بحیثیت قوم ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ دوسرے ممالک ہمارے ملک کی عزت کریں، کشمیر کے مسئلے پر ہماری سفارتی اور اخلاقی حمایت کریں اور بین الاقوامی فیصلوں میں ہمیں اہمیت دیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ روس اور امریکہ کی جنگ میں جب افغانستان تختہ مشق بنا تو پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوئی اور امریکی اتحادی ممالک نے ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ ہمارے فیصلہ ساز یہ سمجھے کہ ہماری یہ اہمیت ہمیشہ ہی رہے گی۔
ہم نے بھی ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ پاکستان کا حدود اربعہ بہت اہم ہے اور دنیا ہمیں نظر انداز نہیں کر سکتی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ افغانستان میں پہلے روس اور بعد میں طالبان کی شکست نے ہماری اہمیت کم کردی۔ وہ امریکہ جس کی دوستی پر ہمیں فخر تھا ہم سے منہ موڑنے لگا۔ طالبان سمیت افغانستان میں برسرپیکار ”مجاہدین“ نے ہم پر ہی بندوقیں تان لیں۔ ہم داخلی جنگیں لڑنے لگے اور اپنے ہی لوگوں سے روز علاقے ”فتح“ کرنے لگے۔
Read more