کیا پی ڈیم ایم کا عمران حکومت کو فارغ کرنا ایک معقول فیصلہ تھا؟


جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے تک میرے نزدیک پی ڈی ایم نے عدم اعتماد کے ووٹ میں جلد بازی کی تھی۔ عمران حکومت اپنی ہی بیڈ گورننس اور نالائقی کے بوجھ تلے دبنے کو تھی۔ تبدیلی اور ایمانداری کا پورا بیانیہ بس ماضی کی ایک یاد سے چند فرلانگ دور تھا کہ پی ڈی ایم کی جلد بازی نے تیروں، تلواروں، دشنام اور بد دعاؤں کا سارا رخ نون لیگ کی طرف موڑ دیا۔ تین ہفتے پہلے، جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ تک میرا یہی موقف تھا۔

اس موقف کی بیشتر دلیلوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ عمران حکومت تاریخ کی وہ واحد حکومت تھی جو اقتدار میں ہونے کے باوجود ضمنی الیکشن ہار رہی تھی۔ اس کے منتخب نمائندے حلقے میں منہ دکھانے کے قابل نہیں تھے۔ لوگ انہیں بدترین حکمرانی کی ایک مثال سمجھتے تھے۔ مگر پھر پی ڈی ایم ان کی مدد کو آئی اور ڈوبتی کشتی میں سے انہیں باہر نکال کر خود ڈوبنے کے لئے ان کی جگہ جا بیٹھی۔

دیکھا جائے تو اس موقف میں بڑی جان تھی۔ واقعات اور عوامی جذبات اسی حقیقت کو سپورٹ کرتے تھے مگر جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ پہلو نمایاں کر دیے جن پر کبھی کھل کر بات نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو ہمیشہ ریٹائرمنٹ کے بعد ۔

جنرل باجوہ کی ڈاکٹرائن یا سیاسی سوجھ بوجھ نے سالوں پرانے اس مسیحا کو مسائل کا حل مانا کہ جو اپنی ایمانداری سے ملک کی ڈولتی کشتی کو ترقی اور استحکام کے کنارے لگائے گا۔ یہ وہ اپروچ تھی جسے کچھ قوتوں نے جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے ایک اساطیری تصور کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ اس تصور کے دو حصے تھے۔ پہلا یہ کہ عوامی نمائندے کرپٹ ہیں اور دوسرا یہ کہ ایمانداری وہ صفت ہے جو قیادت کے لئے بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہے۔ یہاں ایمانداری کا تعلق صرف مالی بددیانتی سے ہے علمی اور اخلاقی بددیانتی سے نہیں۔

جنرل باجوہ نے اپنی اور ادارے کی پوری قوت صرف کر کے عمران خان کو کرپشن سے پاک، ایمانداری کے اعلی ترین مقام پر فائز ایک دیومالائی کردار کے طور پر فریم کیا۔ شخصیت سازی کی یہ کوشش اس لئے کامیاب ہوئی کیونکہ درسی کتابوں اور تھڑوں کی گفتگو سے لے کر اعلی ترین تعلیمی اداروں کے ڈاکٹریٹ سکالرشپ تک، ہر جگہ ایک ایسے مثالی حکمران کی ترویج کی جاتی رہی ہے کہ جو اکیلا ہی ہر مسئلے کو حل کر دے گا۔ لگتا ایسا ہے کہ اتنے بڑے عہدے تک پہنچنے کے باوجود جنرل باجوہ خود بھی اپنے ہی سینئرز کے بنائے اس یوٹوپین تصور کے اسیر تھے۔

خوش قسمتی سے جنرل صاحب کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ اس یوٹوپین تصور کو عملی جامہ پہنا سکیں جو کہ انہوں نے پہنایا بھی مگر نتیجہ وہ نہیں نکلا جس کے دلائل گذشتہ کئی دہائیوں سے کتابوں اور مذہبی اور غیر مذہبی تقریروں خطبوں اور موٹیویشنل سپیکنگ میں ملتے ہیں۔

پی ڈی ایم نے عمران حکومت کو اس لئے فارغ نہیں کیا تھا کہ وہ ڈوبتی کشتی کا ملاح بدلنا چاہتی تھی۔ جنرل باجوہ کی رٹائرمنٹ نے یہ واضح کر دیا کہ موصوف اپنے کچھ نورتنوں سمیت ملک میں ایسے ہائی برڈ نظام کے خواہاں تھے جس میں منتخب سیاسی قیادت اور جماعتوں کا کوئی رول باقی نا ہو۔ جس میں ایوب خان کے صدارتی نظام کی ناکامیوں کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر سے ایسا بندوبست کیا جائے کہ جو عمران خان یا اس کے بغیر اقتدار کی منتقلی کو کچھ افراد تک محدود کر دے۔ نظام چلتا رہے جس میں سامنے چاہے کوئی بھی ہو مگر پیچھے جنرل باجوہ یا ان کی سوچ ہو۔

نظر بظاہر پی ڈی ایم جس مقصد کو لے کر معیشت کی اس ڈوبتی کشتی میں سوار ہوئی وہ مقصد حاصل ہو گیا۔ اقتدار کی منتقلی باجوہ کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلی گئی مگر یہ نیا انتظام کیا جمہوری عمل اور جمہوریت کو مستحکم کرے گا؟

ہرگز نہیں
چونکہ اس انتظام میں پورا بوجھ عوامی نمائندوں پر نہیں کمانڈ کی تبدیلی پر تھا۔
کیا نئے انتظام میں معیشت اور سیاست سے جڑے بنیادی مسائل حل ہوں گے؟
ہرگز نہیں

چونکہ نیا انتظام کسی جمہوری عمل کا تسلسل نہیں بلکہ اقتدار کی کھینچا تانی میں کچھ ٹیکنیکل نکات کی بنیاد پرایک فریق کی بجائے دوسرے کے سر پر تاج رکھنے تک محدود ہے۔

پاکستان کے مسائل نا تو اپنی نوعیت کے پہلے مسائل ہیں نا ہی آخری۔ دنیا کی بیشتر قوموں نے اسی قسم کے حالات اور مسائل میں سے ترقی اور استحکام کا راستہ نکالا۔ مگر یہ راستہ کسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی چند روزہ آزادی کا مرہون منت نہیں تھا جس میں جانے والے کے بارے کچھ دن کھل کر بات ہو سکے، ساری برائیاں اس پر ڈال کر پھر سے اسی راستے کی جانب مسافت کا آغاز کیا جائے جس کا انجام ایک ایسی ہی نئی ریٹائرمنٹ پر ہو۔ وہ راستہ جو حقیقی معنوں میں ملک کو بہتری کی جانب لے جاتا ہے وہ صرف اور صرف جمہوریت کا ہے۔ یہ کٹھن ہے، لمبا ہے، اس کے لئے صبر چاہیے اور تسلسل مگر قوم میں بنیادی طور پر اس اوصاف کی کمی ہے۔ قوم جلد باز ہے، کسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد چند روزہ آزادی پر مطمئن ہو جاتی ہے، جس کے بعد دوبارہ اس میں وہ توانائی پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کسی نئے باجوہ کے چھ سال گزارنے کے لئے ضروری ہے۔

Facebook Comments HS