ہندی اساطیر کی حقیقت، ویدوں کے آئینے میں – قسط 1


ویدک الٰہیات کی رو سے خدا اپنی خالص اور اصل حقیقت میں ایسا خدا ہے جو نام و صفات سے ماورا ہے۔ اس کی صورت، صفات، نام، ہر چیز انسانی ذہن کے دائرہ کار سے باہر ہوتی ہے۔ یہ خدا کی وہ صورت ہے جس کی حالت اور کیفیت کا بیان ممکن نہیں ہے۔ اس ناقابل بیان صورت کو سنسکرت میں ”نرگن“ کہا گیا ہے۔ نرگن بمعنی جس کے گن اور اوصاف ناقابل بیان ہوں۔ جو صفات سے بھی پرے ہو۔ خدا کی اسی حالت کو پرماتما اور پر برہما بھی کہتے ہیں۔

ایشور بھی کہا گیا ہے۔ ایشور کی یہ نرگن صورت ازلی اور ماورائے بصارت و بصیرت ہے۔ اسی خدا کی عبادت کی تعلیم گیتا، اپنشد اور وید دیتے ہیں۔ پھر ہندو مذہبی تعلیمات میں اسی خدا کو سگن کہا گیا ہے۔ خدا کی نرگن صورت پر برہم، پرماتما، پرم ایشور کہلاتی ہے، جس میں وہ احد، واحد، ازلی، ماورائے بصارت و بصیرت ہے۔ لیکن اسی خدا کی دوسری صورت کو وید ”سگن“ کہتے ہیں۔ اس صورت میں خدا کسی نہ کسی اوتاری شکل میں دھرتی پر آتا ہے۔ انسانوں کے لیے قابل فہم ہونے اور ان کی مدد کرنے، زمین پر دھرم (بمعنی دین /فرض، مثال) قائم کرنے، شیطانی قوتوں کا خاتمہ کرنے کے لیے نام و صفات سے متصف ہوتا ہے اس صورت میں خدا ”سگن“ کہلاتا ہے۔

موجودہ صورت میں چونکہ ویدوں میں بے تحاشا تحریف ہو چکی ہے اور خدا کی ان دو صورتوں کی تعریف بھی کسی قدر بدلی جا چکی ہے۔ اب خدا سگن صورت میں برہما، وشنو اور مہیش یعنی تری مورتی کہلاتا ہے۔

برہما کی صورت میں وہ کائنات خلق کرتا ہے، وشنو کی صورت میں وہ کائنات کا پالن کرتا ہے اور مہیش یعنی شیو کی صورت میں وہ فنا کرنے والا ہے۔ باقی تمام دیوتا (جو دراصل فرشتے ہیں ان کی نگرانی میں کائنات کے دیگر کام انجام دیتے ہیں۔ ان تینوں کے ہوتے ہوئے بھی خدا نرگن صورت میں بھی موجود ہے ) ان دراصل یہ اختراع ویدک مذہب کے پیروکار بزرگوں، رشیوں منیوں کے فلسفے کی گہرائیوں میں اترنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کو مزید واضح کرتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خدا جب وجود کے اعتبار سے تنہا تھا تو وہ اپنی اصل میں نرگن تھا۔

پھر اس نے تخلیق شروع کی تو وہ خالق یعنی برہما قرار پایا، پھر اس نے تخلیق کو ارتقا کے راستے پر گامزن کیا اور اس عمل کی رہنمائی انجام۔ دی تو وشنو کہلایا اور جب وہ کسی تخلیق کو فنا کرتا ہے تو شیو کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی اصل ایشور ایک ہے لیکن اس کی ہستی کی مختلف صفات ہیں اور جب اس سے مختلف صفات کا ظہور ہوتا ہے تو اس کی حالت کو سگن کہتے ہیں۔ تاہم گیتا، اپنشد اور دیگر اہم کتب وحدانیت کہ تعلیم دیتی ہیں۔

شریمد بھاگوتم میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے :

” برہما، شیو اور میری ہستی (وشنو) اصل میں تو مادی مظاہر کی علت ہیں ورنہ ایشور (یعنی خدائے حقیقی) بے نیاز، صفات سے ماورا میں ہی ہوں۔ شخصی طور پر برہما، شیو اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔“

وشنو پران میں بھی ہے :

” وہ پرماتما وشنو جو غیر مبدل، پاک، اور ابدی ہے، جو ہرنیہ گربھ (برہما) ہری (وشنو) اور شنکر (یعنی شیو) کے روپ میں ہے۔ وہ واسو دیو بھگوان جو اپنے بندوں کی نجات کا ضامن ہے، جو ایک ہو کر بھی مختلف مظاہر کا حامل ہے، جو لطیف بھی ہے اور ہمہ گیر بھی۔ اس وشنو (یعنی پروردگار) کو نمسکار۔ خالق، نگہبان اور فنا کرنے والا۔“

ویدوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی زمانے میں آریا ورت میں وحدانیت کا پرچار تھا۔ اور ہند میں انبیاء لازمی طور پر نازل ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے۔ یقیناً قرآن مجید فرقان حمید کا کلام سچا ہے۔ اور قرآن کی متعدد آیات اس بات کو ماننے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہندوستان میں پیغمبر آئے تھے۔ لیکن یہ پیغمبر کون تھے؟ ان کی تصدیق کے لیے کوئی مستند ذریعہ یا حوالہ موجود نہیں ہے۔ برصغیر کے جمہور علماء کا یہی ماننا ہے کہ سورۃ الغافر کی آیت کریمہ کے مصداق ہندووں کی مقدس شخصیات میں سے ممکن ہے کہ بعض پیغمبر ہوں۔ لیکن یہ ویدک تعلیمات ہندومت کی شکل اختیار کرتے کرتے مسخ ہو چکی ہیں۔ اور اساطیریت کے غلبے میں وحدانیت کے اسباق گرد آلود ہو چکے ہیں۔

برصغیر کے مشہور متکلم اسلام مولانا قاسم نانوتوی بھی ہنود کی مقدس ہستیوں کو امکانی طور پر نبی اور ولی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی سوانح عمری میں انہی سے منقول ہے کہ :

”کیا عجب ہے کہ انبیاء ہندوستان میں بھی انہی نبیوں میں سے ہوں جن کا تذکرہ آپ ﷺ سے نہیں کیا گیا۔ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف سے دعوی خدائی نصاری نے منسوب کر دیا ہے اور دلائل عقلی و نقلی اس کے مخالف ہیں، ایسے ہی کیا عجب کہ شری کرشن اور شری رام چندر کی طرف سے بھی یہ دعوی (خدائی) بدروغ منسوب کر دیا گیا کو۔ کیا عجب ہے کہ شری کرشن و شری رام چندر بھی ان عیوب مذکورہ سے مبرا ہوں آوروں نے ان کے ذمے یہ تہمت (زنا و سرقہ) لگا دی ہو۔“

ہندووں کے فلسفیانہ نظام بالخصوص گیتا اور اپنشد میں توحید کی تعلیم صوفیانہ انداز میں ملتی ہے۔ مثلاً گیتا میں ایک مقام پر ہے :

” انسان کو چاہیے کہ وہ ہستی ازل کے بارے میں یہ خیال کرے کہ وہ علام الغیوب، سب سے قدیم، مختار، ذرے سے بھی چھوٹے وجود اور سب کو پالنے والا، مادی تصور سے بالاتر، ماورائے فہم، سورج کی طرح نورانی اور تاریکیوں سے پرے ہے۔“

(بھگوت گیتا۔ ادھیائے 8۔ اشلوک۔ 8 )

دوستو مائتھالوجی ایک جہان حیرت ہے۔ ایک ادھ بدھ دنیا ہے۔ دوسرا جہان ہے، ایک پیرالل ورلڈ ہے جسے سمجھنا بالکل بھی مشکل کام نہیں ہے۔ ہم نے اس پر جتنی ریسرچ کی، غور و فکر کیا انڈین مائتھالوجی کو سب سے منفرد پایا۔

یہ اساطیری کہانیاں ہندی رشیوں کی تخلیق ہیں اور دراصل یہ تمثیلی کہانیاں ہیں جن کے پردے مین زندگی، اخلاقیات، خدا، موت بعد حیات، زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں کے اسباق پوشیدہ ہیں۔ اور ہم اس کا ذکر آئندہ کریں گے۔

سب سے پہلے اوتار کے معنی و مفہوم سمجھنا بہت ضروری ہے۔

لفظ اوتار دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ او اور۔ تار۔ او کا مطلب ہے نیچے اور تار کا مطلب ہے آنا یا گزرنا، یعنی اوتار کے معنی ہیں ”وہ جو نیچے اترا“ یا ”وہ جو نیچے آیا“ ہندو دھرم میں عقیدہ اوتار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور تمام پیروکار اور موجودہ ہندومت کے ماننے والے اس عقیدے سے مودت رکھتے ہیں کہ خدا نیک لوگوں کی مدد، دھرتی پر دھرم (دین) کے پرچار اور حفاظت، برائی کے خاتمے کے لیے بشری و حیوانی صورتوں میں زمین پر اوتار لیتا رہتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندومت کے عقائد کے مطابق تری مورتی میں صرف وشنو جی ہی اوتار لے کر دنیا پر آتے ہیں۔ وشنو کے دس اتاروں کا ذکر کتب میں موجود ہے (ان کی تفصیلات بھی آئندہ ذکر ہوں گی) ۔

عمومی طور پر ہندو اپنے اس عقیدے کی سند گیتا کے اس مشہور اشلوک سے کرتے ہیں :

”جب کبھی نیکی کا خاتمہ ہوتا ہے، اور بدی پھیلتی ہے، تب میں خود ظاہر ہوتا ہوں۔ نیکوکاروں کی حفاظت اور جو برے ہیں انھیں ختم کرنے کے لیے، نیکی کے قیام کے لیے، ہر عہد کے بعد میں خود کو ظاہر کرتا ہوں“

(بھگوت گیتا، ادھیائے 4۔ اشلوک 7 )
جاری ہے۔

نوٹ:  پہلی قسط کا مواد حافظ محمد شارق کی کتاب سے مستعار لیا گیا ہے ۔

Facebook Comments HS