کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے!


پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کی حکومت جب قائم ہوئی تو شاید ”بلدیاتی انتخابات کا انعقاد“ منشور میں لکھنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوا ہو گا کہ ایسے ڈرامائی انداز میں انتخابات منعقد ہوں گے ۔ 91۔ 1990 کے بعد 2022 میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقیناً حکومت وقت کی نمایاں کامیابی ہے۔ اگر کسی ایک بندے کو ان انتخابات کا کریڈٹ دیا جائے تو وہ وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی ذات ہے۔ متحدہ اپوزیشن ہو یا کچھ حکومتی بینچز کے لوگ، سب ہی اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے خوف زدہ تھے۔

کبھی موسم کا بہانہ، کبھی سیکیورٹی کے مسائل، کبھی کیا اور کبھی کیا، ہر طرح کا بہانہ تراشا گیا۔ بھلا ہو آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا اور الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا جو وزیر اعظم آزاد کشمیر کے دست و بازو بنے اور آخر تیس سال بعد یہ کفر ٹوٹا اور مظفرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کامیابی سے منعقد ہوئے۔ اب اگلے مرحلے میں پونچھ اور پھر میرپور ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔

آزاد کشمیر پولیس کی جتنی تعریف کی جائے شاید اتنی کم ہو گی۔ سیکیورٹی، جسے سب سے بڑا مسئلہ قرار دے کر کچھ عناصر بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانا چاہتے تھے، آزاد کشمیر پولیس نے پرامن بلدیاتی انتخابات کروا کر ایسے لوگوں کے منہ بند کروائے۔ اب حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر پولیس کے لیے خصوصی اعلانات کیے جائیں اور جو پیسے وفاق و صوبوں سے سیکیورٹی فورسز کے لیے مختص تھے، ان میں سے آزاد کشمیر پولیس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

مظفرآباد ڈویژن میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومت وقت نے میدان مار لیا۔ پر دارالحکومت میں بری طرح شکست کھائی۔ اس وقت متحدہ اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہے اور قوی امید ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون آزاد کشمیر اپنا میئر لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری کو بھی ان کے حلقہ انتخاب میں بری شکست ہوئی اور ایک یونین کونسل پر بھی حکومتی جماعت کا کوئی بندہ نہ جیت سکا۔

پونچھ ڈویژن میں حکومتی پارٹی وہ لیڈ حاصل نہ کر پائی جس کی امید تھی۔ آزاد امیدواروں کا یوں اکثریت میں جیتنا، پونچھ کی عوام کا سیاسی جماعتوں کے خلاف عدم اعتماد ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میرپور ڈویژن کے نتائج کیا آتے ہیں اور حکومت وقت کتنی کامیابی حاصل کر پاتی ہے۔

Facebook Comments HS