جب نہتے پاکستانی ڈکوٹا جہاز نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو ناکام کیا


” جب تم مجھے ابھی تک اپنی گرفت میں نہ لے سکے تو پھر کبھی ایسا نہیں کر سکو گے، بظاہر یہ الفاظ ہالی وڈ کی کسی ایکشن فلم کے ہیرو کے لگتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ الفاظ تاریخ میں پاکستان فضائیہ کے ایک پائلٹ مختار احمد ڈوگر ستارہ جرات کے ہیں جنہوں نے یکے بعد دیگرے تین مختلف فضائی قوتوں کے ساتھ خدمات انجام دیں، اگر ان کی زندگی میں پیش آنے والے نہتے ڈکوٹا کو بچا لانے والا قصہ شامل نہ ہوتا تو شاید تاریخ میں ان کا ذکر ہمیں نہ ملتا۔

15 مئی 1920 ء میں صوبہ پنجاب کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اعلی تعلیم ایگری کلچر کے شعبے میں حاصل کی، اس زمانے میں دوسری جنگ عظیم جاری تھی، شاید جس کی بنیاد پر ہی مختار احمد ڈوگر نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد رائل ائر فورس میں شمولیت اختیار کی، جہاں 29 مارچ 1943 ء میں کمیشن حاصل کیا۔ فلائنگ افسر کی حیثیت سے دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ میں شرکت کی، رائل انڈین ائر فورس سے 22 دسمبر 1946 ء کو ریٹائرمنٹ لے لی پھر دوبارہ ایگری کلچر کے شعبے سے وابستہ ہو گئے، لیکن پاکستان بنے کے بعد پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی، کشمیر کے مسئلے پر حالات جلد خراب ہونے شروع ہو گئے۔

کشمیر میں رائل پاکستان ائر فورس کی جانب سے وادی کی پرواز کے نام سے پروازوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس زمانے میں پاکستان، ہندوستان اور دنیا کے مختلف فضائی افواج میں امریکی ساختہ ڈی سی 3 ڈکوٹا طیارے مال برداری اور دیگر آپریشنز میں زیر استعمال تھے۔ 1947 ء میں کشمیر میں جنگ جاری تھی، یہی طیارہ لے کر مختار احمد ڈوگر اور فلائٹ لیفٹیننٹ جگ جیون سپلائی مشن پر رسالپور سے اسکردو کے لئے روانہ ہوئے، پاک فضائیہ کی سرکاری تاریخ کی کتاب میں یہ واقعہ کیسے لکھا ہے، میں یہاں کچھ حصے آپ کی نظر کر رہا ہوں۔

میں 4 نومبر 1947 کو اعلی الصبح اپنے مشن پر روانہ ہوا، موسم عمدہ تھا اور حوصلے انتہائی بلند موجودہ معروف وادی سندھ میں پیچ و خم دکھاتے ہوئے میں اپنا سامان سکردو کے قریب ایک ریتلی وادی میں گرایا۔ اپنی ایک مزید کارروائی پر خوش ہوتے ہوئے واپسی پر ذرا سستانے کے غرض سے طیارے کا کنٹرول فلائنگ افسر جگجیون کے حوالے کر دیا۔ ہم چلاس کے حدود میں تھے کہ میری نظر فضاء میں دو ٹیمپسٹ طیاروں پر پڑی جنھیں اپنے طیارے سمجھا، کیونکہ مجھے اس علاقے میں دشمن کے طیاروں کی موجودگی سے متعلق کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی۔

لیکن جونہی طیارے قریب پہنچے تو ان کی صحیح شناخت ہو گئی، میں نے فوراً طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بھارتی ہوابازوں کو میرا کچھ دیر سستانا سخت ناگوار گزرا تھا، چلاس کے مقام پر وادی پانچ میل چوڑی ہے جس کے باعث فضائی داؤ پیج کے لئے طیارے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی، ٹیمپسٹ (بھارتی طیارے ) نے مجھے قریب ترین بھارتی اڈے پر اترنے کا حکم دیا، مگر میں نے اس حکم کی کوئی پروا نہیں کی، جس پر ہندوستانی پائلٹ نے تین پر اعادہ کیا، لیکن میں نے جواب نہ دیا، اس مرحلے پر بھارتی ہوابازوں کی جانب سے میرے طیارے کو مار گرانے کی دھمکی دی اور ظاہر ہے وہ مسلح تھے، یونہی فضاء میں گولیوں کی ایک بوچھاڑ داغ دی، تاہم میں بے خوف ہو کر اپنی کوشش جاری رکھی۔

mukhtar ahmad dogar
مختار احمد ڈوگر ستارہ جرات ونگ کمانڈر ایس ایم حسین کی پینٹنگ کا عکس، جس میں پاکستانی ڈکوٹا اور حملہ آور بھارتی لڑاکا طیارے نمایاں ہیں

جب یہ معرکہ جاری تھا پیچھے بیٹھے ساتھی فوجیوں کا خیال تھا کہ شاید میں ان کو اپنی پرواز کی مہارت دکھا رہا ہوں، آ کر کہنے لگا، سر ہمیں پتہ ہے آپ اچھا جہاز اڑاتے ہیں، لیکن ہمارا امتحان کیوں لے رہے ہیں، لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ ہم پر بھارتی طیارے حملہ کر رہے ہیں تو صوبیدار نے کہا جناب جہاز آپ پہاڑ سے ٹکرا دیں پر ہندوستانیوں کے ہاتھوں جہاز مت دیجئے گا، میں نے ان کو یقین دلایا آپ پیچھے آرام سے بیٹھے طیارہ پاکستان میں ہی اترے گا۔

تاریخ میں مزید لکھا ہے کہ، اسی اثنا ء میں ایک بھارتی طیارہ فارمیشن سے علیحدگی اختیار کر کے بلندی پر پہنچا اور ہماری جانب حملے کے لئے لپکا، اس دفعہ دشمن نے پوری سنجیدگی سے 20 ایم ایم راکٹوں کی ایک باڑ داغی جس کے نتیجے میں نائک دین محمد مہلک زخموں سے دوچار ہو گئے، فلائنگ افسر جگجیون پر بے ہوشی طاری ہو گئی، ائر سگنلر محسن کو اسٹرو ہیج میں کھڑے ہو کر دشمن کے حملے کے وقت ٹہوکا (Kick ) لگانے کی ہدایت کی، تین بار مجھے ٹہوکا لگا، تینوں مرتبہ میں نے مکمل فلیپس اور بائیں رڈر کو استعمال میں لاتے ہوئے درمیانی رفتار کے ساتھ موت سے بچ نکلے میں کامیاب رہا، میں اب تقریباً عرشے کی بلندی کے ساتھ پانی کی سطح سے ذرا اوپر پرواز کر رہا تھا، چنانچہ دشمن کے آخری حملے کے بعد میں بھارتی ہوا بازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”جب تم مجھے ابھی تک اپنی گرفت میں نہ لے سکے تو پھر کبھی ایسا نہیں کر سکو گے، یہ بات شاید ان کو سمجھ آ گئی اور وہ ناکامی کے عالم میں پسپا ہو گئے۔

Pakistani and Indian Tempest Fighters
بھارتی اور پاکستانی ٹیمپپسٹ لڑاکا طیارے

پاک فضائیہ کی سرکاری تاریخ کے مطابق 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا۔ اس کار شجاعت پر فلائنگ افسر ڈوگر کو ستارہ جرات کا اعلیٰ فوجی اعزاز دیا گیا۔

پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا، نومبر 1947 کے وسط میں بھارتی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر انچیف ائر وائس مارشل ایس مکرجی اس وقت کے پی اے ایف کمانڈر ائر وائس مارشل پیری کین سے ایک مصالحتی معاہدے بات چیت کے لئے کراچی پہنچے، اس میٹنگ میں طے پایا کہ علاقۂ جنگ سے باہر ہمارے غیر مسلح بار بردار طیاروں اور مواصلاتی طیاروں پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

پاک فضائیہ کی تابندہ روایتوں کے امین مختار احمد ڈوگر ائر کموڈور کی حیثیت سے پاک فضائیہ سے 21 اگست 1968 ء سبکدوش ہوئے، 5 جون 2004 ء میں ان کا انتقال ہوا۔

ایکسٹرا پوائنٹس اور ریفرنسز

ڈکوٹا ایک مال بردار طیارہ تھا، جو یقیناً حملہ آور طیاروں جیسے ٹیمپسٹ یا کسی اور طیارے سے لڑائی میں اس کا کوئی موازنہ نہیں تھا۔

مختار احمد ڈوگر اور ان کے معاون پائلٹ الفرڈ جگ جیون کا ریکارڈ جیسے مجھے بھارتی ویب سائٹ پر ملا جو پیش خدمت ہے، افسوس کہ پاکستان ائر فورس کی کسی بھی ویب سائٹ پرسے مجھ ناچیز کو کسی قسم کا ریکارڈ نہیں مل سکا، پاکستان ملٹری کنسورشیئم نامی ویب سائٹ ہوا کرتی تھی، جو غیر محفوظ (Insecure) کے کاشن کے ساتھ نظر آئی، جو اسی وجہ سے نہیں کھولی گئی، لیکن جس طرح کا ریکارڈ آج بھی ایک پاکستانی پائلٹ کا بھارت رکشک ڈاٹ کام سے ملا، افسوس رہے گا، یہ لکھتے ہوئے پر سچ ہے۔ ایسے ہی بہت سے واقعات اب شاید آن لائن تحقیق کرنے والوں کو کبھی نہ مل سکیں گے۔ یہ ضروری نہیں کے ائر فورس ہی یہ کام کرے، لیکن تاریخ کورے کاغذات کا ڈھیر نہیں ہوا کرتی، پاک فضائیہ کی تاریخ کے حوالے سے کتب مارکیٹ اور لائبریریوں میں آتی رہتی ہیں۔

https://www.bharat-rakshak.com/IAF/Database/2353

http://www.bharat-rakshak.com/IAF/Database/1955

بعد میں 1992 میں شائع ہونے والی ہندوستانی کتاب فضائیہ سائیکی آف پاکستان ائر فورس میں اس قصے کا ذکر صفحہ نمبر 13 پر ملتا ہے، اگر کچھ وقت کے لئے ہم اس واقعے کو صحیح نہیں سمجھتے تو ہندوستانی اس کا ذکر کرتے ہی نہیں۔

Facebook Comments HS