ریڈیو پاکستان کے مسائل


ریڈیو پاکستان۔ وطن عزیز کی جملہ زبانوں، ثقافتوں کا امین اور تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہے۔ اس کے موجودہ اور سابق ملازمین کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

وطن عزیز کے قیام کا اعلان کرنے کا اعزاز ریڈیو پاکستان کے سر ہے۔ جب تیرہ اور چودہ اگست 1947ء کی درمیانی شب لاہور سٹیشن سے اردو میں مصطفی علی ہمدانی اور انگریزی میں ظہور آذر  نے پاکستان قائم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت وطن عزیز پاکستان کے حصہ میں لاہور پشاور اور مرحوم مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم تین ریڈیو سٹیشن آئے تھے۔ پشاور سے پشتو زبان میں عبداللہ جان مغموم نے اس وقت کے صوبہ سرحد کے باسیوں کو پاکستان قائم ہونے کی خوش خبری سنائی تھی۔

ریڈیو پاکستان دسمبر 1972ء تک ایک سرکاری محکمہ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس وقت کے صدر اور بعد میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی طرز پر ریڈیو پاکستان کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے پارلیمنٹ سے ایک ایکٹ منظور کر کے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن قائم کی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت پاکستان نے ریڈیو پاکستان کے جملہ اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یوں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک ذیلی ادارے کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان کے ہی نام سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن نے ریڈیو پاکستان لاہور ہی کے احاطہ میں ایک الگ ادارے کے طور پر جنم لیا اور ابتدائی طور پر پاکستان ٹیلی ویژن میں معمولی کارکن سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک تمام لوگ ریڈیو پاکستان ہی سے لئے گئے۔

تین سٹیشنوں سے شروع ہونے والے ریڈیو پاکستان کے اب بتیس سٹیشن گوادر سے لے کر چترال اور مٹھی سے لے کر لورالائی اور ژوب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سٹیشنوں سے وطن عزیز میں بولی جانے والی تقریباً تمام زبانوں میں پروگرام اور خبریں بھی نشر کی جاتی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی، شوکت تھانوی، امتیاز علی تاج، اشفاق احمد اور ن م راشد، امیر حمزہ شینواری اور احمد فراز جیسے مرحومین سے لے کر افتخار عارف، ضیاء محی الدین، طلعت حسین اور محمد قوی خان جیسے نابغہ روزگار زندہ لیجنڈز نے اپنی عملی اور فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ اور پھر وہ زندگی کے دیگر میدانوں اور شعبوں میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔

اس وقت بھی ریڈیو پاکستان ملک میں علم و فن، شعر و ادب، صدا کاری اور موسیقی کی سرپرستی کا سب سے بڑا اور معتبر ادارہ ہے۔ لیکن اس ادارے سے وابستہ رہنے والے کارکنان، صدا کار اور جزوقتی کام کرنے والے ایک طویل عرصہ سے حکومت کی طرف سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے موجودہ حکومت کی مالی پالیسیوں اور بد انتظامی پر تنقید کرتے ہوئے وزارت خارجہ اور ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کا ذکر کیا جنہیں تنخواہیں اور پنشن نہیں مل رہیں۔ شاید فواد چوہدری صاحب کو بھول گیا کہ ریڈیو پاکستان کا موجودہ مالیاتی بحران انہی کے دور کا شاخسانہ ہے۔

ہائبرڈ حکومت کے 2018ء میں برسر اقتدار آنے پر اس کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب وزارت کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد ایک بڑے لاؤ لشکر کے ہمراہ ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر کی عمارت پر چڑھ دوڑے تھے کہ میں اس عمارت کو نجی ٹیلی ویژن کمپنیوں کے حوالے کر کے کروڑوں روپے کماؤں گا۔ اور ریڈیو تو ایک کمرے سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔ ان کی اس پیش قدمی کو ریڈیو پاکستان کے کارکنوں اور صداکاروں نے ایوان وزیر اعظم اور پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر احتجاج کر کے روک تو دیا تھا لیکن اس بات کو انہوں نے ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ اور اگلے ساڑھے تین برس جب تک پی ٹی آئی برسراقتدار رہی۔ ریڈیو پاکستان کے سالانہ بجٹ میں ایک دھیلے کا اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ اس عرصہ کے دوران میں کورونا کی وبا، سیلاب، زلزلے، دھماکے اور دیگر قدرتی و انسانی آفات کی صورت میں ریڈیو پاکستان کو جو پروگرام اضافی طور پر کرنے پڑے۔ان کے لئے بھی الگ سے بجٹ فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس عرصہ کے دوران میں ایندھن اور دیگر اشیا کی مہنگائی کے تناسب سے ریڈیو پاکستان کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔ اور تو اور وزارت اطلاعات و نشریات کی ہدایات پر ریڈیو پاکستان نے وطن عزیز کے قیام کی پچھتر سالہ تقریبات کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔ جس پر بھاری اخراجات اٹھے۔ وزارت اطلاعات نے ان اخراجات کے لئے رقم منظور تو کر لی تھی لیکن وہ تادم تحریر جاری نہیں کی گئی۔ یوں واہ واہ وفاقی حکومت نے سمیٹی جبکہ کروڑوں روپے کا خرچہ ریڈیو پاکستان کے گلے پڑ گیا۔

فواد چوہدری صاحب کی ریڈیو پاکستان سے دشمنی اس قدر شدید تھی کہ جب انہیں وزارت اطلاعات سے ہٹا کر سائنس و ٹیکنالوجی کا بھٹہ بٹھانے کی ذمہ داری دی گئی تو انہوں نے نہ صرف وہاں رویت ہلال کمیٹی سمیت کئی چاند چڑھائے۔ بلکہ ریڈیو پاکستان کے لئے کبھی اضافی رقم منظور ہونے نہیں دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ تین برس کے دوران میں ریڈیو پاکستان کو ملنے والے بجٹ اور اخراجات میں فرق دو ارب روپے سے زائد کا ہو چکا ہے۔ ملازمین کو ملنے والی طبی سہولیات بند ہو چکی ہیں۔ 1063 کانٹریکٹ ملازمین کو گھر بھیجا جا چکا ہے۔ اس عرصہ میں ریٹائر ہونے والے تین سو سے زائد ملازمین کو کموٹیشن کی رقم نہیں مل سکی ہے۔ رواں مالی سال کے آغاز سے ہی ریڈیو پاکستان کا مالی بحران سنگین تر ہو چکا ہے کیونکہ جاری اخراجات کے لئے درکار رقم بھی مختص نہیں کی گئی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملازمین کو نومبر کی تنخواہ نہیں ملی ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کو اکتوبر کی نصف پنشن 16 نومبر کو دی گئی تھی جبکہ نومبر کی پنشن ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ پنشن تنخواہ کی طرح ریٹائرڈ ملازمین کا حق ہے جس کو کسی بھی بہانہ سے روکا یا ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود وزارت خزانہ اور وزارت اطلاعات و نشریات کی انتظامیہ ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور کموٹیشن ادا نہ کر کے توہین عدالت عظمیٰ کا مسلسل ارتکاب کیے جا رہے ہیں۔

انتظامی سطح پر بھی ریڈیو پاکستان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک روا رکھا گیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے گزشتہ چار برس میں نصف درجن ڈائریکٹر جنرل تبدیل کیے۔ یوں ریڈیو پاکستان کے انتظامی سربراہ چاہنے کے باوجود مطلوبہ فنڈز کے لئے بھرپور کوشش نہ کر پائے۔ موجودہ سکریٹری اطلاعات و نشریات محترمہ شاہیرہ شاہد اپنے موجودہ عہدے پر ترقی پانے سے پہلے ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل رہ چکی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر یکے بعد دیگرے ریڈیو پاکستان پر مسلط کیے جانے والے شاہ دولہ کے چوہوں نے ریڈیو پاکستان میں سنٹرل پر وڈکشنز لاہور اور کراچی، عالمی و بیرونی نشریات، ریڈیو آزاد کشمیر کا تراڑ کھل سٹیشن، پی بی سی پبلیکیشنز اور پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈمی جیسے کلیدی ادارے بند کرا دیے ہیں۔ ریڈیو پاکستان چترال، ژوب، خضدار، کوئٹہ، خیرپور، لاہور، کراچی، سکردو، گلگت، ایبٹ آباد، تربت، لورالائی اور حیدر آباد جیسے اہم شہروں کے میڈیم ویو کے ٹرانسمیٹرز اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے باعث بند کیے جا چکے ہیں اور جہاں لگائے گئے ایف ایم کے ناقص ٹرانسمیٹرز اپنے سٹیشنوں کی چہار دیواری سے آگے نہیں سنائی دیتے۔

ریڈیو پاکستان پر اس سے پہلے بھی کئی بار پیغمبری اوقات آتے رہے ہیں۔ لیکن کبھی دل، گردے، جگر کی بیماریوں اور کینسر میں مبتلا ریڈیو پاکستان کے ملازمین یا ان کے زیرکفالت اہل خانہ کے لئے ضروری طبی امداد روکنے کی جرات نہیں کی گئی۔ جان بچانے کے لئے ضروری آپریشنوں کے لئے پیشگی رقم ہسپتالوں کی شرط کے مطابق جاری کی جاتی رہی تھی۔ یہاں میں حاضر سروس اور ریٹائر ملازمین کو گزشتہ چار برس سے بند میڈیکل سہولت کی وجہ سے درپیش مشکلات کا ذکر نہیں کر رہا۔

صداکاروں کو بروقت معاوضہ دینے، دسمبر جنوری کی شدید ترین سردی میں سکردو، گلگت، چترال، ژوب اور کوئٹہ جیسے سٹیشنوں پر دفاتر کو گرم رکھنے کے لئے مٹی کے تیل یا گیس کے سلنڈروں کے لئے کوئی رقم مہیا نہیں کی جا رہی ہے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں پر بجلی کی فراہمی میں تعطل کی صورت میں جنریٹر چلانے کے لئے ڈیزل موجود نہیں ہے۔ شفٹ ڈیوٹی کرنے والوں اور صدا کاروں کو لانے لے جانے کے لئے کارآمد گاڑیوں کو چلانے کے لئے پٹرول کی رقم نہیں ہے۔

چند سو یا چند ہزار روپوں کی معمولی مرمت کی منتظر درجنوں گاڑیاں سٹیشنوں پر کھڑی کھڑی تباہ ہو رہی ہیں۔ 1063 جزوقتی ملازمین کو 2020 ء میں بیک جنبش قلم موقوف کردینے کی وجہ سے درجنوں سٹیشنوں پر سینٹری ورکرز نہیں رہے۔ نتیجہ یہ ہے سٹیشنوں پر خاک اڑ رہی ہے اور صفائی کا عملہ موجود نہیں۔ اب دفاتر میں صفائی کی ذمہ داری ان دفاتر میں بیٹھنے والے خود سرانجام دے رہے ہیں۔

ریڈیو پاکستان ریاست کا ایک ایسا غیر تجارتی آئینی ادارہ ہے۔ جو سیاچین گلیشئر کی برف پوش چوٹیوں پر تعینات سپاہیوں اور افسروں سے لے کر گوادر کے ساحل پر مچھلیاں پکڑنے والے مچھیروں تک وطن عزیز پاکستان میں بسنے والوں کو وحدت کی ایک اکائی میں پروئے ہوئے ہے اور انہیں معلومات اطلاعات اور تفریح پہنچا رہا ہے۔ فوج، پولیس اور عدلیہ کی طرح اس ادارے کے جملہ اخراجات پورے کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کے پاس توپیں، ٹینک، طیارے اور میزائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے پاس کسی کو گرفتار کرنے، سزائے قید دینے یا رہا کرنے کے اختیارات ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے پاس پیش کرنے کے لئے ایک اپنی آواز ہے۔ جس کو سننے کے لئے لائسنس فیس ادا کرنا ہوتی تھی۔ وفاقی حکومت نے 1980ء کے عشرے میں متبادل انتظام کیے بغیر ریڈیو لائسنس ختم کر دیے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے جاری اخراجات کے لئے مساجد اور مدارس سمیت بجلی کے تمام صارفین سے 35 روپے ماہانہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس مد میں پانچ ارب روپے سے زائد رقم سالانہ جمع کر کے پاکستان ٹیلی ویژن کے حوالے کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی پی ٹی وی کو ہر سال مزید اربوں روپے مہیا کیے جاتے ہیں۔ کیا ریڈیو پاکستان کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایسا کوئی انتظام نہیں کیا جا سکتا ہے؟ اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تو اس کے جملہ اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے۔ اس کے علاوہ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سٹیل ملز بند ہونے کے باوجود اس کے ہزاروں ملازمین کو جملہ مراعات باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہیں یہاں تک انہیں ریٹائر ہونے پر کموٹیشن بھی اگلے ہی دن مل جاتی ہے۔

اس لئے کہ ان گھر بیٹھے ملازمین کی پشت پناہی بلیک میلنگ میں یدطولٰی رکھنے والی ایک مخصوص سیاسی جماعت کرتی ہے۔ جبکہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین پچھلے تین سال سے اپنی کموٹیشن کے بھی منتظر اور عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔ واپڈا، پی آئی اے، پاکستان ریلوے اور پاکستان پوسٹ جیسے ادارے اپنی خدمات کا معاوضہ وصول کرنے کے باوجود سالانہ سینکڑوں ارب کا خسارہ دکھاتے اور وفاقی حکومت سے وصول کرتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کو اپنے دو ہزار ملازمین اور چار ہزار پنشنرز کے واجبات کی ادائی کے لئے وزارت اطلاعات اور وزارت خزانہ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ کوئی تجارتی ادارہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں تمام ریاستی نشریاتی اداروں کے جملہ اخراجات متعلقہ حکومتیں ادا کرتی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو نے گزشتہ پانچ برس میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں ڈیڑھ سو سے زائد طاقت ور ٹرانسمیٹرز نصب کیے ہیں۔ چترال، گلگت، سکردو، ژوب، گوادر، چاغی، تربت، مٹھی اور کوئٹہ جیسے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں اور شہروں میں ریڈیو پاکستان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ان جگہوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دنیا بھر کے دیگر چینلز نہایت آسانی سے سنے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے باوجود انٹرنیٹ، فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام جیسی سہولیات پاکستان کی ساری آبادی کو میسر نہیں۔ نصف سے زائد ملک میں بجلی اور ٹیلی ویژن کی سہولت نہیں ہے۔ اتنی ہی آبادی کا معلومات خبروں اور اطلاعات کے لئے مکمل انحصار صرف ریڈیو پر ہے۔

طاہر حسن صاحب ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان، سکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد صاحبہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اس صورت حال پر غور کرنا چاہیے اور ریڈیو پاکستان کو نہ صرف نئے ڈیجیٹل ٹرانسمیٹرز کے لئے خاطرخواہ فنڈز مہیا کرنے چاہئیں بلکہ اس کے ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں، کموٹیشن اور پنشن دینے اور اس میں کام کرنے والے لکھاریوں، صداکاروں، موسیقاروں، گلوکاروں اور نیوز کاسٹرز کے معاوضے بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ جن کے معاوضے 2015ء کے بعد سے اب تک نہیں بڑھائے جا سکے ہیں اور جنہیں اپنے قلیل معاوضوں کے حصول کے لئے بھی برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے سٹیشن اور یونٹ بند کرنا، نئے ٹرانسمیٹرز لگائے بغیر پرانے بند کر دینا، خالی اسامیوں پر نئی بھرتیاں نہ کرنا، ملازمین کے لئے ہائرنگ، میڈیکل الاؤنس، تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور کموٹیشن ادا نہ کرنا با الفاظ دیگر ریڈیو پاکستان کا گلہ گھونٹنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے، افراط زر، مہنگائی اور جاری اخراجات کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں ہونے والے اضافوں کے تناسب سے ریڈیو پاکستان کے لئے مختص رقم بڑھائی جائے۔ نئے ڈیجیٹل ٹرانسمیٹرز لگانے کے لئے انتظام کیا جائے۔ ایسے کئی ادارے اور ممالک ہیں جو مفاد عامہ میں نئے ٹرانسمیٹرز لگانے میں ریڈیو پاکستان کے ساتھ معاونت کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ریڈیو پاکستان کے مسائل

  • 10/12/2022 at 10:04 شام
    Permalink

    Good analysis

Comments are closed.