جنگ ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟

آج جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو اکتوبر 2005 کے زلزلے کو چودہ سال بیت چکے ہیں۔ اس کے بعد کئی اور زلزلے آئے، سیلاب آئے، جنگی ماحول بھی بنا، مگر ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ اس وقت بھی سرحدوں پر جنگی ماحول بنا ہوا ہے۔ گو کہ افواج سرحد پر نہیں لگائی گئیں،…

Read more

بھارتی میڈیا کے رجحانات

ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے، با ہمی امن خطوں میں ترقی کے در وازے کھولتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نظریات بعض دفعہ نئے مقاصد وضع کرتے ہیں، مفادات کا ٹکرا ؤ نا ہو تا تو شاید پاکستان کے بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی، اس ٹکراؤ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جناح…

Read more

فضائی حدود بندش اور گنگا اغوا کی سازش

بین الا قوامی سیاست ایک سیاسی بساط ہے اور فضائی حدود کی بندش کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ حالیہ بھارتی جا رحیت کے بعد پاکستان نے بھارت پر فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائدکی ظاہر ہے یہ پابندی منا سب حالت میں تو نہیں لگی، پاکستان کی فضائی حدود میں آکر بھارتی طیاروں نے کوئی خیر کا عمل تو نہیں کیا اور پاکستان کی قومی سلامتی کو براہ راست خطرہ بھی ہوا، گو کہ بھارت تین عدد درختوں کی تباہی کے علا وہ کچھ حاصل نہ کرسکا۔

ایسا ہی ایک واقعہ مشرقی پاکستان کے سانحہ سے پہلے بھارت نے کیا، بھارت نے ایسے ہی ایک ڈرامے کو بنیاد بنا کر ایسی فضائی بندش کی پابندی عائد کی تھی۔ قصہ کچھ یو ں ہے کہ بھارت کا ایک مسافر طیارہ فوکر ایف 27 سری نگر سے نئی دہلی جاتے ہو ئے اغوا ہوا، اس سے بھارت نے ایک تیر سے دو شکار کیے ایک تو آزادی کشمیر کی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا جائے اور دوسرا مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کا فضائی رابطہ کاٹ دیا جائے۔

Read more

پاکستان آرمی ایوی ایشن: ماضی، حال اور مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی جنگوں کا تذکرہ جھڑتا ہے، تو ذہن میں جنگ 65 اور 71 کی جنگوں میں فلمائے گئے مناظر ذہن میں آجاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی شہداء کا ذکر خون گرمانے لگتا ہے، انہی جنگوں میں پاکستان آرمی ایویشن نے اپنا لوہا منوایا، حا لانکہ یہ مختصر سا فضائی بیڑا دشمن کا عملاً کوئی حربی کردار ادا نہیں کرسکتا تھا، لیکن اس کی خدمات جنگ میں کسی مسلح دستے سے کسی طور کم بھی نہیں تھیں۔

آرمی ایوی ایشن اپنے غیر مسلح کردار میں بھی پاک فوج کے شہیدوں کی میتوں، زخمیوں کے میدان جنگ سے انخلا، میدان جنگ میں تازہ دم افواج اور سازو سامان کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر پر خطر جاسوسی مشن (جن میں اکثر مشن بغیر کسی حفاظتی حصار کے پاک آرمی ایویشن نے مکمل کیے ) کو یقینی بنایا، 1979 میں جب روسی مسلح افواج برادر اسلامی ہمسائے افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کی سلامتی بھی براہ راست خطرے میں آگئی، تاہم وہی وقت مسلح افواج کو نئے سازو سامان سے مسلح کرنے کا بھی تھا، امریکا نے وقت کو غنیمت جانا اور پاکستان کو اتحاد کی پیشکش کی، یہ پیشکش مونگ پھلی کے دانو ں ( جو محض 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے ) کی حیثیت رکھتی تھی کیونکے کارٹر انتظامیہ کو صورتحال کی سنگینی کا صحیح انداز ہ ہو ہی نہ سکا تھا۔

Read more