آواز دوست: تاریخ اور قحط الرجال


” آواز دوست“ کے پہلے حصے میں مختار مسعود نے تاریخ کو موضوع بنایا۔ وجہ شاید یہ ہے کہ وہ چونکہ خود بیوروکریٹ تھے اور تاریخ کا خاصا مطالعہ رکھتے تھے۔ جب مینار پاکستان تعمیر ہوا تو وہ تعمیری کمیٹی کے صدر تھے۔ انھوں نے مینار پاکستان کے ذریعے سے تعمیر پاکستان کے حالات کو پیش کیا۔ پھر دنیا میں موجود اور بہت سے میناروں کا تذکرہ بھی کیا۔ ان میناروں کی پائیداری اور ناپائیداری پر بحث کی۔ ان کی خصوصیات اور انفرادیت کو بھی بیان کیا۔ ان معماروں کی حوصلہ مندی اور دور بینی کو بھی تاریخ میں جگہ دی۔ اور پھر ان میناروں کا موازنہ مینار پاکستان سے کیا۔ اور بتایا کہ یہ واحد مینار ہے جو کسی قرار داد کے منظور ہونے کی خوشی اور یاد میں بنایا گیا ہے۔

مختار مسعود نے قیام پاکستان کی تعمیر و تشکیل کے حقائق بھی بیان کیے ہیں۔ اسی پس منظر میں قیام پاکستان سے قبل اور بعد کے حالات بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں انسان کی تعمیر کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں : بدی اور نیکی کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو ننگ کائنات اور ایک قدم آگے بڑھ جائیں تو اشرف المخلوقات، درمیان میں ٹھہر جائیں تو محض ہجوم آبادی۔ 14 اگست 1947 کو بعض لوگوں نے یہ قدم پیچھے کی جانب اٹھایا۔

تاریخ آگے بڑھ رہی تھی اور تاریخ ساز پیچھے ہٹ رہے تھے۔ تاریخ کو اس انداز سے پیش کرنے کا ہنر ہر ایک کو نہیں آتا۔ یہ کمال کم ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ جن میں ایک مختار مسعود بھی ہیں۔ مختار مسعود نے یہاں یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ تاریخ ہی کسی قوم کو نکھارتی ہے اور تاریخ ہی کی وجہ سے قومیں طنز کا نشانہ بنتی ہیں۔

” آواز دوست“ کے دوسرے حصے کے لیے مختار مسعود نے ”قحط الرجال“ کا عنوان تجویز کیا۔ ان کا خیال ہے کہ ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں یہ بڑے لوگوں کے قحط کا زمانہ ہے۔ کیونکہ زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں۔ مختار مسعود نے منتخب شخصیات اور ان کی صفات کا ذکر کیا ہے، جن سے وہ خود متاثر تھے اور جو اپنے زمانے کے نابغہ عصر تھے۔ انھوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ اب قحط پڑ گیا ہے۔ بڑے لوگ اب پیدا نہیں ہو رہے۔

یہاں مختار مسعود نے فرعون کے اس خواب کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں وہ دیکھتا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔ اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے مختار مسعود کہتے ہیں کہ میری آٹو گراف البم کے دو حصے ہیں یہ نصف بھر چکی ہے اور نصف خالی ہے۔ پہلا حصہ خوشحالی کے سات گزرے ہوئے سالوں کی یادگار ہے اور دوسرا اس خشک سالی کی نشانی ہے۔ قحط الرجال کے یہ سات سال اتنے طویل ہو گئے ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مختار مسعود کو اس بات کا شدید قلق تھا کہ معاشرے میں محسن کشی کی وہی قبیح صورت نمو پا رہی ہے جو بروٹس اور جولیس سیزر کے زمانے میں تھی۔

قحط الرجال میں انھوں نے جن لرجالوں کا ذکر کیا ہے بے شک وہ اپنے زمانے کے نمایاں لوگ تھے۔ انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اسی لیے مختار مسعود نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اب زمانہ ایسے رجالوں سے محروم ہو گیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ انھوں نے خود کو امید بھی دلائی ہے کہ فرعون کے اس خواب کی تعبیر کے مطابق ایک دن تو اس قحط کا زور ٹوٹے گا اور پھر وہ سال چڑھے گا جس سال مینہ خوب دل کھول کر برسے گا۔ میں اک دشت بے آب میں اس بارش کا انتظار کر رہا ہوں اور اک ہجوم آبادی میں انسان کی تلاش کر رہا ہوں۔ میرے ایک ہاتھ میں چراغ رکھا ہوا ہے اور دوسرے میں میری آٹو گراف البم۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments