عالمی کپ فٹبال کے نئے رنگ اور اپ سیٹس


قطر میں جاری عالمی کپ فٹبال کے مقابلے گروپ سطح سے ہی ڈرامائی انداز اختیار کرچکے ہیں، چار بار کی عالمی چیمپئین اور یورپ کی فٹبال پاور ہاؤس جرمنی اور فیفا کی عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر براجمان بیلجیم کی مضبوط ٹیمیں گروپ سطح سے ہی اس میگا ایونٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والی مراکش اور ایشین ٹائیگر جاپان اپنے اپنے گروپس سے پہلی پوزیشنیں حاصل کر کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرچکی ہیں۔ سینیگال اور آسٹریلیا کی ٹیمیں بھی گروپ سولہ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

جرمنی کی ٹیم مسلسل دوسری بار گروپ سطح سے مقابلوں سے باہر ہوئی ہے۔ دو ہزار اٹھارہ سے قبل جرمنی کی ٹیم کبھی بھی عالمی کپ مقابلوں میں گروپ سطح سے باہر نہیں ہوئی۔

مسلسل دو بار کی ہزیمت کے بعد جرمن فٹبال فیڈریشن کے عہدیداروں اور ٹیم کوچ پر بہت تنقید ہو رہی ہے اور ان کی صلاحیتیوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہترین انفراسٹرکچر اور بہت بڑا بجٹ رکھنے کے باوجود ٹیم کی اس ہزیمت پر جرمن میڈیا سے واویلا مچا رکھا ہے۔ اور انہیں یہ ہار کسی صورت برداشت نہیں ہو رہی۔

اس دوڑ میں پرائیویٹ میڈیا سمیت قومی میڈیا بھی پیش پیش ہے۔ عالمی کپ مقابلوں کی شروعات سے قبل ہی تجربہ کار کھلاڑیوں کی ٹیم میں غیر موجودگی اور چند غیر معروف اور غیر متوقع کھلاڑیوں کی اسکواڈ میں شمولیت پر بہت سوالات اٹھائے گئے۔ آرٹیکل لکھے گئے اور ٹاک شوز میں ان کا بار بار ذکر ہوا۔

اس دھماچوکڑی کے باوجود فیڈریشن کے عہدیداروں، کوچ اور عملے کے دیگر افراد اور خاص کر کھلاڑیوں کی ذات پر کچھ نہیں کہا جا رہا ، کھلاڑی آج بھی ان کے ہیرو ہیں۔ ان کی کا کردگی ہدف تنقید ضرور ہے تاہم اس تنقید سے ان کی ذات، خاندان اور دوست بالکل محفوظ ہیں

شائقین فٹبال کو یاد ہو گا کہ دو ہزار اٹھارہ کے عالمی کپ مقابلوں کے بعد ترک صدر طیب اردگان سے ملاقات کرنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں میسوت اوزل اور الکائے گندگان پر بہت تنقید ہوئی تھی جس سے دل برداشتہ ہو کر میسوت اوزل نے قومی ٹیم سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

رواں عالمی کپ کی شروعات سے قبل جرمن میڈیا نے قطر میں انفراسٹرکچر کی تعمیر سے منسلک افراد کو بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی پر بہت تنقید کی۔ جرمن کپتان سمیت دیگر ٹیموں کے کپتانوں کے بازوؤں پر کیپٹن بند پر ون لو نہ لکھے جانے پر بھی بہت کچھ کہا اور لکھا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اب جبکہ جرمنی کی ٹیم وطن واپس آ چکی ہے تو دیکھنا ہے کہ اس پر ہار کی گھنٹی کس کے گلے باندھی جائے گی اور قربانی کا بکرا کسے بنایا جائے گا۔

Facebook Comments HS