربیت حاصل کرنے جاپان آئے تھے۔ ہر چہرہ اجنبی، ہر چہرہ ایک کہانی لئے ہوئے۔ وقت کی وہاں پر کسی کو فکر نہیں تھی، میز پر ہر طرح کے گلاس اور ہر رنگ کی

Read more

چہرے تھے جن کے چاند سے۔ دوسری قسط

سیکوسن کب کی جا چکی تھی لیکن دل میں اس کی یاد باقی تھی لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا وہ خواب و خیال بنتی جا رہی تھی خیال یار تیرے سلسلے نشوں کی رتیں ان کے جانے کے بعد اچانک مجھے باد سموم کا جھکڑ آتا محسوس ہوا میرے سامنے ہاگی ہارا کھڑا تھا آپ مسٹر لاوانی ہیں۔ اس کو دیکھ کر دل میں اک ہوک سی اٹھی کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول

Read more

چہرے تھے جن کے چاند سے ۔ پہلی قسط

نارتیا ائر پورٹ سے ٹوکیو تک نوے منٹ کا سفر ہے۔ روانہ ہوئے تو شام ہو چکی تھی۔ سورج کی سنہری کرنیں چند لمحوں کے لئے دکھائی دیں پھر نیلگوں دھند میں جذب ہو گئیں۔ موسم بہت خنک تھا۔ لیموزین بس اپنی مخصوص رفتار سے بھا کی چلی جا رہی تھی۔ سڑک کافی کشاد وتھی۔ بس میں با قاعدگی سے کمنٹری کی آواز آ رہی تھی۔ انجانا دیس انجانے لوگ، نہ زبان کا پتہ، نہ لوگوں کا علم مسلسل پرواز سے

Read more

پچیس سال بعد: رقاصہ کے قتل سے فنڈنگ تک جرم و سزا

  جنگ عظیم جاری ہے۔ توپوں کی گھن گرج ہے گولہ باری ہو رہی ہے مکانات جل رہے ہیں ہر طرف تباہی کا سماں ہے۔ جنگی جہاز آسمان پر چیلوں کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ فوجی گاڑیاں بھاگی پھرتی ہیں لیکن اس ماحول میں بھی فوجی افسران اپنی رنگینیوں میں مصروف ہیں اس ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے۔ ایک رات ایک رقاصہ کو بلا یا جاتا ہے لیکن بعد میں اسے پراسرار طریقے سے قتل کر دیا جاتا ہے

Read more

مغل اعظم، نیا شہزادہ سلیم اور انار کلی

میرے سامنے فلم چل رہی ہے بادشاہوں، شہزادوں اور کنیزوں کی جس میں ظل الٰہی کا وقار اور دبدبہ ہے شہزادوں کے خواب ہیں محبت کی داستانیں ہیں زندگی کی تلخیاں ہیں ٹوٹتی امیدیں ہیں جوش اور جنون ہے طاقت کی آنکھ میں شعلے ہیں جن کو دعاؤں اور حکمت عملیوں سے حاصل کیا گیا تھا ان لاڈلوں کی کہانیاں ہیں محسنوں اور احسان فراموشوں کی تلخ حقیقت ہے۔ شہنشاہوں کے بنائے گئے مضبوط قلعے جو کھنڈرات میں بدل گئے

Read more

آج کے بچوں کے لئے بھولی بسری کہانیاں

جنگل کا قانون (1) تم پانی گدلا کر رہے ہو بھیڑیے نے دھاڑتے ہوئے میمنے سے کہا میمنے نے ڈر سے کانپتے ہوئے کہا جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آ رہا ہے (میمنا پانی کے بہاؤ کی طرف کھڑا تھا) بھیڑیے نے کہا بولتے بہت ہو تمہاری زبان دراز ہے تم نے پچھلے سال بھی مجھے گالیاں دی تھیں جناب میں تو ابھی چھ ماہ کا ہوں پھر وہ تمہارا باپ ہو گا یہ کہہ کر

Read more

جہاں برف گرتی ہے

پہاڑوں پر برف باری شروع ہوتی ہے تو ملک کے کئی علاقوں سے بے شمار لوگ اپنی بیوی بچوں کو لے کر برف باری کا نظارہ کرنے کے لئے گھروں سے نکل پڑتے ہیں۔ ان کے محفوظ سفر کے لئے اسلامی تعلیم سے سرشار افراد کی دعائیں اور نیک دل حکمرانوں کی اشیر باد ان کے ساتھ ہوتی ہے اور ہماری دانست میں عوام کی خدمت کے لئے کروڑوں اربوں کی مالیت پر قائم بے شمار ادارے ان کے لئے

Read more

چور میرے محسن ہیں

صبح جب ہم اٹھے تو معلوم ہوا کہ ہماری ہمسائیگی میں ہمارے گھر سے ایک مکان چھوڑ کر اگلے مکان میں چوری ہو گئی ہے جہاں محکمہ زراعت کا ایک ملازم رہتا تھا۔ ہمارا گھر برلب سڑک تھا اور ان مکانات کی ایک لمبی لائن تھی جن کی چھتیں آپس میں جڑی ہوئی تھی اور کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی آپ ایک چھت پر چڑھیں اور آخری مکان کی چھت پر پہنچ جائیں۔ لوگ شام کو کھانا کھا کر اوپر

Read more

حکومتی رٹ زمیں بوس ہو گئی

یہ پچھلی صدی کے آخری سالوں کا واقعہ ہے جب میری پوسٹنگ بحیثیت سپرنٹنڈنٹ جیل ساہیوال تھی تو ایک قیدی اس شان سے لایا گیا کہ وہ بکتر بند گاڑی میں بند تھا اور اس کی سیکورٹی پر پولیس کی کافی نفری مامور تھی معلوم ہوا کہ یہ قیدی علاقے کا نامی گرامی جرائم پیشہ شخص ہے جو بھتہ خوری، منشیات، قتل و غارت اور ناجائز قبضوں میں ملوث ہے جب اس کے خلاف صوبائی دار الحکومت میں سنسنی خیز

Read more

انسان: وباؤں اور کٹھنائیوں کے درمیان اور عظیم صوفی

سپیدہ صبح نمودار ہونے والا تھا دھندلکا آہستہ آہستہ چھٹ رہا تھا۔ کہیں کہیں آسمان پر ستارے ٹمٹما رہے تھے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ پرندے ابھی گھونسلوں میں تھے۔ ان کے بچے ماؤں کے پروں کے نیچے گہری نیند سو رہے تھے۔ ابھی تھوڑی دیر بعد جب روشنی پھیلے گی تو پرندے اپنے اور اپنے بچوں کے رزق کی تلاش میں فضائے بسیط میں پھیل جائیں گے۔ کسی کیاری سے کسی کھیت سے ایک ایک دانہ اکٹھا کرنا اور

Read more

کیا افغانستان کی قسمت میں جنگ ہی لکھی ہے؟

افغانستان ایک میدان جنگ ہے اور اس میں صدیوں سے جنگ جاری ہے۔ عرصہ قدیم سے افغانستان حملہ آوروں کی گزر گاہ رہا ہے اور یہ سر زمین بغاوتوں، خانہ جنگیوں اور خونریزوں کی آماجگاہ بنی رہی اور سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ افغانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا زمین بند ملک ہے۔ زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے اس کے شمال مشرق سے جنوب مغرب تک کوہ ہندوکش کا خوفناک پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ کابل سے

Read more

اسلامبو فوبیا کی وجہ القاعدہ اور داعش ہیں: ظالمو ایسا نہ کرو (دوسری قسط)

یہ کوپن ہیگن ہے۔ ڈنمارک کا دارالحکومت۔ آج ہم بذریعہ ہوائی جہاز یہاں پہنچے ہیں یہ دو ماہ کا لمبا سفر تھا پچھلا سارا سفر زیادہ تر ٹرین کا تھا ہم جس شہر میں ٹھہرتے وہاں کے لوگوں سے ملتے ان کی زندگی کے کئی گوشوں سے واقفیت حاصل کرتے، ان کی خوشحالی اور خوشیاں دیکھتے تو رشک آتا ڈسپلن دیکھتے تو حیرت ہوتی کہیں ٹریفک پولیس نہیں لیکن کوئی بھگدڑ نہیں ہر چیز ایک نپے تلے انداز سے چل

Read more

ظالمو ایسا نہ کرو

اندازہ کریں کہ جو شخص اس وقت قضا و قدر کا مالک ہو، جس کے سپاہی فتح کے جھنڈے لہراتے اس شہر میں داخل ہو رہے ہوں جس کی زمین کبھی اس کے لیے تنگ کر دی گئی ہو۔ اس کا معاشی بائیکاٹ اس طرح کیا گیا ہو کہ بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور معصوم بچے بھوک کی شدت سے بلبلا اٹھے ہوں اور محصورین نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہوں، ان کو تپتی ریت پر لٹا کر تشدد کیا جاتا ہو، ان کو اس قدر اذیتیں دی گئیں ہوں کہ وہ اور اس کے ماننے والے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے ہوں، ملک بدر کر دیے گئے ہوں اور گھر سے بے گھر کر دیے گئے ہوں۔

وہی شخص جب ان مظلوم لوگوں کے ساتھ اسی شہر میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے تو اس طرح کہ اس کا سر جھکا ہوا ہے اور اس کا چہرہ عجز و انکساری سے بوجھل ہے، مظالم ڈھانے والے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ ایک اشارے سے ان کے سر تن سے جدا کر دیے جائیں گے۔ اس منظر نامے میں وہ شخص شہر میں داخل ہوتا ہے اور سب لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتا ہے ان الفاظ کے ساتھ کہ:
”آج کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔“

وہ شخص کیسا ہو گا؟

Read more

الیکشن کمیشن: کیا یہ دل کی آواز تھی؟

چوہدری غصے سے پھنکار رہا تھا کہ کیا وہ مجھ سے بھی زیادہ ایمان دار ہے۔ سر تھانیدار تو ایک طرف رہا وہ جو نیا سکول ٹیچر آیا ہے ، وہ بھی یہی کہتا پھرتا ہے کہ میں نے وہی بیان دینا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کی یہ جرأت کہ ہمارے علاقے میں رہتے ہوئے ہماری مخالفت کریں۔ یہ جو دو ٹکے کا ٹیچر ہے اس نے کیا دیکھا ہے۔ جناب گڈریا رات یہاں

Read more

پیرس کی خوبرو دوشیزہ اور لندن والا چور

ایفل ٹاور دیکھنے کے بعد میں دریائے سین کے پل پر کچھ دیر کے لئے بیٹھ گیا۔ ایفل ٹاور فولاد سے بنا ایک بلند ٹاور ہے جس کی بلندی ڈیڑھ ہزار فٹ سے بھی زیادہ ہے۔ جس کا ڈیزائن گستاؤ ایفل نے تیار کیا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں اس کی تعمیر اور ڈیزائن کے خلاف پیرس کی اشرافیہ اور آرٹ کے دلدادہ لوگوں نے کافی مزاحمت کی لیکن آج یہ ٹاور فرانس اور پیرس کی پہچان بن چکا ہے۔ شہر

Read more

نفرتوں کے درمیان بلونت سنگھ پریوار پر کیا گزری

دور تک دو لائنیں لگی ہوئی تھیں مردوں کی الگ خواتین کی الگ جنہوں نے جیل میں قید اپنے عزیزو اقارب سے ملاقات کرنی تھی لیکن ضابطہ کے مطابق ان قیدیوں کی ملاقات چونکہ پہلے ہو چکی تھی۔ اس لئے ان کی آج ملاقات نہیں ہو سکتی تھی۔ ان میں کچھ لوگ ملاقات کے لیے آئے تھے۔ کچھ رہائیوں کے لیے کچھ قیدیوں کے انگوٹھے لگوانے اور کچھ وکالت ناموں کے سلسلے میں تو اس طرح کے تمام معاملات کے حل کے لئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا تھا کہ اس طرح کے تمام لواحقین جن کے ضابطہ کے مطابق کام نہیں ہو سکتے تھے ان کی روزانہ گیارہ بجے لائن لگوا دی جائے تاکہ میں خود جیل کے باہر جا کر ان کی شکایات سنوں اور ان کا ازالہ کر سکوں۔

پاکستان پرزن رولز کے تحت سپرنٹنڈنٹ جیل کو بے پناہ اختیارات ہیں۔ اگر وہ انصاف اور انسانیت کو مد نظر رکھ کر ان اختیارات کو استعمال کرے تو اس سے بڑی نیکی اور انسانیت کی خدمت کوئی نہیں جیل میں بے انتہا غریب، مسکین، بے آسرا لوگ دنیا کے ستائے ہوئے اور اشرافیہ، پولیس اور مختلف اداروں کی زیادتیوں سے آئے ہوئے بے گناہ لوگ بند ہوتے ہیں۔ کم از کم جیل کے اندر اور کسی حد تک باہر ان کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔

Read more

سمیرا گمال: نیل کی ساحرہ

یہ سمیرا گمال ہیں۔ (اہل مصر جمال کو گمال بولتے ہیں۔) اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ان کے انگ انگ سے جمال پھوٹ رہا تھا وہ نام نہ بھی بتاتے تو ان کی شخصیت خود اس امر کی غماض تھی۔ بلبل صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا عالم عرب کی مشہور بیلے ڈانسر سمیرا گمال جن کا رقص دیکھنے کو ایک دنیا امڈ پڑتی ہے یہ نیل کی بیٹی ہیں۔ میں نے ان کے سراپا

Read more

قلوپطرہ کے دیس میں ایک گورنمنٹ سرونٹ پر کیا گزری

جہاز نے لینڈ کیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میرے سامنے دنیا کی قدیم ترین تہذیب، فرعونوں کی سرزمین تھی۔ توتن خامن کی سرزمین، دیوتاؤں کی سرزمین، ملکاؤں کی وادی، نیل کی وادی میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن حیرانی کی بات یہ تھی کہ میں چاروں طرف صحرا میں گھرا کھڑا تھا۔ ماسوائے ائر پورٹ کی چھوٹی سی عمارت کے اور کچھ نہیں تھا۔ کوئی سکائی سکریپر نہیں، شاہراہ نہیں، اہرام نہیں، کوئی امڈتا رکتا سبک رفتار طوفان خیز یورشیں کرتا دریا نہیں، کوئی کنار دریا نہیں، ہر طرف صحرا کی ویرانی ہے حد نگاہ تک صحرا پھیلا ہوا ہے اور صحرا کی ریت اڑ رہی ہے۔ میں حیران و پریشان کھڑا ہوں اور وحشت زدہ ہو کر سب کچھ دیکھ رہا ہوں ہوا میں آوارہ برگ صحرا میرے جسم سے ٹکرا رہے ہیں۔ موسم البتہ خنک ہے اور ہوا کے لطیف جھونکے میرے دل و دماغ میں فرحت پیدا کر رہے ہیں۔

Read more

بدھا کے حضور: گیان جیوتی کا دیا اور نربل سادھنا کی شکتی

جونہی ہم سڑک سے مڑے سامنے بلند چبوترے پر ایک دیو ہیکل پیکر دکھائی دیا۔ درختوں کے جھنڈ میں گھرا یہ مہاتما بدھ کا عظیم الشان مجسمہ تھا۔ جاپانی مہاتما کو دائی بتس Diabatsu کہتے ہیں۔ آلتی پالتی مارے بدھا پورے انہماک سے اپنی دنیا میں گم بیٹھے تھے ان کے چہرے پر اس قدر شانتی تھی کہ جس پر سکون کی کئی دنیائیں قربان کی جا سکتی تھیں۔ اس طرح کی شانتی تو دیکھنے والوں کو بھی سکون کی

Read more

بلوچ ٹرک ڈرائیور کی بچیوں کے چار روپے اور انسانیت کا رشتہ

تین سال قبل گرمیوں میں تعلیمی اداروں کو چھٹیاں تھیں اور عید کے قریب میں عملے کو تنخواہیں دینے لاہور سے اوکاڑہ روانہ ہوا اوکاڑہ پہنچ کر بائی پاس سے اتر کر شہر کی طرف ڈرائیور نے کار موڑ دی جب ہم چوک پر پہنچے تو ایک تیز رفتار ٹرک نے بائیں طرف سے کار کو ٹکر ماری جس طرف سے میں بیٹھا تھا ٹکر اتنی شدید تھی کہ میں بیہوش ہو گیا اس چوک پر امرود اور کنو کے تازہ پھلوں کی دیہاڑی دار لوگوں کی چھابڑیاں اور چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں چوک پر موجود ان لوگوں نے کار سے نکال کر مجھے بنچ پر لٹایا اور میرا موبائل نکال کر گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب کافی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو آنکھیں کھلنے کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ حضرت علی کا قول تھا کہ ”موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے“۔ میرے ارد گرد لوگ جمع تھے میں دیکھ سکتا تھا سن سکتا تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی بچ گئی ہے لیکن جب سر میں اور ٹانگوں میں درد کی شدت بڑی تو ان کا دوسرا قول ذہن میں آنے لگا کہ تم اتنے نادان ہو کہ بازار میں تمہارا کفن آ چکا ہے اور تمہیں خبر نہیں ہے۔

Read more

جاپان میں تعزیے جیسی رسم

محرم کا عشرہ شروع ہو چکا ہے جو ہمیں امام حسین کی بے مثل قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ تعزیہ ماہ محرم کی علامت ہے جب میں نے جاپان میں تعزیہ دیکھا تو حیران ہو گیا ٹریننگ کے دوران ٹوکیو میں جہاں ہماری اکیڈمی تھی۔ اسی پری فیکچر میں ایک مشہور شرائن تھی جس میں میلہ لگا ہوا تھا اور سارے پری فیکچر میں آج چھٹی تھی اور اسی حوالے سے ہمیں بھی چھٹی تھی۔ دادا رحمن، ڈاکٹر چٹر راج اور میں نے اس میلے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تو مسٹر مستو موتو، مسٹر ہاگی ہارا، مس چن اور سکیوسن بھی ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ چل پڑے اگرچہ میلہ دیکھنے کا شوق انہیں ہم سے بھی زیادہ تھا۔

بہرحال ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا جب ہم اکیڈمی کے باہر نکلے تو ہم نے سامنے ایک بہت بڑا تعزیہ رکھا ہوا دیکھا دس بارہ نوجوان پر جوش انداز میں اس کے گرد کھڑے تھے چونکہ اکیڈمی کے پاس وسیع میدان اور لان ہیں تو تعزیہ سب سے پہلے یہاں آتا ہے پھر لوگ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ تعزیہ کو جاپانی زبان میں مکوشی کہتے ہیں۔ مکوشی آنے کے بعد لوگ جوق در جوق اکٹھے ہو رہے تھے۔ ایک نوجوان اپنی زبان میں کچھ بولتا اور سارا ہجوم اس پر نعرے لگاتا۔

Read more

کریں گے اہل نظر تازہ مسجدیں آباد

ترکی صدر کی کاوشوں اور ان کے انتخابی وعدوں کے مطابق چھٹی صدی عیسوی کے تاریخی گرجا گھر کو آخر کار مسجد میں تبدیل کر دیا گیا جس میں نہ کوئی لشکر کشی کرنا پڑی نہ ہزاروں انسانوں کا خون بہا صرف عدالت سے فیصلہ لینا پڑا پھر امام مسجد نے ہاتھ میں تلوار لہرائی صدر اردوان نے تلاوت کی اور گرجا گھر مسجد میں بدل گیا۔ صوفیہ کے محراب و منبر سے اذان کی صدا بلند ہوئی اور فضا

Read more

ہیروشیما: اس دشت میں اک شہر تھا

ہیروشیما بہت خوبصورت شہر ہے۔ عمارتیں شاندار اور سڑکیں جاپانیوں کے دل کی طرح کشادہ ہیں۔ شہر دریائے اوتا کے ڈیلٹا میں واقع ہے جس سے سات شاخیں نکلتی ہیں جو اس شہر کے اندر سے گزرتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے چھ جزیرے بناتی ہوئی اور ان جزیروں پر ہیروشیما کا شہر آباد ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کی وجہ سے اس شہر کو بے شمار پلوں کے ساتھ آپس میں ملایا گیا ہے۔ سات دریاؤں اور چھ جزیروں پر مشتمل

Read more

معراج محمدخاں کی تا دم مرگ ہڑتال: ایک سچا اور کھرا انقلابی

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آدمی انقلابی ہو اور ابتلا سے نہ گزرے۔ اس کا کوئی آدرش ہو اور نظریاتی بحران میں خاموش تماشائی بنا رہے اور وہ ظلم اور زیادتی دیکھے اور خاموش رہے۔ ایسے موقعوں پر معراج محمد خاں جیسے لوگ جبر اور استبداد کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار نکل کر اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی لوگ معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ ان کی للکار، ان کا کلمہ حق، ان کا کردار

Read more

اگر زمین گردش کرتی توہم بندر کی طرح لٹکے ہوتے

کئی سال قبل منشیات کے موضوع پر سیمینار میں میرا شرکت کے لئے سنگاپور جانا ہوا۔ وہاں ایک ہفتہ کا قیام تھا جون کا مہینہ تھا۔ گرمی کافی تھی۔ سنگاپور ایک جزیرہ ہے۔ وہی شہر ہے اور وہی ملک ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ پرانی انڈین فلم کا ایک گیت بھی تھا۔ ”زندگی میں ایک بار آنا سنگاپور“ چھوٹے چھوٹے بیشمار جزیروں کے علاوہ ساتھ ہی ملحقہ چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ ”سنتوسا“ جس میں داخل ہوتے ہی بلاشبہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم جیسے جنت ارضی میں داخل ہو گئے ہوں۔ اس شہر کے چار حصے ہیں۔ ان میں ایک کا نام ”لٹل انڈیا“ ہے جس میں ان کے مندر، دکانیں، سٹور، ہوٹل موجود ہیں اور انڈیا کے لوگوں کی اکثریت وہاں آباد ہے۔

Read more

چاند اور چاند چہرے دکھی کیوں کرتے ہیں؟

یہ 1969 ء کی بات ہے جب نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا تو رات کو دنیا ٹی وی پر امڈ پڑی تھی۔ اگلی صبح میں پرانی انار کلی سے پنجاب یونیورسٹی جا رہا تھا دکاندار دکانیں کھول رہے تھے تو ایک باریش دکاندار نے سڑک کے دوسری طرف کھڑے مولوی صاحب سے طنزیہ لہجے میں پوچھا مولانا! رات آپ نے چاند پروگرام دیکھا تھا؟ مولوی موصوف نے تاریخی الفاظ بولتے ہوئے کہا، ”سب بکواس تھی اتنے پیارے چاند پر کون جا سکتا ہے۔ جسے ایک اشارے سے دو ٹکڑے کر دیا گیا تھا۔ یہ سب یہودیوں کا پروپیگنڈا ہے“ ۔ میں جو رات پروگرام دیکھ کر بڑا جذباتی ہو رہا تھا یہ سن کر کچھ شش و پنج میں پڑ گیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہو۔

Read more

ٹوکیو کا ہاچیکو نامی کتا اور مقامی غار کے سگان آستاں

سیکوسن نے اچانک کہا کہ اگلے سٹیشن کی بجائے ہم شبوئیا سٹیشن پر اتر جاتے ہیں میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ٹوکیو کا یہ بھی ایک اہم زیر زمین سٹیشن ہے میں آپ کو ایک یادگار چیز دکھانا چاہتی ہوں ہم اتر پڑے۔ سٹیشن پر خوب چہل پہل تھی چلتے چلتے ہم ایسی جگہ پہنچے جہاں کافی رش تھا سامنے ایک کتے کا مجسمہ تھا جس کے گرد سیاحوں اور مقامی نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ہجوم تھا کتے

Read more

مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص ہے

دیو جانس کلبی اپنی غار میں بیٹھا ہے کہ دنیا کا فاتح سکندر اعظم اس کے پاس آتا ہے اورکہتا ہے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں درویش فلسفی سر اٹھا کر فورآ جواب دیتا ہے ” آگے سے ہٹ جاؤ اور دھوپ کو اندر آنے دو“ سکندر بے توقیر ہو کر واپس چلا جاتا ہے دیو جانس کلبی ایک راہب فلسفی تھا جو ہمیشہ ہاتھ میں ایک چراغ لئے پھرتا رہتا تھا اور کہتا تھا ”مجھے ایک

Read more

اسوان بند کی ٹیکنالوجی میں گناہوں کا تمام بوجھ دھل گیا

دریائے نیل کا پانی رواں دواں ہے اس پر کروز اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کروز اس وقت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے لدا ہوا ہے باہر اندھیرا ہے کروز اندر سے بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ سٹیج پر آسمانوں سے اتری اپسراوں کی مانند بیلے ڈانسر اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ موسیقی کی دھنوں کے ساتھ ساتھ اس کے رقص کے زاویے بھی بدل رہے ہیں وہ کبھی سٹیج پر اپنے

Read more

میرا جسم میری مرضی اور کرونا وائرس

جب یہ سلوگن وائرل ہوا تو سوسائٹی میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کیا تعلیم یافتہ تو کیا مذہبی طبقہ۔ ان کی زبانیں شعلے اگلنے لگیں، طنز، نصیحتیں اسلامی ہدایات، مذہبی روایات اور پھر گالیوں کی بوچھاڑ۔ ہم ٹھہرے دیہاتی۔ بات کو ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جس کا جسم ہوگا مرضی بھی اسی کی ہوگی اس میں قباحت کیا ہے۔ جسم صرف جسم نہیں ہوگا جسم میٹافور بھی ہو سکتا ہے جس میں انسان کی پسند

Read more