جب لنڈے کے کوٹ سے ایک لاکھ سترہ سو ڈالر نکلے (سچی کہانی) :


دسمبر سنہ 2010 کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب ایک روز مجھے نیویارک میں لاہور سے سلیم نام کے ایک پرانے دوست کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ان دنوں موبائل فون پر عموماً بیرون ممالک خصوصاً پاکستان سے آنے والی کالوں کے اصل نمبروں کی بجائے سکرین پر نامعلوم یا پرائیویٹ نمبر ظاہر ہوتے تھے۔ میرے دوست لاہور کے کسی پی سی او سے کال کر رہے تھے۔ ابتداء میں تو میں ان کی آواز سن کر ڈر گیا کہ خدانخواستہ کوئی بری خبر سنانے کے لیے انہوں نے مجھے کال نہ کی ہو۔

کیونکہ پچھلے دس سال کے دوران سلیم کی جانب سے مجھے امریکہ میں یہ پہلی کال تھی۔ سلیم سے میں نے گھبراہٹ میں پوچھا کہ ”سب خیریت تو ہے نا، اور تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟ اس پر وہ کہنے لگا کہ“ جی سب خیریت ہے، فکر والی کوئی بات نہیں۔ نمبر آپ کا میں نے آپ کے گھر سے حاصل کیا ہے۔ میں نے آپ کو ایک اچھی خبر سنانے اور کچھ معلومات لینے کے لیے فون کیا ہے۔ ”سلیم کے منہ سے یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ہوئی۔

میرے استفسار پر سلیم نے مجھے ایک دلچسپ اور حیرت انگیز واقعہ سنایا، کہنے لگا کہ ”انہیں سردیوں میں نائٹ ڈیوٹی کے لیے ایک لانگ گرم کوٹ کی ضرورت تھی۔ جس کے لیے انہوں نے لاہور کی لنڈا بازار مارکیٹ کے ایک پٹھان سے ایک کوٹ خرید لیا۔ پہلے وہ کوٹ سیدھا ڈرائی کلین والے کے پاس لے کر جانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم پھر راستے میں ہی کوئی ضروری کام یاد آ جانے کے باعث یہ سوچ کر سیدھا گھر آ گیا کہ اگلے روز کوٹ کو ڈرائی کلین کے لیے دے دوں گا۔“

سلیم نے مجھے مزید بتایا کہ ”گھر میں دیگر کاموں سے فارغ ہو کر وہ روٹین میں کوٹ کو دوبارہ پہن کر ٹرائی لینے لگا تو اس دوران انہیں کوٹ کی ایک اندرونی جیب میں کوئی چیز محسوس ہوئی۔ تجسس میں اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہاں سے سترہ سو ڈالر جبکہ کوٹ کی دوسری جیب سے ایک لاکھ ڈالر کا ایک نوٹ ملا۔ جسے دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اس طرح لنڈے کے ایک کوٹ سے وہ پل بھر ایک لاکھ سترہ سو امریکی ڈالر کے مالک بن گئے۔ یہ سب دیکھ کر ساری فیملی کی خوشی دیدنی تھی۔ اچانک اس لاٹری نما چھکا لگنے سے گھر میں پلان بننے لگے کہ اتنی بڑی رقم کو کیسے خرچ کیا جائے۔“

انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ سترہ سو ڈالر تو انہوں نے اگلے ہی روز ایک منی ایکسچینج والے سے تبدیل کروا لیے تھے۔ مگر ایک لاکھ ڈالر کا نوٹ نہ کوئی لینے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے سٹیٹ بینک سمیت ایک دو دوسرے بنکوں میں بھی جا چکے ہیں۔ مگر سبھی کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے آج تک ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کے متعلق نہیں سنا کہ یہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ سب نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آج اسے پہلی بار آپ کے پاس دیکھا ہے۔ ”سلیم کا مجھے کہنا تھا کہ“ امریکہ آپ کو خصوصی طور پر فون کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ آپ وہاں کے کسی بنک سے ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کے متعلق معلومات حاصل کر کے انہیں جلدی آگاہ کریں۔ ”

ایک تو مجھے اتنی بڑی رقم لنڈے کے کوٹ سے نکلنے پر بے حد خوشی ہوئی کہ چلیں دوست کی کچھ غیب سے مدد ہو گئی ہے۔ مگر انتہائی حیرت ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ پر ہوئی تھی۔ جو ہم نے بھی گزشتہ کئی سال سے امریکہ میں رہتے ہوئے نہ دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے متعلق سنا تھا۔ میں نے فوری طور پر سلیم سے تو یہی کہا کہ ”امریکہ میں بڑے سے بڑا نوٹ بھی 100 ڈالر کا ہے۔ جو آپ کے ہاتھ لگا ہے وہ یقیناً کوئی سرٹیفیکیٹ یا بانڈ کی صورت میں ہو گا۔ پھر بھی میں اس کے متعلق مکمل معلومات لے کر آپ کو جلد آگاہ کروں گا۔“

میں دو روز بعد نیویارک کے علاقے کوئینز میں میں اپنے بنک گیا تو مینجر سے مل کر اسے کوٹ سے ملنے والی رقم کی کہانی سنائی۔ جسے سن کر مینجر بیک وقت خوش اور انتہائی حیران بھی ہوا۔ اس کا بھی فوری جواب یہی تھا کہ امریکہ میں بڑے سے بڑا نوٹ صرف سو ڈالر کا ہے۔ ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ سے متعلق وہ بھی بے خبر پایا گیا۔

تاہم میری درخواست پر مینجر نے معلومات کے لیے کسی اور جگہ فون کیا۔ وہاں سے ابتدائی معلومات یہ ملیں کہ ایک لاکھ ڈالر کا نوٹ اب امریکہ میں رائج نہیں ہے۔ ایسا نوٹ ماضی میں محدود تعداد میں گولڈ سرٹیفکیٹ کے طور چھاپا گیا تھا۔ یہ نوٹ صرف امریکی خزانہ سے متعلقہ بنکوں یا مالیاتی اداروں کے درمیان لین دین کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مگر اسے کبھی بھی عوام کے زیر استعمال نہیں لایا گیا۔ موجودہ دور میں اب بنک یا مالیاتی ادارے اسے قبول نہیں کرتے۔

انٹرنیٹ پر مزید تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ 1934 ء سے 1935 ء کے دوران حکومتی سطح پر ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ گولڈ سرٹیفکیٹ کے طور پر چھاپے گئے تھے۔ تاہم یہ کبھی بھی عام استعمال کے لیے پبلک رسائی میں نہیں رہے۔ ان کا استعمال صرف فیڈرل ریزرو بنکوں کے درمیان ٹرانزیکشنز کے لیے ہوتا رہا ہے۔ مگر 1960 ء سے ان کی کی ترسیل بھی بند کر دی گئی ہے۔ نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری کے مطابق 1974 ء میں امریکی صدر فورڈ کے ایک ایگزیکٹو آرڈر سے ایک لاکھ ڈالر کے گولڈ سرٹیفیکیٹس نوٹوں کو اپنی ملکیت میں رکھنے، ان کی ٹریڈنگ یا خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

جب میں نے سلیم کو فون کر کے یہ معلومات دیں تو وہ انہیں سن کر سخت مایوس اور افسردہ ہو گیا۔ تاہم میں نے اسے تسلی دی کہ ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کو وہ اب بھول کر باقی 1700 سو ڈالروں کو انجوائے کرے۔ ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کو چاہے تو سنبھال کر رکھ لے، چاہے اسے ضائع کر دے۔ کیونکہ اب اس لاکھ ڈالر نوٹ کی حیثیت محض کاغذ کے ایک ٹکڑے کی سی ہے۔

کچھ دنوں کے بعد سلیم کے ساتھ اسی سے جڑا ایک اور واقعہ ہو گیا۔ ہوا یوں کہ لاہور میں جن بینکوں کے پاس وہ ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کی معلومات لینے کے لیے گیا تھا۔ ان میں سے کسی بنک نے اس کے شناختی کارڈ سے اس کا نام اور ایڈریس نوٹ کر کے مقامی پولیس کو اطلاع دے دی کہ اس نام و پتے سے کوئی شخص ان کے پاس ایک لاکھ ڈالر کا امریکی نوٹ لے کر آیا تھا۔

بس پھر کیا تھا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار ایک دن سلیم کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے گھر پہنچ گئے اور اس سے ایک لاکھ ڈالر کے نوٹ کے متعلق پوچھ گچھ شروع کر دی۔ اس پر سلیم نے سارا ماجرا انہیں جوں کا توں بیان کر دیا کہ کس طرح لنڈے بازار کی فلاں دکان کے فلاں پٹھان سے انہوں نے یہ کوٹ خریدا تھا جس کی جیبوں سے اسے ایک لاکھ ڈالر کا نوٹ اور سترہ سو ڈالر ملے ہیں۔

سلیم چونکہ ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھے۔ اس لیے پولیس نے ان سے زبانی تفتیش کے علاوہ انہیں مزید کچھ نہ کہا اور واپس چلے گئے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ پولیس مزید تفتیش کے لیے لنڈے بازار کی مذکورہ دکان کے پٹھان کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی تھی۔ جہاں معلوم نہیں کس طرح پٹھان نے اپنی جان چھڑائی تھی۔ اور نہ ہی اس بابت معلوم ہو سکا کہ آیا پولیس نے پٹھان کی دکان میں موجود باقی کوٹوں کی جامہ تلاشی بھی لی تھی یا نہیں۔

اس واقعہ کو کئی سال گزر گئے۔ ایک دو بار میرا پاکستان جانا ہوا مگر سلیم سے ملاقات نہ ہو سکی۔ البتہ کبھی کبھار فون پر رابطہ ہو جاتا تھا۔ پھر کرونا کے ابتدائی دنوں اپریل 2020 ء میں اچانک ایک روز خبر ملی کہ ہارٹ اٹیک کے باعث سلیم کا انتقال ہو گیا ہے۔

سلیم میٹرک کے بعد ملتان سے لاہور آیا تھا۔ جہاں ایک سیلف میڈ انسان کے طور پر اس نے خوب محنت کی۔ اس نے لاہور کے متعدد ہوٹلوں میں ویٹر سے لے کر شیف اور مینجر کی ملازمتیں بھی کیں۔ پھر اسے چانس ملا اور وہ ہوٹل فیلڈ میں وسیع تجربہ ہونے کے باعث کسی بڑے ہوٹل کی ملازمت میں عراق چلا گیا تھا۔ وہاں کئی سال گزارنے کے بعد واپس لوٹا تو لاہور میں اس نے اپنا ریسٹورنٹ شروع کر دیا۔ جو کچھ عرصہ تو خوب چلا۔ مگر بعد میں کام مدھم پڑنے کے باعث ریسٹورنٹ فروخت کر کے اس نے ایک سرکاری محکمے میں ٹیوب ویل آپریٹر کی ملازمت کر لی تھی۔ جو اس کی وفات تک جاری رہی۔

خوش قسمتی کبھی نہ کبھی آپ کے دروازے پر ضرور دستک دیتی ہے۔ چاہے وہ لنڈے سے خریدے ہوئے کوٹ یا کسی اور شکل میں ہو۔ نجانے وہ کوٹ کس کا تھا؟ اور کتنے ہاتھوں سے ہوتا ہوا سلیم تک پہنچا تھا۔ اب بھی جہاں مجھے مرحوم سلیم کو کوٹ کی جیب سے ملنے والی رقم کا تصور خوشگوار حیرت اور مسکراہٹ سے دوچار کر دیتا ہے وہیں دوسرے ہی لمحے کوٹ کے اصل نامعلوم مالک کا خیال بھی دکھی کر جاتا ہے کہ کوٹ میں اپنی رقم بھول جانے کا صدمہ اسے کتنا بے چین کرتا رہا ہو گا۔ اور کون جانے اب وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments