حکومت کے پاس سیاسی و معاشی بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں


وفاق میں شہباز حکومت صرف اس امید پر مزید نو دس ماہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتی ہے کہ اس دوران، کچھ عالمی اداروں کی مہربانی اور کچھ دوست ممالک کی عنایت سے ڈالروں کی بہار لگے گی اور وہ اس کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کر کے اگلے سال کے آخر تک انتخابات میں جا سکے گی جو تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد بوجوہ کھوئی جا چکی ہے۔ حکومت کا مسئلہ البتہ یہ ہے نہ صرف داخلی لحاظ سے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا دامن تنگ اور امکانات محدود ہیں۔

شہباز شریف کی حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ اس کے پاس کوئی ورکنگ پلان نہیں ہے۔ عمران خان ضرور اپنی حکمت عملی میں ناکام ہوئے ہیں لیکن اس میں حکومت کی کا کردگی سے زیادہ حالات و واقعات کی ترتیب کا زیادہ تعلق رہا ہے۔ حکومتی اتحاد کو بھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ عمران خان نچلے بیٹھیں گے اور موجودہ حکومت کو اطمینان سے کام کرنے دیں گے۔ اس وقت تک جو معاشی صورت حال سامنے آئی ہے، اس میں حکومتی منصوبہ سازوں کو عالمی سطح پر فنڈز اکٹھے کرنے اور معاشی سہولتیں حاصل کرنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک قرض کی قسط ادا کرنے کے لئے کہیں نہ کہیں سے کچھ ڈالر وصول کرنے کا انتظار کیا جاتا۔ ایک ادارے سے 500 ملین ڈالر کی قسط ملنے کا اعلان خود وزیر خزانہ کرتا ہے اور اسے اپنی ’کامیابی‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یا سعودی عرب کی منت سماجت سے 3 ارب ڈالر مزید ایک سال کے لئے اسٹیٹ بنک میں رکھنے کا وعدہ اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ ملک کے تمام میڈیا میں اسے شہ سرخیوں کے ساتھ نمایاں کیا جاتا ہے۔

ایسے میں یہ سوال اہمیت نہیں رکھتا کہ کہ یہ مشکل صورت حال کیوں پیدا ہوئی ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں بھی اس وقت اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں، انہیں اپنے پیدا کردہ اور وراثت میں ملے مسائل کا سامنا بھی کرنا ہے اور ان کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ دو بڑے صوبوں میں اس کی مخالف تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں جو کسی بھی طرح سے وفاقی حکومت کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔

اب تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ان دونوں صوبوں میں اسمبلیوں کو توڑ کر ایک نیا بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت کو کسی بھی قیمت پر غیر فعال دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار سے محرومی کے بعد جھوٹے سچے نعرے لگاتے ہوئے اور مسلسل مہم جوئی کے ذریعے انہوں نے بزعم خویش جو ناقابل تسخیر مقبولیت حاصل کی ہے، اسے برقرار رکھا جائے اور کسی بھی اگلے انتخاب میں وہ حسب خواہش تمام اسمبلیوں میں نمایاں اکثریت حاصل کر کے تحریک انصاف کی حکومتیں بنا سکیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنی کامیابی کے لئے ایسی ہی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ اس لئے ملک میں جمہوری نظام کو کامیاب دیکھنے کی بات کرنے والے عناصر عمران خان کی اس حکمت عملی پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔

جائز طور سے یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ملکی معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ مل جل کر قوم کو اس مشکل سے نکالا جائے۔ لیکن بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کے درمیان عدم اعتماد بہت گہرا اور شدید ہے۔ اس وقت سیاسی بحران کو ملک کو پہنچنے والے فائدے یا نقصان کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے، پارٹی سیاست اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے امکانات کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ الزام صرف عمران خان پر عائد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ذاتی سیاسی کامیابی کے لئے ملک و قوم کے لئے آفت بنے ہوئے ہیں۔

شہباز حکومت بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگر عمران خان فوری انتخابات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں تو حکومت نے اکتوبر 2023 سے پہلے انتخابات نہ کروانے کی ضد پکڑی ہوئی ہے۔ دو روز قبل عمران خان نے جب مشروط مذاکرات کی پیش کش کی تھی تو حکومت نے کسی خاص غور و خوض اور مشاورت کے بغیر اس پیشکش کو فوری طور سے مسترد کر دیا تھا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ایک ٹویٹ میں عمران خان کی پیش کش کے جواب میں ’اکتوبر 2023‘ لکھ کر درحقیقت ہمہ قسم مفاہمت کا راستہ بند کیا تھا۔

اگلے روز شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اسی بات کو دہرایا اور واضح کیا کہ مذاکرات کی مشروط پیشکش قبول نہیں کی جا سکتی۔ تاہم وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کی یہ بات مثبت تھی کہ انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے اندیشے کو ٹالنے کے لئے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تحریک عدم اعتماد لانے کو ’غیر دانشمندانہ‘ قرار دے کر اس بحث کو سمیٹنے اور کسی حد تک تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کی۔

البتہ اس کے جواب میں عمران خان مذاکرات سے منحرف ہو گئے اور دعویٰ کیا کہ ان کی ’پیشکش‘ کو غلط سمجھا گیا تھا۔ انہوں نے ’ان چوروں لٹیروں‘ کے ساتھ بات چیت کی پیش کش نہیں کی تھی بلکہ میں انہیں لانے والوں سے مخاطب تھا۔ گویا وہ ایک بار پھر ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ بیانیہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے اب ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ نئی فوجی قیادت جنرل باجوہ کی اختیار کردہ حکمت عملی کو تبدیل کرے گی اور تحریک انصاف کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔

اس حوالے سے انہوں نے اعظم سواتی کی گرفتاری کا حوالہ دیا جسے وہ تحریک انصاف کو کونے سے لگانے کا ہتھکنڈا قرار دے رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری بالواسطہ طور سے اسٹبلشمنٹ پر عائد کر رہے ہیں۔ اس دوران کوئٹہ کی ایک عدالت نے اعظم سواتی کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر بلوچستان پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ 74 سالہ سینیٹر اعظم سواتی علیل ہیں اور اس عمر میں انہیں پولیس ریمانڈ کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔

نہ جانے حکمران تحریک انصاف کے ایک ضعیف سینیٹر کو یوں ہراساں کر کے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ تحریک انصاف نے اعظم سواتی پر تشدد کا جو شدید پروپیگنڈا کیا ہے، اس کی روشنی میں اگر سینیٹر کو کوئی عارضہ لاحق ہوجاتا ہے یا انہیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو وفاقی اور بلوچستان حکومت کے لئے اس کا جواب دینا ممکن نہیں ہو گا۔

ان حالات میں سیاسی لحاظ سے بلاشبہ عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ یہ تو درست ہے کہ عمران خان نئی فوجی قیادت کے حوالے سے یا جلد انتخابات کے معاملہ پر ابھی تک کوئی رعایت حاصل نہیں کرسکے لیکن اسے ان کی سیاسی ناکامی سمجھنا شدید غلطی ہوگی۔ وہ اپنے حامیوں کو مسلسل یہ باور کروانے میں کامیاب ہیں کہ مرکز میں حکومت پر قابض پارٹیاں انتخابات سے بھاگ رہی ہیں۔ ورنہ کسی بھی پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات شدید ہونے کے بعد فوری انتخابات کروانا ہی واحد حل سمجھا جاتا ہے۔ اس حد تک عمران خان کا مطالبہ جائز اور درست ہے۔ اسے جتنا دبایا جائے گا، حکومت کو اتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ عمران خان اگر اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو حکومت بھی تحریک عدم اعتماد کے بعد سے کوئی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ شہباز حکومت کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ تحریک انصاف نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا تھا، اس لئے اتحادی حکومت معاشی بحالی کے اقدامات کرے گی۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران موجودہ حکومت کوئی انقلابی معاشی اقدام نہیں کر سکی۔ اس کی جزوی ذمہ داری ضرور ملک میں پائے جانے والے مسلسل سیاسی بحران، امن و امان کی صورت حال اور حکومت کے بارے میں پیدا کیے گئے شبہات پر عائد کی جا سکتی ہے لیکن ان شبہات کو دور کرنا اور ان مسائل سے نمٹتے ہوئے سرمایہ کاروں کو قائل کرنا بہر حال حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اس کے برعکس حکومت خود اپنے ہی ساتھ محو جنگ دکھائی دیتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل برسرعام ڈیفالٹ کے امکانات پر بات کر رہے ہیں جبکہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل سے ان کے چھے ماہ کی کارکردگی کا حساب لیا جائے۔

مفتاح اسماعیل نے تمام تر سیاسی مخالفت کے باوجود معاشی لحاظ سے درست فیصلے کیے تھے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بحال کروایا تھا۔ انہیں برطرف کر کے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانے کا ایک مقصد نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان کے کسی قابل اعتماد ساتھی کو کابینہ میں شامل کروانا تھا۔ دوسرے یہ باور کیا گیا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدہ کی وجہ سے عوام پر مہنگائی کا جو بار ڈالا گیا ہے ، اسحاق ڈار اسے کم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

معاشی معاملات میں ایک پتھر سے دو شکار ممکن نہیں ہوتے۔ زوال پذیر معیشت کو بہتر کرتے ہوئے اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اب اسحاق ڈار ایک طرف آئی ایم ایف سے ناراضی مول لے رہے ہیں تو دوسری طرف ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ اس ناکامی کا سب سے زیادہ نقصان ترسیلات زر میں کمی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے حالانکہ اس وقت ملک کو ایک ایک ڈالر کی شدید ضرورت ہے۔ ڈالر کی سرکاری اور پرائیویٹ شرح میں فرق کی وجہ سے تارکین وطن رقم پاکستان بھیجنے کے لئے غیر سرکاری ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

اسحاق ڈار نے سابقہ ادوار میں بھی روپے کی قیمت کو جعلی طور سے برقرار رکھنے کی جو پالیسی اپنائی تھی، اسی کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا جن قابو سے باہر ہوا تھا۔ ملکی معیشت ابھی تک اس غلط پالیسی کی قیمت ادا کر رہی ہے لیکن اسحاق ڈار اپنی غلطیاں ماننے اور ان سے سیکھنے کی بجائے اپنی ہی جماعت کے ایک سابق وزیر کو مورد الزام ٹھہرا کر سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اسحاق ڈار ووٹروں اور عالمی اداروں کو بیک وقت راضی رکھنے کی جو پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں، اس سے زیادہ الجھنیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ حکومت اگر معاشی اصلاح کے ایجنڈے کا ارادہ لے کر ہی اقتدار میں آئی تھی تو اسے اس پر قائم رہنا چاہیے۔

ان حالات میں حکومتی خواہشات کے برعکس عمران خان اگر دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں تو حکومت کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ بدقسمتی سے سب جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن عمران خان کھل کر اور حکومت درپردہ اسٹبلشمنٹ کی اعانت کی خواہش پالے ہوئے ہے۔ ایسے میں اگر نئے آرمی چیف نے واقعی غیر سیاسی رہنے کا فیصلہ برقرار رکھا تو سیاسی لیڈروں کی امیدوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔

سیاسی لیڈروں کے لئے بہتر ہو گا کہ ’غیر سیاسی‘ ہو جانے والے ادارے سے توقعات باندھنے کی بجائے نئے انتخابات کے لئے مل بیٹھ کر کسی نتیجہ پر پہنچا جائے تاکہ ملک و قوم بے یقینی کی موجودہ کیفیت سے باہر نکل سکیں۔ معاشی بحالی کے مقصد سے بھی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت ہی قابل اعتبار سمجھی جائے گی۔ اس وقت مارچ یا اکتوبر کے تنازعہ میں پڑنے کی بجائے، یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ سب پارٹیاں انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے مان کر ملک کو آگے لے جانے کے لئے کام کریں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2385 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments