مباحثہ کی تہذیب و مقاصد
زمانۂ قدیم سے بحث مباحثہ اہل علم و دانش کے درمیان مہذب تبادلہ خیال کے ذریعہ مسائل کے منطقی حل کی تلاش کا ذریعہ رہے ہیں۔ بحث کا بنیادی مقصد کسی در پیش مسئلہ کی بنیاد متعین کرنا، مسئلہ کے حل کا تعین اور مجوزہ حل کی طرف علمی پیش قدمی کے لیے بنیادی اصول وضع کرنا ہوتا ہے۔ مباحث میں اختلافی دلائل کے ذریعے کسی بھی مسئلہ میں مختلف آرا کی عقلی جانچ کر کے اگر درست نہیں تو کم از کم قرین قیاس نتائج کی طرف پیش رفت کی جاتی ہے۔ بحث کے اختتام پر کبھی ایک رائے کو دوسری رائے پر ترجیح دی جاتی ہے تو کبھی دو آراء کے درمیان توازن کی تلاش کی جاتی ہے اور دونوں آراء کی بنیاد پر بہتر رائے کی تعبیر جاتی ہے جو آگے چل کر مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کر سکے۔
جمہوریت کی بنیاد بحث مباحثہ کے اسی اصول پر رکھی گئی ہے جہاں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کسی بھی معاشرتی مسئلہ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو بحث کے ذریعے اجاگر کرنے اور اس کے ایسے حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو معاشرتی، سیاسی یا اقتصادی طور پر بہتر ہو۔ اس سیاسی نظام میں حزب اختلاف بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی حزب اقتدار تاکہ تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر حقائق کی روشنی میں بہتر قانون سازی کی جا سکے۔ جب طاقت کے ایوانوں میں موجود افراد کے ذاتی مفادات معاشرے کے اجتماعی مفادات سے ٹکراؤ کی صورت اختیار کرتے ہیں تو مقننہ کے اراکین کی رائے ان کے ذاتی مفادات کے تابع ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں رائے مسائل کے آزادانہ اور منصفانہ حل کی بجائے معاشرے میں عدم توازن کا باعث بنتی ہے اور مسائل کے حل کے لیے وجود میں آنے والے ادارے ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کا گڑھ بن جاتے ہیں۔ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اپنے اپنے گروہ کو مضبوط کرنے کے لیے جھوٹے سچے نعرے تراشے جاتے ہیں، بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، پا رسائی، کا ڈھونگ کرنے کے لیے مختلف ٹوٹکے بروئے کار لائے جاتے ہیں، کبھی مذہبی، کبھی سیاسی، کبھی سماجی نقاب کے پیچھے اپنے مخصوص گروہی و ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے جس سے معاشرہ تقسیم ہونا شروع ہو جاتا اور یہ تقسیم ریاست، صوبائیت، مذہب، نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشرت کی تقسیم میں گہری ہوتی ہوئی انسانی استحصال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
وطن عزیز میں میڈیا کی ”آزادی“ نے بحث مباحثہ کی ایک نئی سمت متعین کر دی۔ اپنے شو کی زیادہ سے زیادہ ریٹنگ کے لیے ایسے اشخاص کو مدعو کیا جاتا جو گالم گلوچ، الزام ترشی، یاوہ گوئی اور گھٹیا جملہ بازی میں اپنی مثال آپ ہوتے۔ معاملہ سیاسی پنڈتوں کی نت نئی پیش گوئیوں سے لے کر اپنے سیاسی مخالفین کی صنفی، ، خاندانی اور ذاتی توہین تک پہنچا۔ سیاسی ٹاک شوز کے کرتا دھرتا چن چن کر ایسے لوگوں کو مدعو کرنے لگے جو مخالفین کی بولتی بند کرنے کے ماہر ہوں قطع نظر اس کے کہ ان کے دلائل کس قدر اخلاق باختہ اور شر انگیز ہوں بس مخالف کا بات کرنے کا موقع نہ دیں۔ اونچا اور بے تحاشا بولنا اپنی دلیل کے مخالف دلیل کو سامعین تک پہنچنے سے روکنا اور اپنے یا اپنے سیاسی راہنما کے ہر کوے کو سفید ثابت کرنا بحث کا مقصد ٹھہرا۔ اینکر حضرات اور میڈیا مالکان اس دوران خود کو ”کی پلیئر“ تصور کر چکے ہیں اور وہ بھی اپنی متعین کردہ رائے کی مخالف رائے کو اگر اپنے موافق شخص کے ذریعے نہ دبا سکیں تو بار بار ٹوک کر یا پھر مخالف رائے کے دوران بریک لے کر رائے دہندہ کے تسلسل کو توڑ دیتے ہیں اور مسائل کا حل محض جیت ہار کے شور میں اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔
ایسے مباحث کو دیکھتے ایک نسل جب جوان ہو گئی تو سوشل میڈیا نے اظہار رائے کو ان کے ہاتھوں میں پہنچا دیا۔ اب مباحثہ اہل علم و دانش کی بجائے گلی محلہ کے تھڑہ نشینوں تک آ پہنچا۔ ظاہر ہے جب بات علمی اداروں اور اہل علم سے نکل کر گلی محلہ اور تھڑے تک پہنچ جائے تو زبان بھی بازاری ہی ہوگی اور سوچ بھی۔ اب مباحثہ کا مقصد اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے مخالف کا گلہ گھونٹ نے، پتھر پھینکنے، گھروں کے آگے نعرے لگانے سے ہوتے ہوئے گالم گلوچ اور چور چور تک آ پہنچی۔ اب صورت یہ ہی کہ اہل علم و دانش اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ قطع نظر اس کے کہ ان کی رائے کتنی مبنی بر حقائق ہے، اگر وہ کسی کی رائے سے متصادم ہوئی تو جواب دلیل سے نہیں، غلیل یا بندوق سے آ سکتا ہے۔ موجودہ دور کے خود ساختہ دانشور کسی بھی معاملے میں ایماندار نہ رائے کو ترک کرتے ہوئے اپنے سیاسی، سماجی یا معاشی گروہ کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی رائے ترتیب دیتے ہیں، انہیں علم ہے کہ ان کی رائے غلط یا صحیح ہونا ضروری نہیں، ان کا موافق گروہ ان کی غلط رائے کو بھی اگر صحیح ثابت نہ کر سکا تو مخالفین کو بزور طاقت تلفظ خاموش ضرور کروا دے گا۔
جب کسی معاشرے میں صحت مند مباحثہ زوال کا شکار ہوتا ہے تو آزاد اور مبنی بر حقائق رائے کی تشکیل پانے کے لیے ضروری تخلیقی دلائل کا راستہ بند ہو جاتا ہے، معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ تسلسل زندگی اور جمود موت ہے لہذا معاشرے میں علمی، فقری اور تخلیقی سوچ رکھنے والے گھٹتے جاتے ہیں اور ڈگریاں رکھنے والے پڑھے لکھے ہونے کے زعم میں مبتلا جہلاء کی کثرت ہو جاتی ہے۔ ایسے پڑھے لکھے جہلاء معاشرے کی تعمیر کی بجائے مزید تخریب کا باعث بن جاتے ہیں۔ جہالت خطرناک ہے مگر جاہل ہوتے ہوئے اہل علم ہونے کا زعم خطرناک ترین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں صحت مباحثہ کو ترویج دی جائے۔ بچوں کو سکول سے علمی اور ادبی بحث کے گر اور اخلاق دکھائے جائیں، گفتگو کے آداب کی تربیت دی جائے۔ علم کا حصول محض ڈگر کے حصول کی بجائے صحتمند اور تعمیری ذہن سازی کا ذریعے بنایا جائے۔


