قصہ ایک روحانی گرو اور ایک فرمانبردار چیلے کے درمیان کاروباری راز و نیاز کا


کیا مذہبی اور روحانی تعلیمات دنیاوی آسائشوں کی طرف رغبت کو کم کر دیتی ہیں؟
کیا مذہبی و روحانی گرو دنیا و مافیہا سے پیچھا چھڑوا کر آخرت کی فکر میں مگن ہو جاتے ہیں؟

کیا واقعی روحانی گرو دنیاوی ٹھاٹ باٹ سے منہ موڑ لیتے ہیں؟ کیا اہل جبہ و دستار اپنی جیبوں کو دنیا کی پلید دولت سے خالی فرما لیتے ہیں؟
کیا واقعی اہل معرفت لذتوں کو چھوڑ کر سادہ لوح بن جاتے ہیں؟ کیا اہل طریقت حقیقت میں ضرورت سے زائد مال خرچ کر دیتے ہیں؟

اگر اہل شریعت نفس کا پھنکارنے والا پھن کچلنے میں کامیاب رہتے ہیں تو پھر علت مشائخ کا کیا چکر ہے؟
فنافی الشیخ کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے شیخ کو رنگ چڑھتا رہتا ہے مگر فنا ہو جانے والا مرید ساری زندگی بے رنگ ہی رہتا ہے آخر کیوں؟

اگر ماہر جنات و عملیات و سفلیات ”پتہ نہیں کیا کیا“ کے پاس درجنوں جنات و موکلات کا لشکر ہر وقت موجود رہتا ہے تو پھر دولت کے حصول کے لئے ”سلسلہ گوگی و بخاری“ کی ضرورت ہی کیوں؟

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں اس قسم کی اساطیری یا مابعد طبیعات قسم کی کہانیاں اکثر سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ

”جو بندہ نفس پر قابو پا لیتا ہے وہ دنیا مافیہا سے آ زاد ہو کر ایک طرح سے اوتاری صفات کا مالک بن جاتا ہے پھر دنیاوی دولت اس کے پاؤں کے نیچے آ جاتی ہے اور پھر وہ دنیاوی خواہشات اور لذتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ“

کیا ایسا ہی ہوتا ہے؟ یا یہ ایک مفروضہ ہے؟ عقیدت کی مست نگاہیں تو شاید اس قسم کے اوتار ڈھونڈ نکالیں کیونکہ ان نگاہوں میں دائرے سے پار دیکھنے کی سکت ہی نہیں ہوتی اور یہ اپنی تنقیدی صلاحیتوں کو دل کے بازار میں جہاں اندھے یقین کا سکہ چلتا ہے گروی رکھ آتی ہیں، مگر حقائق کی متلاشی نگاہیں جو لوجک، ریزن یا ریشنلٹی کی راہوں پر چلتے ہوئے عقل کو امام تسلیم کر کے کچھ کھوجنے نکلتی ہیں تو بہت کچھ مائنس ہوتا چلا جاتا ہے اور جو بچتا ہے وہ بھی ”اوپن اینڈ شٹ“ ہوتا ہے مطلب گنجائش کا در ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ جو دنیا کو خود کے لیے قید خانہ سمجھتے ہیں اور دنیا داروں کے لئے جنت وہ خود ہی کیوں اس دنیاوی جنت کے حصول کے لیے مرے جا رہے ہوتے ہیں؟ ہمارے ارد گرد ہزاروں مثالیں موجود ہیں جو جتنا دنیا کو مردار سمجھتے ہوئے اس کے طالبین کو وعیدیں سنا رہے ہوتے ہیں انہی کا بینک بیلنس لوگوں کے دیے گئے ”تحفے تحائف“ سے ہمیشہ کیوں بھرا رہتا ہے؟ لوگوں کو کچے مکانوں میں سادگی سے رہنے کا درس دینے والے خود کئی کئی کنال میں ٹھاٹ باٹ سے کیوں رہتے ہیں؟ اس قسم کی کہانیاں سنانے والے کہ

”ان کے پاس تو مالک کا دیا ہوا بہت کچھ ہے“ وہی سب سے زیادہ حریص اور لالچی کیوں ہوتے ہیں؟ دین کی خاطر سب کچھ لٹا دینے کا درس دینے والے لوگوں سے صدقہ و خیرات اور تحائف لینے کے محتاج یا اتاولے کیوں رہتے ہیں؟

آپ اپنے اردگرد ہزاروں شیخان طریقت اور معرفت و جبہ دستار اور ماہرین سفلیات و عملیات کی زندگیاں مشاہدہ کر سکتے ہیں جن کی کل ”روزی“ کا انحصار ہی اپنے عقیدت مندوں کی جیبوں پر ہوتا ہے۔ اس مظہر کو اگر وسیع پیمانے پر کھوجنے کی خواہش ہو تو آپ موجودہ دور کے سب سے بڑے روحانی گینگ کے روحانی مرشد کی اپنے مرید کے ساتھ کاروباری راز و نیاز کی آ ڈیو سن سکتے ہیں۔ جس میں مرشد عالیہ ارشاد فرما رہی ہیں کہ

”خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں جو ان کے استعمال کی نہیں ہیں انہیں فروخت کر دیں“ تابعدار و فرمانبردار مرید اپنی خوش بختی گردانتے ہوئے کہتا ہے کہ
”جی مرشد میں کر دیتا ہوں“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا کو مردار سمجھ کر اپنی ”لو“ کہیں اور لگا چکے ہوتے ہیں انہیں چیزیں فروخت کر کے پیسہ کمانے یا جوڑنے کی بھلا کیا ضرورت ہوتی ہے؟ کیونکہ ایسا کہا اور سنا جاتا ہے پتہ نہیں اس میں حقیقت کتنی ہے کہ جن کی ”لو“ کہیں اور لگی ہوتی ہے ان کو من و سلویٰ بھی وہیں سے آ تا ہے اور وہ دنیاوی حاجات کے محتاج نہیں رہتے مگر یہاں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہے۔ اگر القادر روحانی یونیورسٹی لوگوں کے فلاح و بہبود و تعلیم کے لئے ہے تو پھر عمران، بشری اور گوگی کا ”ٹرائیکا“ ہی کیوں؟

اگر دنیاوی چمک دھمک عارضی ہے تو پھر مرشد عالیہ کو ہیروں کی انگوٹھیوں اور ہاروں کی اتنی طلب کیوں؟ سننے میں یہی آیا ہے کہ مرشد عالیہ کے پاس درجنوں جنات و موکلات کی کھیپ ہر وقت ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے تو ان سے براہ راست خدمات لینے کے بجائے زلفی بخاری اور گوگی کی محتاجی کیوں؟ اگر جن و موکلات کے ذریعے سے ساڑھے تین سال تک حکومت چلائی جا سکتی ہے تو پھر توشہ خانہ خالی کروانے کے لئے اپنے مریدین کی صورت میں روحانی گینگ کی محتاجی و حاجت کیوں؟

مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے مرید صادق جو مرشد عالیہ کا شوہر بھی ہے جس کا دعوی ہے کہ وہ دنیا کو ایک ”اسپیشل اور منفرد“ اینگل سے انجوائے کر چکا ہے اور جو چارم اسے نصیب ہوا کسی اور کے مقدر میں کہاں؟ اور اسے اب اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، سونے پہ سہاگہ والی بات یہ ہے کہ مرشد عالیہ اوتاری صفات کی مالک ہیں انھیں بھی کچھ نہیں چاہیے۔ اگر کچھ نہیں چاہیے تو پھر گوگی اور بخاری کا تکلف کیسا؟ پلیز کسی کو سمجھ میں آئے تو ہمیں بھی سمجھا دے مہربانی ہوگی۔ لگے ہاتھ یہ پہیلی بھی سلجھا دیں کہ روحانی حصار میں ہونے والی ”کالیں“ لیک کیسے ہو جاتی ہیں اور شیاطین کے ہتھے کیسے چڑھ جاتی ہیں؟ سیاستدان تو ٹھہرے شودر اگر روحانی مہانوں کی بھی کالز لیگ ہونے لگ پڑیں تو پھر ہم کیا سمجھیں؟ بقول افکار علوی

مرشد! میں جل رہا ہوں، ہوائیں نہ دیجیے
مرشد! ازالہ کیجیے دعائیں نہ دیجیے

Facebook Comments HS