کیا باجوہ صاحب غدار ہیں؟

ایک ایسا شخص جس نے کم وبیش چوالیس سال فوج میں خدمات سرانجام دیں اور چھ سال فوج کا سربراہ بھی رہا، جس نے جنگ و جدل میں خدمات سرانجام دیں، جس نے اپنے کیریئر کا کچھ عرصہ دنیا کے مشکل ترین محاذ سیاچن پر بھی گزارا۔ جس نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں فرائض کی بجا آوری کے دوران کئی مرتبہ موت کو قریب سے دیکھا ہو گا، وہ شخص جب ریٹائرڈ ہو اور اس کے خلاف غدار باجوہ کے نعرے بلند ہوں اور یہ بتایا جائے کہ چوالیس سال اس نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کوئی اچھا کام نہیں کیا صرف غداری کی ہے تو اسے تکلیف تو ہوگی۔
اسے ہی کیا کسی بھی ایسے شخص کو تکلیف ہی ہوگی جو زندگی بھر کسی ایک شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دے اور جب وہ اس شعبے کو چھوڑے اور اسے بتانے والے بتائیں کہ تم نے کچھ نہیں کیا صرف اپنے پیشے سے غداری کی ہے تو اسے تکلیف تو ہوگی۔ زندگی بھر کی کمائی محض ایک تمغہ اور وہ بھی غداری کا دکھ تو ہوتا ہے اور ایسا ہی دکھ گزشتہ دنوں جنرل باجوہ کو بھی ہوا ہو گا۔ انہوں نے اپنی زندگی پاک فوج کو دی مگر جب جانے لگے تو غداری کے تمغے لے کر ۔
کیا آپ جانتے ہیں باجوہ کی غلطی کیا تھی، جی ہاں ان کی غلطی سیاسی معاملات میں مداخلت تھی۔ یہ چند برسوں کی مداخلت ان کا پورا فوجی کیریئر تباہ کر گئی۔ اگر وہ سیاست میں ملوث نہ ہوتے تو عزت سے ریٹائرڈ ہوتے، صرف اپنی فوج کے دستے سے ہی نہیں، اپنی قوم سے بھی گارڈ آف آنر لیتے لیکن باجوہ صاحب سیاست میں ملوث ہونے کا وہ گناہ کر چکے ہیں جو ساری زندگی ان کا پیچھا کرے گا۔
اگرچہ کھیل کسی اور نے شروع کیا تھا اور اس وقت پالیسی سازوں کی نظر میں صرف ایک بات تھی کہ کوئی تیسری قوت تیار کی جائے۔ اس کے لیے کئی جنرل قربان ہوئے اور قوم کے اربوں ڈوبے لیکن تیسری قوت تیار کر لی گئی۔ یہ پالیسی سازوں، خاص طور پر جنرل باجوہ کی بدقسمتی تھی کہ تیسری قوت نالائق نکل آئی جس نے ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا۔ نہیں چھوڑوں گا کی گردان کی علاوہ اس قوت کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ کوئی ٹیم تھی، نہ ہی کوئی عقل نام کی چیز تھی۔
وہ انا پرست تیسری قوت صرف گالی دینا، الزام لگانا اور مخالف آوازوں کو دبانا جانتی تھی۔ اس کے علاوہ اسے کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ اکثر اوقات مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے بھی باجوہ صاحب کام آتے تھے یا ادارے کا فیض جاری ہوتا تھا۔ آپ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے دن کو رات ثابت کریں تو الگ بات لیکن پاکستان میں رہنے اور لکھنے لکھانے سے تعلق رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ تیسری قوت کا دور پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے لیے مشکل ترین دور تھا۔
میں نے لکھنے لکھانے کے حوالے سے اتنی پابندیاں مشرف کے آمرانہ دور میں نہیں دیکھیں جتنی اس نام نہاد جمہوریت میں تھیں۔ جب تیسری قوت ناکام ہونے لگی تو باجوہ صاحب پھر میدان میں آئے اور مختلف ممالک سے فنڈز کے حصول کے لیے اس قوت کی مدد کی مگر وہ قوت پھر بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ عمران خان کے رویے کی ویسے تو پی ٹی آئی کے رہنما بھی شکایات کرتے رہتے ہیں مگر اس رویے نے جس طرح عالمی برادری کو ناراض کیا۔ اس سے باجوہ صاحب سمیت دیگر منصوبہ سازوں کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔
چونکہ باجوہ صاحب حمایت میں بہت آگے جا چکے تھے، اس لیے انہوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے کا منصوبہ بنایا اور یہ منصوبہ 2021 کے بجٹ سے کچھ عرصہ قبل بنا لیا گیا۔ بقول عمران خان اچانک باجوہ صاحب کے تیور بدلنے لگے اور انہوں نے سردمہری دکھانا شروع کر دی۔ تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے کہ بالآخر عمران خان کو باجوہ صاحب سے پوچھنا پڑا کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟
باجوہ صاحب اگرچہ عمران خان کے ساتھ نہیں تھے لیکن یہ جانتے تھے کہ ایک دم سے قطع تعلقی ممکن نہیں اس لیے وہ تحریک عدم اعتماد کے دوران وفاق میں تو نیوٹرل ہو گئے لیکن پنجاب میں مونس الہٰی کے بقول ق لیگ کو تحریک انصاف کی حمایت کا کہہ دیا۔ باجوہ صاحب کا خیال تھا کہ اس طریقے سے وہ ایک ساتھ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو خوش کر لیں گے یوں وفاق پی ڈی ایم کو دے دیا گیا اور پنجاب پی ٹی آئی کو ۔ لیکن عمران خان ان کے اندازوں سے زیادہ بیوفا اور احسان فراموش ثابت ہوئے۔
وہ 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر ، مخالف سیاسی قیادت کو مقدمات میں پھنسا کر اور گرفتار کرا کر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کے احسان کو بھی بھول گئے اور دوبارہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے احسان کو بھی بھول گئے اور باجوہ صاحب کا نام لے لے کر تنقید کرنے لگے۔ لفظ نیوٹرل کو گالی بنا دیا گیا اور باجوہ صاحب کو کبھی جانور کہا اور کبھی میر جعفر۔ باجوہ صاحب حمایت سے تائب تو ہوئے مگر عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی شروع کی جانے والی ہر قسم کی قانونی کارروائی کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے تھے تاکہ وہ اپنی طرف سے وفا کا رشتہ کسی حد تک نبھا سکیں۔ تمام ضمنی انتخابات اور کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں جنرل فیض کو کھلی چھوٹ دینے والے بھی باجوہ صاحب ہی تھے جو عمران خان خود بھی نام نہاد ضمنی انتخابات جیتتے رہے اور ان کے حمایت یافتہ پی ٹی آئی کے امیدوار بھی۔
یہاں باجوہ گئے وہاں جنرل فیض رخصت ہوئے۔ ان دونوں کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا اور عمران خان کشمیر کا بلدیاتی انتخابات ہار گیا۔ حامد میر صاحب نے سچ لکھا تھا کہ عمران خان کا فیض رخصت ہو گیا ہے اب بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے نتائج مختلف ہوں گے۔ پاکستانی سیاست میں دونوں کی رخصتی سے کچھ سکون دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان دو صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر کے اپنا دھرنا ملتوی کر چکے ہیں کیونکہ دونوں کی رخصتی کے بعد اب دھرنے کی کامیابی کے امکانات بھی نہیں تھے۔ فیض کے جاتے ہی خان نے وفاقی حکومت کو مشروط مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے، میرا ذاتی خیال ہے کہ فیض اور باجوہ صاحب کے جانے کے بعد عمران خان کی سیاست کا عروج بھی رخصت ہوا اور پاکستان میں تیسری قوت کے قیام کے خواہش مندوں کی خواہش بھی دم توڑ گئی۔
خود جنرل باجوہ نے تسلیم کیا کہ ہے عمران خان کو اقتدار میں لانے اور ان کے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے چار جنرل قربان ہوئے۔ ان کے اس بیان میں ہر اس جنرل کے لیے سبق ہے جو سیاسی مہم جوئی کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے۔
آنے والے چیف آف آرمی سٹاف کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ کسی سیاسی کھیل کا حصہ بنے اور سیاست میں استعمال ہوئے تو ان کا انجام بھی باجوہ جیسا ہو گا۔ تمام تر پیشہ وارانہ خوبیوں کے باوجود بھی وہ اس وقت غدار قرار دیے جائیں گے جب وہ رخصت ہوں گے۔ انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا نمازی ہونا، ان کا حافظ قرآن ہونا ان کی ذاتی خوبیاں تو ہو سکتی ہیں مگر پاکستان کو اور خود ان کو صرف ان کا پیشہ ور ہونا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کو ایک اچھے پیشہ ور جنرل کی ضرورت ہے۔
موجودہ حکومت کا اصل امتحان بھی اب شروع ہوا ہے اگر وہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی واقعی مخالف ہے اور پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار کو ختم کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے جنرل عاصم منیر کو بھی پی ٹی آئی یا عمران خان کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں کہ چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر خودکار طریقے سے ہو اور سینئر ترین جنرل خود بخود چیف آف آرمی سٹاف بن جائے اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی تو پھر اس ملک کی سیاست اور سالمیت ہمیشہ خطرے میں ہی رہے گی۔

