’فوڈ پوائزننگ یا کورونا کا معاملہ نہیں‘: انگلینڈ کی آدھی ٹیم پہلے ٹیسٹ سے ایک دن قبل نامعلوم وائرس میں مبتلا


پاکستان
PA Media
راولپنڈی میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ سے صرف ایک دن قبل پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے آٹھ کرکٹرز وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جن میں ٹیم کے کپتان بین سٹوکس بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تین میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ جمعرات سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کی بدھ کے روز آپشنل پریکٹس تھی جس میں ہیری بروک، جو روٹ، کیٹن جیننگز، اولی پوپ اور زیک کرالی نے حصہ لیا۔

ٹیم کے متعدد کھلاڑی جن میں کپتان بین سٹوکس بھی شامل ہیں طبعیت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں آرام کر رہے ہیں جس کی انھیں ہدایت کی گئی تھی۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف جن کی تعداد 14 ہے بدھ کے روز ٹیم ہوٹل میں آرام کرتے رہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں اسلام آباد کے ایک ہی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہیں۔

اس وائرس کی نوعیت اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن بتایا گیا ہے کہ یہ علامات کورونا کی نہیں ہیں بلکہ یہ کھلاڑی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم مراکش سے تعلق رکھنے والا شیف عمر مزیان بھی اپنے ساتھ اس دورے پر لائی ہے جو ٹیم کے کھانے پینے کے معاملات کی نگرانی کررہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کھلاڑی اگلے 24 گھنٹے میں صحت یاب ہو جائیں گے۔

تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پنڈی ٹیسٹ کو ایک دن کی تاخیر سے شروع کیا جا سکتا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں دونوں کرکٹ بورڈز کی طرف سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے شیف عمر مزیان کون ہیں اور ٹیم انھیں اپنے ساتھ کیوں لائی ہے؟

پاکستان ٹیم میں شامل’مسٹری سپنر‘ ابرار احمد جن کی ’انگلیوں میں بہت جان ہے‘

ہیلز اور کمنز کا آئی پی ایل کھیلنے سے انکار: ’کرکٹرز کے لیے آرام بھی ضروری‘

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین جو روٹ نے بدھ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوڈ پوائزننگ یا کورونا کا معاملہ نہیں ہے اور امید ہے کہ کھلاڑی جلد خود کو بہتر محسوس کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کھلاڑی پہلے ٹیسٹ سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے لیکن وہ اس کے لیے کوشش ضرور کریں گے۔

جو روٹ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی ٹورز کے دوران انجریز اور بیماری جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

جو روٹ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر بین سٹوکس نہیں کھیلتے تو کیا وہ دوبارہ انگلینڈ کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں جس پر ان کا جواب تھا میرا نہیں خیال۔

جو روٹ کو امید ہے کہ اس سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلی جائے گی اور ان کی ٹیم اس تسلسل کو برقرار رکھے گی جو وہ پچھلی چند سیریز میں قائم کر چکی ہے۔

’ہماری سوچ واضح ہے کہ سمارٹ کرکٹ کھیلنی ہے، تیز کھیلنا ہے اور وکٹیں لینی ہیں۔‘

جو روٹ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو ٹاپ ٹیم بننا ہے تو اس کے لیے ہر کنڈیشنز میں جیتنا ضروری ہے۔

انگلینڈ کے کرکٹرز کے وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی بھی ملتوی کر دی گئی۔ اب یہ تقریب میچ شروع ہونے سے قبل منعقد ہو گی۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم سترہ برس کے طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستان آئی ہے۔ اس نے پہلے ٹیسٹ کے لیے اپنے سکواڈ کا اعلان بھی کر دیا تھا جس میں بین سٹوکس (کپتان)، زیک کرالی، بین ڈکیٹ، اولی پوپ، جو روٹ، ہیری بروک، بین فوکس، لیئم لونگسٹن، اولی رابنسن، جیک لیچ اور جیمز اینڈرسن شامل ہیں۔

لیئم لونگسٹن اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کریں گے جبکہ بین ڈکیٹ چھ سال بعد پہلا ٹیسٹ کھیلیں گے۔ وہ آخری مرتبہ 2016ء میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ کھیلے تھے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp