سچائی کا سفر


زمیں زاد نے جب سے دنیا پر قدم رکھا ہے، اس نے اپنے زمانے کے انداز کو ہمیشہ سے اپنے پرکھوں، والدین کی پرورش، ماحول، تعلیم اور علاقائی، ذہنی اور نفسیاتی تعصبات کی عینک سے ہی دیکھا ہے۔ بہت زیادہ مادی اور سائنسی ترقی کرنے کے باوجود جدید دور کا انسان بھی ہر سو اپنی اپنی عینک لگائے ہوئے حالات و واقعات کو سمجھتا اور پرکھتا پھر رہا ہے۔

آج کل یورپ میں قومیت پرستی کی عینک پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ فرانس میں میرین لی پن کا ابھرنا، برطانیہ میں ’یورپی اتحاد سے انخلاء‘ کی تحریک کا کامیاب ہونا، جرمنی میں ’جرمنی کے لیے متبادل‘ سیاسی جماعت کی بڑھتی ہوئی پذیرائی اور امریکا بہادر میں ٹرمپ ازم کی مقبولیت اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان میں مودی سرکار مسلمانوں کا سر عام قتل کرتے ہوئے مہا بھارت کی عینک ہاتھوں ہاتھ بیچنے میں کامیاب ہو رہی ہے اور بین الاقوامی میڈیا سمیت انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی چیخ و پکار کے باوجود اکھنڈ بھارت کا نعرہ دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بھی یہ صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر یہاں کا ملا ہمیں سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور نا جانے کتنے فرقوں میں تقسیم کر چکا ہے۔ حتیٰ کہ اب تو فرقوں کہ اندر فرقے بھی سننے میں آتے رہتے ہیں۔ ہر فرقہ دوسرے فرقے کو اپنی عینک کے تحت ہی دیکھتا ہے اور خود کو اپنی تمام غیر اسلامی تعلیمات اور حرکات و سکنات کے باوجود عین اسلامی اور حق پر گردانتا ہے۔

خیر، مذہبی جنونیوں کو چھوڑیے، روشن خیال گروپ کو ہی دیکھ لیجیے۔ اس کی اپنی ہی ایک بے حیائی اور فحاشی و عریانی کی عینک ہے۔ مجال ہے کہ کوئی اس طبقے کے ساتھ گفتگو کرنے کی جرات کرے۔ یہ لوگ بھی اپنے خیالات میں ایک طرح کی شدت پسندی رکھتے ہیں۔

اب ذرا سیاسی جماعتوں کی عینکوں کا بھی ذکر کرنے کی ہمت کر لیتے ہیں۔ پاکستانی قوم کا ایک حصہ عمرانی طلسم کا شکار ہے۔ اور اس طلسم کے دیوانے ہر شے کو عمرانی عینک سے گزار کر ہی پرکھتے ہیں، خواہ اس دھرتی پر کچھ بھی انہونی ہو جائے، کمال ہے کہ اگر یہ لوگ کوئی آزادانہ رائے رکھنے کی کوشش کرنے کی سعی کریں۔ بالکل اسی طرح پاک سر زمین پر ایک دوسرا طبقہ نون لیگی خمار میں مبتلا پایا جاتا ہے۔ خواہ دھرتی تھر تھر کانپنے لگ جائے، یہ ذی روح بھی ہر چیز کو نون لیگی عینک سے گزار کر ہی سانس لیتے ہیں۔ اور کچھ دیوانے آج تک ’بھٹو زندہ ہے‘ کی عینک کو گلے لگائے مست پائے جاتے ہیں۔

معاشرتی تقسیم بھی مختلف عینکوں کی نظر ہو چکی ہے۔ امیر لوگ غریبوں کو امارت کی عینک سے دیکھتے ہیں اور غریب بے چارے غربت کو اپنا سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بے بسی کی عینک کے ساتھ ہی ہمیشہ چپکے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جبکہ سیاستدان، جرنیل، جج صاحبان اور سرکاری لونڈے بھی ہر شے کو اپنی اپنی وکھری عینک سے پرکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے یہ لوگ پچھلے پچھتر سالوں سے اپنی اپنی عینکوں کا صحیح ذاتی و خاندانی استعمال کرتے ہوئے ملک کو آج معاشرتی بدامنی اور معاشی بدحالی کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ معاشی اشارے بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ اپنی اپنی عینکوں کا یوں ہی والہانہ استعمال کرتے ہوئے ملک کو سری لنکا جیسی صورتحال سے جلد دو چار کرنے میں کوئی کسر نا اٹھا رکھیں گے۔

یہ عینکیں ہیں ہی بڑی دلکش اور حسین، بالکل رانجھے کے لیے ہیر، بابوں کے لیے الہٹر مٹیار اور پٹھانوں کے لیے نسوار کی طرح۔ ان کو پہننے والے ان سے بڑی والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ ان کے بغیر تو وہ سانس بھی نہیں لے پاتے۔ زمیں زادوں کو یہ عینکیں پہنانے والے بھی اپنی اپنی عینک کے ساتھ نسل در نسل چپکے رہتے ہیں۔ گویا عینکوں کا یہ کاروبار تاقیامت ہی چلتا رہنا ہے۔ سب کو سب کی عینک مبارک اور مجھے میری عینک مبارک!

لہذا، صاحبو، سچائی کا سفر ناممکن ہی ہے۔

Facebook Comments HS